میرے خوابوں کا پھاٹک


omair mahmood

 ایک دبی دبی سی خواہش بچپن سے پال رکھی ہے۔ کسی دور دراز علاقے میں ایک ریلوے پھاٹک ہو، اور ہمیں اس کے نگہبان کی نوکری مل جائے۔ بس اتنی سی ڈیوٹی ہو کہ ٹرین آنے کے وقت پھاٹک بند کر دیں اور جانے کے بعد کھول دیں۔

شاید ہم ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں اس لیے ایسی خواہش دل میں سمائی۔ شاید یہ خیال کوئی کہانی پڑھتے ہوئے آیا، کچھ بھی ہو، لیکن اس نے جڑ پکڑ لی اور ہمارے ساتھ ساتھ ہی جوان ہونے لگا۔

آہستہ آہستہ اس خیال میں ہم نے اپنی خواہشوں کے رنگ بھرنا شروع کر دیے۔ ریلوے پھاٹک ایسی جگہ ہو جہاں ٹرینوں کی زیادہ آمدورفت نہ ہو۔ بند کرنے اور کھولنے کے لیے زیادہ بار اٹھنا نہ پڑے۔ اور سر چھپانے کے لیے پھاٹک نگہبان کو سرکار چھوٹی سی کوٹھری تو دے گی ہی۔ بس اسی میں پڑے رہیں گے اور کتابیں پڑھیں گے۔
جی ہاں! خوابوں کا سارا تانا بانا اسی ایک چاہ کے گرد بنا کہ کتابیں پڑھنے کے لیے ڈھیر سارا وقت میسر ہو۔ نوکری کے جھمیلے اس کی راہ میں حائل نہ ہوں۔

اب کتابیں پڑھنے کا ماحول زیادہ سازگار بنانے کے لیے اپنی چھوٹی سی کٹیا کے گرد دریا یا نہر بھی تو ہونی چاہیے۔ جب نظر کو سکون دینا مقصود ہو تو گردن گھمائیں اور قریب بہتے دریا/نہر سے آنکھوں کو تراوٹ دیں۔ ایسے ہی طبعیت اوبھ جائے تو گھڑی بھر دریا/نہر کنارے چہل قدمی کر لیں۔ کٹیا میں کمرے چاہے دو ہی ہوں، لیکن چھوٹا سا صحن اور اس میں بوڑھ کا درخت ضرور ہو۔ گرمیوں میں ہم اسی کی چھاؤں میں بیٹھ کر کتابیں پڑھیں، اور سردیوں میں صحن کے بیچوں بیچ دھوپ تاپتے ہوئے۔

بس جی دل میں ایسا ہی نقشہ بسائے ہم اپنے مستقبل کی تصویر میں رنگ بھرتے۔ لیکن رفتہ رفتہ کینوس وسیع ہونے لگا۔ پہلے تو خیال آیا کہ ڈھیر ساری کتابیں پڑھنے کے لیے انہیں خریدنا بھی ہوگا۔ اور یقیناً اس کے لیے سرمایہ بھی چاہیے ہو گا۔ کیا پھاٹک والے کی تنخواہ ان اخراجات کی متحمل ہو گی؟ اور جب ڈھیر ساری کتابیں آ جائیں گی تو انہیں دیوار کے ساتھ ڈھیر تھوڑی کیا جائے گا۔ بھئی ظاہر ہے ایک خوبصورت سی الماری بنوائی جائے گی۔ لو جی الماری بن گئی تو کمرہ تنگ سا نہ لگے گا؟ پھر یہ کہ پڑھنے لکھنے کے لیے کمرہ تو علیحدہ ہی ہونا چاہیے نا! یوں ایک کمرہ ہو گیا ہمارے سونے کے لیے، ایک کسی آئے گئے کے لیے۔۔۔ تو کتابیں کہاں رکھی جائیں گی۔ دو کمروں کی کٹیا چھوٹی سی لگنے لگی۔ خوابوں میں اپنی طرف سے ایک کمرے کا اضافہ کر لیا۔ اس کمرے میں قد آدم کھڑکی بنوائی، اس کا رخ دریا/نہر کی طرف رکھا۔ یوں خوابوں کے محل میں ایک کمرہ اور تعمیر ہو گیا۔

پھر فکر ہوئی، کوئی مرکزی شہر تو قریب ہو جہاں سے کتابیں خریدی جا سکیں۔ اور اس شہر تک جانے اور واپس آنے کے لیے کوئی سواری بھی ہونی چاہیے۔ موٹرسائیکل ویسے تو ٹھیک ہے لیکن زیادہ کتابیں ڈھونے میں دقت ہو گی۔ اس لیے ڈگی والی گاڑی زیادہ موزوں رہے گی۔

انٹرنیٹ سے شناسائی ہوئی تو اس ادھیڑ بن میں لگ گئے کہ خدا جانے دور دراز ریلوے پھاٹک تک انٹرنیٹ کے سگنل بھی آئیں گے یا نہیں۔ صرف انٹرنیٹ کی بہتر رفتار کے لیے ہم نے اپنی تعیناتی کا محل وقوع تبدیل کیا۔

اس دوران یہ پھاٹک والا تعلیم حاصل کر کے برسرروزگار بھی ہوگیا۔ ایک مرکزی اور پرشور شہر میں رہائش بھی کر لی۔ کتابیں حاصل کرنے کے اسباب بھی دسترس میں ہیں لیکن بک کے بجائے فیس بک پر تمام وقت تمام کرتا ہے۔ کتاب کئی سال تک الماری میں پڑی رہتی ہے یہ پڑھ کر نہیں دیتا۔ شاید کوئی گرہ سی لگی ہے۔ اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اپنے خوابوں کی کٹیا میں بستا ہے۔ طبعیت اوبھ جائے تو نظر کو تراوٹ دینے کے لیے دریا یا نہر تلاشتا ہے۔ گرمیوں میں سایہ دینے کو بوڑھ کا درخت چاہتا ہے۔ اس دوران نعمتوں کی ایک اور ٹرین آتی ہے، یہ اٹھ کر شکرانے کا پھاٹک بند کر دیتا ہے اور ناموجود درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر ناشکری کی کتاب کھول لیتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 27 posts and counting.See all posts by omair-mahmood

One thought on “میرے خوابوں کا پھاٹک

  • 13-03-2016 at 3:45 pm
    Permalink

    Good piece

Comments are closed.