عورت اور دھرتی ماں کہتی ہیں “می ٹو”


میرے لئے یہ ایک دلچسپ اور عجیب اتفاق ہے کہ ہالی وڈ میں وائینسٹین سکینڈل اور فلم مدر Mother ایک ہی وقت پر ہمارے معاشرتی نظام میں ظلم اور اس میں مرد اور عورت کے کردار کی بحث کو آگے بڑھانے کے لئے پیش ہوئی ہیں۔ اور اسی بحث پر سوشل میڈیا پر چلنے والی “می ٹو” کی تحریک نے افراد کی ذاتی شمولیت کا شاندار تڑکہ اور لگا دیا ہے۔

آپ کو شاید ایسا لگے کہ میں نے تین مختلف واقعات کو خواہ مخواہ ملا دیا ہے۔ تو میں اپنی اس سوچ کی وضاحت کرنا چاہوں گی- سب سے واضح مماثلت تو یہ ہے کہ یہ تینوں واقعات دنیا میں لوگوں کی بڑی تعداد کو جذباتی طور پر پریشان اور ذہنی طور پر للکار رہے ہیں- لوگ ان واقعات پر بات بھی کرنا چاہ رہے ہیں اور ان کو نظرانداز بھی کرنا چاہ رہے ہیں۔ جتنے لوگ ان کو نظرانداز کررہے ہیں اس سے زیادہ افراد اس بحث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

وائینسٹین سکینڈل کے ابتدائی مراحل گذر جانے کے بعد بحث کا جو دلچسپ مرحلہ سامنے آیا وہ یہ تھا کہ وائینسٹین کے جنسی جرائم تو ہالی وڈ کا کھلا راز تھے۔ تب سوال یہ پیدا ہوا کہ کون کتنا جانتا تھا اور اگر سب جانتے تھے تو کون وائینسٹین کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا اور کون اس کے پیسے کی مردانہ طاقت سے خود بھی استفادہ کر رہا تھا۔ سب سے پہلے تو براک اوباما اور ہیلری کلنٹن نے وائینسٹین پر تنقید صرف اس لیے نہیں کی کہ ان کو متاثرہ خواتین سے ہمدردی تھی بلکہ اس لیے بھی کی کہ وہ انتخابات میں وائینسٹین سے مالی معاونت لیتے رہے تھے اور اگر اس وقت وہ تنقید نہیں کرتے تو اس کے جرم میں شراکت دار ہوجاتے- پھر ہالی وڈ کی ہیرو بن ایفلک اور میڈ ڈیمڈ پر لوگوں کی نظر گئی جو وائینسٹین کے قریبی دوستوں میں رہے ہیں انہوں نے کہا ان کو وائینسٹین کے ان کرتوتوں کی خبر نہیں تھی۔ جبکہ کچھ قریبی خواتین دوستوں نے بتایا کہ نہ صرف بن ایفلک کو وائینسٹین کے جنسی حملہ آوری کا علم تھا بلکہ بن ایفلک کا اپنا رویہ بھی عورتوں کے ساتھ ماضی میں مشکوک رہا ہے جس پر بن ایفلک نے فوری طور پر معافی مانگ کر جان بچانے کی کوشش کی۔

اسی وقت ہالی وڈ کی کچھ دبنگ اداکارائیں سامنے آئیں اور انہوں نے وائینسٹین پر کڑی تنقید کی مگر کہا کہ وائینسٹین کا یہ رویہ ان کے علم میں نہیں تھا۔ اس موقع پر جین فونڈا نے چھکہ مارا اور کہا ان کو ایک سال سے اس بات کا علم تھا مگر صد افسوس انہوں نے کچھ نہیں کیا کیونکہ انہوں نے سوچا کہ یہ راز متاثرہ عورت کی ملکیت ہے، ان کی نہیں- جس سے بحث میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جنسی ہراسانی کے راز کو راز رکھنا متاثرہ فرد کی مدد کرتا ہے کہ حملہ آور کی تاکہ وہ اور حملے بآسانی کر سکے۔ ایسے ہی اور بہت سے چبھتے سوالات پیچیدگی کے سمندر سے باہر نکل آئے- فلم مدر کی مرکزی اداکارہ جینیفر لارنس بھی یہ کہہ کر اس بحث میں شامل ہوگئیں کہ اداکاری کے ابتدائی دور میں ایک عورت ہدایتکار نے ان کو پانچ دیگر اداکاروں کے ساتھ برہنہ پریڈ کروائی تھی تاکہ اس کو کاسٹ کے انتخاب میں آسانی ہو-

tarana-burke

فلم مدر فن کی وہ مثال ہے جس کی اتنی ہی پرتیں ہیں جتنی آپ کی آنکھوں کی سکت۔ مگر واضح طور پر آپ مذہب ‘ ماحولیات اور مرد عورت کے تعلق کی پیچیدگیاں اس میں ملاحظہ کرسکتے ہیں- ویسے یہ شہرت اور پرستش کی خواہش رکھنے والے جھوٹے خدائوں اوران کے پجاریوں کا پردہ بھی چاک کرتی ہے۔ چاردیواری سے درباروں تک ہونے والے مظالم میں انسانی خواہشات خاص کر مرد کی جنسی یا عقلی پرستش کئے جانے کی خواہش اور عورت کی مرد کو خوش کرنے اور پوجنے کی خواہش کا’ اس خودکشی کرتے پرتشدد معاشرتی نظام کو بنانے میں جو کردار ہے اس کی وضاحت بھی اس فلم میں موجود ہے۔ ایک مرد اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے (جو کہ بہت سی عورتوں کی محبت کی دین ہے) اپنی خوشی کے لئے اپنی مرضی سے ایک ایسی کہانی لکھ رہا ہے جو اس مرد کو بہت محظوظ کر رہی ہے اوراس کی انا کی ضرورتوں کو پورا کر رہی ہے جبکہ عورت مرد کی اسی کہانی کو پورا سچ مان کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اپنی ضروریات کو پیچھے رکھ کر مرد سے محبت اور اس کی کہانی سے پرستش کئے جا رہی ہے۔ فلم نے ثابت کیا ہے کہ مرد اور عورت کے یہ رویے اس دنیا کو تباہی کی طرف دکھیل چکے ہیں۔

Alyssa-Milano

ویسے تو “می ٹو” تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب مارچ 2014 میں ترانا برک نے “می ٹو” کی ٹی شرٹ پہن کر فلاڈیلفیا میں عصمت دری کی ثقافت کے خاتمے کے لیے ایک ریلی سے خطاب کیا تھا مگر اس کو سوشل میڈیا پر لانے کا سہرا اداکارہ الیسا ملانو کے سر ہے . صرف 24 گھنٹے میں 12 ملین سے زیادہ لوگ اپنے فیس بک پر “می ٹو” لکھ چکے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنسی ہراسانی اور عصمت دری کا مسئلہ ہمارے تصور سے زیادہ گھمبیر ہے۔ فیس بک پر کمنٹس کے ذریعے جو بحث ہورہی ہے اس سے کافی سوالات اٹھ رہے ہیں جیسے یہ صنفی بحث کیوں بنائی جا رہی ہے اگرچہ جنسی تشدد تو مردوں پر بھی ہوتا ہے؟ جنسی حملہ آور زیادہ تر مرد کیوں ہوتے ہیں ؟ اور اگر مردوں پر بھی جنسی حملے ہوتے ہیں تو وہ اتنے بہادر کیوں نہیں ہوتے کہ فیس بک پر “می ٹو ” لکھ سکیں۔ جب مرد “می ٹو ” لکھتے ہیں تو دوسرے مرد اس کا مذاق کیوں اڑاتے ہیں “ابے تو اس لیے دہریا تو نہیں ہوگیا کہ مولوی نے تجھ پر جنسی تشدد کیا تھا؟” اور جب عورت “می ٹو ” لکھے تو وہی مرد اس پر ترس کیوں کھاتے ہیں؟ اس کے علاوہ شرم اور رازداری کب تک اخلاقی طور پر کارآمد ہیں اور کب تخریبی روپ اختیار کرلیتے ہیں- کیا “می ٹو” کے بعد اپنے جنسی حملہ آوروں کے نام بھی فیس بک پر لکھے جانے چاہییں؟ یا پھر میری ایک کڑوی کسیلی تلخ فیمنسٹ دوست کے مطابق ان مردوں کو فیس بک پر آکر خود “می ٹو” لکھنا چاہئے جو کہ جنسی حملہ آور ہیں– تاریخ میں پہلی بار مرد حضرات عورتوں سے پوچھ رہے ہیں کہ “آخر ایک عورت سے سیکس کرنے کی اجازت کیسے لی جائے”  لگتا ہے “می ٹو” تحریک کامیاب ہو رہی ہے۔

مگر میرے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر کار عورت اور دھرتی ماں ایک ساتھ کیوں “می ٹو” کہہ رہے ہیں کہیں ان دونوں کی تکلیفوں کے ڈانڈے ایک جگہ تو نہیں ملتے۔ ان کی کس طرح مدد کی جا سکتی ہے اور ان کے اس احتجاج اور جدوجہد میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں