صدارتی نظام کی اچانک کیوں یاد آئی؟


ibarhim kunbharکراچی میں مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں کی حالیہ پریس کانفرنسز کے دو مقاصد ہی نظر آ رہے ہیں، ایک مقصد سندھ میں اردو زبان بولنے والوں کی نئی تنظیم بنانا ہے، دوسرا بڑا مقصد ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کی جگہصدارتی نظام کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ لازمی سی بات ہے کہ مصطفی کمال اس پائے کے سیاسی رہنما نہیں کہ وہ صدارتی نظام حکومت کی بات کریں اور لوگ فی الفور مان جائیں جس کے بعد ملک میں پورا نظام ہی بدل دیا جاوے۔

کراچی میں سیاسی پارٹی بنانے کے اعلان کے ساتھ صدارتی نظام کیے نفاذ کا پیغام دینا کوئی اتفاق نہیں۔
صدارتی نظام کا نعرہ لگانے کی وجہ سے مصطفی کمال کی حالیہ تمام سیاسی سرگرمیوں کومشکوک نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کمال کے اس مطالبے کے بعد یہ سوال بار بار اٹھ رہا ہے کہ آخر وہ کون ہے جس نے یہ سارا اسکرپٹ لکھا ہے۔ کراچی میں نئی تنظیم کی بنیاد ڈالنے کے لئے دن رات محنت میں لگے ہوئے مصطفی کمال لاکھ ہی انکار کریں لیکن یہ تو ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ ایک طبقہ رہا ہے جس کو ووٹ کی پرچی کے نتیجہ میں بننے والے اس نظام سے نفرت رہی ہے جس نظام میں ملکی انتظامیہ کی باگ ڈور سویلینز کے پاس ہوتی ہے، جس نظام میں محدود ہی سہی لیکن پارلیمنٹ کی حیثیت مرکزی رہتی ہے، جس نظام میں حکومت کا سربراہ عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیراعظم ہوتا ہے اور پارلیامینٹ کو تمام اداروں کی ماں کی سی حیثیت دی جاتی ہے۔

پارلیمانی نظام جمہوریت کے خلاف بلند ہونے والی آوازوں کی تاریخ بھی ملک جتنی ہی پرانی ہے۔ وجود میں آئے نئے ملک میں 1956 کے جیسے تیسے آئین میں کئی خلا، خامیاں اور نقص موجود تھے لیکن اس آئین کی سب سے بڑی اور اچھی بات یہ ہی تھی کہ سارا آئین پارلیمانی جمہوری نظام کے تصورات پر مبنی تھا، لیکن یہ بھی تاریخی سچ ہے کہ اس وقت کی نئی نویلی سول اور فوجی بیوروکریسی کو بھی ملک میں تیزی سے پروان چڑھتا یہ نظام ایک آنکھ نہیں بھایا اورپھر سب نے دیکھا کہ پارلیمانی جمہوری نظام کے خلاف اس ٹولے کی تمام سازشیں کامیاب ہوگئیں۔  فوجی آمر جنرل ایوب خان کی قیادت میں اس وقت کی تمامم ہم خیال اشرافیہ نے اس پارلیمانی جمہور ی نظام کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔  پاکستان کے  پہلے فوجی آمر نے نہ صرف ملک میں 1956 کے آئین کے تحت متعارف کرائی گئی جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کیا لیکن مارِشل لا کے بعد پارلیمانی نظام کی پیٹھ میں ایسا چھرا گھونپا کہ اس کے بعد آنے والے تمام فوجی آمر ان ہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ جنرل ایوب خان نے نہ صرف پارلیمانی نظام، جمہوری ادارے اور سیاسی پارٹیوں کو ختم کیا بلکہ نئے انقلاب کے نام پر ایسے تجربے کئے جو ملک کو خسارے میں ڈالتے چلے گئے۔ یہ تجربات صرف اس ہی آمر تک محدود نہیں رہے لیکن انہوں نے ایک ایسی راہ ہموار کردی کہ اس کے بعد آنے والے ہر نئے آمر نے ایسے تجربات کئے کہ ملک روز اک نئی دلدل میں پھنستا ہی چلا گیا۔

پارلیمانی نظام کو برا بھلا کہنا اور صدارتی نظام کے حق میں نعرے بازی اصل میں ملک سے سیاسی سوچ کو طلاق دینے، عوام کو سیاست اور سیاسی پارٹیوں سے بدگمان کرنے اور سیاستدانوں کے خلاف میڈیا ٹرائیل کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ تمام تجربات 1958  میں جنرل ایوب خان سے ہی شروع ہوئے تھے۔۔ یہ جنرل ایوب ہی تھا جس کو سیاستدان تو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے لیکن وہ سیاستدانوں سے نفرت کی وجہ سے عوام کو بھی کوستے رہتے تھے۔ جب انہوں نے 1956 کے آئین اور اس وقت کی کمزور جمہوری حکومت کی بساط لپیٹ کر صدارتی نظام والے آئین کو متعارف کرایا تب یہ کہا کہ’’ ہم ملک میں جمہوریت ہی چاہتے ہیں لیکن ایسی جمہوریت جس کی بنیاد پارلیمانی نظام نہ ہو، جنرل ایوب نے پارلیمانی نظام کو برا کہتے ہوئے کئی بار کہا کہ’’ یہ ایسا نظام ہے جس کی باگ ڈور سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے اور یہ نظام سیاسی جماعتیں کہ منتخب نمائندوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جب چاہیں حکومت بنا لیں اور جب چاہیں حکومت ختم کردیں‘‘۔ 28 اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان نے سرکاری ریڈیو سے خطاب میں کہا کہ’’پارلیمانی نظام برطانوی راج کا دیا ہوا نظام ہے جو پاکستان کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمیں برطانوی طرز پر نہیں سوچنا چاہئے بلکہ ہمیں پاکستان میں صدارتی نظام کو آگے لے کر چلنا چاہئے‘‘۔

2008 کے بعد پھر سے شروع ہوئے پارلیمانی نظام کے ہوتے ہوئے اچانک صدارتی نظام کی یاد کس کو ستا رہی ہے؟ صدارتی نظام کی بات کرنے والوں کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں یہ سوالات بہت غور طلب ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کاوشوں کے پیچھے بیٹھے لوگوں کا مقصد ایک اور نیا تجربہ کرنا ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات سے اپنے موقف کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نظام کی تبدیلی اور ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کی کوشش صرف جنرل ایوب خان نے ہی نہیں کیں لیکن ان کے بعد آنے والے فوجی آمروں نے آئین میں ایسی ایسی من چاہی اور من پسند تبدیلیاں کیں کہ آئین کا سارا حُلیہ ہی بگڑ گیا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحیٰ خان نے ایسے ہی نظام چلایا۔  جنرل ضیاالحق نے پہلے 1973  کے آئین کو معطل کیا، اس کے بعد صدارتی احکامات کے ذریعے اس میں پے درپے ترامیم کر کے آئین میں سے سویلین پارلیمانی روح کو قبض کر دیا، بعد میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق بنائے گئے آئین پر پارلیمنٹ کا ٹھپا لگوا کر ایسا نظام قائم کردیا جو دکھنے میں تو پارلیمانی نظام تھا لیکن عملی طور اختیار کا منبع خود فوجی آمر بن کے بیٹھا ہوا تھا، یہ جنرل ضیاالحق کی سیاسی نظام اور سیاستدانوں سے نفرت ہی تھی جس کے لئے اس نے سیاسی پارٹیوں، طلبہ تنظمیوں، صحافتی آزادی پر قدغن لگانے کے لئے ہر وہ قدم اٹھایا جو اس سے پہلے جنرل ایوب خان نے کیا تھا۔

اس کے بعد آنے والے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے حقیقی جمہوریت کے نعرے کی آ ڑ میں جو کچھ پارلیمانی نظام جمہوریت کے ساتھ کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ پہلے ایل ایف او اور اس کے بعد ستروہیں ترمیم کے ذریعے اس نے ملک میں ایک ایسا مکس نظام متعارف کرادیا جس میں تمام انتظامی اختیارات ایوان صدرکے گرد ہی گھوم رہے تھے۔ اور موصوف آرمی ہاؤس سے ملک کو چلارہے تھے۔ جنرل مشرف سے پہلے بھی وہی پارلیمانی نظام کا دشمن ٹولا اتنا سرگرم تھا جو ایک کے پیچھے تین جمہوری حکومتوں کوبیدخل کرکے گھر بھیج رہے تھے۔

یہ جو مصطفی کمال صدارتی نظام کی بات لے کر آگے بڑھ رہا ہے یا اس کے پیچھے سابقہ چیف جسٹس اور سابقہ خفیہ ایجنسی کے بڑے عہدیدار کا نام لیا جاررہا ہے لیکن یہ تو نہیں ہو سکتا کہ صرف دو تین بندے اس سارے پروگرام کے پیچھے ہو ں گے، بقول ساغر صدیقی ’’یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں، ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں‘‘مطلب یہ کہ یہ دوچار ہی لوگ نہیں یہ ایک سوچ ہے جو سوچ برسوں سے چلی آ رہی ہے، یہ وہی سوچ ہے جس نے ملک پر مارشل لا لگائے، یہ وہی سوچ ہے جس نے منتخب حکومتوں کو کام کرنے نہیں دیا یا ان کو اپنی مدت سے پہلے گھر بھیج دیا، عوام کے دئے ہوئے مینڈٹ کی بی توقیری کر کے منتخب اسمبلیوں کو چلتا کیا۔ صدارتی نظام کا مطالبہ وہی سوچ ہے جس نے اس ملک میں ناکام تجربے کر کے وطن عزیزکو رسوا کیا اور تنزلی کوملک کا مقدر بنایا، یہ وہی سوچ ہے جو اپنی تمام ناکامیوں کو سیاستدانوں کے گلے میں فٹ کرتا چلا آیا ہے۔ حال میں ہی جنرل پرویز مشرف دور کے ایک وزیر نامدار کا صدارتی نظام کی حمایت میں ایک مضمون انگریزی کے بڑے اخبار میں دور مرتبہ شائع ہوا ہے جس کی شروعات وہ لکھاری بانیِ پاکستان کے ہاتھ سے لکھے نوٹ سے کرتا ہے کہ قائداعظم نے لکھا ہے کہ ’’ پارلیمانی نظام برطانیہ کے لئے بہتر ہے لیکن پاکستان میں صدارتی نظام ہی بہتر رہے گا‘‘۔ اس مضمون میں بھی صدارتی نظام کا تقریباً وہی نقشہ کھینچا گیا ہے جو مصطفی کمال نے بیان کیا ہے اور اگر اس کو کسی دستاویز پر پرکھنا ضروری ہے تو پھر جنرل ایوب کا دیا ہوا 1962 کا دیا ہوا اور اس دور کا منسوخ شدہ آئینی دستاویز ہی دیکھا جا سکتا ہے، یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں صرف جنرل ضیاالحق کی باقیات ہی باقی نہیں جنرل ایوب کی باقیات بھی نہ صرف موجود ہے بلکہ سینہ ٹھونک کر چل رہی ہے اور اپنا چورن دھوم دھڑاکے سے بیچ رہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ابراہیم کنبھر

Ibrahim Kumbhar a working journalist, belong and working for sindhi tv channel KTN NEWS as special Reporter and also bureau chief Daily koshish.. Article writer for Daily kawish ,leading sindhi news paper published from Karachi, Hyderabad and Sukkur.

abrahim-kimbhar has 19 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar

3 thoughts on “صدارتی نظام کی اچانک کیوں یاد آئی؟

  • 13-03-2016 at 10:10 pm
    Permalink

    اچھا تجزیہ ھے ـ آئین نی بننا اس کا بڑا المیہ تھا ـ اور ڈکٹیٹرز نے آئین کو تو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر جب چاھا پھاڑ دیا یا حلیہ بگاڑ دیا ـ سچ یہ ھے کہ جو 1973 کا آئین ھے دراصل وہ بھی برٹش راج کے 1836 ایکٹ کا ھی چربہ ھے جس میں چھوٹے صوبوں کے لیے کچھ نہیں ـ زرداری پر ھزاروں الزام مگر اس کا یہ کریڈٹ ھے کہ اس نے رضاکارانہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیامنٹ کو سونپ کر ایک ملک کو صدارتی یا جرنیلی نظام سے پارلیامانی نظام کی طرف لے آیا تھا ـ پھر اس اٹھارویں ترمیم کا کریڈٹ بھی ان کو جاتا ھے جو اٹھارویں ترمیم ابھی تک مضبوط مرکز مائل قوتوں سے ھضم ھی نہیں ھو رھی ـ

  • 14-03-2016 at 11:46 am
    Permalink

    تمام سٹھو ادا

  • 15-03-2016 at 2:32 pm
    Permalink

    Wonderful and realistic analysis

Comments are closed.