لونڈے بازی، نفسیاتی فعل یا تفریح کا ذریعہ؟


لونڈے بازی، لڑکے بازی، چھورے بازے یا پھر ہم جنس پرستی کے قصے کہانیاں عموماً مغرب سے جوڑی جاتی ہیں مگر مشرق میں بھی اس طرح کے تعلقات کوئی نئی چیز نہیں۔ پورے ملک میں ہم جنس پرست اپنے اپنے طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ناچنے والے لڑکے جن کو سندھی میں ناچوں کہا جاتا ہے یہ ناچوں میلوں ٹھیلوں میں ناچ گانا کر کے اپنی گذر بسر کرتے ہیں اور ان کے پیچھے سیکڑوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ چھاڑ کے اپنا سب کچھ لٹا رہے ہوتے ہیں۔ اس عادت کے نشے سے مجبور یہ لوگ جہاں میلہ ہو وہاں ان ناچوں کے پیچھے پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو ان میلوں یا پھر ناچ گانے کی محفلوں میں ان ناچوں لڑکوں پر اپنا مال لٹا کر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں اور کچھ لوگ تو ان لڑکوں کے ساتھ صرف جنسی تعلقات جوڑنے کے لیے ان میلوں اور محفلوں میں خاص طور پر جاتے ہیں۔ اس عادت میں مبتلا یہ لوگ آخر کار اپنا سب کچھ ان ناچوں کے پیچھے تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی ان کو کسی قسم کا کوئی افسوس نہیں ہوتا اور بڑے فخریہ انداز میں یہ اپنے لوںڈے بازی کے قصے سناتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے کتنے لڑکوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنائے ہوئے ہیں۔ اور اس کام کے لیے ان کو کہاں کہاں جانا پڑا۔

میلوں کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو اس طرح کے لوگ ہمیں اپنے ارد گرد، پارکوں، ریلوے اسٹیشنز، بس اڈوں، مسافر خانوں، کارخانوں، ملوں، گیراجوں، اور گلی محلوں میں نظر آتے ہیں جو لڑکوں کی تاڑ میں ہوتے ہیں کہ کب ان کا داؤ لگ جائے۔ اور کئی بار تو کئی محصوم بچے ان درندوں کی جنسی ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ تو باہمی رضا مندی کے ساتھ ہم جنس پرستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر مالی اور سماجی طور پر کمزور لڑکے اس لونڈے بازی کا زیادہ شکار ہو جاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو ان کے بارے میں معلومات ہوتے ہوئی بھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے لڑکے کس کے ساتھ گھوم پھر رہے ہیں۔ اکثر یہ لونڈے باز لوگ اپنے لڑکے کو ہر جگہ اپنے ساتھ لے کر گھومتے ہیں ایک جیسے کپڑے، جوتے، ٹوپی، جیکیٹ پہن کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور اس لڑکے کا پورا خرچ برداشت کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے۔ چھوٹی عمر میں لونڈے بازی کا شکار لڑکے بڑے ہو کر خود لونڈے باز بن جاتے ہیں۔ ان جیسے لوگ بس اپنی دنیا میں مست مگن ہوتے ہیں۔ اپنے لڑکوں کو ساتھ لیے ھوٹلوں پر بیٹھنا، میلوں پر گھومنا پھرنا ان کا معمول ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں (1)

سیکڑوں لوگ شادی شدہ بال بچے دار ہونے کے باوجود لونڈے بازی کرتے ہیں اور ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے گھر والے، ذات برادری والے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اس شوق کو پورا کرنے کے لیے یہ اپنے گھر بار بیوی بچوں کو چھوڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اور کئی مسافر خانے بھی لڑکے بازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں جہاں آپ کو لڑکے اور کمرے آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ اور یہ مسافر خانے مسافروں کے لیے کم مگر لونڈے بازے کے لیے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ لونڈے بازی کا یہ گھناؤنا فعل صرف ان پسماندہ علاقوں جہاں پر مخالف جنس کا ملنا مشکل ہوتا ہے تک ہی محدود نہیں بلکہ معاشرے کے تمام وہ طبقات میں پایا جاتا ہے جہاں نفسیاتی طور پر بیمار یہ افراد جو اس فعل کو تسکین کا سامان سمجھتے ہیں موجود ہوتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔