مسلم معاشرے میں گھٹن کی عکاسی


 

انڈیا میں گذشتہ دنوں مسلمان لڑکیوں سے متعلق دو قابل ذکر واقعات رونما ہوئے۔ بالی وڈ کے معروف اداکار عامر خان کی فلم ’سیکرٹ سپر سٹار‘ ریلیز ہوئی۔ یہ فلم ایک 14 سالہ مسلمان لڑکی انسیا پر بنی ہے جو اپنے خوابوں اورر تمناؤں کے حصول کے لیے اپنے گھر اور معاشرے میں جد وجہد کر رہی ہے۔ اس لڑکی کا تعلق ایک روایتی قدامت پسند فیملی سے ہے۔ انسیا ایک گلوکارہ بننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اس کے والد ایک انتہائی سخت گیر اور قدامت پسند شخص ہیں جو یہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کی لڑکی اس طرح کے راستے پر چلے۔ ماں باپ کے رشتے بھی اچھے نہیں ہیں اور کبھی کبھی تشدد کا رخ بھی اختیار کر لیتے ہیں۔

جس دن یہ فلم ریلیز ہوئی اسی دن ملک کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ افتا کی جانب سے سوشل میڈیا پر مسلم لڑکیوں کی موجودگی سے متعلق ایک فتوے کی توثیق کی گئی۔ اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ لڑکیوں کو نامحرموں کے سامنے نہیں آنا چاہیے اس لیے انھیں فیس بک، وہاٹس ایپ، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسی جگہوں پر اپنی تصویریں اور پیغامات وغیرہ نہیں ڈالنا چاہیے۔ صاف لفظوں میں اگر کہا چائے تو اس کا مطلب یہ کہ لڑکیوں کو سوشل میڈیا جیسی جگہوں پر سرگرم ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بقول ان کے اسلامی روایات اور قدروں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انٹرنیٹ اور سمارٹ فون نے حالیہ برسوں میں انڈیا جیسے معاشرے میں آزادی کے نئے افق کھول دیے ہیں۔ ہر طرح کی جانکاری، تفریح، گانے فلم، اور علوم تک اب بلا روک ٹوک ہر کسی کی رسائی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ: چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

ملک کا مسلم معاشرہ سب سے پسماندہ اور قدامت پسند معاشرہ ہے۔ بیشتر علاقوں میں لڑکیاں اب بھی سر سے پاؤں تک پرانے طرز کے پردے میں ہیں۔ بہت سے ایسے فتوے بھی موجود ہیں اور جو کبھی کبھی دہرائے بھی جاتے ہیں جن میں لڑکیوں کو یونیورسٹی اور کالج میں پڑھانے کی مخالفت کی جاتی ہے کیونکہ وہاں لڑکے بھی پڑھتے ہیں۔

بیشتر والدین اپنی بچیوں کو صرف اچھی جگہ شادی کرنے کے لیے پڑھاتے ہیں۔ مسلم لڑکیاں اگر اعلی تعلیم حاصل بھی کر لیں تو عموماً انھیں ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

ملک میں کم عمرکی لڑکیوں کی شادیاں جن گروپوں میں سب سے زیادہ ہیں ان میں مسلمان پیش پیش ہیں۔ مسلم معاشرہ لڑکیوں کے معاملے میں کئی معنوں میں دوسری برادیوں سے بہتر بھی ہے لیکن مجموعی طور پر لڑکی کا ایک محدود مقام ہے۔ جس طرح وہ پردے میں بند ہے اسی طرح اس کے خوابوں اور تمناؤں پر بھی پہرے ہیں۔ وہ اپنے فیصلے کرنے، اپنے بارے میں سوچنے اور اپنی بات کہنے کی مجاز نہیں ہے۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مسلمان اب رفتہ رفتہ تعلیم کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ انٹرنٹ نے ہر شخص کو آزادانہ اور انفرادی طور پر سوچنے کی بے پناہ طاقت بخشی ہے۔ جس طرح علما اپنے فتوے جاری کرنے کے مجاز ہیں اسی طرح اب لوگ ان سے اتقاق نہ کرنے اور ان پر تنقید کرنے کے بھی مجاز ہیں۔ اب خیالات اور ان کے اظہار پر روک لگانا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اب فرد کی زندگی پر دوسروں کا کنٹرول رفتہ رفتہ ٹوٹ رہا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستانی مردوں کو طوائف اخلاقیات کا لیکچر دے

عامر خان کی سپر سٹار انسیا مسلم معاشرے کی ایک حقیقت ہے۔ نوعمر مسلم لڑکیوں کو اس کی جد جہد میں میں یقینا اپنا عکس دکھائی دے گا۔ اگرکوئی معاشرہ خود اپنے آپ کو اجتماعی طور پر نہیں بدلتا تو پھر لوگ انفرادی طورپر اپنا راستہ خود بناتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے ایسے ہی معاشروں میں انفرادی آزادی، برابری اور وقار کی زندگی کی ایک نئی راہ کھول دی ہے۔ والدین اور علما کو بھی وقت کے ساتھ اپنے خیالات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انھیں اپنی معاشرتی اور سماجی قدروں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ کسی انسیا کو اس سبب اپنے خوابوں اور انفرادیت کودفن نہ کرنا پڑے کہ قدرت نے اسے ایک لڑکی کی شکل میں وجود بخشا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 889 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp