‘وزارت مناسب لباس برائے خواتین’ کی اشد ضرورت ہے


دو دن سے سوشل میڈیا پر ملالہ یوسفزئی کی مغربی لباس میں تصویر دیکھ کر ہمارا فشارِ خون بلند ہوتا جا رہا ہے۔ آپ نے بھی یہ تصاویر دیکھی ہوںگی۔ اب آپ خود بتائیں ایسے لباس پہننے والی لڑکی کس طرح پاکستان کا فخر کہلا سکتی ہے؟ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ملالہ کے نوبل انعام سے پاکستان کو اتنی عزت نہیں ملی جتنی اس کے اس لباس سے بے عزتی مل گئی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ملالہ نے حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے جس کے بعد ان کے رنگ ڈھنگ بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اس سے پہلے ملالہ ہر پلیٹ فارم ہر ایک سادہ شلوار قمیض اور دوپٹے میں نظر آتی تھیں جبکہ اس تصویر میں انہوں نے ایسا فحش لباس پہنا ہوا ہے جس کی تفصیلات میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اس لباس کی ‘فحاشی’ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماہرین ابھی تک اس ‘فحش لباس’ سے ملک و قوم کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں۔

ہم چونکہ پکے پاکستانی ہیں اور ہمارا ہر سانس ملک و قوم کی بہتری کے متعلق سوچتے ہوئے گزرتا ہے تو اب بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم اس مسئلے کا ایک حل تلاش کریں اور حکومت کو اس مشورے پر عمل کرنے کا کہیں۔ ہماری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ فی الفور ایک نئی وزارت بنائے جس کا نام ‘وزارتِ مناسب لباس برائے خواتین’ رکھا جائے۔ اس وزارت کا سربراہ غیرت برگیڈ کے سب سے غیرت مند ممبر کو بنایا جائے اور یہ وزارت پندرہ دن میں خواتین کے لئے ایک ایسے مناسب لباس کا ڈیزائن پیش کرے جس سے ملک و قوم کی عزت محفوظ رہ سکے۔ ہر پاکستانی خاتون (چاہے وہ پاکستان میں رہتی ہو یا بیرونِ ملک) یہ مناسب لباس پہننے کی پابند ہوگی اور جو اس لباس کو پہننے سے انکاری ہو اسے دس سال قید کی سزا سنائی جائے گی۔

اسی بارے میں: ۔  قصے چند سچی محبتوں اور وسوسوں کے

یہاں یہ بات بالکل نہیں بھولنی چاہئے کہ ملک و قوم کی یہ عزت صرف اور صرف خواتین کے غیر مناسب لباس کی وجہ سے پامال ہوتی ہے۔ آئے دن ہونے والے غیرت کے نام پر قتل، ریپ کیسز، کرپشن، قتل و غارت اور دہشت گردی کے واقعات اس عزت کو بالکل نقصان نہیں پہنچاتے۔ یہ بات غیرت یونیورسٹی کی حالیہ ریسرچ سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔

ملالہ کی اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد لبرلز کا ایک گروہ سوشل میڈٰیا پر غلط پروپیگنڈا پھیلاتا بھی دیکھا گیا ہے۔ اس گمراہ گروہ کا کہنا ہے کہ عورت کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق ہے اور اگر کسی کو لگتا ہے کہ عورت کے لباس سے ملک کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے تو ایسے لوگوں کو اپنے دماغ کا علاج کروانے کی ضرورت ہے۔ ایسے تمام لبرلز کو ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ ہماری غیرت ابھی زندہ ہے۔ ہم کبھی اپنی خواتین کو ایک غیر مناسب لباس میں دیکھ کر چپ چاپ نہیں بیٹھ سکتے۔ جب بھی ہم کسی عورت کو غیر مناسب لباس میں دیکھتے ہیں تو پہلے اسے زبانی سمجھاتے ہیں۔ اس کے لئے ہمارا غیرت مند گروہ ملک کی ہر گلی، ہر سڑک پر موجود ہوتا ہے۔ اس گروہ کے ممبران ایسی خواتین کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں دھیمی آواز میں ماشاءاللہ یا سبحان اللہ کہتے ہوئے گزرتے ہیں۔ ثواب بھی کما لیا اور تنبیہ بھی کر دی۔

اگر پھر بھی خواتین راہِ راست پر نہ آئیں تو ہمارا سوپر غیرت مند گروہ ایسی خواتین کا پیچھا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جہاں یہ تنہا ملیں وہاں ان کے جسم کے مختلف حصوں کو چھیڑ کر انہیں ان کے غیر مناسب لباس کا احساس دلایا جاتا ہے۔ ایسا صرف سنسان جگہ پر کیا جاتا ہے تا کہ خواتین کی عزتِ نفس قائم رہ سکے۔ اگر پھر بھی خواتین باز نہ آئیں تو ہمارا تیزابی گروہ سرگرم ہو جاتا ہے۔ اب یہ گروہ کیا کرتا ہے اس کا اندازہ آپ اس کے نام سے ہی لگا سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ سب نہ کریں تو ہمارا ملک بھی مغربی ممالک کی طرح اپنی روایات کھو دے۔

اسی بارے میں: ۔  طبقات مسعودی از ڈاکٹر عبدالمجید عابد

اب ملالہ چونکہ پاکستان میں نہیں رہتیں اور ہم برطانیہ جانے کے اہل نہیں ہیں تو ملالہ کے لئے ہمارا کی بورڈ مجاہدین کا گروہ ہی کافی ہے۔ ہمارے بھی محدود وسائل ہیں اور ہم ان محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے جتنی ‘قوم کی خدمت’ کر سکتے ہیں کر رہے ہیں لیکن یہ کام کس قدر مشکل ہوتا جا رہا ہے اس کا اندازہ بس ہمیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے حکومت بھی ہمارا ساتھ دے اور وزارتِ مناسب لباس برائے خواتین فوری طور پر تشکیل کرے۔ ملالہ کو بھی چاہئے کہ وہ فوراً قوم سے معافی مانگیں اور آئندہ صرف ‘وزارتِ مناسب لباس برائے خواتین’ کا منظور شدہ مناسب لباس ہی پہنے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “‘وزارت مناسب لباس برائے خواتین’ کی اشد ضرورت ہے

Comments are closed.