دھنک، تکیہ اور خوشی کی تلاش


 jamil abbasiسوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان دنیا میں سب سے زیادہ کس کی تلاش رکھتا ہے؟جوابات کے بارے سوچیں تو ممکن ہے اس سوال کے اتنے جواب مل جائیں جتنے کہ دھرتی پر انسان ۔ اس بات پر یار لوگ فہمائش کر سکتے ہیں کہ میاں دو اشخاص کا جواب ایک سا ہوسکتا ہے تو جوابات کی تعداد اتنی زیادہ کردینا نامناسب رہے گا۔ اس کے بارے عرض ہے کہ کچھ نکتہ داں بھی تو دس دس، بیس بیس جواب ارشاد فرما دیں گے تو مل ملا کر حساب پورا ہو جائے گا۔ آپ اس کی فکرچھوڑ کر فقیر کے سوال پر اپنا جواب عنایت کریں۔ اور ازراہ کرم گوگل سے مدد مانگنے کی بجائےاپنے آپ سے اس کا جواب مانگیں۔ میں نے خود سے یہی سوال کیا توجواب ملا “خوشی”۔

دنیا میں انسان سب سے زیادہ خوشی کو تلاش کرتا ہے ۔  میرا اس پر شرح صدر ہے گو وہ حرف آخر نہیں۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر میں نے بغیر کسی مقصد گوگل کی تلاشنے والی ٹیبل میں خوشی لفظ لکھ کر انٹر دبایا۔  زیرو پوائنٹ چوالیس سیکنڈ میں ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ نتائج نمودار ہو گئے۔ سچی خوشی، حقیقی خوشی، خوشی کا راز، اظہار خوشی، اچانک خوشی، بے تحاشا خوشی، کمینی خوشی وغیرہ وغیرہ۔ ان میں سے کچھ فاسد تعریفات کے لئے گوگل کے بجائے فقیر ذمہ دار ہے۔  خیر میں نے آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا کھول کر خوشی کی تعریف سمجھنا چاہی۔  ویکیپیڈیا لکھتا ہے”خوشی، عقل کے ایک ایسے احساس کا نام ہے کہ جس میں اطمینان ، تسلی ، تشفی ، پیار اور فرحت و مسرت کی کیفیات اجاگر ہوتی ہوں۔

jaخوشی کی متعدد نفسیاتی ، حیاتیاتی و مذہبی تعریفیں کی جاسکتی ہیں لیکن اس کا کوئی عالمی یکساں پیمانہ یا اکائی مقرر نہیں ہے۔  علم طب و حکمت کے لحاظ سے خوشی کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ خوشی ایک ایسا صحت مند جذبہ یا احساس ہے کہ جس کے خصائص میں طمانیت اور شادمانی کے مظاہر شامل ہوں۔ ” مجھے محسوس ہوا کہ بہتر طرح خوشی کو بیان کیا گیا ہے۔  ان الفاظ سے خوشی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے مگر اس میں ایک جملہ مجھے زیادہ پسند آیا “اس کا کوئی عالمی یکساں پیمانہ یا اکائی مقرر نہیں ہے” ۔ اس جملے نے احساس دلایا کہ بھئی تم بھی اس بارے کچھ کہہ سکتے ہو، سوچ سکتے ہو۔ ممانعت کوئی نہیں۔  میں نے سوچنا چاہا تو خوشی کے بارے سب سے پہلے ذہن میں مستنصر صاحب کا لکھا یاد آیا۔ تارڑ صاحب نے کسی جگہ لکھا ہے “خوشی کی تلاش ہی دراصل خوشی ہے”۔ اردو زبان کے بڑے انسان کی بات سے کیونکر انکارہوسکتا ہےمگر انہوں نے برابر کہا ہے کیونکہ تجربہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ خیر میں نے اپنے افعال اور خیال سے خوشی کی مزید جانچ کرنا چاہی۔ یاد آیا پچھلے ماہ جب ٹوتھ برش لینے میں سستی کی سبب تین دن بعد برش کیا تھا تو کتنا اچھا محسوس ہوا تھا۔ پھر یاد آیا کوئی ہفتہ بھر پہلے ظفراللہ خان کا کالم “گوبر کی خوشبو اور پوٹھوہاری موٹے” پڑہ کر اگرچہ آنکھیں بھیگ گئی تھیں مگر من نجانے کیسے ہلکا پھلکا سا ہو گیا تھا۔ ایسے لگا جیسے کسی نے دل کی وہ بات کہہ ڈالی ہو جسے ہم کہنا سیکھ نا پائے۔

ja2اسی دوران واہیات فلم “تیس مار خان” میں شریا گھوشل کی آواز میں گایا گیا رابطہ نامی گانا یاد آ رہا ہے، جس کا مدہرپن تومارے ڈالتا ہے مگر شریک آواز یقین دلانےلگتی ہے کہ سر واقعی بھگوان کی بولی ہوگی۔ اچھا اور یہ تو کل ہی سی این این کے فیس بک پیج پر خبر پڑہی کہ پلاسٹک کھانے والے بیکٹریاز بنائے گئے ہیں جن سے آلودگی میں کمی کی امید لگائی جا سکتی ہے۔ کتنی خوش کن بات ہے نا؟ میں نے تو پڑہ کر ایسا سکون محسوس کیا تھا جیسے پاؤ بھر افیم پی لی ہو۔  اور کل ہی کی ایک اور بات ہے۔ شام و رات کی بارش کے بعد صبح سویر میں ریلوے لائن پر دونوں اطراف پانیوں پر ٹہری دھند کے درمیان تن تنہا چلتے ہوئے سورج نکلنے کا شفاف منظر دیکھنے کا موقع کتنا فرحت بخش تھا ۔ اف۔  ایسے منظر کو دوبارہ پانے کی امید پر تو زندگی خوشی سے بسر کی جا سکتی ہے۔ اور کل کا ذکر کریں تو پرسوں کا ذکر تو واجب بن جاتا ہے۔ اس دن میں نے اپنی یاد کے مطابق زندگی میں آسمان کو پہلی بار دھنک سے رنگ برنگی ہوتے دیکھا ۔  یہ الگ بات ہے کہ میں اس وقت بھیگے مرغ کی صورت تھا۔ مگر بھیگے مرغ کی آنکھیں ابھی تک ان رنگوں سے لبریزہیں۔  تو ان کل باتوں سے مقصد اورکچھ نہیں بس میرا ناقص ذہن مجموعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوشی کو ادھر ادھر مت تلاشیں۔ یہ آپ کے محسوسات میں ہے۔ اگر آپ کے محسوسات پر کثافت طاری نہیں ہوئی، اگر آپ وہ لطیف اشیا کو تلاش لیتا ہے تو آپ کو خوشی کہیں اور تلاشنی نہیں پڑے گی۔ خوشی آپ کے اردگرد، دائیں بائیں رقصاں رہے گی۔ آپ کو کہیں دور، کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں۔ ارے ہاں یہ تو رہ ہی گیا ۔ آج دو دن سفر کے بعد اپنےکمرے کی مانوس فضا میں تکئے پر کمر ja3ٹکائے لکھتے جانا کتنا خوش کن احساس ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “دھنک، تکیہ اور خوشی کی تلاش

  • 13-03-2016 at 9:30 pm
    Permalink

    Beautiful write up, feeling happy after reading it

Comments are closed.