قراردادِ مقاصد: اقلیتوں کے حقوق کا فراموش شدہ منشور


masood munawarمجھے یاد دلایا گیا کہ آج کے دن  12 مارچ کو قراردادِ مقاصد منظور کی گئی تھی۔ اب مجھے یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ 12 مارچ قرار دادِ مقاصد کی سالگرہ ہے یا برسی۔ لکھی گئی تحریروں کا معاملہ دو رویہ ہوتا ہے کہ  اگر  کوئی تحریر اپنے جنم کے بعد اعمال میں سانس لینے لگے تو اُس کی سالگرہ منائی جاتی ہے ورنہ برسی ہوتی ہے۔ قراردادِ مقاصد کے متن کو پڑھیں تو اُس کے دو نُکات ایسے ہیں جن میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ وہ دو شقیں حسبِ ذیل ہیں :

۱۔ جس کی رو سے اس امر کا قرارِ واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔

ایک اور شق میں اسی مفہوم کو الگ انداز میں رقم کیا گیا ہے :

۲۔ جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔

ان دونوں شقوں کو اگر قائدِ اعظم کی اُس تقریر کے حوالے سے دیکھا جائے، جس میں اُنہوں نے فرمایا تھا تو اقلیتوں کے حقوق واضح ہو جاتے ہیں:

” آج تم آزاد ہو۔ آج تم اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہو، اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہو۔ تمہیں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی ہے “۔

قراردادِ مقاصد اسی نقطے کی مزید وضاحت ہے جس میں ببانگِ دہل یہ بھی کہا گیا ہے کہ :

” قرارداد کی رُو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور اُن حقوق میں جہاں تک قانون اور اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ ء دین عبادات اور جماعت سازی کی آزادی ہو گی “۔

لیکن المیہ تو یہ ہے کہ پاکستان کی برسرِ اقتدار قوتوں نے نہ تو کبھی قائدِ اعظم کے ارشادات کو در خُورِ اعتنا سمجھا اور نہ ہی مذہبی پولیس نے ہی ان اصولوں کی پاسبانی کے لیے نعرہ تکبیر لگا کر توڑ پھوڑ کی۔ قانون کی دھجیاں بھی اُڑتی رہیں اور مذہبی ضابطوں کی بھی مگر اِن کی پاسبانی کے بجائے لادین قوتوں کا ہوا کھڑا کر کے اُن کے خلاف خونریز تماشا شروع کر دیا گیا۔  کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نہ تو قائدِ اعظم اپنے مزار سے نکل کر اپنی تقریر دوہرائیں گے اور نہ ہی خُدا حساب لینےکے لیے یہاں ہوگا اس لیے وہ جبر و اکراہ کی مکمل آزادی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ کسی مذہبی نابغے اور کسی شرعی پاسبان کو اللہ نے یہ توفیق ہی نہیں دی کہ وہ سیکولریت کے تصور کی گرہیں کھول کر اُس کے باطن میں جھانکے اور اصل حقیقت سے آگاہ ہونے کی کوشش کرے۔

سیکولر قدریں وہ ہوتی ہیں جو دوسرے کے نقطہ ء نظر کو  اُس کا انفرادی اور نظریاتی حق جان کر اُس کا احترام روا رکھتی ہیں۔ بالکل اُسی طرح جیسے حبشہ کے حکمران نجاشی نے اسلامی وفد کو اپنے ہاں پناہ دی اور اُسے دشمنوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ  دوسرے کے دین کا احترام ہی تھا جس کی بنا پر نجاشی کی وفات پر اُس کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔

لفظ سیکولر لُغوی اعتبار سے مقدس کا متضاد ہے مگر اُس مقدس کا جسے یک طرفہ طور پر تقدس کا چولا پہنا کر امتیاز کی کھونٹی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ سیکولر کا اطلاق ہر اُس تصور، نظریے اور طرزِ عمل پر ہوگا جو امتیاز سے مُبرا ہے۔ مسیحی دنیا میں سیکولر کے لفظ کا اطلاق اُس طرزِ عمل پر کیا گیا جو کلیسا  کا منکر ہے۔  انگریزی لغت میں اسے کلیسائی پیمان یا قانون سے انحراف قرار دیا گیا تھا۔ چنانچہ سیکولریت کا مطلب یہ تھا کہ مروجہ مذہبی قوانین کی قطعیت سے آزادی۔ ایک کثیر الادیان معاشرے میں تمام مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور رواداری قائم رکھنے کے لیے ریاست کو کسی ایک مذہب کو ترجیح دینے سے روکنے کا عمل سیکولریت کہلانے لگا ہے۔ مثال کے طور پر نارویجین معاشرہ سیکولر معاشرے کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہاں تمام مذہبی ادارے گرجے، مسجدیں، مندر، گردوارے، بدھ و اور ہندو مندر سرکاری فنڈز سے چلتے ہیں اور ہر ایک کو مذہبی آزادی ہے۔ یہاں میرے شہر درامن میں ایسا بھی ہوا کہ ایک پرانا گرجا خرید کر مسجد میں تبدیل کر دیا گیا مگر یہاں عیسائی حلقوں نے منفی ردِ عمل کے بجائے خوشی کا اظہار کیا  لیکن ایسا پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا جب کہ اسلام جامع المذاہب ہے۔ قرآن میں لکھا ہے کہ عیسائیت اور یہودیت اپنے اپنے زمانے کے اسلام ہی تو ہیں :

“مسلمانو ! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب پر نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرٖ ف سے دی گئی تھی۔ ہم اُن کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم  مسلمان ہیں”۔ البقر

یہ سورہ بقر کی ایک سو چھتیسویں آیت ہے جو تمام مذہبی تعلمات کو اسلامی قرار دیتی ہے لیکن نہ ہم قرآن کو  مانتے ہیں، نہ قراردادِ مقاصد کو اور نہ ہی قائدِ اعظم کو۔ کوئی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے ؟


Comments

FB Login Required - comments

مسعود منور

(بشکریہ کاروان ناروے)

masood-munawar has 11 posts and counting.See all posts by masood-munawar

One thought on “قراردادِ مقاصد: اقلیتوں کے حقوق کا فراموش شدہ منشور

  • 14-03-2016 at 10:12 am
    Permalink

    Dear Masod Munawar
    this country is made for minorities, not for the majority. As you see minorities have full freedom of burning and killing innocent muslims on roads. liberal minorities for barking on the rules and regulations of the religion and sociopolitical rights of their own. Writers and columunist for writing without any proof reading and quoting citations for authintic resources and just for the humiliation of any person any time they want. Dear Majority has no rights here.

Comments are closed.