اسلامسٹ احباب سے دس سوال (1)


1980ء کی دہائی میں اسلامی بنیاد پرست کی اصطلاح سامنے آ چکی تھی۔ واضح طور پر یہ اصطلاح ان حلقوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی جو سیاسی طاقت کے بل پر اسلام کی سخت گیر تعبیر نافذ کرنا چاہتے تھے۔ نظام عدل میں مخصوص سزائیں شامل کرنا چاہتے تھے۔ لوگوں کے رہن سہن پر اپنا ترجیحی نمونہ مسلط کرنا چاہتے تھے۔ اس خیال کے لوگ انقلاب ایران، ریاست کے سعودی نمونے اور افغان جہاد سے متاثر تھے۔ واضح طور پہ یہ اصطلاح منفی تاثر رکھتی تھی چنانچہ اس کے جواب میں پہلے تو یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اسلام میں بنیاد پرستی کا وجود نہیں ہے۔ مغربی دنیا بنیاد پرست کی اصطلاح ایک الزام کے طور پر اچھے مسلمانوں کے سر منڈھ رہی ہے۔ تاہم نوے کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد ایک نیا استدلال اختیار کیا گیا جو کچھ اس طرح تھا کہ ہر اچھا مسلمان بنیاد پرست ہوتا ہے۔ مذہب کی مبادیات پر مکمل ایقان کے بغیر دینی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ جو نہ تھا خوب، وہی خوب ہوا۔۔۔ اس بحث میں یہ تاریخی پس منظر مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا کہ فنڈامنٹل ازم کی اصطلاح بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں امریکہ کے ان قدامت پسند مذہبی حلقوں کی دین ہے جو صنعتی ترقی اور معاشرتی تبدیلیوں سے خائف تھے۔ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ اب بنیاد ہرست کی اصطلاح سننے میں آتی ہے اور نہ اس کا دفاع کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اب نہیں لیتے پری رو زلف لہرانے کا نام۔۔۔

سیاسی شعور رکھنے والی قومیں جب کوئی اصطلاح استعمال کرتی ہیں تو اس کے ماخذ پہ غور کیا جاتا ہے۔ اس کا معنی متعین کیا جاتا ہے۔ ایک جامع مباحثے کے بعد کوئی اصطلاح قبول کی جاتی ہے یا مسترد کی جاتی ہے۔ محض گروہی تعصب میں اپنی دف کا ڈھول نہیں پیٹا جاتا۔

اس رویے کی ایک مثال سیکولرازم کی اصطلاح ہے۔ جو لوگ خود کو سیکولر کہتے ہیں انہوں نے بارہا وضاحت کی کہ سیکولرازم ایک سیاسی اصطلاح ہے، اس کا مفہوم فقط یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں میں عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرے گی۔ ایک ملحد سیکولر ہو سکتا ہے لیکن سیکولر ہونے کے لیے مذہب سے بیگانہ ہونا ہرگز لازم نہیں۔ جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، ولیم گلیڈ سٹون، ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین، حسرت موہانی اور ڈاکٹر امبیدکر کے سیکولر ہونے میں کسے کلام ہے؟  یہ سب راہنما اپنے عقائد پر مکمل یقین کے ساتھ کاربند تھے۔ سیکولرازم عقیدے پر پابندی نہیں لگاتا۔ سیکولرازم سب انسانوں کے لیے عقیدے کے امتیاز سے قطع نظر ایک جیسے رتبے، حقوق اور خوشیوں کی سعی کرتا ہے۔ یہ تو رہا خود کو سیکولر کہنے والے افراد کا نقطہ نظر، سیکولر ازم کے مخالف تسلسل سے سیکولر لوگوں کو لادین قرار دیتے ہیں، گویا، دوسروں کا عقیدہ متعین کرنے پر اجارہ مانگتے ہیں۔ سیکولر ازم الحاد کو بھی عقیدے کی آزادی کا حصہ سمجھتا ہے لیکن الحاد کے فروغ کی کوشش نہیں کرتا اور نہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے سیکولر ازم کو اسلام، مسیحیت، یہودیت اور ہندومت سمیت دنیا کے تمام مذاہب سے کوئی عناد نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  انڈین اتنے کرپٹ کیوں ہیں؟

سیاسی اصطلاحات کو نعروں میں بدل کر جوش و خروش بلکہ اشتعال انگیزی کا حربہ بنانے کی سوچ ہمارے ہاں بہت پرانی ہے۔ ہم لوگ کسی اصطلاح کو گروہی عصبیت کے پیمانوں سے پرکھتے ہیں۔ برصغیر میں تعلیم کا درس دینے والے سرسید احمد خان اور ان کے رفقا کو نیچری کہا جاتا تھا۔ جس بدنصیب پر نیچری ہونے کی تہمت لگ جاتی اس کا حقہ پانی بند کر دیا جاتا تھا۔ اب دیکھ لیجیے، نہ کوئی سرسید خود کو نیچری کہتا ہے اور نہ کسی کو محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد پر نیچری کی پھبتی کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے۔۔۔

تحریک خلافت پہلی عالمی جنگ کے بعد شروع ہوئی تھی۔ 1918ء کا منظر ذہن میں لائیے۔ شکست خوردہ روس میں پرولتاریہ کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہو چکی تھی۔ جنگ ہارنے والے ترکی میں کمال اتا ترک نے ڈکٹیٹرشپ نافذ کر دی تھی۔ شکست کھانے والے اٹلی میں مسولینی کا ڈنکا بج رہا تھا۔ جنگ میں ہزیمت اٹھانے والےجرمنی میں ہٹلر کی آمد آمد تھی۔ برطانیہ جنگ جیت چکا تھا اور ہمیں برطانیہ سے آزادی کی جدوجہد کرنا تھی۔ ہمارا قومی ضمیر غیر ملکی حکمرانوں کی مخالفت کرتا تھا۔ قدیم قبائلی روایت میں دشمن کا دشمن دوست سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے برطانیہ کی مخالفت میں عالمی جنگ کے شکست خوردہ کھلاڑیوں سے ڈکٹیٹر شپ کی اصطلاح مانگ لی۔ تحریک خلافت میں ڈکٹیٹر کا باقاعدہ عہدہ پایا جاتا تھا۔ فلاں صاحب تحریک خلافت امرتسر کے ڈکٹیٹر ہیں، فلاں صاحب میرٹھ کے ڈکٹیٹر ہیں۔ اللہ کے بندوں نے تاریخ کے ملبے سے اپنے لیے کیا پسند کیا؟ ڈکٹیٹر شپ۔۔۔

دونوں عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے میں ایک فریق نے جمہوریت کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا اور دوسرا فریق ہمہ گیر تحکمانہ آمریت کو ترجیح دیتا تھا جس میں مفروضہ قومی مفاد کے نام پر فرد کی آزادیوں اور حقوق کو پامال کیا جا سکے۔ تصویر کے دونوں رخ یکساں تاریک تھے۔ سرمایہ داری میں کساد بازاری تھی تو مسولینی کے مخالف عقوبت خانوں میں تھے۔ ہٹلر کے خاکی پوش ہر مخالف کو گھونسوں پر رکھ لیتے تھے۔ ماسکو میں سٹالن اپنے مفروضہ مخالفوں کی تطہیر کر رہا تھا۔ لاہور کے نواح میں موضع اچھرہ کے باسی علامہ عنایت اللہ مشرقی نے 1931ء میں خاکسار تحریک قائم کی تو اپنے وردی پوشوں کے لیے بیلچے کا نشان چنا۔ یہ بیلچہ اٹلی کے مسولینی سے مستعار لیا گیا تھا۔ ہٹلر نے تو اپنی کار عنایت اللہ مشرقی کو عنایت کی تھی۔ یہ کار برسوں خاکسار تحریک کے سرفروشوں کی آنکھ کا سرمہ رہی۔ اس تحریک کا سفر یہ تھا کہ جیل میں قید مشرقی صاحب نے دوسری عالمی جنگ شروع ہونے پر انگریز حکومت کو داخلی سیکیورٹی کے لیے پچاس ہزار مسلح جوانوں کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش مسترد کر دی گئی۔ 1943ء میں محمد رفیق نامی ایک خاکسار نے قائد اعظم محمد علی جناح پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جولائی 1947ء میں خاکسار تحریک ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اکتوبر 1947ء میں اسلام لیگ قائم کر دی گئی۔ 1963ء میں علامہ مشرقی صاحب کے انتقال کے بعد غلبے کا نعرہ بلند کرنے والی خاکسار تحریک کا احیا ہوا۔ آخری دفعہ یہ نام 1977ء پاکستان قومی اتحاد کے نو ستاروں میں سنائی دیا تھا۔ نہ گنواؤ ناوک نیم کش ۔۔۔۔

اسی بارے میں: ۔  کراچی کے بادشاہ گر بنام عوام اور بھتہ

10 جنوری 2013 کو کوئٹہ کے ایک سنوکر ہال پر دہشت گرد حملہ ہوا۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے اور اہل تشیع شناخت کے حامل چھیاسی بے گناہ پاکستانی خاک میں مل گئے۔ میمو گیٹ سکینڈل اور سوئس خطوط کے تھپیڑوں سے نڈھال پیپلز پارٹی کی حکومت بے دست و پا بھی تھی اور بے حسی کا شکار بھی۔ کوئٹہ شہیدوں کے ورثا چھیاسی تابوت لے کر علمدار روڈ پہ آن بیٹھے۔ جنوری کی سردی میں یہ دھرنا چار روز تک جاری رہا۔ یہ دھرنا شہریوں کا تحفظ کرنے کی ریاستی ذمہ داری کے مطالبے پر دیا گیا تھا۔ ہماری بلا جانتی ہے کہ انسانی آلام کیا ہوتے ہیں۔ اور مہذب معاشرے کو کیا رد عمل دینا چاہیے۔ ہم نے علمدار روڈ کوئٹہ پر آہوں، سسکیوں اور تابوتوں کے منظر سے دھرنا کا مفید مطلب لفظ اٹھا لیا۔ فروری 2013ء میں شیخ الاسلام طاہر القادری لاہور سے اسلام آباد پہنچے تو اپنی پرفتوح انگلی لہرا کے صدر، وزیر اعظم، گورنر صاحبان اور وزرائے اعلی کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ طاہر القادری تو اعلان اسلام آباد کا دفتر بے معنی لے کر لاہور لوٹ آئے۔ دھرنے کا اسم اعظم کہیں فیض آباد اور پیرودھائی کے آس پاس چھوڑ آئے۔ پھر عمران خان نے دھرنا دیا۔۔۔ اور اب جسے قبض کی شکایت ہو، دھرنا دیا کرتا ہے۔

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔