جماعت الاحرار نے عمر خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی


پاکستان میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گروپ کے رہنما عمر خالد خراسانی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ گروپ کے ترجمان اسد منصور کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے میں نو دیگر شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

عمرخالد خراسانی کی ہلاکت کی خبریں مقامی ذرائع ابلاغ میں اس وقت سامنے آئی تھیں جب کرم ایجنسی کے قریب پاکستان افغان سرحدی علاقے میں تین امریکی ڈرون حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر مشبہ دہشت گرد تھے۔ ان ہلاکتوں کے بعد یہ اطلاعات بھی ملی تھیں کہ ہلاک شدگان میں متعدد کی لاشیں پاکستان منتقل کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کو افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے مطالبہ کرتا رہا ہے۔

گذشتہ سال صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گلشن اقبال پارک میں دھماکے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے جن میں 29 بچے شامل تھے۔ جماعت الاحرار نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس تنظیم نے کوئٹہ میں ایک ہسپتال کے قریب دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں 74 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عمر خراسانی کی ہلاکت کی غیرمصدقہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم اس مرتبہ تنظیم نے خود اپنے رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ماضی میں جماعت الاحرار خود کو تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی جماعت کے طور پر بھی بیان کر چکی ہے۔ جماعت الحرار کا آغاز پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً مہمند ایجنسی سے ہوا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  غازی عبدالرشید قتل کیس؛ پرویزمشرف کی سکیورٹی کے لئے ایک اوردرخواست دائر

جماعت الحرار نے اس سال فروری میں ملک میں کارروائیوں کے ایک نئے سلسلے ‘غازی آپریشن’ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ لال مسجد اسلام آباد میں 2007 میں فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے عبدالرشید غازی کا نام اس کارروائی کے لیے استعمال کیا تھا جس پر بعد میں لال مسجد نے اعتراض بھی کیا تھا۔

جماعت الحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے گذشتہ دنوں شدت پسند کارروائیاں ترک کرتے ہوئے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دیا تھا۔ اس سال جولائی میں سلامتی کونسل نے جماعت الحرار پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 889 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp