نوجوان شاعر عمران شمشاد سے مکالمہ


عمران شمشاد سے میرا پہلا تعارف کتابی چہرہ ( فیس بک) کے ذریعے ہوا جہاں براؤزنگ کرتے ہوئے عموماَ لا تعداد افراد سے تعلق کا آغاز کبھی مستقل تعلق میں بدل جاتا ہے اور کبھی برسوں کے یارانے خود فریبی کا شکار ہو کر ختم ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ فیس بک کے ذریعے ہمیں موسمی شاعر اور شاعرات سے زیادہ تراُن کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی DP سے زیادہ آشنائی ہوتی ہے اور شاعری سے کم۔ لیکن عمران شمشاد کی شاعری پڑھتے ہوئے ایک بات شدت سے اپنا احساس دلاتی ہے کہ یہ شاعری اپنے گردوپیش میں ہونے والے اہم حادثات و واقعات کو زیادہ مختلف اور حقیقی انداز میں بیان کرتی ہے اور عموماَ اُن موضوعات کا احاطہ کرتی ہے جو ماضی میں زیادہ تر نثر نگاروں کا محبوب موضوع رہی ہے۔ عمران کی شاعری نے پہلی نظر میں ہی اتنا چونکایا کہ فوراَ ان کو میسنجر کے ذریعے انکی شاعری کی داد دی۔ ٹیلیفون نمبرز کا تبادلہ ہوا اور معلوم ہوا کہ عمران شمشاد آجکل کراچی میں اے آر وائی نیوز چینل میں اسکرپٹ ہیڈ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اقراء یونیورسٹی کے میڈیا سائنس کے طالب علموں کو اسکرپٹ رائٹنگ پڑھا رہے ہیں ۔ گذشتہ ایک سال سے عمران شمشاد سے ٹیلیفونک مکالمے کا سلسلہ جاری ہے اس دوران اُنہوں نے ازراہِ محبت شاعری کی اپنی پہلی کتاب ” عمران کی شاعری “ بھی ارسال کی جس کو پڑھ کر یہ محسوس ہوا کہ عمران کو آج کے دور کا اینگری ینگ مین شاعر کا ٹائٹل بلا جھجک اور بے دھڑک دیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں عمران اپنی شاعری کے ذریعے جہاں معاشرتی مسائل کو اُجاگر کرتے ہیں وہیں اپنی حیات سے منسلک اور اپنے ذہن پر نقش زندگی کی تلخ حقیقتوں کے انمٹ نقوش کو اپنے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں ان کے پروفیشن یعنی نشریاتی زندگی کے جا بجا دلچسپ واقعات کے عکس نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ عمران کا جنم 4 اکتوبر 1978ء کو روشنیوں کے شہر کراچی میں ہوا۔ عمران ششماد کتنی سادگی اور سچائی سے اپنی رات کی کتھا سناتے ہیں کہ

 سارا دن لب پہ اک مٹھاس رہی

 رات چکھے تھے خواب میں انجیر

عمران شمشاد جب آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ

”میری پیشانی دیکھنے والے

یہ لکیریں نہیں، وہ رستے ہیں

 میں جہاں سے گذر کے آیا ہوں “

جب میں نے ان سے پوچھا کہ اگر وہ شاعر نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟

 تو انہو ں نے ان الفاظ میں جواب دیا۔ ۔

اگر شاعر نہ ہوتا تو شاید میں نہ ہوتا۔ ۔ دیکھیے تین لہریں میرے ساتھ ساتھ رہی ہیں ۔ شعر وں کی کائناتیں کھنگالنا، کمپیوٹر کے پروسیسر کے صفر اور ایک سے کچھ نہ کچھ نیا بناتے رہنا اورجو سیکھا وہ سکھاتے رہنا یہ تین لہریں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں ۔ کوئی مجھے ایک کمپیوٹر جیئیس کے طور پر جانتا ہے، کوئی ایک استاد کے طور پر اور کوئی شاعر اور مصنف کے طور پر۔۔۔

میرا اگلا سوال یہ تھا کہ مشاعرے کا کوئی ایسا یادگار واقعہ جوان کے دماغ کے نہاں خانے میں کہیں نقش ہو گیا ہو؟

تو ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ایک دستاویزی فلم کے سلسلے میں انکی ٹیم صحرائے تھر گئی۔ وہ کھوجیوں پر ایک دستاویزی فلم بنا رہے تھے۔ شدید ترین دھوپ میں شوٹنگ کے درمیان ان کی ملاقات ایک ماسٹر سے ہوئی۔ ماسٹر صاحب سائیکل پر روزانہ سات میل دور ایک تھری گاﺅں بچوں کو پڑھانے جاتے تھے اورجب ماسٹر صاحب کو معلوم ہوا کہ ان کا مخاطب ایک شاعر ہے تو خوشی سے بے قابو ہوتے ہوئے بولے

”سائیں ہم بھی شاعر ہیں ۔۔۔ آج رات کو مشاعرہ کرائیں گے“

یہ کہہ کر ماسٹر صاحب چلے گئے۔ جھلساتی ہوئی دھوپ مدھم پڑی اور شام کے سائے ابھرے تو صحرا کے ایک ٹیلے پر چادریں بچھائی جانے لگیں ۔ آگ جلائی جانے لگی۔ ہم سب ٹیلے پر پہنچے سات شاعر شوخ رنگ رلیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ارد گرد گاﺅں کے بوڑھے بچے نوجوان اور گردنوں تک آنچل کیے عورتیں اور لڑکیاں ۔

عجیب ہی ماحول تھا وہ، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آسمان پر چاند پوری آب وتاب سے اور بہت قریب سے چمک رہا تھا، کھربوں ستارے ہمہ تن گوش تھے، صحرا کی ٹھنڈی ہوائیں قدیم راگ الاپ رہی تھیں، ٹیلے پر الاﺅ روشن تھااور آس پاس بیٹھے ہوئے صحرائی نوجوانوں اور لڑکیوں سمیت تمام صاحب ذوق افراد کے چہرے دمک رہے تھے اور جب ان شاعروں نے سندھی اور اردو میں شعر سنائے تو میں حیران رہ گیا۔ ایک عجیب سی تاثیر، ایک انوکھا سچ، ایسے شاعروں سے میں کبھی نہیں ملا اور ایسا مشاعرہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

میں نے پوچھا کہ کچھ یاد ہے کہ پہلا شعر کب اور کتنی عمر میں کہا؟ اور کس کس کیفیت میں کب کب لکھا ؟

عمران نے بتایا کہ پہلا شعر تو صحیح سے یاد نہیں، لیکن پہلی نظم چوتھی جماعت میں لکھی تھی بس یہ ہے کہ بچپن سے لکھا، بہت لکھا، سمندر کی لہروں کے ساتھ بہتے ہوئے لکھا، پہاڑوں کی چوٹیوں پر لکھا، فلیٹوں کی چھتوں پر لکھا، ریلوے اسٹیشنوں کے گمنام گوشوں میں بیٹھ کر لکھا، ڈھابہ ہوٹلوں کے اردگرد چلتے پھرتے کرداروں کو دیکھتے ہوئے لکھا، بس کی چھت پر بیٹھ کر لکھا، موٹرسائیکل پر دوست کی کمر پر کاغذ رکھ کر قلم چلایا، کبھی تاریک تہہ خانوں جیسے مقاموں پر لکھا، کبھی پولیس تھانوں اور موبائل میں بیٹھ کر اور کبھی تن تنہا خالی عمارت کی آٹھ گز کی دکان میں رات کے پچھلے پہروں تک، نیوزچینلز کے مشینی لوگوں کے درمیان شیشے کے کیوبیکل میں بھی لکھا۔ اور فٹھ پاتھ پر رعونت کے چھینٹے اڑاتی گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے بھی لکھا، سفر کرتے ہوئے بھی لکھا اور مسجد کی دیوار سے ٹیک لگا کر بھی لکھا۔ جسم کی خوراک کے لیے بھی لکھا اور روح کی غذا کے لیے بھی، کچھ ہواﺅں میں اڑا دیا، کچھ الماری کی درازوں میں چُھپا دیا، اور کچھ جلا دیا۔

سوال:۔ آپ ایک نجی چینل سے بطور اسکرپٹ ہیڈ منسلک ہیں ۔ اس تجربے کو آپ اظہار کی زبان کیسے دیتے ہیں ؟

جواب:۔ دیکھئے نئی دنیا، نیا سماج اور نئی تہذیب جنم لے رہی ہے۔ تہذیبوں کا وجود میں آنا اور آ کر مٹ جانا تو نظامِ فطرت کا حصہ ہے لیکن یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ نئی تہذیب کو کروڑوں انسانوں کے صدیوں پر مشتمل فطری ارتقاء کی بجائے چند انسانوں پر محیط ننھا مُنا ایڈیٹ باکس دنوں اور مہینوں میں تخلیق کر رہا ہے۔ پچھلی تہذیبیں اپنے پروردہ ہر انسان کی شراکت سے وجود میں آتی تھیں جبکہ آج کی تہذیب اپنے پروردہ ہر انسان پر مسلط ہو رہی ہے۔ اس بات کا اندازہ مجھے اس ننھے منے باکس کے اندر بیٹھ کر ہوا۔ اس حوالے سے میں نے ” ایڈیٹ باکس “ کے عنوان سے اظہار کیا آپ بھی سنئیے کہ

 دیکھ تو میزباں کے ہاتھ میں کپ

 ایک قطرہ بھی جس میں چائے نہیں

 سب کی پالیسی ایک جیسی ہے

 آگ لگ جائے آنچ آئے نہیں

 سیٹ کے آس پاس کی دنیا

 دیکھنے والے دیکھ پائے نہیں

بے لفافہ ہے ٹاک شو حضرت

مولوی صاحب آج آئے نہیں

آج پھر باس نے کہا عمران

تم پرومو بنا کے لائے نہیں

سوال:۔ کبھی ایسا ہوا کہ آپ کوئی نظم مکمل نہ کر سکے؟

جواب:۔ جی بالکل آپ یہ شعر دیکھئے نظم کا عنوان ہے ” باپ اور بیٹی کی نظم “ جس کا شعر ہے۔ ۔

جانے کیا کیا سوچتی رہتی ہے وہ پگلی

بابا آپ سمندر ہوتے اور میں مچھلی

 اس نظم کا دوسرا مصرعہ میری بیٹی نے چار سال کی عمر میں کہا اور مجھے ششدر کر دیا۔ پہلا مصرعہ لگا کر میں نے نظم مکمل کرنے کی کوشش تو کی ہے مگر میرا خیال ہے کہ میں اظہارِ فطرت کے مقابل نہ آ سکا۔

سوال:۔ آپ کا کہنا ہے کہ

 ”یہاں تک میں بڑی مشکل، بڑی کوشش سے پہنچا تھا

 مگر صندوق کھولا تو نیا نقشہ نکل آیا“

 بچپن سے کیا بننے کی خواہش تھی اور صندوق میں موجود نقشہ کیا نکل آیا؟

جواب:۔ بچپن میں بڑے بڑے خواب تھے لیکن قدم چھوٹے تھے اور راستے دھندلے۔

جب بچے کرکٹ کھیلتے تھے تو میں فلیٹ کی چھت پر بیٹھا اپنی خواہشوں کو گنگناتا تھا۔ بچپن سے دو بنیادی خواہشیں میرے من میں سمائی رہیں ۔ ایک خواہش، شاعری کی معراج پر پہنچنا اور اس شدید آرزو نے اپنے راستے میں آئی ہوئی ہر رکاوٹ کو توڑ پھوڑ دیا مجھے دنیا پرست اور دنیا دار ہونے ہی نہیں دیا۔ جبکہ دوسری خواہش، ایک تحقیقی مرکز اور بہترین تعلیمی ادارے کا قیام۔ یہ دونوں خواہشیں میرے اردگرد سے اتنی مختلف اور اتنی باغیانہ تھیں کہ لوگ حیرت سے مجھے دیکھتے تھے کیونکہ میرے محلے والوں کے خواب، خواہشیں، آرزوئیں اور تھیں اور میری اور! میری بات سمجھنے کے لیے آپ کو میرا پس منظر جاننا بہت ضروری ہے۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو خود کو ”صدر تھانہ کے فیملی کوارٹرز “میں دیکھا۔ جہاں ہر دوسرے لڑکے کی خواہش ہوتی کہ بڑا ہوکر اے ایس آئی یا ایس ایچ او اور بہت تیر مارا تو ایس ایس پی بننا۔ لیکن جب پولیس میں آسامیاں نکلیں تو سب اپنے سارے خوابوں کو بھول بھال کر سپاہی بھرتی ہونے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے لیکن میں ایک ضدی بچے کی طرح اپنی ڈائری لکھتا اور پڑھتا رہتا۔ حالانکہ میرا ددھیال اور ننھیال فوج اور پولیس میں رہا ہے۔ میرے پردادا بابا عمدے خان دہلی کی پولیس میں تھانے دار تھے۔ دادا نے دوسری جنگ عظیم اور سن پینسٹھ کی جنگ لڑی اور پھر باقی ماندہ وقت پولیس میں ایف آئی آر درج کرتے ہوئے گزارا۔ ابو گو کہ ایل ایل بی کر چکے تھے لیکن گئے وہ بھی پولیس میں !

اسی بارے میں: ۔  کرانچی والا

اس بغاوت کا پہلا بیج میرے دل میں بونے والی شخصیت میرے چھوٹے چچاراﺅ جاوید اقبال ہیں ۔ جو اسپیشل برانچ میں اے ایس آئی کا عہدہ چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم کے لیے سائپرس چلے گئے اور واپس آئے تو ایک ایسا ڈبہ ساتھ لائے جسے ہمارے گھر والے کیا سب محلے والے بھی حیرت سے دیکھتے تھے اوریہ ڈبہ تھا کمپیوٹر! یہ اُن دنوں کی بات ہے جب کراچی میں بسنے والوں کے لیے بھی کمپیوٹر کا صرف نام جاننا ہی کافی تھا۔ سی ڈی روم اور ماﺅس اُس وقت ایجاد نہیں ہوئے تھے لیکن میرے لیے یہ چوکور کائنات دل چسپی کا مجموعہ بن گئی رات رات بھر بلیک اسکرین پر کمانڈز لکھتا، تصویریں بناتا، آپشنز جانچتا اور پھر جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو میں نے پڑھانا شروع کردیا۔ جب میں میٹرک کا امتحان دے رہا تھا تو اس وقت میرے دماغ میں ”اپنا ادارہ“ چل رہا تھا تو ایبی سینیا لائن میں ایک بتیس گز کی دکان دس ہزار ایڈوانس اور ساڑھے بارہ سو روپے کرائے پرلی، کباڑیے سے ایک ٹانگ ٹوٹی مستطیل میز خریدی، ایک ٹانگ کی کمی اینٹیں رکھ کر پوری کی اور یوں ”ون کمپیوٹرز“ کا آغاز کر دیا۔ دن بھر اسٹوڈنٹس کو پڑھاتا سکھاتا اور رات کو دن بھر کے دکھ سکھ، کامیابی اور ناکامی کی روداد شعروں میں ڈھالتا رہتا۔ ون کمپیوٹرز ون گروپ آف ایجوکیشن میں بدلتا گیا۔ اول اول جتنے اسٹوڈنٹس ہوتے تھے اب اتنے اساتذہ ہوگئے۔ ایک سے دو کیمپس بن گئے نیااسکولنگ سسٹم کا خواب مزید تیز تیز کروٹیں بدلتا۔ تحقیقی مرکزکی شکل میں روزانہ نئے نئے رنگ چڑھتے رہتے اور پھر سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ایک دن ایسا پھسلا کہ تحقیقی مرکز اور نئے اسکولنگ سسٹم کے خواب چکنا چور ہوگئے سب کچھ بکھر گیا، مقصد دھند میں بھٹک گیا، عزم قرضوں میں جکڑ گیااور خوش فہمیاں اچھے وقتوں کے دوستوں کی طرح ہجرت کر گئیں ۔ ایک زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں، تحریک اور مقصدِ عظیم کی گونج سمیت ختم ہوگئی پھر میں تھا، کھلا آسمان تھا اورنا سمجھ میں آنے والے سوالات کی یلغار۔ میں جسے منزل سمجھ رہا تھا وہ راہ کا موڑ ثابت ہوئی دس برس کی ان تھک، لگاتاراورمسلسل محنت رائیگاں چلی جائے تو ایک طرح سے آدمی کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن میں اس وقت میں زندہ ہوا کیونکہ میری شدید ترین کوشش کے بعد صندوق میں میرا مطلوبہ خزانہ نہیں تھا لیکن صندوق خالی نہیں تھا۔ نقشہ تھا اس صندوق میں یہ نقشہ اس خزانے سے عظیم ہے جو مجھے مسلسل سفر میں رکھتا ہے۔ کہیں بیٹھنے نہیں دیتا کہیں رکنے نہیں دیتا ویسے بھی جس کی نگاہوں میں منزل کا گلاب مہک رہا ہوتو اسے راہ کی رنگینی یا سنگینی کچھ زیادہ کہہ نہیں سکتی۔

سوال: آپ نے زخم اور زخم دینے والوں کی بات کی، بحیثیت انسان اور شاعر کن باتوں سے زیادہ دُکھ ہوتا ہے؟

جواب۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنی ذات کو مرکز عالم سمجھتے ہیں ۔ اُن کی انا یا خودی اتنی شدید ہوتی ہے کہ اپنے مقصد کی راہ میں آنے والی ہر شے کو ہٹاتے جاتے ہیں ۔ ان کا اخلاص صرف اپنے مقصد سے ہوتا ہے اس لیے ایثار اور قربانی ان لوگوں کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جب تک کامیاب نہیں ہوں مسلسل کلبلاتے رہتے ہیں ایسے لوگوں پر کوئی نصیحت، کوئی رقت آمیز منظراورکوئی کلام زیادہ اثر نہیں کرتا۔ بس اپنے مقصد کی دھن میں جئے جاتے ہیں اور اپنی کامیابی کے لیے اپنے اردگرد کو ناکامیوں کے جال میں الجھانے سے بھی باز نہیں آتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جو نام نہاد کامیاب لوگ ہیں انہوں نے دنیا کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اور دوسری طرح کے لوگ وہ ہوتے ہیں جنہیں دین یا مذہب اپنی خودی یا انا کوقربانی دینا سکھاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنے مقصد کو عظیم ترین مقصد کے حصول کے لیے معطل بھی کرسکتے ہیں اور ترک بھی۔ اگراپنی انا قربان کرنے والے نہ ہوں تو یہ دنیا چشمِ زدن میں راکھ کا ڈھیر ہوجائے۔ لیکن اگر خود کو مرکز عالم سمجھنے والے نہ ہوں تو بھی یہ دنیا آگے نہیں بڑھ سکتی۔ کیونکہ خود کو مرکز عالم سمجھنے والے ہی کوئی بڑا کارنامہ انجام دے ڈالتے ہیں کوئی چاند پر پہنچ جاتا ہے کوئی عظیم ایجاد کر لیتا ہے تو دنیا ان دونوں طرح کے افراد کے توازن سے چل رہی ہے۔ جب اس توازن میں بگاڑ آتا ہے تو خرابی شروع ہوجاتی ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ یہ توازن ہمارے معاشرے میں ہمیں کم کم دکھائی دیتا ہے تو ہر غیر متوازن شخصیت، رویے اور واقعے پر دکھ ہوتا ہے۔

سوال: ”یارب میں اپنے بچے کی کیا تعلیم کروں، مسلم ہو یا پاکستانی ہو یا صرف انسان، آپ قوم کے بچوں کو کیا تربیت دیں گے؟

یہ ایک بہت کڑا، بڑا اور الجھا ہوا سوال ہے۔ آج کل دنیا آئڈینٹیٹی کرائسز میں پھنسی ہوئی ہے۔ شناخت کا بحران شخصیت کے بحران میں ڈھلتا جارہا ہے۔

مثال کے طور پر ایک مسلمان پٹھان آدمی جو پاکستان سے بیس برس قبل امریکہ گیا اور وہاں اس کی شادی ہوگئی اولاد بھی ہوگئی اور امریکی نیشنلٹی بھی مل گئی اب کوئی اس آدمی سے پوچھے کہ وہ کون ہے تو وہ کیا جواب دے گا؟

میں پٹھان ہوں یا میں مسلمان ہوں یا میں پاکستانی ہوں یا امریکی ہوں یہ تقریباً ساری شناختیں ایسی ہیں جو اسے ورثے میں ملیں ۔ میرے نزدیک انسان کی سب سے اہم شناخت ہے اپنے خالق کا خالص بندہ ہونا۔ جب مجھے یہ معلوم ہو کہ میں خدا کا نائب ہوں تو باقی شناختیں محض رسمی رہ جاتی ہیں جیسے آپ کا قومی شناختی کارڈ نمبرآپ کی شناخت تو ہے لیکن آپ اس نمبر کو لے کر کسی احساس ِ برتری یا کمتری کا شکار نہیں ہوتے۔

تو جو انسان جس راستے پر چلتا ہے وہ اس کی شناخت بنتی ہے جیسے میں مسلمان ہوں ۔ باقی سب شناختیں اس کے بعد ہیں ۔ رہی بات بچوں کی تربیت کی تو میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ دنیا کس طرح پر امن ہوسکتی ہے کیسے اپنے عظیم منصب پر پہنچ سکتی ہے تو اس کا مجھے سیدھا سا ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ہر شخص اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دریافت کرے اپنی تلاش میں سفر کرے خود کو پہچانے اور اپنی شناخت خود بنائے۔ ظالم کا ہاتھ روکنے کی ہمت لائے اور ظالم حاکم کے سامنے جرات انکار کرسکے۔ افسوس ہے ہمارے ہاں کے تعلیمی معیار پرجہاں اسکولوں میں سوال کرنے والے بچے کو بدتمیز کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے اور رنگ برنگے نظریات کو اس پر تھوپ دیا جاتا ہے اور ایسے انداز میں تھوپ دیا جاتا ہے کہ زرا سا بھی شک کرنے کا مطلب گناہ عظیم تصور کیا جاتا ہے۔

سوال: ”نت نئی تنہائیوں کا رونا رونے کے لیے، کچھ پرانے دوستوں کی بزم ہونی چاہیے”۔ ہر شاعر چاہتا ہے کہ اس کی سنی جائے۔

جواب۔ ہر شاعر نہیں، ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی سنی جائے پوری عزت و احترام کے ساتھ! لیکن کوئی کسی کی سننے پر تیار نظر نہیں آتا اسی وجہ سے شہرکی زندگی نفسیاتی الجھنوں میں پھنستی جا رہی ہے۔ انسان اپنا کتھارسس جب نہیں کرپاتا تو وہ معاشرے کے لیے خطرناک ہوتا جاتا ہے۔ شہر کی مشینی زندگی میں مشینوں کی محتاجی کرتا انسان بھی اپنا دکھ سکھ بانٹنا چاہتا ہے لیکن کوئی سننے کو تیار تو ہو۔ شاید اسی وجہ سے مزاروں پر لوگوں کا رش رہتا ہے جہاں وہ اپنے دل کی بات کہہ کر اپنا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں ۔

اسی بارے میں: ۔  آزادی ٹرین پر سفر کی روداد۔ ۔ ۔ خان پور

 سوال:” جب صدائے کُن کا اگلا مرحلہ آجائے گا، آسماں کے کاج میں ہوں گے زمینوں کے بٹن“۔ شاعری میں، بحر سے لے کر قافیے ردیف تک سب کی بہت اہمیت ہوتی ہے، آپ نے بٹن ٹانک کر شاعری کے لباس کو جدید انداز دیا؟

جواب۔ اسے آپ جدیدیت کہیے یا کچھ بھی لیکن ان بٹنوں کی کہانی کافی مختلف ہے اصل میں میری پوری زندگی بٹنوں سے کھیلتے گزری کی بورڈ کے بٹنوں سے! اور پھر یہ بٹن کپڑوں سے نکل کر ساری انسانی زندگی پر مسلط ہوتا گیا۔ میں سمجھتا ہوں انسانی تاریخ آنے والے وقتوں میں دو حصوں میں منقسم ہوجائے گی ایک قبل از بٹن اور ایک بعد از بٹن! ذرا آج آپ اپنے اردگرد دیکھیے موبائل ہویا کمپیوٹر، ٹی وی ریموٹ ہو یا اے ٹی ایم مشین!ہر طرف بٹن ہی بٹن ہیں گویا بٹن انسان کا کُن ہے۔ یہ غزل سننے والوں کو جدید لگتی ہے تو کسی کو شاعری میں بدعت لگتی ہے لیکن یہ میرا سچ تھا وہ سچ جو میں نے جھیلا، جس سے میں کھیلا اور جس سے میں بہلا! اس غزل سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک دن حلقہ ارباب ذوق کی نشست میں، میں نے اپنی یہ غزل تنقید کے لیے رکھی صدر محفل جناب رفیق نقش تھے۔ اس حلقہ میں اس غزل کی اتنی شدید مخالفت ہوئی کہ جیسے میں نے شاعروں کے عقیدے توڑ دیے ہوں تو اس دن میری سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ یہ غزل اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔

اسی طرح ایک نجی محفل میں، میں خواجہ رضی حیدر سے ملنے گیا تو وہاں سحر انصاری بھی موجود تھے اور مجھے دیکھتے ہی خواجہ رضی حیدر سے مخاطب ہوئے”بھئی تم کہہ رہے تھے عمران آنے والے ہیں تو بتا دیتے بٹن والے عمران آنے والے ہیں “اور میں ان کی بات پر مسکرا کر رہ گیا۔

سوال: ”گلاب کچرا جلا رہا ہے، عظیم مکھی اڑا رہا ہے، کلیم گٹکا چبا رہا ہے، تو گھنٹہ پیکج پہ جانے کب سے، فہیم گپیں لڑا رہا ہے“۔ اپنی نظم ’سڑک‘ میں آپ نے جو منظر کشی کی اس میں حقیقت کا گماں ہوتا ہے؟

جواب۔ حقیقت کی حقیقت کیا ہے؟ یہ سوال خود بہت بڑی حقیقت ہے۔ دوست احباب نظم” سڑک“ میں کئی کہانیاں دریافت کرتے ہیں لیکن میں آج آپ کو بتاتا ہوں کہ اس نظم کے پیچھے کیا کہانی چھپی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے ہیں بھولے بھائی ساٹھ کے پیٹے میں ہوں گے ان سے بہت کم ملاقاتیں ہوئیں بولتے بہت زیادہ ہیں لیکن ان کی باتوں میں کبھی کبھی ایسی شاندار حقیقت چھپی ہوتی ہے جو کسی کتاب میں دکھائی نہیں دیتی۔ ایک دن وہ بتا رہے تھے کہ وہ سڑک سے گزر رہے تھے سڑک پر ایک کتا مرا پڑا تھا انہوں نے گاڑی روکی گاڑی میں کپڑا ڈھونڈا نہیں ملا تو اپنی شرٹ اتاری کتے کو لپیٹا ڈکی میں ڈالا اور ایک محفوظ مقام پر کتے کو لٹا کر اس پر شرٹ ڈال دی اور بنیان میں گاڑی چلاتے ہوئے اپنے گھر آگئے بھولے بھائی بات تو اپنے بھولے پن میں کرگئے لیکن بات مجھے لگ گئی کہ کوئی شخص اس حد تک بھی جا سکتا ہے؟ توایک دن کیا ہوا کہ میں اپنی موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک مجھے سڑک پر بلی مری پڑی دکھائی دی۔ میں نے موٹرسائیکل روک دی اور اپنے اندر بلی اٹھانے کی ہمت پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن ایک انجانے خوف اور کراہت کے احساس نے مجھے آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ گاڑیاں پوری رفتار سے گزر رہی تھیں اور بلی گاڑیوں کے ٹائروں سے کچلتی جا رہی تھی مجھ سے مزید دیکھا نہیں گیا اور میں ناکام وہاں سے آگے بڑھ گیا لیکن اپنی کم ہمتی پر خود کو ملامت کرتا رہا اور اُسی رات ایک خالی صفحے پر مجھ سے اتنا ہی لکھا گیا کہ ”سڑک پہ بلی مری پڑی تھی“بس پھر کیا جب بھی سڑک پر آتا تو سڑک مجھے اپنی بے بسی کی کہانیاں سنانے لگتی کچلی ہوئی بلیاں، چیلیں، کبوتر اور کتے سڑک سے اٹھ کر بھاگنے لگتے اور پھر ایک دن پھر وہ ہی منظر میرے سامنے تھا۔ سڑک پر بلی مری ہوئی تھی۔ بے حسی کے ٹائر پوری قوت سے بھاگ رہے تھے اور میں تنہا کھڑا سب دیکھ رہا تھا بس پھر خدا جانے کہاں سے ہمت آئی میں نے اردگرد نظر دوڑائی مجھے کپڑا پڑا دکھائی دیا۔ کپڑے سے میں نے بلی کو ڈھانکا اُسے اٹھایا اور ایک درخت کے نیچے رکھ دیا۔ بس اس دن مجھ پر اس نظم کے مصرعے اترنے لگےاور پوری رات میں لکھتا رہا لیکن غیر مطمئین رہا کیونکہ اِس نظم میں تقریباً تیس چالیس ایسے الفاظ تھے جو شاعری تو کجا نثرمیں لکھتے ہوئے بھی اچھے ادیب کئی بار سوچتے ہیں ۔ بس اُس دن کے بعد سے کئی مہینوں تک میں اِس نظم کے ساتھ جیا۔ ساری زندگی سڑکوں سے گزرتے گزری ہے میری اور ساری زندگی کے بے حس واقعات مصرعوں میں ڈھلتے چلے گئے۔ کبھی جی میں آتا کہ اس نظم کو اور طویل کر کے ایک ناول کی شکل دے دوں تو کبھی مصرعوں کی قطع و برید پر لگ جاتا اور کبھی بڑے خیال کو چھوٹی بحر میں سمونے کی کوشش کرنے لگتااور کبھی پہروں سڑک کنارے بیٹھ کر نام نہاد کامیاب لوگوں کی حرکات غور سے دیکھتا جاتا۔ یوں تقریباً چھ مہینے اس نظم کے ساتھ سفر کیا میں نے اور ایک مقام پر نظم مکمل ہوگئی۔ لیکن مکمل ہونے کے بعد بھی اس نظم نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اب بھی آتے جاتے عجلت وحشت، غفلت اور طاقت کے نظارے دیکھتا ہوں تو مصرعے اچھل اچھل کر سامنے آجاتے ہیں لیکن نہیں بدلا تو بلی کا منظر نہیں بدلا کتنی چیلوں، کتنے کوﺅں، کتنے کبوتروں، کتنے کتوں اور کتنی بلیوں کی قبر بھی سڑک ہے اور کفن بھی سڑک ہے۔ میں سمجھتا ہوں جس دن مردہ بلی زندگی کی سڑک سے اٹھ گئی سب کچھ خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ اس نظم کو لکھے شاید سال ڈیڑھ سال ہوگیا ہے لیکن شاید ہی کوئی دن ایسا ہوتا ہو جب اس نظم کا تذکرہ میرے سامنے نہیں کیا جاتا ہو۔ اس نظم نے تو میری ساری شاعری کو ایک عجیب مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔

سوال: ”لکھنے والو ہاتھ اٹھاؤ، کس کس نے مقتل کو دیکھا“۔ سچ کہنا اور لکھنا ہر دور میں مشکل رہا ہے جب کہ آپ کا رجحان بھی معاشرتی اصلاح کی جانب ہے، مشکل پیش آتی ہے؟

جواب۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک لکھنے والے کو شدید بہادر ہونا چاہیے۔ یہ میدان کمزور کھلاڑیوں کا نہیں ۔ لیکن جب میں دیکھتا ہوں تو کمزوروں، لاچاروں، لاشعوروں، ذہنی مریضوں، مسخروں، نشئی، باﺅلوں، جھوٹوں، غفلتی بدھو اور معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے بے ضرر مظلوم زیادہ نظر آتے ہیں ۔ شکایتوں کے ڈھیر چہروں پر، زبانوں پر اور کلاموں میں۔۔۔ یار نے پیٹھ پر چھرا گھونپا۔۔۔ حسن نے مجھ سے بے وفائی کی۔۔۔ زمانہ ظالم ہے۔۔۔ میرے خواب ٹوٹ گئے۔۔۔ زندگی دکھ ہے، سزا ہے، بلا ہے، الابلا ہے۔ ایسے شاعروں ادیبوں کی ایسی شاعری کسی کے کس کام کی؟ ہر اچھی تخلیق اچھے تخلیق کار سے برآمد ہوتی ہے تو یہ بات طے ہے کہ اچھی شخصیت کے بغیر آپ اچھا شعر، اچھی نظم اور اچھی نثر لکھ ہی نہیں سکتے۔ یار لوگ شاعری پر دھیان لگاتے ہیں، دماغ کھپاتے ہیں، قدیم شعروں سے ذائقے چوری کرتے ہیں لیکن شخصیت کہیں اٹکی رہ جاتی ہے۔ یار دوست شعر کو عظیم بنانے میں مصروف ہیں لیکن اپنی شخصیت کی عظمتوں کے ذائقوں سے محروم۔ ایسے بے ضررشاعر ادیب معاشرے میں کسی بڑی تبدیلی کی وجہ نہیں بنتے۔ ۔ بلکہ بنتے بگڑتے ہوئے حالات میں خود کو تبدیل کرتے پھرتے ہیں۔۔۔ صورت حال ایسی ہو تو ظالم حاکم کے سامنے حق بات کون کہے گا؟

کون طاقت ور کی کلائی موڑے گا

کون برائی کی گردن دبوچے گا

کون مظلوم کو حق دلائے گا

کون ان خدائی کے دعوے کرتے اداروں سے ٹکرائے گا؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 28 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz