جنسی ہراسانی: سامنے لیموں کاٹے جائیں اور منہ میں پانی نہ آئے؟


میرے لیے بہت محترم ماہر رقص شیما کرمانی نے ہیش ٹیگ Me Too سے پاکستان میں ایک انٹرنیٹ مہم شروع کی ہے تاکہ وہ خواتین ”میں بھی“ کہیں جنہیں زندگی میں کبھی اور کہیں بھی نابکار مردوں نے جنسی حوالے سے ہراساں کیا ہو۔ جنسی حوالے سے ہراساں کیے جانے میں پیچھا کرنا، دیکھ کے کھنکارنا، سیٹی بجانا، ذومعنی فقرہ کسنا، براہ راست جنسی بات کہنا، چھونا، پکڑ لینا، زبردستی چوم لینا یا بے شرم ہو کر خاتون کو سہلانا یا اس کے بدن پر ہاتھ پھیر دینا سب شامل ہے۔

درحقیقت ہر وہ عمل جو عورت کو برا لگے یا ہر ایسا عمل جس کے لیے عورت تیار یا رضامند نہ ہو، کیا جانا متعلقہ خاتون کو ہراساں کیے جانے کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ تمام اعمال نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ قبیح بھی ہیں۔ ان اعمال کی نہ صرف مذمت کی جانی چاہیے بلکہ ان کو اجاگر کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے سدباب کے لیے اقدامات لیے جا سکیں۔

ویسے تو ان تمام اعمال پر سزا دیے جانے کے لیے قانون موجود ہیں لیکن دنیا بھر میں اور خاص طور پر ہمارے ہاں خواتین ایسے معاملات پر شکایت کرنے سے گریزاں رہتی ہیں کیونکہ الزام انہیں کو دے دیا جاتا ہے کہ ” یونہی تو نہیں چھیڑا ہوگا“ کوئی ایسا حلیہ بنایا ہوگا، کوئی ایسی ہمت دلائی ہوگی، کوئی دلچسپی ظاہر کی یوگی۔ ہمارے ملک کے شہروں میں عورتیں کوئی پچاس سال سے آزادانہ، بعد میں بغیر برقع کے بھی گھومنے لگی ہیں۔ جبکہ دفاتر میں کام کرتے ہوئے تو اس سے بھی کم عرصہ گزرا ہے۔ اس کے برعکس دیہاتوں میں جہاں آبادی کا بیشتر حصہ رہتا ہے عورتیں نہ صرف پردہ نہیں کرتیں بلکہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ ایک دوسرے کے گھروں میں عورتوں مردوں کی آمدورفت ہونا ایک عام بات ہے۔ تاحتٰی اب بھی بہت سی جگہوں پر انہیں رفع حاجت کی غرض سے کھلی جگہوں میں جانا پڑتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ چھیڑنے کا تعلق تعلیم پا کر آزاد ہونے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جنسی گھٹن، تعظیم سے نابلد ہونے، اخلاقیات سے عاری ہونے اور نارسائی کو رسائی میں بدلنے کے طریقے سے غیر آگاہ ہونے سے ہے۔ عورتیں صرف ہمارے جیسے نیم متمدن ملکوں میں ہی نہیں بلکہ متمدن ملکوں میں بھی مردوں کی اس نوع کی چیرہ دستی کا نشانہ بنتی ہیں۔ مگر وہاں ایک تو عورتوں میں اپنی ذات اور اس کی اہمیت کا شعور ہے دوسرے وہاں قانون کی عملداری ہے، عورت اور مرد کو ایک ہی طرح سے دیکھا جاتا ہے، کم از کم قانونی طور پر۔ ویسے تو وہاں بھی رجعت پسند اور ترقی پسند ہیں۔

ترقی پسندی ہمارے ہاں کے معروف معانی والی نہیں بلکہ سوچ بالیدہ ہونے کے حوالے سے۔ جس طرح ہمارے ہاں ترقی پسندی ایک طعنہ ہے، اسی طرح ہمارے ہاں سیکیولرزم، لبرلزم اور عورت کو ہراساں کیے جانے بارے آگاہی پھیلانا بھی طعنہ زنی بن جاتے ہیں۔ جہاں لبرل کو آزاد خیال، سیکیولر کو ملحد سمجھا جاتا ہو وہاں عورت کو ہراساں کیے جانے کے بارے میں آگاہی دینے کو بھی فحاشی کو فروغ دیے جانے میں شمار کیا جاتا ہوگا۔ پرویز مشرف کا ریپ سے متعلق بیان اور اسی طرح جماعت اسلامی کے سابق امیر کا اسی طرح کے کسی مذموم عمل سے متعلق بیان کہ عورت کو پردہ کرنا چاہیے، گھر میں رہنا چاہیے وغیرہ کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بیشتر مردوں کی ایسی ہی بالادست نفسیات کے سبب ”نابکار“ مردوں کو شہ ملتی ہے اور وہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کی عورت سڑک پر، بازار میں، دفاتر میں، قومی اسمبلی میں، سیاسی بیانات میں یعنی گھروں کے اندر اور گھروں کے باہر ہراساں کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  جنید جمشید بچ گیا ماں!

پچھلے دنوں میں نے بھی سوشل میڈیا پہ Me Too کے حوالے سے ایک پوسٹ کی تھی جو یوں تھی، “ مانا Me too درست۔ یہ جو کروڑوں محبتی بیاہ ہوتے ہیں، بنا جنسی اظہار کے ہوتے ہیں کیا؟ اس لیے نیا ٹیگ We too ہونا چاہیے۔ یک طرفہ پن غلط!“ جس کو یار لوگوں نے حقیقت کے طور پر لیا جبکہ یہ طنز تھا۔ اختصار عموماً ابلاغ سے عاری ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی زبان میں تھا جو محبت کی بنا پر ہونے والے بیاہوں کو بھی فحاشی کا نتیجہ خیال کرتے ہیں اور اس بنیاد پر کوشش کرتے ہیں کہ معاشرے میں موجود سماجی برائیوں سے متعلق آگاہی کے ہر عمل کو بریک لگائی جائے۔
آگاہی کا ہر عمل اور تحریک ہمیشہ شہروں سے شروع ہوئے ہیں۔ جب شہروں میں لوگوں کو آگاہی ہو جاتی ہے تو شہروں میں بسنے والے دیہی علاقوں کے لوگ اس کو دیہاتوں تک لے جاتے ہیں۔ پھر میڈیا اور بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا کے مراکز شہروں میں ہوتے ہیں جو اگر چاہیں تو کسی بھی تحریک کے بارے میں علم کو ملک بھر میں پھیلا سکتے ہیں اور دنیا بھر کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے میڈیا بھی ملک کی آبادی کی اکثریت کا عکاس ہوتا ہے چنانچہ ہمارے ہاں کے میڈیا نے انفارمیشن کی بجائے ڈس انفارمیشن پھیلانے پر کمر کسی ہوئی ہے۔

ایک اور مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں شعور کو فروغ دیے جانے سے متعلق جو رو چلتی ہے یا جو تحریک شروع کی جاتی ہے وہ آزاد رو اور آزاد خیال شروع کرتے ہیں یا انہیں مردوں کی ایسے عمل کو حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی ذات کے سماجی نقائص لوگوں کو بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ وہ ایسے اعمال و افعال کی نفی کریں۔ کہنے کی بات نہیں لیکن چپ رہا بھی نہیں جا سکتا کہ پاکستان میں یا ملک سے باہر پاکستان کے جو لوگ فیمینزم کی حمایت کرتے ہیں اور خود کو مرد فیمینسٹ کہتے ہیں، ان کا ماضی کچھ کم قابل اعتراض نہیں رہا تا حتٰی عورتوں سے سلوک کے حوالے سے بھی۔ ممکن ہے جن عورتوں کے ساتھ ان کا جیسا سلوک رہا وہ اس سلوک کو سہہ گئی ہوں، برا نہ سمجھتی ہوں یا کم از کم معمول خیال کرتی ہوں لیکن ان میں سے بیشتر ان مردوں کے ساتھ تعلق کو برقرار نہیں رکھ پائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مرد بعد میں اپنی اصلاح کر چکے ہوں لیکن لوگوں کی زبانیں تو نہیں پکڑی جا سکتی ناں۔ یورپ میں تو خیر یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں مگر پاکستان میں تو طلاق شدہ مرد کو کہا جاتا ہے کہ وہ بیوی کو نہیں سنبھال پایا۔ یہ اس سوسائٹی کا پیراڈوکس ہے جہاں تبدیلی کی بات بڑے شدومد سے کی جاتی ہے اور تبدیلی ہے کہ آتی ہی نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  عاصمہ جہانگیر۔۔۔ ایک بہادر بیٹی اور قابل فخر ماں

پاکستان میں سیکیولرزم کے حوالے سے ہمارے ہی دوست کہتے ہیں کہ مذہب کے مقابلے میں ریفرنڈم کروا لو۔ جب کہ وہ جانتے ہیں کہ سیکیولرزم کا مذہب سے کوئی بیر نہیں۔ پہلے مذہب کے ساتھ بھڑانے کو کمیونزم موجود تھا۔ اس کا غلغلہ تمام ہوا تو اب سیکیولرزم کو مذہب کے مدمقابل لا کھڑا کیا گیا۔ اسی طرح لبرلزم کو شراب نوشی اور شاہد بازی سے نتھی کیا جاتا ہے۔ یونہی Me too کو فحاشی سے ملایا جاتا ہے۔ یہ دیکھیے سوشل میڈیا پر ہمارے ایک ڈاکٹر دوست کا طغرہ، ”عورت مرد کےآزادانہ اختلاط کی حمایت کرنا اور Me Too# کہنا ایسا ہی ہے کہ سامنے لیموں کاٹے جائیں اور منہ میں پانی نہ آئے“۔

اب آپ بتائیے کہ کیا ہمارے معاشرے میں عورتوں کو مردکی چیرہ دستی سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ نہیں ناں۔ لیکن ہاتھ پاؤں چھوڑ کے بیٹھ جانا تو ہرنوں کو بھیڑیوں کے غول در غول کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ دیے جانے کے مترادف ہوگا چنانچہ میں کمر کس کے تحریک چلانے والی محترمہ شیما کرمانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتا ہوں Me too، اگرچہ مجھے آج تک کسی خاتون نے جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا۔ جی ہاں ایسے بھی ہیں جو دعوٰی کرتے ہیں کہ لڑکیاں انہیں چھیڑتی ہیں۔ ممکن ہے وہ ان کا ٹھٹھا اڑاتی ہوں جس کو یہ ناسمجھ چھیڑنا سمجھتے ہوں۔ سوچ بہر طور بدلے جانے کی ضرورت ہے اور جو اس کام میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے وہ بہادر بھی ہے اور قابل تحسین و ستائش بھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔