قصہ ایک شعری تصرف کا


aasemایک قابل احترام ’ مولوی صاحب ‘نے ایک ہی سانس میں ’سکہ بند علمائے دیوبند‘ کا قصیدہ پڑھتے اور دوسرے سانس میں ’درباری شعرا ‘ پر دو حرف بھیجتے ہوئے ، کس بے دردی سے ہمارے زمانے کے ایک عظیم شاعر کے شعر میں تصرف کیا اور ’مٹی کی محبت‘ کو ’امت کی محبت ‘ سے تبدیل کر دیا۔ یوں کہنے کو تو یہ بے ضرر سا شعری تصرف ہی ہے لیکن اگر دیکھیں تو اپنی تہوں میں کتنی عظیم المیاتی معنویت رکھتا ہے۔ یعنی ایک ایسے اسم کو جو نہ صرف اپنا وجود بلکہ ایک مہک بھی رکھتا ہے ، ایک ایسے اسم سے بدل دینا جس کا کوئی مسمیٰ ہی نہیں ایک ایسی علامتی مسماری ہے جس کا اندازہ زیرِ تصرف شعر کے ملبے کو دیکھ کر بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔آئیے اس معنویت کی المیہ جہت کا مطالعہ کرتے ہیں۔

لفظ امت کو لیجئے تو بحیثیت مسلمان خدائی اصطلاحات کا احترام مجھ سمیت کسی بھی مسلمان پر واجب ہے لیکن یہ احترام اپنے اندر اس جبر کا جواز تو نہیں رکھتا کہ کسی ’سکہ بند‘ عالم کے تعبیری استبداد کے آگے اس لئے گھٹنے ٹیک دئیے جائیں کہ وہ ’چٹائی نشیں‘ ہے ؟ ڈالروں کے قصے ، جہاد و قتال کی فرضیت اور دعوت و عزیمت کی تاریخی ہنڈیا میں مصالحوں کے رسائل تخمینہ بھی یقینا اپنی جگہ دلچسپ موضوعات ہیں لیکن کیوں نہ اس سے پہلے زبان و بیان کا بنیادی مسئلہ اس طرح حل کر لیا جائے کہ سماجی طور پر زیادہ سے زیادہ بامعنی زبان بولنے پر اصرار کیا جائے؟ چونکہ معاملہ بندے اور خدا کا ہے تو کیوں نہ پہلے بندے کو اپنے ضمیر کے مطابق خدائی الفاظ کی تعبیر کا اختیار دے دیا جائے یا کم از کم اتنا ہی حق دے دیا جائے کہ وہ راہ کا انتخاب کرنے میں اس حد تک آزاد ہو کہ’علمائے حق‘ کے قصیدہ گو اس پر آوازے نہ کسیں؟

لہٰذا کیوں نہ پہلے یہ تسلیم کے آگے بڑھا جائے کہ یہ امت محض ایک نام نہاد تصور ہے؟ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ معاذ اللہ کوئی دیوانے کی بڑ ہے لیکن کم از کم ایک ایسا آدرش ہے جو نظری حد تک بھی فی زمانہ کوئی ایسی بامعنی سماجی جہت نہیں رکھتا جس کے ارد گرد نظریہ بندی ممکن نظر آتی ہو۔ چلئے آپ کا دل رکھنے کے لئے ہم اسے ’نام نہاد‘ نہیں کہتے کیوں کہ معاملہ جذبات کا ہے اور حرفیت پسند سادہ لوح نفسیات کو متوحش و متذبذب کر کے خود کو خطرے میں کیوں ڈالا جائے۔ ہمارا مقام یہ بھی نہیں کہ اس بحث میں پڑا جائے کہ یہ خوبصورت لفظ اپنے معانی کے لامتناہی پھیلاو¿ کی مختلف جہتوں کے ساتھ قرآن کریم میں کتنی بار اور کس سیاق و سباق میں استعمال ہوا ہے کہ اس کے لئےمحققین و ماہرین اپنی اپنی جگہ خوب کام کر رہے ہیں لیکن بقائمی ہوش و حواس ہم میں سے کچھ باضمیر مسلمانوں کے لئے طبقہ? علما اور ان کے حوارین کی جانب سے اس لفظ کا یوں بے دریغ استعمال ذرا اچنبھے کا باعث ہے۔ اپنے مسلمانی کا بالجہرتحریری اقرار اس لئے ناگزیر سمجھا کہ وطن عزیز کے آئین کی رو سے بھی اب خود کو مسلمان کہنا اور سمجھنا مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عرب و عجم اور ہندو چین میں پھیلی پوری ’امت مسلمہ‘ اس بنیادی قضئیے پر رائے قائم کرنے کے لئے بھی اپنے اپنے آئین کی پابند ہے۔

ہم بخوبی جانتے ہیں کہ تصورِ امت پر سوال اٹھانے اور اس کے ساتھ ’نام نہاد‘ وغیرہ کے سابقے لگانے سے آپ کے معصوم ذہن میں موجود تصوراتی وحدت اکائیوں میں بٹنے لگتی ہے جو زمین پر تو پہلے ہی ٹھوس اور محترم اکائیوں میں ہے، اور خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں یہ خوبصورت آدرش واقعی تو کھوکھلے نہیں؟ ایسے میں جہاد وقتال کے لئے خون جوش کیسے نہ مارے لیکن پھر آپ ہی کہیئے کہ امت مسلمہ کے رنگ برنگے خطہ ہائے خاکِ وطن کے بالمقابل کھڑے اس تصور کو نام نہاد نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ یہ تصور، یہ خوبصورت لفظ آخر کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ اگر اس اسم کا کوئی مسمیٰ نہیں، زمین پر کوئی ایسی نظری جمیعت تک نہیں، امکانی طور پر بھی کوئی ایسا سماجی یا سیاسی دائرہ تصور نہیں تو پھر ایسے خوبصورت بامعنی شعروں میں ایسی بے محل اور بے معنی علامتی مسماریاں چہ معنی دارد ؟

بہرحال سماجی مباحث کی ان تمام باہمی چاند ماریوں کے باوجوداس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ خدا کی موسوم کردہ ایک تخیلاتی جامعیت ہے لیکن ایک ایسی اکائی بحیثیت ایک تصور بھی ماورائے زمان و مکان آخر کب تک معنی خیز ہو سکتی ہے؟ آپ بھی بطور طبقہ علماءکی نمائندگی کرنے والی ایک سیاسی قوت کے انیسویں صدی کی استعماریت اور بیسویں صدی کی جغرافیائی حد بندی کے بعد چاروناچار اس تصورِ امت میں ایک بنیادی قلبِ ماہیت کے تو قائل ہی نظر آتے ہیں ورنہ اب تک شام و عراق میں بیعت ِ خلافت کا طوق بخوشی گلے میں ڈال چکے ہوتے۔ پھر سماجی فلسفے کی جہت میں یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ خدا کے ذہن میں موجود یہ تخیل یا خواہش حقیقت میں ظہور پذیر ہونے کے لئے انسانی ارادے یا کسی تاریخی جبر کی محتاج بھی ہے یانہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ سوال آپ کے لئے بہت سخت ہیں لیکن آپ کو چٹائی نشینوں کے مقلدِ محض ہونے پر فخر ہے تو آپ ہمیں سیکولر جامعات میں استادوں کی جوتیاں سیدھی کرنے پر فخر و شرف میں ہر گز کم نہ پائیں گے۔ پنے ارد گرد دیکھئے تویہ اپنی تمام کمزوریوں کے ساتھ اب دلیل کا میدان ہے اور مذہبی سماجیات کی تعبیروں کو قلعہ بند رکھ کر ان پر حکومت کا وقت اب گزر گیا۔

آپ ہمارے لئے محترم ہیں کہ ہمارے پاوں کے نیچے کی مٹی سانجھی ہے لہٰذا اسی سوال کو یوں کئے لیتے ہیں کہ اگر یہ تصورِ امت کوئی الہامی تخیل ہے بھی تو انسانی ارادے کو فرض کر کے ہی آگے بڑھتا ہے، محض اپنی تعظیم پر اصرار نہیں کرتا۔ ہم کم علموں کو تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا الہامی اساسی تخیل ہے جو روزِ اول ہی سے ہماری اجتماعی نفسیات کا حصہ ہے، ایک ایسا لاحاصل آدرش جس کے حصول کی خواہش کو اپنے وجودِ فکر سے نکال باہر پھینکنا تو خیر ہے ہی ناممکن ، اس پر سوال اٹھانا بھی ایک خوفناک سماجی اضطراب کا باعث بنتا ہے۔ہماری رائے میں یہ خوف لامعنویت کا خوف ہے۔ ایک المیہ، ایک مسلم ٹریجڈی ہے۔ ہم اس لاحاصل آدرش کی جستجو میں ہیں جس کے لاحاصل ہونے پر ہمیں یقین ہے لیکن اس یقین کے اقرار سے ڈرتے ہیں۔ یقیناً ہر ٹریجڈی کی طرح اس ’مسلم ٹریجڈی‘ کے بھی کچھ ہیرو ضرور ہوں گے اور اگر آپ کے خیال میں وہ جانباز ہیرو ڈالروں کی کشش کے بغیر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے رہے تو یقیناً ایسا ہی ہو گا ، لیکن بہرحال یہ تو آپ بھی مانتے ہیں کہ ڈالر کسی نہ کسی شکل میں اس جہاد و قتال سے بھرپور ٹریجڈی کا ایک کردار ضرور ہے۔ ایسے میں اگر آپ اس المیہ ناٹک کے کچھ ہیروز کو تاریخ کی مذمت سے بچانا چاہتے ہیں اور پوری نیک نیتی سے سمجھتے ہیں کہ پیدائش کے حادثے کی صورت میں یہ امت نامی تاریخی جبر اور اس لاحاصل آدرش کی محبت کا انعام آپ کے حصے میں آیا ہے تو ہمیں آپ سے ہمدردی بھی ہے اور آپ کی خوداعتمادی پر رشک بھی آتا ہے۔ لیکن کم از کم ہم میں سے کچھ کو مسلمان رہنے کا حق دیتے ہوئے یہ رائے تو قائم کرنے دیجئے کہ نہ تو امت موجود ہے اور نہ ہی نظری طور پر کوئی ایسی وحدت بننا قرینِ قیاس ہے۔جدیدیت کا حادثہ رونما ہو چکا ہے۔ نئی اصطلاحاتی زبانوں کے ظہور سے نئے تصورات اور سماجی اکائیاں حقیقتوں میں ڈھل چکی ہیں، دائرے کھینچے جا چکے ہیں اور اب نسل در نسل ان دائروں میں تحدید کے بعد انسان جینیاتی طور پر تسلیم کر چکے ہیں کہ ان کے مفادات انہی دائروں سے وابستہ ہیں۔ جب وہ ان مفادات کی خاطر ایک دوسرے کو قتل کرنے پر آمادہ ہیں تو کونسی وحدت اور کون سی محبت؟

قصہ مختصر کہ محرک آخر کار ایک شعری تصرف ہی تھا۔ قوسین میں موجود لفظ پر نظر ٹک گئی، رہا نہ گیا اور قلم اٹھ گیا۔ آخر میں اتنا عرض کئے دیتے ہیں یہ بھی ہمارے زمانے کا المیہ ہی ہے کہ محبت اب صرف مٹی ہی کی ہے اور طبقہ علما کی یہ روایتی حریت اور امت کی محبت وغیرہ محض خوبصورت لفاظی ہے، تاریخ کے جبر کے ہاتھوں خود اپنا منہ چڑاتی ایک ضدیا زیادہ سے زیادہ ایک بے معنی بڑبڑاہٹ۔اس تذبذب سے باہر نکلئے اور نئی دنیا کا حصہ بن جائیے کہ وقت ہاتھوں سے نکلا جاتا ہے۔ لیجئے اسی غزل کا مطلع کہ جدید ریاست و سیاست کی بیعت میں موجود ان طبقہ علما پر خوب صادر آتا ہے جو ووٹ کی قوت کے ساتھ ساتھ اہل فتوی کے ذریعے جہاد و قتال کی حجت و فرضیت کے بھی قائل ہیں۔

حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے
ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “قصہ ایک شعری تصرف کا

  • 24-03-2016 at 2:08 am
    Permalink

    حضرت، مہربانی فرما کر وہ شعر جس میں تصرف کیا گیا اور وہ مضمون بھی بتلا دیں تاکہ بقول یوسفی صاحب ہماری آلو کی بھجیا ھضم ھو سکے۔۔۔ جزاک اللہ

Comments are closed.