کراچی کوآزاد ہونا چاہیے


\"amir
اہم بات یہ نہیں کہ مصطفی کمال اور ان کے ساتھی کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں؟ ان کاایم کیو ایم کے روایتی جبر اور تسلط کے خلاف کھڑا ہونا اور اظہار اختلاف کرنا اہمیت کا حامل ہے۔جمہوریت کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ ہر ایک کو سیاسی جدوجہد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ ایم کیو ایم اور اس کی قیادت نے کراچی کی دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے یہ حق سلب کر لیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ الطاف حسین نے خود ایم کیو ایم کے کارکنوں ، رہنماﺅں اور ووٹروں سے شائستہ جمہوری اختلاف کا حق بھی چھین لیا تھا۔ آواز بلند کرنا تو درکنار ، کسی کی یہ جرا¿ت نہیں تھی کہ قائد تحریک کے کسی حکم کی تعمیل میں معمولی سی سستی یا کوتاہی دکھائے۔

کراچی کے لوگ تو عینی شاہد ہیں،سیاسی ،صحافتی حلقوں کے لوگ بخوبی واقف ہیں کہ ایم کیو ایم کے تنظیمی سٹرکچر کی دو تین سطحیں تھیں۔ ارکان اسمبلی اورٹی وی ٹاک شوز میں پارٹی کا دفاع کرنے والے پہلی، دوسری صف کے لیڈرایم کیو ایم کا سافٹ چہرہ تھے۔کلاسیکی محاورے میںدکھانے کے دانت سمجھ لیجئے۔ اصل قوت اور گرفت یونٹ اور سیکٹر انچارج صاحبان کے ذریعے بروئے کار لائی جاتی تھی۔وہ سب براہ راست قائد تحریک کو جواب دہ تھے۔تیسری سطح کارکنوں کی تھی، جن کی قائد کے ساتھ جذباتی وابستگی تھی، ان میں سے بہت سوں کو مختلف سرکاری محکموں میں ملازمتیں دلوائی گئیں،بہت سے گلی محلے کی سطح پر کام کاج کراکر اپنا دال دلیہ کر لیتے اور مہاجر شناخت کا جذباتی حوالہ تو بہرحال تھا ہی۔ انہی کارکنوں سے بوقت ضرورت پارٹی رہنماﺅں کو پٹوایا یاگالی گلوچ دلوائی جاتی، اصل دہشت مگر سیکٹر انچارج کی تھی،جن کے آگے کوئی پر نہ مار سکتا۔ برسوں پہلے کراچی میں مقیم انگریزی زبان کے ایک سینئر صحافی سے پوچھا کہ آخر الطاف حسین لندن رہ کر اتنے برسوں سے اتنی مضبوط گرفت کیسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بے چارگی سے مسکرا کر انہوں نے کہا، ”یہ پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع ہوسکتا ہے، جس کے لئے کم ازکم دو تین سال کی تحقیق درکار ہوگی۔ “ پھر انہوں نے ہی کئی واقعات سنائے کہ کیسے سیکٹرا نچارج کے آگے رکن اسمبلی بلکہ وزیر بھیگی بلی بنے رہتے تھے۔ ایک معروف وزیر کے بارے میں بتایاکہ ایک بار سیکٹر انچارج نے موصوف کو دس منٹ تک دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑے کرنے کا حکم دیا،جس کی تعمیل کی گئی۔ سکول کے بچوں کے انداز کی یہ سزا اس لئے سنائی گئی کہ وزیرصاحب ایک اجلاس میں دس منٹ تاخیر سے پہنچے تھے۔

اسی طرح دروغ برگردن راوی ، ایک معروف سیاسی رہنما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لندن میں قائد تحریک کی حلیم پارٹی میں وہ حلیم کا ڈونگا ہاتھ میں اٹھائے سرو کر رہے تھے ، امریکہ سے آئے ایک بڑے تاجر نے جو قائد کے ساتھ قالین پربراجمان تھے، انہیں آواز دے کر بلایا کہ ”ڈاکٹر صاحب “آپ یہاں آ کر بیٹھ جائیں۔ موصوف نے بے چارگی سے دیکھا اور منمناتی آواز میں کہا کہ نہیں میں ٹھیک ہوں۔ دراصل انہیں قائد کے ساتھ نیچے بیٹھنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ جب ان صاحب نے دو تین بار کہا تو قائد محترم نے” کمال شفقت“ سے مسکرا کر دیکھااور”فرمایا“، آ جاﺅ میاں، آج ان کے طفیل تم بھی ہمارے ساتھ بیٹھنے کا شرف حاصل کر لو۔“ اس طرح کے واقعات سینکڑوں نہیں تو بیسیوں ضرور ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مہاجر عصبیت کے نام پر الطاف حسین نے شہری سندھ سے بھرپور حمایت حاصل کی بلکہ ایسا مستحکم اکثریتی ووٹ بینک بنایا ، تین عشروں سے جو قائم دائم ہے۔مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ مصطفی کمال، انیس قائم خانی ، ڈاکٹر صغیر یاان کے ہمدردالطاف حسین جیسی سیاسی عصبیت اور سپورٹ نہیں حاصل کر سکتے۔انہیں مگر آزادی سے سیاسی مہم چلانے کا حق ملنا چاہیے۔ ہر ایک کو یہ حق دیا جائے۔ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ کراچی کو سیاسی اعتبار سے آزاد ہونا چاہیے۔ اب یہاں ہتھیار بند گروہوں کاراج ختم ہو۔ ایم کیو ایم ، حقیقی، سنی تحریک یا کسی بھی دوسری تنظیم ، گروہ کو یہ اجازت نہیں ملنی چاہیے کہ وہ لوگوں کو تنگ کریں، ان سے بھتے وصول کریں اور سیاسی آزادیاں سلب کر لیں ۔ مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں کوبھی کلین چٹ نہیں ملنی چاہیے۔انیس قائم خانی، حماد صدیقی یا کسی

اسی بارے میں: ۔  سرحد کے اُس پار اور اِس پار

اور پر الزامات ہیں تو انہیں دوسروں کی طرح کلیئر ہونا چاہیے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔
بعض لوگ ابھی تک ایم کیوا یم کے حوالے سے نئی صورتحال کو اسٹیبلشمنٹ کے روایتی کھیل سے تعبیر کر رہے ہیں۔ہمارے بعض دوستوں کا حال دوسری جنگ عظیم کے دوران لڑنے والے ان جاپانی فوجیوںکا سا ہے، جو کسی دور دراز جزیرے میں برسوںاپنی زنگ آلود بندوق اٹھا کرمورچہ بند رہے ۔ یہ علم ہی نہیں ہوپایا کہ جنگ ختم ہوئے کئی برس بیت چکے۔ ہمارے بعض اینٹی اسٹیبلشمنٹ مجاہد ابھی تک جنرل پرویز مشرف کے خلاف چلائی گئی عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے اثرات سے باہر ہی نہیں آئے۔ بعض لکھنے والوں کے اعصاب پر جنرل پاشا جیسے ریٹائر افسران سوار ہوچکے۔ ان کے خوابوں کا ولن بھی جنرل پاشا ہی ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے تعصبات اور اندر کے خوف پر نجات پانے کی توفیق عطا فرمائے۔

بات بڑی سادہ ہے کہ ہماری ریاست اور ادارے اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک کو آگے بڑھانا ہے تو کسی بھی نوعیت کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ ٹی ٹی پی کے خلاف پچھلے ڈیڑھ سال سے بھرپور آپریشن جاری ہے۔ اس دوران وہ وہ کچھ ہوچکا، جس کا کبھی تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی سوچ سکتا تھا کہ ملک اسحاق کو اس کے قریبی ساتھیوں اور بیٹوں سمیت پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا؟ آصف چھوٹو، بخاری جیسے لشکر جھنگوی کے ہائی پروفائل قائدین پکڑے جائیں گے؟ لشکر جھنگوی، القاعدہ وغیرہ کے ہزاروں افراد مارے یا جیلوں میں بند کر دئیے جائیں گے، ملٹری کورٹس قائم ہوجائیں گی؟ بلوچستان میںانڈین فنانس سے چلنے والے شدت پسند بلوچ گروہوں کے خلاف تیزفتار آپریشن ہوجائے گا؟ اللہ نذر کے گڑھ ماشکے، اواران میں آپریشن کر کے فراری کیمپ اڑا دئیے جائینگے؟ اللہ نذر اور ڈاکٹر منان بلوچ جیسے سفاک قاتل کیفر کردار تک پہنچائے جائیں گے؟ کراچی میں لیاری گینگ وار گروپوں کا صفایا ہوگا؟ عزیر بلوچ پکڑا جائے گا، بابا لاڈلا مارا جائے گا؟صولت مرزا کواعتراف جرم کی ویڈیو کے باوجود پھانسی دے دی جائے گی؟ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرز پکڑے جائیں گے، بلدیہ ٹاﺅن کیس دوبارہ سے اوپن ہوجائے گا؟آصف زرداری کے فرنٹ مین ، جس طوطے میں ان کی جان ہے، اس ڈاکٹر عاصم حسین کو پکڑ لیا جائے گا اور تمام تر سیاسی دھمکیاں اور سندھ حکومت کے حربوں کے باوجود نہیں چھوڑا جائے گا؟شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوجائے گا، حقانی نیٹ ورک کو پاکستانی زمین چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا؟ افغان طالبان پر مذاکرات کے لئے زور ڈالا جائے گا؟ مسعود اظہر اور جیش محمد کے خلاف کارروائی ہوجائے گی ؟پاکستان کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بھارتی حکومت کو اطلاع د ے گاکہ بعض جہادی تنظیموں کے کچھ لوگ بھارتی ریاست گجرات میں دہشت گردی کی کارروائی کرنے بھارت پہنچ گئے ہیں۔ کیاکوئی تصور کر سکتا تھا کہ ایسا کبھی ہو پائے گا؟سب سے بڑھ کر ممتاز قادری کو پھانسی دے دی جائے گی؟ دو چار سال مزید جسے جیل میں رکھا جا سکتا تھا….۔

اسی بارے میں: ۔  ‘ہمارا ہی ٹکراؤ ہوتا ہے کسی کا ہمارے ساتھ ٹکراؤ کیوں نہیں ہوتا‘: نواز شریف

یہ سب آج کے پاکستان میں ہوچکا ہے، بہت کچھ ہونے والا ہے۔ پنجاب میں محاذ کھلنے کو ہے۔ نیب اچانک سے فعال اور متحرک ہوگئی۔ اپنی دانست میں کمزورچیئرمین نیب کا تقرر کرنے والے شریف برادران پریشان ہیں کہ یہ کیا ہوگیا؟ وزیراعلیٰ پنجاب اعصابی تناﺅ سے جھنجھلا کر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ میں نے نیب کے بارے میں بتا دیا تو انہیں پسینہ آ جائے گا؟ ایسی فہرستیں گردش کر رہی ہیں، جن میں پنجاب حکومت کے کئی پیاروں کے نام شامل ہیں ، ان سب کو گرفت میں لایا جائے گا۔یہ سب ایک عمل کا حصہ ہے، آپریشن ضرب عضب کا لازمی جز …. جس کے تحت مملکت خداداد پاکستان میں ماضی میں جو کچھ غلط ہوتا رہا، اس سب گند کو صاف کیا جائے ۔ کراچی ملک کا اہم ترین شہر ہے۔ یہاں اب کوئی فسطائی ، دہشت گرد، بھتہ خور جماعت کام نہیں کر سکتی۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر صفائی کرنا ہوگا، جرائم پیشہ لوگ، مسلح گروہ ختم کرنے ہوں گے، تب ہی ان کا وجود باقی رہ سکتا ہے۔ قائد تحریک اورایم کیو ایم کا ماضی کا جبر، خوف، دہشت ہوا ہوچکی، اب وہ سیاہ ، لہورنگ دن واپس نہیں آئیں گے۔ آج کے پاکستان میں کسی بھی نوعیت کی دہشت گردی، فسطائیت ، لاقانونیت اور غیر قانونی ”سٹیٹ ، سیمی سٹیٹ ، نان سٹیٹ ایکٹرز“ کی گنجائش نہیں ہے۔ جو کچھ بھی ہو، قانون کے مطابق ہو۔کسی سے زیادتی نہ ہو، مگر ظالم کے ساتھ ذرا برابر رعایت نہ کی جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “کراچی کوآزاد ہونا چاہیے

  • 12-03-2016 at 4:29 pm
    Permalink

    بجز احترام عرض ہے کہ یہ ملٹری کورٹس قائم ہونا کوئی جمہوری روایت تھی جو آج تک سلب تھی یا یہ قرارداد مقاصد کی کوئی ذیلی شق تھی جسے قائم ہونے سے روکا گیا تھا؟ اس بات کا ثبوت تو خیر خاکوانی صاحب کے پاس ہو گا کہ بلوچ شدت پسند تنظیمیں انڈین فنانس سے چلتی ہیں لیکن کبھی خاکوانی صاحب نے اس پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ حافظ سعید صاحب کس کے فنانس سے چلتے ہیں؟

  • 13-03-2016 at 1:22 pm
    Permalink

    حافظ سعید سیمی سٹیٹ ایکٹر لگتے ہین۔ ان کا فنانسر جو کوی بھی ہے، وہ ریاست کا مخالف نہیں، اس لیے وہ ریاست کےخلاف ہتھیار بند نہیں ہوتے، انڈین فنانسڈ بلوچ دہشت گرد گروپ البتہ ہمیشہ ریاستی اثاثوں، فورسز کے جوانوں اور بےگناہ نہتے نان بلوچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان کی درندگی، سفاکی اور شیطنیت مین کوی کلام نہیں، جو مزدوروں کو قطاروں میں کھڑا کر کے گولی ماریں، وہ وحشی درندے ہی ہیں۔

Comments are closed.