ید بیضا کی ہسپتال یاترا اور وسی بابا کا کردار


کل اچانک خبریں اڑیں کہ ید بیضا یعنی ظفر اللہ خان کو ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے۔ ہم سوچنے لگے کہ بیس بائیس برس کی عمر میں ایسا اٹیک کہاں ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں ایک معتبر عینی شاہد فرنود عالم نے بتایا ہے کہ ہارٹ اٹیک تو نہیں مگر واقعی کچھ کچھ تو ہوا ہے اور ید بیضا اس وقت ہسپتال میں ہے۔ اب ظفر اللہ تقریباً صحت مند ہو چکا ہے تو ریکارڈ درست کرنے کی خاطر اس معاملے پر ہم نے جو تحقیقات کیں، اس سے آپ کو مطلع کرتے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات یہ تھیں کہ ظفر ایک جمنازیم سے نکلا تو اچانک دل میں تکلیف محسوس ہوئی۔ وسی بابا ساتھ تھا۔ وہ اسے فوراً ہسپتال لے گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے کامل ایک دن اس کو اپنے پاس رکھا اور اب مطمئن ہیں کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ کل ہسپتال سے چھٹی دے دی جائے گی۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ اس عمر میں جم جانے کی بھلا ایک شریف آدمی کو کیا ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ہم نے مزید تحقیق کی تو یہ پتہ چلا کہ کسی بھی باشعور آدمی کی طرح ظفر  نے خود جم کی کسی بھی مشین کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ اس قلبی واردات کی وجہ ناقابل یقین نکلی۔

آپ کو یاد ہو گا کہ وسی بابا پچھلے کوئی ایک برس سے یہ افواہیں پھیلا رہا تھا کہ وہ بے تحاشا سائیکل چلا رہا ہے اور خود بھی چل رہا ہے تاکہ اس کا وزن کم ہو۔ ظفر یہ دیکھ کر پریشان ہوا کہ شور اتنا زیادہ ہے مگر وسی کا وزن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ تنگ آ کر کل وہ وسی کو ایک جمنازیم میں لے گیا اور اسے اپنی ذاتی نگرانی میں ورزش کرانے کی کوشش کی۔

اسی بارے میں: ۔  عوام اتنے احمق نہیں ہیں جتنا دانشور سمجھتے ہیں

ایک مشین میں وسی پھنس گیا۔ ہزار دقت سے اسے واپس باہر نکالا۔ دوسری میں وزن اس کے اوپر گرنے لگا تھا، ظفر نے بمشکل بچایا۔ تیسری میں وہ ٹریڈ مل چلا کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور اس کے اوپر سگریٹ کی ڈبی رکھ کر اسے گرا گرا کر کھیلنے لگا۔ چوتھی پر لٹکنے کی کوشش کی تو وہ مشین ہی ٹیڑھی ہو گئی۔ نتیجہ یہ کہ ظفر اس سے مایوس ہو کر شدید غمزدہ ہو گیا۔ ٹینشن میں وسی کو لے کر جم سے باہر نکلا ہی تھا کہ دل میں تکلیف شروع ہو گئی۔

لیکن وہ جو کہتے ہیں نہ کہ ”تم نے درد دیا ہے تمہی دوا دینا“، تو وسی اسے لے کر فوراً ہسپتال چلا گیا۔ شروع میں تو ڈاکٹروں نے وسی کو اتنا ڈرایا کہ اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اس نے فوراً فرنود کو بلایا جو پانچ منٹ میں پہنچ گیا۔ اس نے وسی کو سنبھالا اور پھر ڈاکٹروں کو تسلی دی۔ چند گھنٹوں میں ڈاکٹر مطمئن ہو گئے کہ سب ٹھیک ہے اور پریشانی کی بات نہیں۔ پتہ چلا کہ ہارٹ اٹیک وغیرہ کچھ نہیں تھا، یہ صرف شاگردِ نا رشید کی دی ہوئی ٹینشن تھی جو دو تین ٹیکوں سے دور کر دی گئی۔

اب ڈاکٹروں نے ظفر سے موبائل وغیرہ چھین لئے ہیں اور وسی بابا سے کسی بھی قسم کے رابطے پر روک لگا دیا ہے۔ بلکہ احتیاطاً انہوں نے کسی بھی شخص کے ظفر سے ملنے یا رابطہ کرنے پر پابندی لگا دی ہے کہ کیا خبر اس کے باقی احباب بھی وسی جیسے صحت مند ہوں۔ بہرحال ظفر اب خوش باش ہے اور فون واپس مانگ رہا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں نو ٹینشن، پرسوں دے دیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  جماعت احمدیہ پاکستان کی ماتحت اور وفادار ہے: مرزا بشیر الدین محمود

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 731 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar