حمزہ مریم ملاقات: کاروباری ذہن کی سیاسی مجبوری


مریم نواز نے اپنے چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ سے ملاقات کی۔ ٹی وی سکرینوں پر دھوم مچ گئی کہ چچا نے محاذ آرائی کم کرنے کا مشورہ دیا۔ صلح ہو گئی اب حمزہ کا رول بحال ہو گیا۔ چچا کی قیادت پر مہر لگ گئی۔ پتہ نہیں کیا کیا کہا جاتا رہا ملاقات میں تو کوئی موجود نہیں تھا تو جس کے جو جی آئی، بتاتا اور لکھتا رہا۔ اس ملاقات کے لیے پہنچنے سے پہلے مریم نے این اے ایک سو بیس کا دورہ کیا تھا۔ یہ حلقہ انہوں نے اپنے زور بازو سے چھین کر جیتا ہے ان کے اپنے بقول دیکھے ان دیکھے مخالفوں سے۔

اپنی کامیابی کو بندہ کیوں یاد کرتا ہے۔ ظاہر ہے ریچارج ہونے کے لیے۔ ابھی ابھی الیکشن جیتا ہے، انہیں لوگوں میں، اپنے سپورٹروں میں جانے کا کیا مطلب ہے، سوچیں نہ۔ اس کے بعد چچا اور کزن سے ملاقات ہوئی۔ شریف فیملی کے بڑوں میں جو اتفاق ہے یا تھا، ویسا اتحاد چھوٹوں میں نہیں ہے۔ شہباز شریف بیس پچیس سال سے کار حکومت میں شریک ہیں۔ حمزہ شہباز کم از کم پندرہ سال سے خبروں میں ہیں، سامنے ہیں۔ مریم نواز دو ہزار تیرہ کے الیکشن سے ذرا پہلے پس منظر سے سامنے آئی ہیں اور نوازشریف کے بعد اہم ترین ہو گئی ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے، مسئلہ تو بن گیا اور جاری ہے۔

شہباز شریف کو زیادہ کاروباری سمجھا جاتا ہے۔ ان کو اچھا بزنس مینیجر مانا جاتا ہے۔ ان کے بچوں کو بھی کاروبار میں بہتر ہی سمجھا جاتا ہے۔ سیاست میں شہباز شریف اٹھاسی سے سرگرم ہیں۔ اب ان کے فیصلے دیکھیں۔ ترانوے میں پی پی حکومت آئی شہباز شریف نے کمر پکڑی، لندن پہنچ گئے۔ پرویز الہی پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا رول ادا کرتے رہے۔ واپسی پر شہباز شریف وزیر اعلی بن جاتے ہیں۔ پرویز الہی کے دل میں گرہ ڈال کر۔ ان کی ساری کارکردگی اور انتظامی مہارت حکومت میں رہتے ہوئے ہی سامنے آتی ہے یعنی اچھے سیاسی حکومتی مینیجر ہیں۔ اپوزیشن میں ان کا کوئی جاندار کردار کبھی رہا ہو تو یاد کر کے آگاہ کریں۔ حکومتی معاملات اہم فیصلوں کے بارے میں یہ کتنے آگاہ کیے جاتےہیں اس کی صرف ایک واقعہ ہی بہترین مثال ہے۔ مشرف کی برطرفی کا پتہ انہیں اپنی گرفتاری پر ہی لگا۔

کاروبار میں شہباز شریف کے بچے ان کی نظروں کے سامنے پاکستان میں کام کرتے ہیں۔ ان کا پولٹری اور دودھ کا کام مشہور ہوا اس کا حشر مارکیٹ سے چیک کر لیں کہ کیا ہوا۔ خاندانی بزنس شوگر ملوں کا ہے۔ تین شوگر ملیں اٹھا کر وسطی پنجاب سے سرائکی علاقوں میں لے گئے تھے۔ جہانگیر ترین جان کو آ گئے مقدمہ بازی ہوئی اب اٹھا کر واپس لا رہے ہیں۔ اگر بہت چل رہی تھیں تو لے جانے کیا ضرورت تھی ہیں جی ؟ ایک شوگر مل شاہ پور میں تھی جس پر قبضے کی خبریں آئیں تھیں پھر پتہ نہیں کدھر گم ہو گئیں وہ خبریں۔ اپنی حکومت ہے اپنا کاروبار ہے اور حال یہ ہے۔ حسین نواز کے کاروباری معاملات سعودیہ میں ہیں تو ان کا پتہ نہیں لگتا کہ کیسے ہیں۔ حسن نواز کی لندن سے کامیاب بزنس کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ شہباز شریف کی ساری سیاست ان کے اقتدار کے گرد گھومتی ہے۔ کاروباری حوالے سے بس خیر خیریت ہی ہے، سیاست بھی بس گزارا سی ہے۔ ووٹ ان کے نام کو نہیں پڑتا، ورکر ان کے پیچھے نہیں جاتا ۔ اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے تو کم ڈانواں ڈول ہے کہ شائد ہی کوئی تاثر قائم کر پائیں البتہ جوڑ توڑ کے سیانے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان اور ’’یومِ جمہوریہ‘‘

مریم نواز سامنے تو اب آئی ہیں لیکن کیا واقعی سیاست سے وہ ناواقف ہیں۔ کیا اپنے والد کے سیاسی اتار چڑھاؤ کی انہیں کوئی خبر نہیں رہی ہو گی۔ کلثوم نواز نے جب مشرف کے خلاف زبردست مزاحمت کی تو اس بارے وہ کچھ نہیں جانتی ہوں گی۔ انہیں کیا معلوم نہیں ہے کہ کون سا لیڈر بھاگ گیا تھا، وقت پڑنے پر کون ساتھ رہا، کس کی تعریف بند کمروں میں بھی ہوتی رہی۔ کیپٹن صفدر بھی سیکھنے سکھانے کے حوالے سے ایک زبردست فیکٹر ہیں۔ ایک مڈل کلاس انسان ان کی وجہ سے بھی مریم نے بہت کچھ مشاہدہ کیا ہو گا۔ سوشل میڈیا پر مریم کو مخالفین ٹارگٹ کرتے ہیں۔ وہ اس سے بھی اچھی طرح باخبر ہوں گی۔ اس حوالے سے اگر کبھی انہوں نے دو جملے بھی بول دیے تو خواتین کی جھکاؤ ان کی طرف جاتا دیکھنے والا ہو گا۔ وزیراعظم ہاؤس میں رہ کر وہ بہت متعلق رہی ہیں۔ معاملات سے بہت فرسٹ ہینڈ معلومات بھی رکھتی ہوں گی۔

چھوڑیں بات بہت سنجیدہ ہو گئی۔ ہمارا میڈیا جیمز بانڈ قسم کے رپورٹروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ رپورٹر آپ کو گن گن کر بتاتے رہتے ہیں کہ نوازشریف کے پروٹوکول میں کتنی گاڑیاں تھیں۔ ان کی حفاظت کے لیے ایلیٹ فورس کے کتنے ہزار کمانڈو تعینات ہیں۔ اب تو میاں صاحب وزیر اعظم نہیں ہیں۔ ان محافظوں میں کوئی کمی آئی ہے یا اضافہ ہوا ہے۔ ذرا چیک تو کریں۔ نوازشریف جب خیر خیریت سے مجھے کیوں نکالا کا ورد کرتے لاہور پہنچے۔ اس وقت ان کے ایک ساتھی سے پوچھا کہ آپ نام تو نہیں لے رہے لیکن جنہوں نے آپ کے خیال میں نوازشریف کو نکالا، ان کی کوئی اچھی بات تو بتائیں۔ جواب دلچسپ تھا کہ نواز شریف کو حیران کن طور پر سپر سیکیورٹی فراہم کی گئی۔ عرض یہ ہے کہ نوازشریف ہوں کپتان ہو زرداری صاحب ہوں یا مولانا یہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں ان کی ذاتی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ ان کے کام رکتے ہیں نہ ان کی طاقت میں کمی آتی ہے۔ اسفندیار ولی کا بھی ایسا کوئی ذاتی کام نہیں ہے جو پاکستان اور ارد گرد کے دو تین ملکوں میں نہ ہو سکے۔

اسی بارے میں: ۔  پاک بھارت تعلقات ذرائع ابلاغ کا کردار

مریم نواز حکومت میں رہیں یا اپوزیشن میں ان کے لیے ایک سی بات ہے۔ کارکن انہیں رسپانس کرتا ہے ووٹر نوازشریف کے بعد انہی کو دیکھتا ہے، دیکھے گا۔ ایک ہی جگہ پر شہباز شریف، حمزہ اور دوسرے مسلم لیگی لیڈروں کو کھڑا کر کے دیکھ لیں۔ مریم کے ساتھ پتہ لگ جائے گا کہ کارکن کس کی طرف جاتا ہے۔ مریم کو اپوزیشن میں رہنے سے فرق نہیں پڑے گا۔ حمزہ اور شہباز شریف کو پڑے گا۔ یہ دونوں اچھے سیاسی حکومتی مینیجر ہیں۔ جب حکومت ہی نہیں ہو گی تو مینیجمنٹ کونسی ہو گی۔ نوازشریف کو گرفتار کرنے کے لیے سب کئی کئی بار سوچتے ہیں۔ کپتان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری ہیں۔ وہ آزاد گھوم رہا لیکن یہ سہولت ہر ایک کو نہیں مل سکتی۔ یہ شہباز شریف بھی سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن میں بیٹھے تو وہ زیادہ رگڑے جائیں گے۔ زیادہ آسانی سے فارغ کر دئے جائیں گے پارٹی سے بھی۔ وہ جب مفاہمت کی بات کرتے ہیں تو اس لیے کرتے ہیں کہ ان کا سب کچھ رسک پر ہے، کاروبار بھی، سیاست بھی، حکومت بھی۔

اب حکومتی احوال دیکھ لیں وزارتیں مریم نواز گروپ کے لوگوں کو مل گئی ہیں عباسی حکومت میں۔ اس گروپ میں خیر سے ایسا ایسا شہزادہ ایم این اے موجود ہے جو چار چار سال سے حلقے میں نہیں گیا۔ کچھ ایسے ہیں جو بلامقابلہ بھی اب نہیں جیت سکتے۔ مثال کے طور پر طلال چوھدری صاحب۔ دانیال عزیز بلامقابلہ جیت سکتے ہیں۔ نام رہنے دیں شہباز گروپ کے کئی ایم این اے حضرات کو ترقیاتی فنڈ ہی نہیں دے رہی وفاقی حکومت۔ شہباز شریف اتنا تو سمجھتے ہیں کہ مریم نواز کے ساتھ حمزہ کی لڑائی جاری رہی تو ان کے بھی مریم گروپ کے بھی درجنوں امیدوار الیکشن ہار جائیں گے۔ جب حکومت ہی نہیں رہے گی تو شہباز سپیڈ بھی دوڑ لگانے کے ہی کام آئے گی پھر۔ کاروباری ذہن بہرحال اتنا تو سمجھا ہے کہ نفع نقصان کیا ہے۔ حکومت میں رہنا ہے اگلی حکومت بنانی ہے تو مل کر چلنا ہو گا۔ جن کی اتنی مجبوریاں ہوں، وہ لیڈر نہیں بنا کرتے۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو حکومت میں ہو، اپوزیشن میں ہو، جیل میں ہو یا جلاوطن، بس ایک برابر ہو، جیسے ہمارا کپتان۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 259 posts and counting.See all posts by wisi