انکار کس سے کرتے ہو، ایسا اگر نہیں۔۔۔


رضا علی

raza aliانگریزی زبان میں ایک بہت خوبصورت ترکیب ہے: State of denial۔ اس کا اگر میں اردو میں ترجمہ کروں تو وہ ہو گا “حالت انکار”۔ یعنی جب آپ حقائق سے منکر ہوں، یا آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سوچیں کہ بلی غائب ہو گئی۔ کبوتر کا آنکھیں بند کرنا، ایک معصوم سی حرکت ہے۔ مگر حقائق سے انکار معصومیت نہیں، بلکہ جہالت کا اظہار ہے۔

میرا مقصد اس محاورے کی تشریح نہیں۔ لیکن جس دماغی حالت میں ہماری ریاست اور اس کے شہری مبتلا ہیں، اسی کو کہتے ہیں حالت انکار۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، میں پاکستان کے تمام اداروں اور عوام کو اسی حالت میں دیکھ رہا ہوں۔ بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی کے اوائل میں، کراچی میں ایک پرتشدد لسانی تحریک قدم جما رہی تھی، مگر ہماری ریاست اس بات سے منکر تھی کہ کراچی میں کچھ غلط ہو رہا ہے۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ اس تحریک کی پشت پناہی کون کر رہا تھا۔ یہ شاید آج سب جان چکے ہیں۔ لیکن اگر ہماری ریاست کے ادارے مہاجر قومی موومنٹ کو ایک حقیقت مان کے اس کا سدباب کرتے تو شاید اسی صدی کی نویں دہائی میں کراچی کے باسی ایم کیو ایم نامی غنڈہ گرد گروہ کے مظالم سے بچ جاتے۔

بیسویں صدی کی اسی آٹھویں دہائی میں پاکستان میں مذہبی انتہا پسندوں کی تربیت کے لئے کیمپ لگائے جارہے تھے، لیکن ہماری ریاست اس حقیقت سے منکر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی تربیتی کیمپ نہیں ہے۔ حالانکہ اگر اس وقت اس حقیقت سے انکار کرنے کی بجائے ان مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی جاتی، تو شاید وہ 36000 شہری (فوجیوں سمیت) جن کی شہادت کو آج ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمارے درمیان موجود ہوتے اور ملک و قوم کی ترقی کے لئے کام کر رہے ہوتے۔

جناب اس انکار کی عادت نے تو ہمیں اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ ہم اپنی ثقافت سے بھی منکر ہو چکے ہیں۔ کچھ دن قبل مجھے ایک انٹرویو سننے کا شرف حاصل ہوا۔ جو صاحب بات کر رہے تھے، وہ پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کے مدیر ہیں۔ ان صاحب نے تو وارث شاہ کی ہیر کو ہی ہماری ثقافت سے نکال باہر مارا۔ چونکہ یہ صاحب مذہبی بنیاد پرست ہیں اس لئے ان کے مطابق ہیر رانجھا، سسی پنوں اور بھنگڑہ ہماری ثقافت کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ لیکن اگر ان صاحب سے آپ یہ پوچھیں کہ محمد بن قاسم کون تھا،  تو اس غلامانہ سوچ کے تحت جو ان کا مقدر ہے، وہ بتائیں گے کہ قاسم صاحب ہمارے عظیم ترین ہیرو ہیں۔

اسی طرح ایک روز ایک مفتی صاحب کی عالمانہ گفتگو سننے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ موصوف نے جب سنا کہ پاکستان میں خواتین ظلم اور جنسی تشدد کا شکار ہیں، تو وہ سیخ پا ہو گئے اور اِسی قومی حالت انکار میں فرمانے لگے کہ پاکستانی معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا۔ جب انہیں کچھ درج شدہ مقدمات کی مثال پیش کی گئی تو وہ اور برہم ہوئے اور فرمایا کہ یہ سب مقدمات جھوٹے ہیں۔ اگر مفتی صاحب اور ان جیسے دوسرے اپنے آپ کو خدائی فوجدار سمجھنے والے لوگ، اس حالت انکار سے چھٹکارا پا لیں، تو شاید بہت سی خواتین جنسی تشدد اور بھیانک اموات سے بچ جائیں۔

کچھ روز قبل پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے جناب رانا جمیل صاحب کی گفتگو سنی۔ یہ حضرت موٹر وے پہ بھیرا کے ریسٹ ایریا سے اغوا ہونے کے بعد کچھ عرصہ طالبان کے مہمان رہ چکے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ شہباز تاثیر لاہور جیسے شہر سے اغوا ہوئے اور موصوف خود موٹروے سے اغوا ہوئے، تو کیا یہ اس بات کی نشاندہی نہیں ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے؟ جناب فوراً حالت انکار میں آ گئے اور ایک اچھے غلام کی طرح اپنے آقا کو ہر طرح پاک ثابت کرنے کی کوشش میں فرمانے لگے کہ نہیں ان کو ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے اغوا کیا گیا تھا، کیونکہ انہوں نے رات کے گیارہ بجے کے بعد موٹروے پہ اکیلے سفر کرنے کی غلطی کی تھی۔ شاید آپ سمجھیں کہ ان کی بات میں طنز کا عنصر شامل ہے، لیکن انہوں نے یہ بات بنا طنز کے کی تھی۔ بجائے یہ ماننے کے کہ ان کی پارٹی کی حکومت صوبے میں قانون کا اطلاق نہیں کر سکتی، موصوف نے رات کے وقت سفر کرنا ہی گناہ قرار دے دیا۔

میں اگر پاکستانیوں کی عادتِ انکار کی تمام مثالیں لکھنے بیٹھ جاؤں تو شاید میرا کی بورڈ (keyboard) ہی ساتھ چھوڑ جائے۔ جب میں اس عادت انکار کے بارے میں سوچتا ہوں، تو سمجھ آتی ہے کہ یہ حالت صرف پاکستانی مسلمانوں سے مخصوص نہیں، بلکہ دنیا کے تمام مسلمان اس بیماری کا شکار ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟

بہت سوچ و بچار کے بعد سمجھ آئی کہ وجہ کیا ہے۔ جب کوئی شخص اسلام قبول کرے یا اپنے ایمان کی گواہی دے تو وہ پہلا کلمہ پڑھتا ہے، جو ایسے شروع ہوتا ہے: “نہیں کوئی معبود سوا اللّٰہ کے”۔ شاید مسلمان یہ کلمہ پڑھتے ہوئے پہلے ہی لفظ پہ اٹک گئے ہیں۔ شاید 1500  برس سے مسلمان مفکرین ابھی تک صرف ایک ہی بال کی کھال اتار رہے ہیں اور شاید وہ اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ اسلام کا اصل مطلب انکار ہے، اسی لئے ان کے پاس ہر بات کا جواب “نہیں” میں ہے۔

ارے خدا کے بندو اس کلمے کے پہلے لفظ کا تعلق صرف اللّٰہ کے واحد ہونے سے ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم ہر چیز کے بارے میں اپنے آپ پہ حالت انکار طاری کر لو اور ہر بات کو جھٹلانے کے لئے صرف نہیں، نہیں، کا ورد کرتے رہو۔ ایسا کرتے رہو گے تو معاملات میں اصلاح کیسے ہو پائے گی؟


Comments

FB Login Required - comments