سڑسٹھ سال پرانا بھوت


inam-ranaبرطانیہ عظمی کی آبادی اس وقت قریب چھ کروڑ انچاس لاکھ اور اکانوے ہزار کے قریب پہنچ چکی۔ برطانیہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اس ملک میں ہر رنگ و نسل اور ہر مذہب کے افراد موجود ہیں۔ یہاں مساجد بھی ہیں اور مندر بھی، چرچ کا گھڑیال بھی بجتا ہے اور سردار وساکھی کا جلوس بھی نکالتے ہیں۔ بدھ بھکشو بھی کھڑاویں بجاتے ہیں اور احمدی بھی “جلسہ سالانہ” کرتے ہیں۔ اور تو اور برطانوی فوجیوں کی میتیں آئیں تو کچھ مسلمان ان کے سامنے مذہبی نعرے لگا کر احتجاج بھی کرتے ہیں۔ یوکے کے کچھ شہر تو ایسے ہیں کہ گورا چراغ رخ زیبا لے کر دھونڈنے نکلو تو بھی خال خال ہی ملتا ہے۔ اس رنگا رنگ ملک کی ڈیموگرافی جانتے ہیں؟ بھیا اب ڈیموگرافی کا اردو مترادف جاننا ہو محترم وجاہت مسعود سے پوچھیے۔ میں تو صرف اردو ہجے میں لکھ سکتا ہوں۔ آخر “ایڈیٹر نوٹ” پہ ہماری تحریر کا بھی حق ہے۔ خیر تو انگلینڈ کے حالات یہ ہیں کہ دو ہزار گیارہ کے اعداد کے مطابق قریبا اٹھاسی فیصد گورے ہیں اور باقی سب اقوام بارہ فیصد ہیں۔ مذہب کی دیکھیں تو عیسائیت کے پیروکار قریب ساٹھ فیصد، مذہب کو نا ماننے والے چھبیس فیصد اور مسلمان چار فیصد ہیں۔ باقی مذاہب کے ماننے والے اس سے بھی کم یعنی تیرہ چودہ فیصد بقایا میں سما جاتے ہیں۔ یقیناً پچھلے پانچ برس میں اس تعداد میں فرق آیا ہو گا مگر بات کے ابلاغ کے لیے یہ اعداد و شمار بھی کافی ہیں۔ اس کے باوجود بھی ہر مذہب کے ماننے والے کو یہ لگتا ہے جیسے ریاست اس کی ہے اور اس کے حقوق کی محافظ ہے اور مجھ جیسے اکثر کو تو کئی برسوں یہ محسوس ہی نہی ہوتا کہ ہم اقلیت ہیں۔

سوچتا ہوں اگر برطانوی پارلیمنٹ ایک دن ایک قرارداد پاس کر دے۔ پارلیمنٹ میں موجود کچھ مسلمان، یہودی اور ہندو نمائندے اختلافی تقاریر کر کے بے بسی سے اس قرارداد کو قانون بنتا دیکھیں: “برطانوی پارلیمنٹ منظوری دیتی ہے کہ

۱- اقتدار اعلی خداوند یسوع مسیح کا ہے اور اس نے سلطنت برطانیہ کو بخشا جسے اس کے عوام کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

۲- عیسائیت میں دئیے آزادی، جمہوریت، برداشت، برابری اور سماجی برابری کے اصولوں کی پاسداری کی جائے گی۔

۳- عیسائیوں کو ایسے حالات فراہم کیے جائیں گے کہ وہ یسوع کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

 4-  ایسے قوانین بنائے جائیں گے کہ اقلیتیں اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق بسر کر سکیں۔

۵- اقلیتوں اور پسے ہوے طبقات کے قانونی حقوق کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔ “

سچ کہوں تو الفاظ خواہ کتنے ہی خوبصورت کیوں نا برت لوں، ایسا کوئی بھی قانون یہ اعلان ہو گا کہ یہ ملک عیسائیوں کا ہے، ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ایک نہاں پیغام یہ ہو گا کہ اب برطانیہ رہنا ہے تو بندے کا پتر بن کر رہو۔ ایسا کوئی قانون برطانیہ کی پارلیمنٹ سے پاس ہو، خدا وہ دن کبھی نہ لائے۔ آمین۔

آج سے سڑسٹھ سال قبل بارہ مارچ 1949 کو ایک ایسا ہی قانون مقبولیت کھوتے ہوئے لیاقت علی خان نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے پاس کروایا تھا۔ اور جو خدشات فرضی برطانوی قانون کی بابت میرے دل میں اٹھے، ویسے ہی خدشات ان اقلیتوں کے دل میں اٹھے جو قائداعظم کی اس یقین دہانی پر پاکستان میں رک گئے تھے کہ یہ ملک ان کو برابر کا شہری سمجھے گا۔ ہم بہت فخر سے بیان کرتے ہیں کہ پاکستان کا پہلا وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل تھا، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہی منڈل اس قرارداد کے بعد پاکستان چھوڑ گیا۔ میں اپوزیشن لیڈر چندرا چٹو پدھائے کی دہائی سنتا ہوں کہ ” ایک ایسا ملک جہاں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہوں، وہاں ریاست کو کسی ایک کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے، غیرجانبدار رہنا چاہیے۔ ریاست کو، اگر ضروری ہو تو ہر مذہب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے نا کہ ایک کو مسکرا کر دیکھنا اور دوسرے کو شک کی نگاہ سے۔ اسلام کے تحت برابری کے اصول کے الفاظ اقلیتوں کے لیے محض ڈھکوسلہ ہیں۔ مذہبی اصولوں کو متعارف کرا کر آپ اکثریت اور اقلیت میں فرق پیدا کر رہے ہیں۔ اکثریت اقلیت کو احترام کے بجائے ترحم کی نظر سے دیکھے گی۔” صاحبو چٹوپدھائے جی شاید نہیں جانتے تھے کہ جن کا حلقہ انتخاب دوسرے ملکوں میں رہ جائے، انھیں نیا حلقہ بنانے کے لیے کیسے کیسے کرتب دکھانے پڑتے ہیں۔

میں نے خود سے کئی بار یہ تاویل کی ہے کہ اگر اسلامی مملکت نہیں بننا تھا تو پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ سو قرارداد مقاصد بھی قرارداد پاکستان کی اضافی شق ہی تھی۔ مگر کیا پاکستان کے قیام کا مقصد یہ نہ تھا کہ اقلیت کو اکثریت کے ظلم کا نشانہ بننے سے بچایا جائے؟ ایسا کوئی قانون نہ ہو جو مسلم اقلیت کو خوف میں مبتلا کر دے۔ تو پھر اکثریت بنتے ہی ہم خود ظالم کیوں بن بیٹھے۔ یعنی جیسے اسرائیل بنا تھا کہ یہودی ہولوکاسٹ کے بعد تحفظ حاصل کریں اور یہ تحفظ ملتے ہی انھوں نے فلسطینیوں کا ہولوکاسٹ شروع کر دیا۔ سوچتا ہوں کہ ایک مسلم اکثریتی ملک میں آخر اس قرارداد کی غیر موجودگی میں کون سا ایسا قانون بن جاتا جو اسلامی اصولوں کے منافی ہوتا۔ ہاں مگر شاید اقلیتوں کو اپنی حب وطن ثابت کرنے کے لیے کئی نوٹنکیاں نہ کرنی پڑتیں۔ یہ موضوع ایسا ہے کہ مجھ کم علم کا زیادہ کچھ کہنا فقط ٹامک ٹوئیاں مارنا ہی ہو گا؛ سو آئیے دبنگ مسلم سیاستدان مولانا حسرت موہانی کے الفاظ پر غور کریں۔ احمد بشیر صاحب اور ان کے درمیان یوں تبادلہ خیال ہوا

“لیاقت پاکستان سے دھوکہ کر رہا ہے۔ یہ جاگیریں محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

مگر مولانا اس میں پاکستان پر اللہ کی حاکمیت تسلیم کی گئی ہے اور اس پر اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بے شک۔ مگر یہ خارجیوں کا نعرہ ہے۔ وہ قبائلی تھے اور کوئی خودکار ریاستی ڈھانچہ نہ چاہتے تھے۔ اپنی سرداریاں قائم رکھنے کیلیے اللہ کی حاکمیت کا سہارا لیتے تھے۔ اگر اس ارفع نظریے کو اس دور میں راہنما اصول بنائیں تو بے ایمانی ہے۔ یہ اصول زبان و مکاں کی قید سے ماورا ہے جبکہ دستور زبان و مکان کا پابند ہوتا ہے۔ جانتے ہو لاحکم الا اللہ کے جواب میں حضرت علی(ر) نے کیا کہا تھا؟ یہ حق ہے جسے باطل کے استحکام کیلیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جناح زندہ ہوتے تو یہ نوبت نہیں آتی۔ لیاقت زمینداروں اور مولویوں کی مدد سے حکومت کرنا چاہتا ہے”۔

میری مسلمانی اور سیاسی بصیرت دونوں ہی حضرت موہانی کے سورج کے سامنے چراغ ہیں۔ میں تو بس اتنا کہوں گا کہ قرارد مقاصد پاس ہوئی اور آئین کا حصہ بھی بن گئی۔ سڑسٹھ سال بعد بھی معاشرہ اسلامی بن سکا یا نہیں، جاگیریں محفوظ اور اقلیتیں غیر محفوظ ہو گئیں۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

8 thoughts on “سڑسٹھ سال پرانا بھوت

  • 12-03-2016 at 1:29 pm
    Permalink

    Good!!!

  • 12-03-2016 at 1:57 pm
    Permalink

    Dear bro, its a Phoenix, though Supreme Court burnt it to the ashes in Hakim Khan and Kaniz Fatima cases so that constitutional arena may be cleared of its discriminatory effects, but as I said earlier it is a Phoenix. It was resurrected again in Zaheer-ud-din case in a very bad taste, and the the way Jawwad S Khawaja tried to give it a new life-line in 18th amendment case, but thanks to the majority of judges who didn’t subscribe to his views.

  • 12-03-2016 at 4:05 pm
    Permalink

    Thanks.

  • 12-03-2016 at 4:36 pm
    Permalink

    انعام رانا کی اس نکتہ سرائی سے آپ کو اتفاق ہو یا اختلاف، ایک بات تو طے ہے کہ عمل چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی، اس کا نتیجہ آنے والے واقعات طے کرتے ہیں۔
    قرار دادِ مقاصد کی منظوری سے ہمارے اکابر کی جو بھی سیاسی غرض وابستہ ہو، سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اُس کا اثر آنے والے سیاسی اور معشترتی بندوبست پہ کیا پڑا؟ کیا مملکتِ خداداد کا نظام اپنے شہریوں کی جان، مال، عزت، اور ترقی کا ضامن بنا یا اس نے ہمیں آپس میں دست و گریباں ہونے کے مواقع فراہم کیے؟
    چلیں، یہ بحث تو آپ دانشوروں کے گھر کی لونڈی بنی، ہم تو پلوٹو کے اس اقتباس پہ اپنا تعزیہ ٹھنڈا کرتے ہیں۔
    “You know that the beginning is the most important part of any work, especially in the case of a young and tender thing; for that is the time at which the character is being formed and the desired impression is more readily taken”.
    ― Plato, The Republic
    علی بابا

  • 12-03-2016 at 5:00 pm
    Permalink

    الفاظ تو خیر محترم انعام رانا صاحب کے بھی بہت خوبصورت ہیں مگر کیا وہ الفاظ کی یہ خوبصورتی اس سوال کے جواب میں بھی برقرار رکھ سکیں گے کہ اگر یہی کرنا تھا تو علیحدہ وطن کیوں لیا؟ ہم اس حال میں بلکہ کہیں بہتر تو بھارت میں ہی تھے، نظام وہاں بھی یہی موصوف کا مجوزہ تھا اور ھے تو پاکستان کیوں بنایا اور اسی کا انتخاب کیوں کیا؟؟ جواب سے جلد مطلع فرمائیں، شکریہ

    مزیدبرآں آپ کی اطلاع کے لیئے عرض ھے کہ قرارداد مقاصد ان تمام باتوں کا نچوڑ ھے جو پاکستان بننے کا سبب بنیں

  • 12-03-2016 at 5:38 pm
    Permalink

    انعام رانا صا حب بہت خوبصورتی کے ساتھ آئنہ دکھایا ہے اکثریت کسی بھی قوم کی ہو مگر بنیادی حقوق سب کو یکساں حاصل ہونے چاہئیں اور اسلام کا تو عدل ومساوات بنیادی نکتہ ہے مگر افسوس اب یہ محض ایک نعرہ ہے بالخصوص اقلیتیوں کیلئے تو اسلام نظام خوف ودہشت کی علامت بنکر رہگیا ہے

  • 12-03-2016 at 5:41 pm
    Permalink

    اچھا لکھا, شائید یہ قرارداد ہی وہ بنیاد تھی جس نے پاکستانیوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا. لوگوں کی درجہ بندیاں رنگ نسل مزہب کے نام پر ہو گئیں .لوگ پاکستانی شناخت کی بجائے چھوٹی اکائیوں میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے

  • 13-03-2016 at 11:41 am
    Permalink

    کچھ بظاہر خوشنما پیمان ہوتے ہیں یہ حاکمیت اعلٰی والا بھی کچھ ایسا ہی پیمان باندھا گیا اب اس کی آڑ میں جو چاہے کرو

Comments are closed.