ذوالفقارعلی بھٹو بنام نواز شریف


مشکل کچھ ایسی بنی کہ سمجھ جواب دے گئی۔ اگرچہ وہ اس سے کہیں زیادہ کڑا وقت دیکھ چکے تھے جب اٹک کی کال کوٹھری میں روزانہ آنکھ کھلتے ہی پہلا کام اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر چٹکی بھرنا ہوتا اور دوسرا کام کوٹھری کے سلاخوں والے گیٹ کے سامنے پانچ فٹ کے فاصلے پر دس دس قدم کا لیفٹ رائیٹ کرنے والے دو سنتریوں کا بغور مشاہدہ کرنا جوہر پانچ قدم پر ایک دوسرے کو کراس کرتے اور دسویں قدم پر اپنی ایڑیوں پر ایک سو اسی کے زاویے پر گھومتے گھومتے جب انکا بغور مشاہدہ کر لیتے تو با آوازِ بلند ایک دوسرے سے سوال کرتے “کوئی شک؟”، پھر زور سے سر بائیں سے دائیں جانب جھٹکتے اور پھر دس کی گنتی شروع ہو جاتی۔ جب انہیں یقین ہو جاتا کہ بڑے بڑے پروں والے باریش اور سیاہ چغوں والے پہرے دار نہیں بلکہ چست وردی میں ملبوس، چمکدار پالش والے بوٹ پہنے، بڑی بڑی مونچھوں والے وہی جانے پہچانے چہروں والے سات سات فٹ کے جوان ہیں تو لمبی سانس لیکر کوٹھری کے پچھلے کونے میں تین بائی تین بائی تین فٹ کے باتھ روم کا رخ کرتے۔ انہیں معلوم تھا کہ حالات تیزی سے اسی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ انکا کوٹھڑی کا خوف اتر چکا تھا لیکن خواہش انکی یہ تھی کہ اس دفعہ کم از کم وہ کوٹھڑی میں نہیں جائیں گے۔ اسی شش و پنج میں تھے کہ ایک دن ڈاکٹر عطا الرحمان کا ٹائم مشین کے حقیقت کا روپ دھارنے والا کالم پڑھ کرمنہ اندھیرے ڈرائیور سے کہا کہ کالے شیشوں والی گاڑی نکالو اور پندرہ منٹ بعد وہ بنی گالہ کی ایک کوٹھی کے باہر موجود تھے۔ ہارن پر ہارن کی آواز سن کر سر پر نماز والی ٹوپی پہنے ہاتھ میں بہشتی زیور کے صفحوں میں انگلی دبائے ڈاکٹر قدیر ناگواری سے بھاگے بھاگے آئے۔ کالا شیشہ جونہی کوئی آدھا فٹ نیچے ہو کر رک گیا تو بے اختیارانہوں نے بانہیں کھول دیں، پھر جانے کیا سوجھی کہ بازوواپس سمیٹ لئے، چہرے پر سنجیدگی طاری کر لی اور چوکیدار کو گاڑی پورچ میں لگوانے کا اشارہ کیا۔

چند لمحوں میں ڈرائینگ روم کے اندر نواز شریف اور ڈاکٹر صاحب سر جوڑ کربیٹھے تھے۔ پہلے تو نواز شریف نے ڈاکٹرصاحب کو ایٹمی دھماکوں والا کارنامہ یاد دلایا پھر مشرف نے دونوں پر جو کوہ گراں گرائے، انکا ذکر ہوا۔ بالآخر نواز شریف نے مدعا بیان کیا کہ ذوالفقار بھٹو سے ملنا چاہتا ہوں۔ کافی سوچ بچار کے بعد ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ٹائم مشین ابھی مارکیٹ میں تو نہیں آئی لیکن جوانی کے زمانے کا ایک دوست سائنسدان جو ٹائم مشین پر کام کر رہا تھا، مدد کر سکتا ہے۔ طے یہ ہوا کہ احتساب عدالت میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد نواز شریف جب اہلیہ کی عیادت کرنے لندن جائیں گے تو سارا بندوبست ہو چکا ہو گا۔

ایک جھٹکے سے نواز شریف کی آنکھ کھلی۔ بھٹو کال کوٹھری میں چھت کو گھور رہے تھے، انہیں ابھی تک اس دشمن نما دوست کی بات کا یقین نہیں آ رہا تھا کہ سب ختم ہو چکا ہے۔ نواز شریف کی نظر فورا اپنی رولیکس گھڑی پرپڑی جس پرتاریخ تھی 4 اپریل، 1979 اور وقت تھا رات کے ایک بجے کا۔ نواز شریف کو سامنے دیکھ کر ذوالفقار بھٹو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے لیکن جب انہوں نے اپنا تعارف کرایا اور ساری رودار سنا کر بولے کہ 14 اکتوبر، 2017 سے ٹائم مشین کے ذریعے آپکی کی نصحیت لینے آیا ہوں تو بھٹو بہت خوش ہوئے۔کہنے لگے پہلی خوشی تو اس بات کی ہے جب برکلے میں پڑھتا تھا تو ٹائم مشین فلم دیکھی تھی،آج سچ ہوگئی اور دوسری خوشی اس بات کی ہے کہ آپ تین دفعہ منتخب وزیر اعظم بننے کے باوجود ابھی تک زندہ ہیں۔ نواز شریف بولے، سر آپ کے پاس صرف تین گھنٹے کا وقت بچا ہے، برائے مہربانی راہنمائی کریں۔

بھٹو ایک گہری سوچ میں ڈوب گئے، چند منٹ گزر گئے تو گویا ہوئے۔ میاں صاحب! پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ امریکہ کو آن بورڈ رکھو۔ پہلے بھی اگرآپ بچ گئے تھے تو اللہ کے بعد امریکا تھا جس نے آپکو بچایا تھا۔ یاد ہے مشرف کی بغاوت سے پہلے آپ نے شہباز شریف کو امریکہ بھیج کر ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ پھر اصل معاملات تو آپ کی اور بل کلنٹن کی ذاتی ملاقات میں طے ہوئے تھے جب کلنٹن آپکی معصومیت پر حیران رہ گیا تھا کہ آپکو معلوم ہی نہیں تھا کہ کارگل کی جنگ کے دوران آپ کا ملک ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ کلنٹن نے آپکو دو آپشن دیئے تھے، آپ نے اس وقت کلنٹن کی بات مان کر درست فیصلہ کیا تھا اور پھر آپ نے دیکھ لیا کہ کلنٹن سے کیسے آپکی جان بچا کر اپنا وعدہ پورا کیا۔ ٹین کور کے کمانڈر لیفٹینٹ جنرل جمشید گلزار کیانی جنہوں نے ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کی حیثیت سے آپکو کارگل کے اصل حالات پر بریفنگ دی تھی، نے تو بہت بعد میں ٹی وی انٹرویوز کے دوران بتایا کہ آپ انکی بریفنگ کے بعد ملک اور اداروں کے وقار کی خاطر امریکہ کی مدد حاصل کرنے واشنگٹن پہنچے تھے۔ آپکو معلوم ہے کہ حالات کی سنگینی کیا تھی کہ صدر کلنٹن نے امریکا کی یوم آزادی کی تقریبات چھوڑ کرآپ سے ملاقات کی تھی۔ لیکن جب آپ اٹک قلعے میں بند تھے، اس وقت تک تو عوام کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا اور آپکو کارگل جنگ کا ولن بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ اور یہ بھی آپکو معلوم ہے کہ عوام بھلے سعودی عرب سمجھتی رہے لیکن آپ کو بچانے میں اصل کردار صدر کلنٹن کا تھا جو انڈیا کے دورے کے دوران چند گھنٹے نکال کر پاکستان صرف اسلئے آئے تھے کہ مشرف سے آپکی زندگی کی گارنٹی لے سکیں۔ اڑھائی گھنٹے کے بعد اگر میں پھانسی پر جھولنے والا ہوں تو اسکی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ امریکہ نہ صرف مجھے بچانے نہیں آیا بلکہ مجھے قوی یقین ہے کہ ضیاالحق کو شہہ دینے میں اسکا ہاتھ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

امریکا کا خیال ہے کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے سے باز رکھنے کیلیے میرا منظر عام سے ہٹنا از حد ضروری ہے۔

دوسری نصیحت یہ ہے کہ اب آپ چونکہ وزیر اعظم نہیں رہے اس لئے آپکی صدر ٹرمپ سے براہ راست ملاقات تو ممکن نہیں لیکن آپکی درست پالیسیوں اور ترجیحات کی وجہ سے آپکو جو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے اسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلی ترین سطح سے گارنٹی ضرور لے لیں۔ لیکن اس دفعہ بات چیت کیلئے گھر کے لوگوں کی بجائے اپنے انتہائی قابلِ بھروسہ ساتھیوں کو بیچ میں ڈالنا پڑے گا۔ اس مقصد کیلئے آپ نے خواجہ آصف اور احسن اقبال کا جو انتخاب کیا ہے وہ مجھے بظاہر ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات جتنے بھی قریبی اور بہتر کیوں نہ ہوں لیکن بوجوہ سب سے بڑی گارنٹی ابھی بھی امریکا ہی کی ہے۔ لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ شی چن پھنگ کی گارنٹی کیلئے آپکو کوشش نہیں کرنی چاہئے۔

میں خود کو بہت بڑا مردم شناس سمجھتا تھا، لیکن دیکھ لو میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ آپ بھی اپنے پائوں پر کلہاڑی مار چکے ہیں۔ لگتا ہے جو دھوکا میں نے کھایا وہی آپ کھا رہے ہو۔ اقتدار کی بھوک ہر کسی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے لیکن یحیی خان محفل اور رنگ بُو کی دنیا کا باسی تھا، لیکن دل کا بُرا نہیں تھا۔ ایسے لوگ دل کے بُرے ہو ہی نہیں سکتے۔ مشرف کو کچھ حلقوں میں یحیی خان ٹو کے لقب سے پکارا جاتا ہے، دیکھ لو، تم جیسے تیسے اس کو بھگت ہی چکے ہو۔ لیکن ضیاالحق کو جب میں نے چیف بنایا، سوچا کہ عاجز سا ہے، کام سے کام رکھنے والا، اچھی بُری بات سن لیتا تھا، مِٹا ہوا، لو پروفائیل میں رہنے والا۔ کسی بھی دبنگ چیف کے برعکس یہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرے گا، کر ہی نہیں پائے گا۔ لیکن دیکھ لو اس نے جو جو کچھ کر دیا ہے، تمھارے سامنے ہے۔ تمھیں تو شاید بُرا لگے کہ تم اسے اپنے والد کی جگہ شمار کرتے رہے، میں بھی اسکندر مرزا کو قائد اعظم ثانی اور جنرل ایوب کو تقریبا ڈیڈی ہی کہا کرتا تھا۔ لیکن ہم جیسوں کو جو مارشل لائوں کی نرسری میں پیدا ہوتے ہیں، پر پرزے نکالتے ہیں، اور پھر وزیر اعظم بن کر واقعتا وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں، کوئی نہ کوئی ضیاالحق بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔

میں بھی ٹھیک ٹھاک حکومت کر رہا تھا۔ اگلے انتخابات جیتنا یقینی تھا۔ بلکہ مبشر حسن نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ میں اگلے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا یقینی سمجھ رہا تھا اور ارادہ میرا یہ تھا کہ آئینی ترمیم کر کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام سے بدل دوں۔ آپ کو بھی تو امیر المومنین بننے سے مشرف نے بچا لیا تھا، ہی ہی ہی۔۔۔۔ سب ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن پھر اچانک معمول سے ہٹ کر چیزیں ہونے لگیں۔ میں بھانپ گیا تھا کہ گڑبڑ ہو رہی ہے۔ آثار ٹھیک نہیں تھے لیکن جب ضیاالحق کی مسکینی بھری صورت ابھرتی تو مجھے لگتا ۔۔۔ نہیں نہیں یہ ایسا نہیں کر سکتا۔ دوبارہ معاملات دیکھتا تو میری چھٹی حس کہتی کہیں کوئی سازش ہو رہی ہے۔ میں نے دس مہینے پہلے ہی عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن بُری طرح تقسیم تھی اور میں مکمل طور پر مطمئن، لیکن اچانک پی این اے بن گئی۔ جس میں نہ صرف مذہی جماعتیں جو ایک میز پر اکٹھی بیٹھنے کی روادار نہ تھیں اکٹھی ہو گئیں بلکہ ولی خان اور بیگم نسیم ولی خان جیسے سرخے اور اصغر خان جیسے لبرل “نظامِ مصطفی” کے نعرے لگاتے نظر آنے لگے۔ پھر آہستہ آہستہ عوام کے مذہبی جذبات بھڑکنا شروع ہو گئے اور مجھے “اسلام دشمن” اور “شرابی” کہا جانے لگا۔ معیشت اچھی خاصی چل رہی تھی لیکن اچانک ہرطرف یہ بات پھیل گئی کہ میری سوشلسٹ پالیسیوں سے معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ میں کوئی بچہ تو نہیں تھا، مجھے معلوم تھا کہ سب کچھ خود سے نہیں ہو رہا بلکہ کروایا جا رہا ہے لیکن ضیاالحق کو پہچاننے میں میں بچہ ثابت ہوا، میں دھوکہ کھا گیا۔ پہلی بات، کسی صورت قبل از وقت انتخابات کی طرف نہ جانا۔ دوسری بات، تمھارے ساتھ جو سب کچھ ہو رہا ہے، مت بھولنا کہ یہ خود بخود نہیں ہو رہا۔ تیسری بات، جب میرے اوپر اچانک سے اتنا زیادہ پریشر ڈال دیا گیا تو میں نے سب سے فاش غلطی کی، میں پیچھے ہٹنا شروع ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ میرے پیچھے ہٹنے سے شاید میرے خلاف سازش کرنے والے مطمعن ہو جائیں لیکن وہ الٹا اور شیر ہو گئے اور میرے خون کے پیاسے ہو گئے۔ تم اپنی جگہ مت چھوڑنا۔ ڈٹ کر کھڑے رہو۔ اگر تمھیں ہارنا ہے تو جگہ چھوڑنے سے تمھاری شکست کی رفتار ہی تیز ہو گی، فائدہ خاک نہیں ہونے والا۔

اسی بارے میں: ۔  مہمان، ہنزہ پولیس اور پنجابی افسر

اب اگلی بات، مولوی مشتاقوں اور نسیم حسن شاہوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا، تمھارے ساتھ بھی وہی کریں گے۔ مجھے افسوس رہے گا کہ میں عدالتوں میں اتنی لمبی لمبی تقریریں کرتا رہا۔ مجھے اپنی صفائی کی کوشش میں کہے گئے ایک ایک لفظ پر شرمندگی ہے۔ جالب کہتا رہا

یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے

لکھا ہے انکے چہروں پر ہمیں جو فیصلہ دیں گے

لیکن مجھے اپنے فنِ تقریر پر بہت زعم تھا، یہ پڑا ہوں میں۔ تمہارے لئے میدان چھوڑنا ممکن نہیں لیکن مریم کو اس دلدل میں نہ دھکیلو۔ بینظیر کی طرح اسمیں بھی پوٹینشل ہے۔ کم از کم اسے مولوی مشتاق کی روح کے رحم و کرم پرنہ چھوڑو۔ وہ ٹھیک کہتی ہے اسے لندن رہنے دو، ہو سکتا ہے افتاد پڑنے پرباہر رہ کر وہ تمھیں بھی بچا لے۔

اتفاق گروپ اپنی عمر پوری کر چکا ہے۔ تم دو بھائیوں نے جس طرح اتنا عرصے اکٹھے رہ کر سیاست کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن اولاد فتنہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تمھیں اس بات کا کافی حد تک احساس ہے۔ آگے بڑھتے ہیں۔ دیکھو، زرداری نے بینظیر کے ساتھ کیا کیا۔ میرے اوپر پی این اے کی تحریک میں بھی کرپشن کا الزام نہیں لگا لیکن۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔ اور اب دیکھو، پیپلز پارٹی کا کیا حشر ہو گیا ہے۔ میاں صاحب! کبھی کبھی تو لگتا ہے یحیی خان ٹو اور ضیاالحق ٹو کی مثالوں کی طرح آپ کو بھی کوئی ذوالفقار بھٹو ٹو نہ کہہ ڈالے۔ یہ کپٹن صفدر کیا کر رہا ہے؟ اس نے اسمبلی میں جو کچھ کیا، جانتے ہیں آپ کے لبرل ووٹ بنک کو کتنا نقصان ہوا؟ لیکن جب میں سوچتا ہوں کہ اس نے اسمبلی کی تقریر آپکے اشارے پر کی ہے تو کہتا ہوں کہ ٹھیک ہی کیا۔ لبرل حلقے تو گفتار کے غازی ہیں لیکن مذہبی کارڈ جسے کھیلنے کے آپ خود بہت بڑے ماہر ہیں، اگر آپکے مخالفوں کے ہاتھ لگ گیا تو آپ کا انجام بھی مجھ سے مختلف نہیں ہو گا۔

نواز شریف نے گھڑی پر وقت دیکھا تو چار بجنے میں پندرہ منٹ باقی تھے۔ وہ بھٹو سے بہت ساری باتیں کرنا چاہتے تھے لیکن بھٹو نے مشقتی کو آواز دی اور شیو کا سامان منگوایا۔ کہنے لگے چائے کا دل چاہ رہا ہے، میں شیو کرتا ہوں تم دو کپ چائے بنا دو۔ آخری نصیحت؟ نواز شریف بُڑبڑائے۔ بھٹو خاموش رہے، اتنے میں مشقتی دو کپ چائے لے آیا۔ گھڑی نے چار بجا دیئے۔ جیل کا عملہ سٹریچر سمیت آ دھمکا۔ “وقت ہو گیا ہے” کی آواز کال کوٹھری میں گونجنے لگی۔بھٹو نے کپ اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھایا لیکن انہیں بتایا گیا کہ “وقت ہو گیا ہے” ہاتھ واپس کھینچ کر بھٹو نے نواز شریف کی نظروں میں جو کہا وہ بتانے کیلئے الفاظ نہیں۔ اٹھنے کی کوشش کی لیکن ٹانگوں میں جان نہ تھی۔ جب بھٹو کو سڑیچر میں ڈال کر لیجایا جا رہا تھا تو نوازشریف ساتھ ساتھ بھاگے۔۔۔۔ آخری نصیحت؟ کاش تم انہی لوگوں کی شہہ پر میری لاڈلی بینظیر کو اتنا تنگ نہ کرتے۔۔۔۔ میں تو مقتول کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا تھا لیکن تم تو لندن کے فلیٹ بیچ کر غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہو۔۔۔۔ گناہوں کی معافی مانگو۔۔۔ اور جمہوریت کیلئے سٹینڈ لو، تاریخ تمھارا انتظار کر رہی ہے۔ بھٹو کی آواز بوٹوں کی ٹاپوں میں گم ہو گئی۔ تارا مسیح اس صبح کی ضیا کو ظلمت میں بدلنے کو تیار بیٹھا تھا۔ نواز شریف کا دل بہت خراب ہوا۔ جیل کی کھلی ہوا میں دم گھٹا تو باہر سڑک کنارے پر آ بیٹھے۔ دو گھنٹے کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا۔ اچانک سڑک پر روٹ لگ گیا۔ صدارتی پروٹوکول میں ضیا الحق کا قافلہ ان کی جانب آ رہا تھا۔ نواز شریف نے ٹائم مشی کا بٹن دبایا اور گاڑی کے اندر جا دھمکے۔ جب ضیا الحق جیل کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ان کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، حالانکہ اس وقت تک جیل کے عملے کے سوا اگر کسی کو پتہ تھا کہ بھٹو کو پھانسی دی جا چکی ہے تو وہ ضیا الحق تھے۔ نواز شریف کا دل ڈوب گیا، اس سے پہلے کہ ضیاالحق ان سے مخاطب ہوتے وہ ٹائم مشین کا بٹن دوبارہ دبا چکے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔