ایریکا مسلمان ہونے نہیں آئی                               


ہم بچپن سے بھوت پریت اور آسیب کے قصے بڑے شوق سے سنتے آئے تھے۔ نانی کہا کرتی تھیں کہ آسیب جب ایک بار کسی کی راہ دیکھ لے تو اس سے پیچھا چھڑانا نا ممکن ہے۔ جب پہلی بارگارشیا مارکیز کا ناول” محبتوں کے آسیب “(Of Love And Other Demons) پڑھا تو سمجھ میں آیا کہ نانی ٹھیک ہی کہا کرتی تھیں۔ بعض محبتیں بھی آسیب کی مانند ہوا کرتی ہیں، جتنا پیچھا چھڑاﺅ اتنا ہی جان کو آتی ہیں، بالکل مارکیز کے ناول کے مرکزی کردار ’سائیوا ماریہ“ کی طرح۔ والدین کی عدم توجہی کا شکار، نازک سی لمبے بالوں والی خوبصورت لڑکی، جسے اپنی سفید فام نسل سے زیادہ اپنے حبشی افریقی غلاموں سے محبت تھی، اور جسے فرسودہ مذہبی عقائد و روایات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، جس کی تشنہ محبتوں نے اسے ہمیشہ آسیب کی طرح جکڑے رکھا۔

محبت بڑا لطیف اور عجیب جذبہ ہے جو رنگ، نسل اور مذہب سے ماورا ہے۔ جس کی تعریف، توصیف اور وضاحت کے لیے شاید کئی کتب درکار ہوں، اور جو سمٹ جائے تو محض ایک ذات ہی ایک کائنات بن جاتی ہے۔ میں سوچتی ہوں میرے وہ اساتذہ، دوست اور شاگرد جو میرے ہم مذہب نہیں، کیا مجھے ان سے بھی محبت ہے؟ کیا مذہب اور قومیت، ایسے قوی عناصر ہو سکتے ہیں جو مجھے دیگر اقوام اور مذاہب سے مشروط لوگوں کی محبت سے باز رکھ سکیں؟ اگر نہیں تو مذہب اور قوم کے نام پر اپنے جذبات کو نفرتوں کے مقدس ہار پہنانے کا درس مجھے کون دیتا ہے؟

’ایریکا کاگاوا‘ (Erika Kagawa)میری بہت پیاری جاپانی دوست ہے۔ وہ جب بھی پاکستان آتی ہے، مجھ سے بڑی معصومیت سے پوچھتی ہے:

”پاکستانی مذہب اور قومیت کے بارے میں اتنے حساس کیوں ہیں؟“

اس کا یہ سوال یقیناَ اس کے کئی ذاتی تجربات سے اخذ ہوا ہے۔ جب لوگ بار ہا اُس سے، اُس کے مذہب کے بارے میں استفسار کرتے ہیں، اسے مشرف بہ اسلام ہونے کی سعادت سے نوازنا چاہتے ہیں، یا اُسے اُس کے بودھ مذہب کے بارے میں تنقیدی آراء سے نوازنا عین عبادت خیال کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ میرے ہاں قیام کے دوران، مجھے اُس کی خواہش اور فرمائش پر اُسے کچھ دیہات، تاریخی عمارتوں اور مزارات کی زیارت کے لیے لے جانے کا اتفاق ہوا۔ پاکستانی لوگوں کی محبت سے سرشار وہ ننھی سی لڑکی آج بھی اس سب کو ایڈونچر کہتی ہے۔ پاکپتن میں بابا فرید گنج شکر کے مزار پر جہاں بھانت بھانت کے لوگوں کے ہجوم کے درمیان ہونا، اُس کے لیے کچھ منفرد، نیا اور انوکھا تجربہ تھا میرے لیے اتنا ہی دشوار امر تھا۔ مزار کے احاطے میں جگہ جگہ، سونا، چاندی اور زر کی شکل میں نذرانے ڈالنے کے لیے بنائے گئے آہنی صندقچے، نشے میں مست فقیر، لنگر پر ٹوٹتی بھوک، ننگے پاﺅں، ہاتھوں، پیروں اور گردن میں بیڑیاں ڈالے ہوئے خواتین، جو اپنے گردوپیش سے قطعاَ بے نیاز تھیں، جانے یہ کون سی آرزو یا عقیدت تھی جو انھیں اِن مقدس بیڑیوں تک لے آئی تھی۔ ’ایریکا‘ کی آنکھیں تحیر کے ان اسباب پر پھیلنے لگتیں۔ مزار کے منتظمین اور زائرین ہم سے بار بار روک کر وہی مخصوص سوالات دہراتے، کیا یہ محترمہ اسلام سے متاثر ہو کر آئی ہیں؟ کیا انھوں نے ابھی اسلام قبول کیا ہے؟ کیا انھیں کلمہ آتا ہے؟ یہ مسلمان ہیں بھی یا نہیں؟ گویا انکار کی صورت میں واپسی کا دروازہ ناپیں۔

اسی بارے میں: ۔  سنسر شپ کی اس فضا میں متبادل بیانیہ کی باتیں دھوکہ ہیں

اور ہم محاصرہ میں آئے ہوئے، ہراساں قیدیوں کی مانند کسی بھی تفصیل سے گریز کرتے ہوئے، ہر بات کے جواب میں اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ صورتحال اُس وقت نازک ہونے لگی جب ایک خاتون نے بڑے دھڑلے سے اُسے روک کر، اور اُس کے ہاتھوں کو چوم کر اُس سے کلمہ سنانے کی پرزورفرمائش بھی کر ڈالی۔ جو شکرِ خدا ایک لمحے کے توقف سے ہونے والے چند مزید تجسس آمیز سوالات کے نیچے دب گئی۔ واپسی پر مزار سے گاڑی تک کا فاصلہ اتنا طویل ہو گیا جسے پاٹنے کے لیے انواع واقسام کے گداگروں کی یلغار سے، دامن بچا بچا کرگزرنا پڑا، یہ سب ایک نہایت صبر آزما کام تھا۔ واپسی پر’ ایریکا‘ کے لیے یہ سب ایڈونچر سہی، لیکن میرے لیے میری قوم کا وہ رویہ تھا جو شعوری نہ ہونے کے باوجود بھی تکلیف دہ تھا۔جسے میں نے ہمیشہ اپنے دل پر محسوس کیا، اور ایسا یقیناَ پہلی بار نہیں ہوا تھا۔

چودہ اگست کے پر جوش نعرے، ہنگامے اور جنگی سازو سامان سے لیس ترانے، ’ایریکا ‘کے لیے حیران کن ہوتے ہیں۔ وہ ہر بار مجھے بتاتی ہے کہ جاپان کے لوگ جنگ اور جنگی لوازمات سے نفرت کرتے ہیں۔ وہاں سکول کے بچوں کو دوسری جنگِ عظیم کی باقیات دکھانے کے لیے خصوصی طور پرعجائب گاہ لے جایا جاتا ہے۔ جہاں تاریخ کے منہدم آثار اور ان کی تصاویر کے ساتھ ساتھ، جنگِ عظیم کے ثمرات میں، صفحہ ہستی سے مٹنے والے، دونوں شہروں کی خاک اور جلے ہوئے درختوں کے پتوں کو محض نشانِ عبرت کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے، وہاں بچوں کو یہ ضرور بتایا جاتا ہے کہ جنگ کتنی مہلک اور خطرناک شے ہے، اور یہ بھی کہ جن قوموں کے اعصاب پر جنگی جنون سوار ہو، وہ کبھی ترقی نہیں کر پاتیں۔ کیونکہ جنگ تو قربانی مانگتی ہے، ایسی قربانی جس کی عبرتناک تاریخ محبت اور پیار کرنے والوں کے لہو سے رقم ہوتی ہے۔ جبکہ امن دنیا کی سب سے قیمتی شے ہے، جس کی تشکیل خود محبت کے وجود سے ہے۔ یہ محبتیں دین و دھرم سے ماورا ہوا کرتی ہیں بالکل ایسے ہی جیسے ہر بار جانے پر’ ایریکا ‘کی کانپتی آواز اُس کا ساتھ نہیں دیتی۔ وہ آہستہ آہستہ روتے ہوئے مجھے بتاتی ہے کہ ہم جاپانی زیادہ ایموشنل نہیں ہوتے، ہم گھڑی کی رفتارکے ساتھ چلنے والے مشینی لوگ ہیں، ہمیں بھلا محبت کیسے ہو سکتی ہے؟؟

اسی بارے میں: ۔  جزیرہ

مجھے اُس کی معصومیت پر پیار آتا ہے اور تب میں ایسی کئی محبتوں کو سوچتی ہوں جو مذہبی و مسلکی تعصبات و اختلافات کے سبب پنپ ہی نہیں پاتیں۔ ہمارے دلوں کے عناد، جب قومیت کی بنیاد مذہبی امتیازات پر استوار کرتے ہیں تو اس کی بنیادوں میں اُن تمام محبتوں کا خون ڈالتے ہیں جو دوسرے مذاہب و عقائد سے مشروط ہواکرتی ہیں۔ ہم احساسِ مروت سے عاری سنگ دل لوگ، کشادہ دلی سے اپنی اقلیتوں کو، کبھی قبول کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتے۔ ہماری اقلیتیں ہمارے انتہا پسند، متشدد رویے سے ہمیشہ خوفزدہ رہتی ہیں۔ میں ہر گز چہرہ شناس نہیں، لیکن اپنے شاگردوں کی آنکھوں میں ایسے عکس بخوبی دیکھ سکتی ہوں۔ صبا جو میری ہنس مکھ شاگرد ہے، وہ چرچ جاتی ہے، میں نے اسے مذہب جیسے موضوع پر بات کرنے سے کتراتے دیکھا ہے۔ اس نے ابتداء میں دوسری بچیوں سے دوستی کرنے میں کچھ وقت لیا تھا۔ اور شاید کچھ بچیاں بعد میں بھی اُسے جانتے بوجھتے دوست نہ بنا پائیں۔ بال بیر سنگھ میرا وہ شاگرد ہے جو ہم مسلمانوں کے مذہب کے بارے میں کہیں زیادہ معلومات رکھتا ہے۔ وہ جب اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستا بولتا ہے تو میرے دل سے ان محبتوں کی پائیداری کی دعا نکلتی ہے۔ آن کی آن میں جانے کتنے ہی چہرے میرے تخیل کی سطح پر تیرتے ہیں اور آنکھوں میں ایک نمی چھوڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ محبتیں آسیب کی مانند ہوا کرتی ہیں۔ دین، دھرم، عقائد او ر نظریات کے تقاضوں سے ماورا اپنا الگ وجود رکھتی ہیں، اور جن کی تشنگی انسان کی روح کو آسیب کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ (ختم شد)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔