امت کہاں ہے؟


asif Mehmoodسوال یہ ہے: امت مسلمہ کہاں ہے؟ اور جواب یہ ہے: واعظ کے وعظ میں اور سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کی کتابوں میں۔ ان دو جگہوں کے علاوہ آپ پوری دنیا چھان ماریں آپ کو امت نام کی کوئی چیز نہیں ملے گی۔ احباب بد مزہ نہ ہوں تو عرض کروں، امت کا یہ تصور تو بہت دور کی بات ہے مسلم معاشرے تو بنیادی انسانی قدروں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔

دو ممالک میں مسلمان حکومتیں اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔ شام میں ایک سفاک حکومت کیمیائی ہتھیاروں سے لوگوں پر قیامتیں ڈھا رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پڑی ہے جسے دیکھیں تو دل لہو سے بھر جاتا ہے۔ ایک معصوم بچہ اکھڑتی سانسیں اور پھر موت کا سناٹا۔ ایسے تو کوئی کسی جانور کو بھی مارے۔ لیکن دنیائے اسلام کا ایک اہم ملک ایران اس سفاک حکومت کے ساتھ کھڑا ہے…. سوال وہی ہے: امت مسلمہ کہاں ہے؟

ادھر مصر ہے۔ ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں کے جرنیل سماج کو لہو میں نہلا دیتے ہیں۔ نہتے اور بے گناہ لوگ ہاتھوں میں قرآن لیے جلا کر راکھ کر دیے جاتے ہیں لیکن مسلمانوں کی محبتوں کے مرکز سعودی عرب سے ارشاد ہوتا ہے: دہشت گردوں کو کچلنے کی اس کارروائی میں ہم مصر کی حکومت کے ساتھ ہیں…. وہی سوال پھر اٹھتا ہے: امت مسلمہ کہاں ہے؟

امت کے تصور موہوم کے تعاقب میں بھٹکتے ہم سادہ لوحوں کو شام اور مصر کے حالات پر ایران اور سعودی عرب کے ردعمل کا ٹھنڈے دل سے اور ساری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔ اردن میں فلسطینیوں کا جی بھر کر قتل عام کرنے والے ہمارے خود ساختہ امیر المومنین جناب ضیاءالحق نے جب اقتدار کو طول دینے کے لئے مذہب کا نام استعمال کیا تب سے تصور امت ہماری نفسیاتی گرہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ نفسیاتی گرہ اتنی مضبوط ہے کہ امت کے نام پر ہم دوستوں کی جنگ کا میدان بن گئے لیکن ہم پر وجد کی ایسی کیفیات طاری ہیں کہ ہم ان دوستوں سے اتنی سی گذارش بھی نہیں کر سکتے کہ جناب اپنے گندے کپڑے ہمارے صحن میں آ کر مت دھوئیے۔ امت کی نفی ممکن نہیں کہ یہ رشتہ سب رشتوں سے افضل ہے لیکن اس تصور کی سیاسی تعبیر کی تلاش میں ہم نے اپنا جتنا نقصان کروا لیا ہے اس کے بعد اعتدال اور تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ معاملات دنیا ہمارے سپنوں سے نہیں حقائق سے نمو پاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں جس جس نے امت کی بات کی صرف اپنے قومی مفادات کی خاطر کی۔ امت جہاں تک ان کے مفادات سے ہم آ ہنگ ہوتی ہے یہ امت امت کرتے رہتے ہیں۔ جہاں امت کے مفادات ان کے ذاتی، گروہی اور قومی مفادات سے متصادم ہو جائیں وہاں یہ امت نہیں رہتے معروف معنوں میں جدیدسیکولر قومی ریاست بن جاتے ہیںجسے صرف اپنے مفادات سے غرض ہوتی ہے۔ شام اور مصر کے حالات پر ایران اور سعودی عرب کا موقف اسی تلخ حقیقت کا اظہار ہی تو ہے۔

عدم بلوغت کا شکار ہمارا سماج جب سوال اٹھاتا ہے کہ امت کہاں ہے تو اس تصور سے فیض پانے والے طبقات کی جانب اسے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ تو صرف مسلم دنیا کے حکمرانوں کا قصور ہے، وہ امریکی پٹھو بن چکے ہیں ورنہ مسلم دنیا کے عوام الناس میں تو محبت کا زمزم بہہ رہا ہے۔ میں جب جب یہ جواب سنتا ہوں، زمانہ طالب علمی میں لوٹ جاتا ہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ مناظر آ جاتے ہیں کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں امت مسلمہ ہم پاکستانیوں سے کیا سلوک کرتی تھی۔ ہم امت امت کرتے پھرتے تھے اور امت ہمیں جوتے کی نوک پر بھی نہیں رکھتی تھی۔ پھر ایک وقت آ یا انتظامیہ نے پاکستانی طلباءکے ہاسٹلز الگ کر دیے اور باقی امت کے ہاسٹلز الگ۔ اس روز میں بالکونی میں بیٹھ کر کتنی ہی دیر سوچتا رہا تھا، امت مسلمہ کہاں ہے؟ تلاش ِ روز گار میں امت مسلمہ کے ہاں نوکری کرنے والے جس پاکستانی سے ملیں اس کی بے رونق آنکھوں میں ایک ہی سوال ہوتا ہے: امت مسلمہ کہاں ہے؟

اسلامی جمعیت طلباءکے لڑکوں نے جس رات انجمن طلباءاسلام کے لڑکے کو ہاسٹل سے اٹھایا، اس کے نازک حصوں میں ڈنڈے ڈالے، صبح ہم اٹھے تو ہم نے ہاسٹل کے سبزہ زار میں خون کی ایک لکیر دیکھی، جھگڑا یہ تھا کہ انجمن والوں نے افطار پارٹی کا انتظام کیوں کیا تھا جب کہ جمعیت کی طرف سے حکم تھا کہ وہ ایسی کوئی اجتماعی سرگرمی نہیں کر سکتی۔ اس روز بھی میں یہی سوچتا رہا کہ امت مسلمہ کہاں ہے۔ احتجاج کیا تو جواب آیا بہاولپور میں انجمن والوں نے بھی ہم پر ایسی ہی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ تھوڑی دیر سکوت رہا۔ میں نے عرض کی اس تصادم کے اختتام کی کوئی صورت؟ جواب آ یا: آصف بھائی امت مسلمہ کے اتحاد ہی میں سارے مسائل کا حل ہے…. اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔

کہا جاتا ہے امت کے بارے میں سب سے زیادہ حساسیت ہمارے پاکستان میں ہے۔ اب ذرا پاکستان کا حال بھی دیکھ لیجئے۔ افغانوں کے ساتھ ہمارے سماج میں جو سلوک ہو رہا ہے وہ محتاجِ بیاں نہیں۔ کیا یہ افغانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں جن کے نام پر ہم ڈالر کھا کھا کر پھول چکے ہیں؟ ذرا جائیے اور دیکھیے یہ مہاجرین کس حال میں رہ رہے ہیں۔ ان کے نام پر ہم نے جتنے ڈالر کھائے ان کی صرف زکوٰة ہی لگا دی جاتی تو ان کے لئے اچھی رہائش اور مناسب تعلم کا بندوبست ہو سکتا تھا۔ امت کے نام پر ہم افغانستان میں ’ تزویراتی گہرائی‘ ڈھونڈنے گئے لیکن اس پر برا وقت آیا تو ہم نے کہا : سب سے پہلے پاکستان۔

ہمارا ہر دوسرا آدمی امت کا سپاہی ہے لیکن حال یہ ہے کہ شیعہ قتل ہو جائے تو صرف شیعہ احتجاج کرتا ہے، دیوبندی مارا جائے تو صرف دیو بندی احباب احتجاج کرتے ہیںاورکسی بریلوی کے ساتھ حادثہ ہو جائے تو صرف بریلوی سڑکوں پر آتا ہے۔ ایران کے لئے ہمارے شیعہ پریشان ہیں، گلبدین کے لئے جماعت اسلامی پریشان ہے، جے یو آئی کی امت مسلمہ میں حزب اسلامی کہیں نہیں، صرف طالبان ہیں۔ اور جماعت اسلامی صرف اس امت کے لئے پریشان ہوتی ہے جس کا فکری تعلق جما عت سے ہو۔

ہمارے اپنے اپنے ظالم ہیں اور اپنے اپنے مظلوم۔ ہم ظلم کو ظلم کی نسبت سے نہیں ظالم اور مظلوم کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ ہم کسی ظلم کی مذمت کرنے سے پہلے دیکھتے ہیں ظالم کون ہے۔ چنانچہ مصر کے قتل عام پر سیکولر احباب یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ ڈالر آنا بند ہو جائیں گے اور مذہبی طبقہ ریالوں کے ممکنہ فراق کا تصور کر کے چپ ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوال پھر وہی ہے : امت مسلمہ کہاں ہے؟ اور جواب پھر وہی ہے: واعظ کے وعظ میں اور درسی کتابوں میں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “   امت کہاں ہے؟

  • 13-03-2016 at 3:32 am
    Permalink

    “اُمت” کراچی سے چھپنے والا ایک روزنامہ ہےجس کا کام اہلسنت والجماعت کی خرابیوں کو اچھائی اور دوسروں کی اچھائیوں کو برائی دکھانا ہے۔ یہ اخبار ہی اُمت ہے۔ کیونکہ اس اخبار میں امت کی تمامتر کمزوریاں “نوشتہ دیوار” کی طرح روز چھپتی ہیں، لیکن مدیرانِ ان خرابیوں کو اچھائی سمجھ کر چھپواتے ہیں، کیونکہ وہ شہرِ آسیب کے الو ہیں، جنہیں ٹانگے میں جتھے گھوڑے کی طرح دیکھنے اور گدھے کی طرح ‘سوچنے’ پر کمال کی قدرت رکھتے ہیں۔

  • 13-03-2016 at 12:16 pm
    Permalink

    When it comes to religion, we Pakistanis suspend reason and logic and treat our make-belief world as a real one.

Comments are closed.