پروسٹیٹ کینسر سے بچنے کے لیے جنسی فعل کیجیے۔ ہاورڈ یونیورسٹی


ہاورڈ یونیورسٹی نے ایک حالیہ تحقیق میں بتایا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر سے بچنے کے لیے مردوں کو ایک مہینے میں 21 مرتبہ جنسی انزال کے عمل سے گزرنا چاہیے۔ پروسٹیٹ غدود کے فعل میں خلل مردوں کے جنسی اعضا میں پائی جانے والی ایک بیماری ہے جو عام طور پر مہلک کینسر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ہاورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں جائزہ لیا گیا ہے کہ جو مرد ایک ماہ میں اکیس مرتبہ یا زیادہ دفعہ جنسی فعل کرتے ہیں ان میں پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اس کی نسبت ایک مہینے میں سات یا چار مرتبہ یہ عمل سرانجام دینے والے مرد زیادہ خطرے میں پائے گئے تھے۔ تحقیق یہ ہرگز نہیں کہتی کہ اکیس مرتبہ جنسی عمل کینسر سے بچنے کی گارنٹی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس عمل کے بعد پروسٹیٹ کینسر کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور خلیے اپنی افزائش کا عمل بہتر طریقے سے برقرار رکھتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  صحافت سے جڑی لڑکی کنواری کیوں رہ جاتی ہے؟