کراچی میں رینجرز کی چوکیوں پر بارودی مواد سے حملے


rangersنامعلوم افراد کی جانب سے رینجرز کی 2 چوکیوں کو کچھ منٹ کے وقفے سے بارودی مواد کے ذریعے نشانہ بنایا۔کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں عیسی نگری اور موتی محل میں رینجرز کی چوکیوں پر بارودی مواد سے کیے گئے حملوں میں اہلکار محفوظ رہے تاہم چیک پوسٹس کی دیواروں اور حفاظتی حصار کو نقصان پہنچا۔
پہلا حملہ موتی محل میں چوکی پر کیا گیا جس کے کچھ منٹ کے وقفے کے بعد دوسرا دھماکا عیسیٰ نگری کے قریب چوکی پر ہوا، دھماکوں کی زوردار آواز سے علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔بعد ازاں رینجرز اوت پولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں گشت شروع کر دیا۔
سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے حملوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی شرقی کو واقعہ کی رپورٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اسنیپ چیکنگ بڑھانے کی ہدایت کی۔گلشن اقبال کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) ڈاکٹرفہد کا دعویٰ تھا کہ رینجرز کی چوکیوں پر حملے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیے گئے۔
دھماکوں کے بعد دونوں چوکیوں کو رینجرز اور پولیس نے حصار میں لے لیا تھا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کو بھی طلب کیا گیا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج عابد فاروق کا کہنا تھا کہ موتی محل اور عیسی نگری میں رینجرز چوکیوں پر ہونے والے حملے کریکر سے نہیں کیے گئے، حملوں کے لیے سیفٹی فیوز استعمال کیے گئے، سیفٹی فیوز کو آگ لگانے کے بعد 5 سے 10 سیکنڈ میں دھماکا ہوتا ہے۔
عابد فاروق نے مزید بتایا کہ دھماکوں کے لیے 500 گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔بارودی مواد سے سیاہ رنگ کی تھیلیوں میں بم بنایا گیا تاہم اس میں نٹ بولٹ ، کیلیں وغیرہ شامل نہیں تھیں جبکہ دونوں حملوں کی نوعیت ایک جیسی تھی۔بم دسپوزل اسکواڈ کے انچارج نے انکشاف کیا کہ اس قبل اس طرح کے حملے ناظم آباد میں رینجرز کی چوکیوں پر کیے گئے۔


Comments

FB Login Required - comments