آئین تو زندوں کے لیے ہوا کرتا ہے


adnan Kakar

دستور سازی کے میدان میں ایک اہم ترین ہستی تھامس جیفرسن کی ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ کسی ایک نسل کے حقوق کا انحصار کسی دوسری نسل کی رقم کردہ تحریر پر نہیں ہو سکتا ہے۔

تھامس جیفرسن کی بات کرتے ہیں، لیکن پہلے ہم ایک نظر قرارداد مقاصد پر ڈال لیں کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔

قرارداد مقاصد کو بارہ مارچ 1949 کو پاکستان کی اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ اقلیتوں کو اس پر شدید تحفظات تھے۔ اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن سریش چندر چتوپادھیائے اور وفاقی وزیر جوگندر ناتھ منڈل نے اس کی مخالفت کی تھی تو احمد وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے ان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اسلامی میں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں۔ بہرحال قرارداد منظور ہونے کے کچھ عرصے کے بعد ہی جوگندر ناتھ نے ترک وطن کیا اور پاکستان سے چلے گئے۔

پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیرِ خارجہ ایک احمدی سر ظفر اللہ خان تھا جو سات سال تک وزیر خارجہ رہا۔ ایک مسیحی جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلئیس یاد آتے ہیں جو آٹھ برس تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔

چلیں قرارداد مقاصد پر واپس آتے ہیں جو کہتی ہے کہ بنیادی حقوق دیے جائیں گے، اور ان حقوق میں قانون و اخلاق عامہ کے ماتحت مساوات، برابر حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہار خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور میل جول کی آزادی شامل ہو گی جو کہ قانون اور عوامی اقدار کے تابع ہو گی۔

قرارداد مقاصد یہ بھی واضح کر دیتی ہے کہ کائنات کی حکمرانی تو اللہ کی ہے، لیکن ریاست تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی، عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے۔ یعنی خدائی قوانین کی تشریح وہی ہو گی جس پر عوام کے منتخب کردہ نمائندے متفق ہوں گے۔

آئین ان بنیادی حقوق کی تشریح کرتا ہے جو کہ قرارد مقاصد ​دینے کا وعدہ کرتی ہے۔ آئین کی شق آٹھ کے مطابق جو بھی قانون بنیادی حقوق کے منافی ہو گا، وہ باطل قرار پائے گا۔ آئین میں بنیادی حقوق کی وضاحت کرتے ہوئے سب سے پہلے تو شہریوں کی جان اور آزادی کے تحفظ کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ غلامی اور بیگار کو ممنوع بتایا گیا ہے۔ عزت نفس کے تحفظ کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے اور گھر کی خلوت کے تحفظ کو لازم بتایا گیا ہے۔ جماعت سازی کو حق قرار دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار ایک بنیادی حق ٹھہرایا گیا ہے۔ ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ آزادی سے اپنے مذہب کا اقرار کرے، اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے۔ بنیادی حقوق کی تشریح کرتے ہوئے آئین کی شق پچیس یہ بتاتی ہے کہ قانون کے سامنے ہر شہری برابر ہے اور اسے قانون کا یکساں تحفظ دیا جائے گا۔

یعنی آئین پاکستان اور قرار داد مقاصد کے یہ نکات یہ بتاتے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ کی تشریح دین ہی حتمی تصور ہو گی، اور اس کی ایک مثال ہم احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے معاملے میں بھی دیکھ چکے ہیں، جہاں علما کے نہیں، بلکہ اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ سے یہ مذہبی مسئلہ طے ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے اور اسے ایک بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ تمام شہری قانون کی نگاہ میں برابر ہیں، اور ان کے رنگ، نسل، مذہب، جنس وغیرہ کی بنیاد پر ان میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی ہے۔ اب اگر دستور پاکستان کے تحت بعض عہدوں پر تعیناتی کے لیے مسلمان ہونا شرط ہو، یا مساوات کا بنیادی حق ایک طرف رکھتے ہوئے شہریوں کے ایک گروہ کو دوسرے پر ترجیح دی جائے تو کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کہی جائے گی یا نہیں؟

اور بنیادی حقوق کی یہ بات وہ آئین کہہ رہا ہے جس پر تقریباً تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔ پارلیمان کے ایک سو اٹھائیس اراکین میں سے ایک سو پچیس نے 1973 کے دستور پر دستخط کیے تھے اور صرف تین اراکین نے آئین پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا اور اپنے دستخط نہیں کئے تھے اور وہ تھے تب نیپ کے بلوچ رہنما خیر بخش مری، پاکستان پیپلزپارٹی کے باغی رکن احمدرضا قصوری اور میرعلی احمد تالپور۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قرارداد مقاصد، یا آئین پاکستان کی موجودہ حالت بھی ہم پر ہمیشہ کے لیے مسلط کر دی گئی ہے اور اس میں کبھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے؟ بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اصول دیا ہے کہ آئین میں ایک چیز ہوتی ہے جسے بنیادی ڈھانچہ کہتے ہیں، اس کو صرف ایک ایسی پارلیمنٹ تبدیل کر سکتی ہے جسے اس بنیاد پر منتخب کیا جائے کہ وہ آئین سازی کرے، اور عام پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا ہے۔

گزشتہ سال اٹھارہویں اور اکیسویں آئینی ترمیم کو منسوخ کرنے کی خاطر سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں یہ بحث بھی ہوئی تھی کہ کیا پاکستانی آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود ہے، اور کیا سپریم کورٹ کو کسی آئینی ترمیم کو منسوخ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ ججوں کی رائے اسے بارے میں منقسم تھی، لیکن تیرہ میں سے آٹھ جج حضرات نے جو اکثریتی فیصلہ لکھا تھا وہ یہ تھا کہ پارلیمنٹ کی کچھ حدود ہیں جن کے اندر رہتے ہوئے وہ دستور میں ترمیم کر سکتی ہے، اور پارلیمان کے پاس ترمیم کے لیے لامحدود اختیار نہیں ہے۔ دستور کے کچھ نمایاں بنیادی نکات ہیں، جن میں ترمیم یا تنسیخ ممکن نہیں ہے۔ یہ کہا گیا کہ اس وقت ان حتمی طور پر بنیادی نکات کی نشاندہی ضروری نہیں ہے، لیکن ان میں جمہوریت، پارلیمانی نظام حکومت اور عدلیہ کی آزادی یقینی طور پر شامل ہیں۔

دستور پاکستان کی شق 239 آئین میں ترمیم کے بارے میں ہے۔ اس کی ذیلی شقیں پانچ اور چھے یہ کہتی ہیں کہ ‘کوئی بھی دستوری ترمیم کسی بھی بنیاد پر کسی بھی عدالت میں زیر بحث نہیں لائی جا سکتی ہے۔ شک کو ختم کرنے کے لیے، یہ واضح کیا جاتا ہے کہ دستور کے کسی بھی حصے میں ترمیم کے بارے میں پارلیمان کی طاقت کی کوئی حدود نہیں ہیں’۔

دلچسپ بات ہے نہ؟ یعنی دستور پاکستان انتہائی واضح الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی پارلیمان دستور میں کوئی بھی تبدیلی کر سکتی ہے۔ قرارداد مقاصد کو جنرل ضیا کے دور میں آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت دستور کا حصہ بنایا گیا تھا۔ دستور کی شق 239 کے تحت کوئی بھی پارلیمان اس میں تبدیلی یا تنسیخ کر سکتی ہے۔

چلیں یہ معاملہ تو پارلیمان پر چھوڑتے ہیں کہ وہ دستور کا کیا کرتی ہے، واپس چلتے ہیں تھامس جیفرسن پر۔

موصوف فرماتے ہیں کہ ہمارے خالق نے یہ دنیا زندہ لوگوں کے رہنے کے لیے بنائی ہے، مردوں کے لیے نہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ جو موجود ہیں اس پر کوئی حق نہیں رکھتے ہیں، اس پر کوئی اختیار یا طاقت نہیں رکھتے ہیں، کہ ایک نسل انسانی دوسری کے لیے یہ حق باطل کر دے یا اسے کسی بوجھ کے تلے دبا دے جبکہ نئی نسل خود بھی خدا کے احسان سے یہ حق رکھتی ہو۔ کوئی بھی پہلی نسل کسی بعد میں آنے والی نسل کو اپنے بنائے ہوئے معاہدے میں نہیں جکڑ سکتی ہے۔ لوگ اپنے اصول اپنی موجودہ نسل کی اکثریت سے اخذ کرتے ہیں، اور جب یہ اکثریت گذر جاتی ہے تو ایک نئی نسل اس کی جگہ آ جاتی ہے جو کہ اسی پرانی نسل کے برابر اختیار رکھتی ہے کہ اپنے لیے قانون اور اصول بنائے۔

یہ دنیا اور جو کچھ بھی اس پر ہے، اس کے موجودہ باشندوں کی ملکیت ہے۔ صرف وہی یہ حق رکھتے ہیں کہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے اپنے مسائل سے کیسے نمٹنا ہے۔ اور یہ فیصلہ ان کی اکثریت کرتی ہے۔ حکومت کرنے کا یہ طریقہ نقائص سے مکمل طور پر پاک نہیں ہے، لیکن اقلیت کی جانب سے کی گئی فیصلہ سازی، یا پھر ایک ہی شخص کی حکومت اس طریقے سے کہیں زیادہ خراب ہیں اور وہ ایک بڑی برائی کا منبع ہیں۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے، اکثریت کے فیصلے کسی ایک طبقے کی بجائے سب افراد کے بہترین مفاد میں ہونے چاہئیں۔

چلیں تھامس جیفرسن صاحب کی بات بھی سن لی، اب پلٹتے ہیں موجودہ پاکستان کی طرف۔ کیا ہمارے مسائل اب وہی ہیں جو کہ متحدہ ہندوستان میں ہمیں درپیش تھے؟ کیا ہم اب بھی خود کو ہندو اکثریت کے استحصال کا شکار پاتے ہیں؟ کیا غالب ترین مسلم اکثریت کے ہوتے ہوئے یہاں واقعی اسلام کو کوئی خطرہ ہے؟ کیا ہم اب اپنی اقلیتوں کا اسی طرح استحصال کریں گے جیسا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت کا کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے؟ کیا ہماری پرانی نسل کا دیا ہوا قانون ہمیشہ نافذ کرنا ہو گا یا ہم موجودہ نسل کی ضروریات کے مطابق قانون سازی کرنے میں آزاد ہیں؟

ہم اس بحث میں پڑتے ہیں نہیں ہیں کہ بانیان پاکستان ایک سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا تھیوکریٹک (ملائی) ریاست یا اسلامی اصولوں سے اخذ کردہ ایک جدید ریاست۔ ہم تو بس یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہماری یہ رائے ہے کہ ایک پہلی نسل ایک بعد میں آنے والی نسل کو اپنے بنائے ہوئے معاہدے میں ہمیشہ کے لیے جکڑ گئی ہے یا پھر ہماری موجودہ نسل کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار حاصل ہے؟

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے، ضمیر کن فکاں ہے زندگی

ہمارے خالق نے یہ دنیا زندہ لوگوں کے رہنے کے لیے بنائی ہے، مردوں کے لیے نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

11 thoughts on “آئین تو زندوں کے لیے ہوا کرتا ہے

  • 13-03-2016 at 12:19 am
    Permalink

    sir jb state k liay clear hee ni ho raha k structure secular hona ya religious. to confusion to lazmi hai

  • 13-03-2016 at 12:46 am
    Permalink

    آئین تو رندوں کے لیے ہوا کرتے ہیں. واہ بہت خوب
    🙂

  • 13-03-2016 at 9:15 am
    Permalink

    بہت خوب اللہ کرے زور قلم اور زیادہ نیا عمرانی معاہدہ وقت کی اہم ضرورت ہے

  • 13-03-2016 at 2:04 pm
    Permalink

    بہت خوب

  • 13-03-2016 at 6:44 pm
    Permalink

    خاکسار اس حوالے سے اپنی معروضات پیش کرنا چاہتا ہے۔ آج ارادہ تو نہیں تھا، مگر آپ کے اس آرٹیکل نے لکھنے کے لئے مہمیز دی ہے، کوشش کرتا ہوں کہ کچھ دیر میں مکمل کر کے بھیجوں۔

  • 13-03-2016 at 7:08 pm
    Permalink

    A nation that thinks that wisdom, piety and righteousness was the traits of the past generations, can’t give the mundane living generation the right to overrule the edicts and ethos of the past generations.

  • 14-03-2016 at 3:28 pm
    Permalink

    ۱- پاکستان اُس وقت تک ‘اسلامی جمہوریہ’ قرار نہیں دیا گیا تھا
    ۲- قراردادِ مقاصد کلیتاََ انہی تکات پر مبنی ھے جو مسالمانانِ ہند کے لیئے ایک علیحدہ وطن کا باعث بنے۔ اگر یہ نکات اصلاََ غلط تھے تو ایک علیحدہ وطن کا تصور کیسے صحیح ھوسکتا ھے؟
    ۳- اگر علیحدہ وطن کے نظام اور باقی ماندہ ہند کے نظام میں کوئی فرق روا نہیں رکھنا تھا تو پھر الگ وطن کیوں لیا؟ ہم وہاں اس سے کہیں بہتر تھے

  • 14-03-2016 at 3:30 pm
    Permalink

    ۱- پاکستان اُس وقت تک ‘اسلامی جمہوریہ’ قرار نہیں دیا گیا تھا
    ۲- قراردادِ مقاصد کلیتاََ انہی تکات پر مبنی ھے جو مسلمانانِ ہند کے لیئے ایک علیحدہ وطن کا باعث بنے۔ اگر یہ نکات اصلاََ غلط تھے تو ایک علیحدہ وطن کا تصور کیسے صحیح ھوسکتا ھے؟
    ۳- اگر علیحدہ وطن کے نظام اور باقی ماندہ ہند کے نظام میں کوئی فرق روا نہیں رکھنا تھا تو پھر الگ وطن کیوں لیا؟ ہم وہاں اس سے کہیں بہتر تھے

    • 14-03-2016 at 3:40 pm
      Permalink

      سرِیش چندرچٹوپادھیائے : “میں سمجھتا ہوں کہ قرارداد کے اِس حصے کو حذف کر دینا چاہیے۔ میری سوچ کے مطابق تمام اختیارات عوام کے پاس ہوتے ہیں اور وہ اپنے اختیارات کا استعمال ریاست کے ادارے کے ذریعے کرتے ہیں”

      سرِیش چندرچٹوپادھیائے کی رائے بصد احترام مگر ان کو یہ خیال دیگر ہندو رہنماؤں کی طرح اُس وقت کیوں نہیں آیا جب یہ ملک بن رہا تھا یعنی یہ ان کا ذاتی خیال تھا ناکہ اس اجتماعی تحریک کا جو بعدہُ تحریک پاکستان کہلائی

    • 14-03-2016 at 3:42 pm
      Permalink

      پھرسرِیش چندرچٹوپادھیائے کی ہی رائے کے مطابق اکثریت ہی کا یہ فیصلہ تھا تو پھر تسلیم نہ کرنے کی کوئی منطقی وجہ؟؟

Comments are closed.