گھوم گئے مولانا رومی۔۔۔ اور پھر ٹینا ثانی آئیں


mujahid mirza لمبی لمبی ٹوپیوں والے ایسے مردوں کی تصویریں بہت لوگوں نے دیکھی ہونگی جن کی ٹھوڑیاں آسمان کی جانب اٹھی ہوتی ہیں ، بازو باہر کی جانب پھیلے ہوتے ہیں اور ان کے گھیر دار ملبوس ان کے مسلسل گردشی رقص کے باعث ہوا بھرنے سے بلند ہو کر گول دائرے کی شکل میں ابھرے ہوتے ہیں، یہ گھومنے والے درویش مولانا جلال الدین رومی کے مقلد ہیں جو گھوم گھوم کر اس ہستی سے ربط قائم کرنے کی سعی کیا کرتے ہیں جس کا کہ وہ حصہ ہیں۔ جزو ہیں جو کل کی تلاش اور اس سے جڑنے کی آس میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ وجہ یہ کہ کل کے بغیر جزو بیکار ہوتا ہے۔ بازو کو بدن سے جدا کر دو تو کس کام کا۔ سر تن سے جدا ہو تو فقط انسان کا سر رہ جاتا ہے، انسان نہیں۔

مولانا روم ایک عالم دین اور مذہبی علوم کے استاد تھے۔ روایات کئی اور خارق العقل قسم کی ہیں کہ مولانا کی شمس تبریز سے ملاقات کیونکر ہوئی تھی جو اپنے جیسے کسی کی تلاش میں ارض روم قونیا  پہنچے تھے۔ روایات سنانے سے فائدہ، بات بس اتنی ہے کہ عالم و فاضل مولانا ایک درویش کی کرامت سے متاثر ہوئے یا متحیر، یہ نہیں کہا جا سکتا تاہم انہوں نے سوچا کہ درویش سے مکالمہ ضرور کیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ بند کمرے میں یہ مکالمہ کم و بیش تین ماہ جاری رہا تھا جس کے بعد جلال الدین کو یوں لگا کہ اسے اس سے پہلے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ مذاہب اور ادیان سبھی ایک سے ہیں کہ ان کے سوتے ایک ہی ہستی سے پھوٹتے ہیں جسے بقول اس کے اپنے خود کو متعارف کروانے اور منوانے کی اتنی چاہ تھی کہ انسان تخلیق کر دیا جو اسے جان سکے اور اس کی پہچان کروا سکے۔ انسان جو ایک بانسری کی مانند ہے جس میں سانس پھونکی جاتی ہے تو وہ بجتا ہے مگر شاکی رہتا ہے۔ اپنی اصل کے ساتھ جڑت کے ناستلجیا کے بین کرتا ہے، اس کی اصل وہی ہے جس نے اسے خود میں سے تخلیق کیا، مٹی سے بنایا پر روح اپنی پھونکی۔ نور بھی اپنا ہی بخشا چاہے کھربویں کا کئی کھربواں حصہ ہی سہی۔ تو پھر یہ تضادات کیوں، یہ ہنگامہ ہائے ہو کیا؟

138مولانا امام تھے جن کی اقتدا میں عبادت کرنے والے بھی بہت تھے۔ درست کہ ان ادوار میں دیوبند اور بریلی کے مکاتب فکر نہیں تھے لیکن مذہب کو بطور مذہب اور مذہب کو انسانیت کے حصے کے طور پر لینے والے فریقین تو تب بھی تھے۔ ٹھیک ہے تصوف کی ابتدا یونان سے ہوئی تھی لیکن اس کو اسلامی رنگ تو دجلہ و فرات کی وادی میں عطا ہوا تھا۔ رابعہ بصری اور جنید بغدادی، ان دونوں کو بیشتر لوگ دیوانہ سمجھتے تھے بلکہ زندیق بھی۔ رابعہ بصری نے اپنا خواب بیان کیا کہ خواب میں پیغمبر آئے پوچھا رابعہ کیا میں بھی تمہارے دل میں کہیں ہوں تو رابعہ نے معذرت خواہانہ انداز میں جواب دیا ، دل میں تو ہر جگہ اللہ نے بسیرا کر لیا ہے جگہ ہی نہیں بچی۔ قانون توہین رسالت نہیں تھا مگر لوگوں نے پھر بھی لاحول پڑھی تھی اور منہ دوسری جانب پھیر لیے تھے۔

رابعہ تو آگ سے بہشت جلانے اور پانی سے دوزخ بجھانے جا رہی تھی تاکہ لوگ اس کو جان سکیں جس کو طمع اور خوف سے نہیں پہچانا جا سکتا۔ لوگ تو ہمیشہ ہی طرح طرح کے ہوتے ہین، مقتدی چھٹ گئے اور تو اور چھوٹا بیٹا بھی جو خود مولوی تھا، والد کے خلاف تو کیا ہوتا، شمس تبریز کا مخالف ہو گیا کہ سب کیا دھرا اس کا ہے۔

مگر ابھی تو ایک اور ستم ہونا تھا۔ رومی دنیا و مافیہا سے گم، بازار سے  گذر رہے تھے کہ انہیں سونے کے ورق تیار کرنے والے صلاح الدین زرکوب کی کارگاہ سے سونا کوٹنے کا مترنم و مربوط آہنگ سنائی دیا، بس مولانا گھومنے لگے، گھومتے جاتے تھے اور ان کی زبان سے اشعار نکلتے جاتے تھے۔ زرکوب نے کاریگروں کو آہنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ مولانا کا ساتھی اشعار لکھتا جاتا تھا۔ اس روز سے مولانا گھومنے لگے اور اشعار ان کی زبان سے نکلتے چلے گئے۔ اس طرح انہوں نے 74000 اشعار کہے۔ ان کی معروف مثنوی جسے فارسی زبان میں قرآن کا نام بھی دیا جاتا ہے، جس کے پہلے اٹھارہ اشعار واحد اشعار ہیں جو مولانا نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر کلاہ اور پگڑی کے بیچ اڑسے ہوئے تھے۔ یہ اشعار نچوڑ ہیں جن کو کئی زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے اور گایا گیا ہے۔ اردو میں اسے ٹینا ثانی نے کوک سٹوڈیو کے لیے گایا ہے:

http://www.youtube.com/watch?v=1yqD4rns_jY

tina-sani-2اسے سنیے اور پھر اس ترتیب کے کچھ اور اشعار پڑھیے:

مجھے چاہیے درد سے پھٹا ہوا سینہ
تاکہ کھولوں میں درد پیار کے سے

ہر کوئی اپنے طور ہوا دوست مرا
میرے اندر کے نہاں راز نہ چاہے اس نے

راز میرا نہیں اتنا کوئی زیادہ گنجھلک
گوش و چشم روشنی سے عاری ہیں

روح کو جسم سے پردہ نہ بدن کو روح سے
پر کوئی روح میں جھانکے یہ ممکن ہی نہیں

نے کی آواز ہے آتش، نہ ہوا تم سمجھو
جس میں یہ آگ نہیں، اس کو صفر تم جانو


Comments

FB Login Required - comments