مشفق خواجہ (مرحوم) کے ساتھ ایک دن…. (دوسرا حصہ )


 arif-e1385208053389اب ان کے پوچھنے کی باری تھی۔ فرمانے لگے، ”آپ پڑھاتے تو انگریزی ہیں، یہ اردو میں لکھنے کا چسکا آپ کو کیوں پڑ گیا؟ اور اگر پڑ ہی گیا تھا تو اپنی شاعری اور صنف غزل کے بارے میں مخالفانہ مضمون لکھنے کے حوالے سے اردو شاعری کو امریکی اور یورپی شاعری کے برابر لا کھڑا کرنے کا خیال کیسے آ گیا؟“

میں نے کہا، ”قبلہ، آپ تو میرا ہی انٹرویو لینے لگے!“

فرمایا، ”نہیں، لیکن میں آپ کو ایک مشفقانہ رائے دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ہم اردو والے کبھی نئی چیز کو اپنائیں گے نہیں! اور اگر اپنانے کا جتن بھی کریں گے تو بد دلی سے، اس میں مین میخ لکال کر۔ ”اندھے کے آگے رونا اور اپنی آنکھیں کھونا“ والا محاورہ ہم پر صادق آتا ہے۔ مغرب سے ہمیں خدا واسطے کا بیر ہے، اور اس بیر میں ترقی پسند تحریک نے کچھ زیادہ ہی تلخی اور ترشی لا دی ہے۔ ن۔م۔راشد سے فیض احمد فیض کیوں بازی مار کر لے گئے؟ اس لیے نہیں کہ وہ راشد سے بہتر شاعر تھے، بلکہ اس لیے کہ فیض کے ہاں وہ رومانی تصور، تاثر اور لہجہ تھا جو غزل کی صنف کی دین ہے۔ بہر حال اب آپ اردو کو گلوبل ولیج کی شاعری کا جزو بنانے پر تل ہی گئے ہیں تو میں کون ہوتا ہوں آپ کو روکنے والا۔۔۔“ تب کچھ ذرا آگے جھک کر سرگوشی کے لہجے میں بولے ، ”وہ جو خامہ بگوش ہے مجھ میں، ایک بار اسے خیال بھی آیا تھا کہ ایک کالم میں آپ کی گلوبل شاعری کے خواب کو ملیا میٹ کر کے رکھ دے۔۔۔“

میرے لیے یہ ایک خوبصورت خبر تھی۔ ”تو پھر کیا امر مانع آ گیا اس نیک خیال کو عملی جامہ پہنانے میں؟“ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔

1-1بولے، ”میرا تحریر کردہ کالم کئی بارموصوف کو زیادہ اہمیت کا حامل بنا دیتا ہے۔۔“

مجھے کچھ برا نہیں محسوس ہوا۔ ماحول اس قدر دوستانہ تھا کہ ان کا یہ جملہ بھی اس میں فٹ ہو گیا۔

پھر بولے، ”چھوڑیئے اس قضیے کو! اپنی درس و تدریس اور تقابلی ادب میں ریسرچ کے کام کو جاری رکھیئے اور کبھی کبھار منہ کا ذایقہ بدلنے کے لیے ایک آدھ نظم بھی لکھ لیا کیجئے۔ اب تو، ماشا اللہ، جو رسالہ اٹھاﺅ، اس میں سر فہرست ستیہ پال آنند کی نظم ہوتی ہے۔“

میں نے کہا، ”ادا آپا نے بھی مجھے کل کچھ اس قسم کی نصیحت کی تھی کہ میں کم لکھا کروں۔“

بولے، ”عمل کیجئے اس پر! اور ہاں، مجھے بھی کچھ اور پوچھنا ہے آپ سے۔ آپ نے اردو میں لکھنا شروع کیا، پھر ہندی میں پندرہ بیس برس تک لکھا اور پھر اردو کی جانب لوٹ آئےآخر اردو میں اتنی کیا کشش تھی؟“

میں نے عرض کیا، ”اگر صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتےاور پھر میں نے اردو میں لکھنا بالکل تو بند نہیں کیا تھا، صرف کم ہو گیا تھا۔ ہندی میں افسانوں کا معقول معاوضہ ملا کرتا تھا اور اردو میں تو لے دے کے تین رسالے ہی تھے، جو کچھ معاوضہ دیتے تھے۔ بعد میں سوائے سرکاری رسالوں کے وہ بھی
کنی کترا گئے۔۔پھر جب پروفیسری شروع ہوئی اور گھر میں دال روٹی کی شکل نظر آنے لگی تو میں شد و مد سے اردو میں لوٹ آیا۔ صرف ایک قلق رہ گیا ہے کہ اردو میں صرف شاعری کا شعار ہی کیوں اپنایا میں نے!“

بولے، ”مشکل ہے، دو تین زبانوں میں لکھنا اور پھر دو تین اصناف نظم و نثر میں بھی طبع آزمائی کرنا۔ انگریزی میں بھی تو لکھا ہے ۔آپ نے! ماشا اللہ کئی کتابیں چھپی ہیں اور ایک کتاب پر تو کوئی ایوارڈ بھی ملا ہے۔“

2

’جی ہاں،“ میں نے کہا، ” وہ کتاب Promises to Keep تھی، جو جواہر لال نہرو کی زندگی کے واقعات کو ان کی تحریروں سے اقتباسات اخذ کر کے لکھی گئی تھی۔کچھ مہینوں میں ہی چالیس ہزار کے لگ بھگ فروخت ہو گئی تھی۔ میری انگریزی کتاب Great Testaments of India’s Freedom Struggle کے بھی دس دس ہزار کے تین ایڈیشن چھپے اور بک گئے۔ ا س میں ایک باب مہاتما گاندھی کے بارے میں بھی تھا“ ایک دم میں کرسی پر اٹھ کر بیٹھ گیا،۔ مجھے ایک زہریلے خیال نے ڈس لیا تھا۔ میں نے پوچھا، ”آپ شاید میری رہنمائی فرما سکیں۔ میں نے ریسرچ کے طریق کار سے، گراف اور ’فلو چارٹ‘ بنا بنا کر، گاندھی جی کی تحریروں، ”ہریجن“ میں ان کے ایڈیٹوریل کالموں، ان کے خطوط، اوران کی تقریروں کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ جو کئی لوگ کہتے ہیں، کہ گاندھی جی کو اردو کے رسم الخط پر اعتراض تھا کہ چونکہ یہ قران مجید کا رسم الخط بھی بھی ہے، اس لیے یہ اسلام کا سمبل ہے، اس کے بارے میں مجھے تو کہیں بھی ایک لفظ نہیں ملا۔ آپ فرمائیں، حقیقت کیا ہے؟“

ایک لحظہ توقف کے بعد بولے، ”آپ صحیح کہتے ہیں، گاندھی جی نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ اردو کا رسم الخط اسلامی ہے اور اس لیے اس پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سیاسی شرارت تھی جس کے موجد حکیم کریوی تھے۔اس نے کہیں، کسی غیر اہم اخبار میں یہ بات لکھ دی کہ گاندھی جی یہ بات کہتے ہیں، اور پھر کیا تھا، لوگ
اسے لے اڑے، اور آج تک بغیر کسی تحریری شہادت کے اس خطرناک جھوٹ کو سچ مان کر یہ بات اس بندہ خدا کے نام منسوب کیے جارہے ہیں۔ مولوی عبدالحق مرحوم نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ گاندھی جی نے کہیں یہ بات نہیں کہی، یونہی انگریزوں کی ایما پر انکے نام مڑھ دی گئی۔ اور نہرو تو اردو پڑھتے لکھتے تھے، بے حد شستہ اردو بولتے تھے! چلئے چھوڑیئے سیاسی لوگوں کی باتیں۔ چائے کا دوسرا دور تیار ہے۔“

چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے پوچھا ، ”آخر طنز ہے کیا چیز، مشفق خواجہ صاحب؟“

3فرمایا، ”آپ تو ادب عالیہ پڑھاتے ہیں، آپ فرمایئے۔“

میں نے عرض کیا، ”میں پڑھاتے ہوئے ہمیشہ نفی سے مثبت کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی پہلے خود سے پوچھتا ہوں، فلاں چیز کیا نہیں ہے؟ اور جب ”نہیں“ کی فہرست ختم ہو جاتی ہے تو بچی کھچی چیز ہی مثبت رہ جاتی ہے اور وہی صحیح جواب ہوتا ہے۔“

بولے، ”نئی بات سنی آپ سے! پلے باندھ لی! توبہ استغفار، پروفیسروں سے کچھ پوچھنا بھی دل گردے کا کام ہے۔ اچھا تو یہ بتایئے، طنز کیا نہیں ہے؟“

میں نے کہا، ”جان کی امان پاﺅں تو یہ عرض کروں کہ طنز کے پیچھے ، خصوصی طور پر اگر طنز ایک شخصیت کا احاطہ کرتا ہے، کیا جذبہ کار فرما ہے، اسے دیکھنا ضروری ہے۔ یعنی اگر یہ جذبہ برائی، نفرت، حقارت، لعنت و ملامت ہے، تو end result ہجو تو ہو گا، طنز نہیں۔ اگر یہ جذبہ تنقید، تخفیف، خردہ گیری ہے تو بھی طنز satire نہ ہو کر بد تہذیبی بن سکتا ہے۔ اس لیے طنز یہ سب کچھ تو نہیں ہے۔“

کہنے لگے، ”تو باقی کیا بچا؟“

میں نے کہا، ” مثلاً اعتراض، ترچھا پن، کاٹ، طعن، چوٹ، ردّوقدح، چشم نمائی بشرطیکہ اس میں عیب گیری نہ ہو!“

فرمایا، ”ٹھیک ہے۔ الفاظ اوراصطلاحا ت کی اس فہرست میں ریش خند، ہنسی، خندہ زنی، پھبتی، کنایہ، اشارہ کو شامل کر لیجئے، تو یہ ”طنز لطیف“ ہو جائے گا آپ تو جوش مرحوم کی طرح الفاظ کے بادشاہ ہیں۔ کیا ان سب اردو الفاظ کا انگریزی متبادل آپ کو آتا ہے؟“

میں نے کہا، ”جی نہیں، جو منہ میں آیا، بولتا چلا گیا۔“

فرمانے لگے، ”اب مجھے بولنے دیجئےطنز یقیناً بد تعریفی نہیں ہے، لیکن کھلی اڑانا تو ہے۔ ہتک و قدح نہیں ہے، لیکن پھبتی، فقرہ بازی تو ہے۔ حقارت نہیں ہے، لیکن تمسخر اور استہزا تو ہے۔ سرزنش نہیں ہے، لیکن دھیمے لہجے میں آوازہ کسنا تو ہے۔ نقل اتارنا بھی شاید اس میں شامل ہو سکے۔ سوانگ بھرنے کو آپ کیا کہیں گے؟ میلوں ٹھیلوں میں نٹ نٹیاں جب بہو ساس کے سوانگ بھرتی ہیں تو کیا یہ ریش خند نہیں ہے؟ بے شک داڑھی مت نوچیں، لیکن ٹھٹھا کرنے سے آپ کو کون روک سکتا ہے؟”

4

میں نے کہا، ”حضور ، آپ تو الفاظ کے شہنشاہ ہیں!“

فرمایا، ”یہ مجھ پر طنز ہے!“

میں خاموش ہو گیا۔

ان کے سامنے جو قلم رکھا تھا وہ ”شیفر“ کا تھا۔ مجھے بار بار اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ پہچان گئے کہ میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ بولے، ”ایک قدر دان دے گئے ہیں تا کہ مجھے بار بار قلم تراشنے میں اپنی انگشت شہادت ہی کہیں تراشنی نہ پڑ جائے بینک کے افسر ہیں، ایسے مہنگے قلم بانٹنے کی اسطاعت رکھتے ہیں۔“

”جب لکھنا ہی پیشہ ٹھہرا“ ذرا رک کر بولے، ”تو پیشہ وری کے ہتھیاروں سے لیس ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ یعنی ایک قلم ہاتھ میں، دوسرا کا ن کے پیچھے اٹکا ہوا، غالب تو ایک ہی قلم کان کے پیچھے اٹکائے ہوئے گلیوں گلیوں پھرنے کا دعوےٰ کرتے ہیں، یہاں درجنوں قلم ہیں، جنہیں قلم نہیں کرنا پڑتا آپ بھی دو چار لے جائیں۔“

اور واقعی انہیں نے تین چار بیش قیمت قلم میرے سامنے رکھ دئے۔

پھر بولے، ”کراچی ہی کے ایک مہربان نے ایک بار طنزاً کہا کہ مشفق خواجہ صاحب کے کان پر اٹکا ہوا قلم جب بولتا ہے تو اسی کی سنتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں، یہاں وہاں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ میں نے جواباً عرض کیا تھا، ہاں، اسی لیے تو دو دو قلم رکھتا ہیں، ایک انگلیوں میں دبا ہوا اور دوسرا کان کے پیچھے دبا ہوا لیکن قلم دبتا کہاں ہے؟ سر چڑھ کر بولتا ہے، یہ وہ جادو ہے!“

پھر گوہر افشانی کی، ” بھئی، ہمارے پاس شہادت کا وہ جذبہ تو نہیں ہے کہ اگر قلم چھن گیا تو خون دل میں انگلیاں ڈبو دیں اور انہی سے لکھنا شروع کر دیا۔ فیض صاحب کے پاس یہ جذبہ تھا۔ ہم تو ایک عام منشی کی طرح ہیں، جو داد و ستد یا گالی گلوچ ملتا ہے، وہی ہمار ا ”منشیانہ“ ہے“

یکدم رک کر پوچھا، ”آپ نے Word Play کہا تھا کسی چیز کے لیے۔۔۔کیا یہی ہے وہ؟“

میں نے کہا، ”جی ہاں!“

اتنی دیر میں ان کے ہم زلف ذوالفقار آ گئے۔ انہیں شاید اطلاع تھی کہ ہمیں لنچ کے لیے ایک ریستوراں جانا ہے، آتے ہی بولے، ”چلیں؟“

مشفق خواجہ صاحب نے ان کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ کر کہا، ”یہ ہمارے ہم زلف ہیں۔ اب ”ز“ اور ”ذ“ کے فرق کو آپ نظر انداز کر دیں، تو اچھا ہے۔ “

بات میری سمجھ میں نہیں آئی لیکن میں چپکا بیٹھا رہا۔ یہ شاید ان کا کوئی ذاتی یا گھریلو لطیفہ تھا جس سے وہی لطف اٹھا سکتے تھے۔

کھانے کے لیے ہم ان کے ایک پسندیدہ رےستوراں میں گئے،۔ بولے، ”آپ سبزی خور ہیں کیا؟“

میں نے کہا، ”جی نہیں، ہر چیز کھاتا ہوں، لیکن بسیار خور نہیں ہوں۔“

بولے، ”یقیناً بسیار خور ہی آخر میں خوار ہوتا ہے۔ بے ہنگم ڈیل ڈول،ڈھیلے ڈھالے اعضا، کندھا دینے والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔“

نگار اب تک خاموش بیٹھی تھیں، بولیں ”جی چاہتا ہے آنند جی ہر برس آئیں اور ہر برس آپ سے ایسی ہی ملاقات ہو۔“

بولے، ”اب تو اپنے mini tape recorder کو واپس تھیلے میں ڈال لیجئے، کھانے کی میزپر گفتگو ریکارڈ نہیں کی جانی چاہئے۔“ پھر بولے، ”انشا اللہ ہر برس آئیں گے اور ہر برس ایسی ہی بات چیت ہو گی۔ اب تو انہوں نے گھر دیکھ لیا ہے!“

اللہ کی رضا میرے ہر برس کراچی جانے کی اس دعا میں شامل نہیں تھی۔ میں 2000 ءکے بعد خانگی معاملات اور خرابی صحت کی بنا پر کراچی صرف دو برس پہلے ہی جا سکا اور اس مختصر مضمون میں مجھے مشفق خواجہ کو ’مرحوم‘لکھنا پڑ رہا ہے۔!

(مشفق خواجہ بلند پایہ محقق، کالم نگار اور شاعر ہونے کے علاوہ اعلیٰ درجے کے فوٹو گرافر بھی تھے۔ برصغیر پاک و ہند کے بے شمار مشاہیر ادب کی تصاویر مشفق خاوجہ کے ذاتی ذخیرے کا حصہ تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود مشفق خواجہ کی بے حد کم تصاویر ملتی ہیں۔ ستیہ پال آنند کے اس مضمون کے ساتھ شائع ہونے والی تصاویر محترم عقیل عباس جعفری اور محترم راشد اشرف کے عطایا میں سے ہیں اور ہر دو حضرات کے شکریے کے ساتھ شائع کی جا رہی ہیں )

اس مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں دبائیے


Comments

FB Login Required - comments