غدار سوئبل داس اور ضیا کا دوسرا جنم


\"inam-rana\"

’انعام جی کچھ خبر ہے ہم ہندوستانی بھی آپ پاکستانیوں جیسے ہو گئے۔ لگتا ہے آپ کے ضیا نے اگلا جنم بھارت ماتا میں لیا ہے‘۔

میرے ہندوستانی دوست، مصنف اور سرگرم سماجی کارکن (سوشل ایکٹی وسٹ کا کیا برا ترجمہ ہے) کامریڈ سوئبل داس گپتا کا ایک برقی نامہ یا انباکس میسج موصول ہوا۔ پہلے تو مجھے ان تمام لوگوں سے ہمدردی ہوئی جو ہندوستان والوں جیسا بننا چاہتے تھے اور الٹا ہندوستان والے ہی ہم جیسے بن گئے۔ پھر فورا سجدہ شکر ادا کیا کہ مرحوم صدر ضیا نے اگلا جنم بھارت میں لیا ورنہ یہاں لے لیتے تو نجانے اور کتنا بیڑہ غرق کرتے۔ پیغام میں ہی سوئبل کی ایک نظم موجود تھی؛

کوئی نقشہ نہیں
زمیں پہ کھینچی کوئی لکیر نہیں
ایک سوچ ہے ہند، تہذیب ہے ہند
ہند نفرت میں نہیں
\"image2\"غیر کی بربادی میں نہیں
ایک بار پوچھو گے، سو بار کہیں گے
پاکستان زندہ باد
جنکے دلوں میں ہے ہند
انکو دکھاوے کی ضرورت نہیں
سوئبل داس گپتا۔

کہانی شروع ہوتی ہے ایک دلت سٹوڈنٹ رہنما روہت ومولا کی موت سے۔ روہت نے حیدرآباد یونیورسٹی میں ’مظفر گڑھ زندہ رہے گا‘ نامی فلم دکھائی اور ملک میں حاوی ہوتے براہمن واد کے خلاف تقریر کی تو غدار کہہ کر یونیورسٹی سے نکالا گیا اور اسکی سکالرشپ بند کر دی گئی۔ روہت وزیر تعلیم (ساس بھی کبھی بہو کی معروف بہو اداکارہ) سمرتی ایرانی کو خط لکھتا رہا کہ اس پر الزامات غلط ہیں مگر سنوائی نہ ہونے پر بالآخر اس سال سترہ جنوری کو خودکشی کر لی۔ ملک بھر کے طلبا نے اس کے خلاف احتجاج شروع کیا اور اسی اثنا میں نو فروری آن پہنچا۔ نو فروری کشمیری آزادی پسند افضل گورو کی پھانسی کا دن ہے۔ افضل گورو کو نو فروری دو ہزار تیرہ میں پارلیمنٹ حملہ کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ افضل گورو کے مقدمہ اور پھانسی کے طریقہ پر بہت سی سماجی تنظیموں اور ارون دھتی رائے جیسے سوچنے والے دماغوں کو شدید تحفظات رہے ہیں۔

\"image1\"

ہندوستان میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو اپنے خیالات کی وجہ سے ہمیشہ ’محب وطن ‘ حلقوں میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ یہاں کے طلبا ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف سپر ہونے میں عرصے سے بدنام ہیں۔ افسوس میں کوشش کے باوجود کوئی ایسی پاکستانی یونیورسٹی ذہن میں نہ لا سکا جو جواہر لال یونیورسٹی کی مثال میں پیش کر سکوں۔ نو فروری کو اس یونیورسٹی کی طلبا یونین نے افضل گورو کی پھانسی کے خلاف مظاہرہ کیا اور یکدم کہانی میں نیا موڑ آ گیا۔ یونین کے صدر کنہیا کمار پہ الزام لگا کہ انھوں نے آزادی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ میڈیا نے رائی کا پہاڑ بنایا، سنگھ پریوار کا ہندوستان اور ہندو مت خطرے میں آ گیا اور غداری کے الزامات یوں لگے جیسے ہمارے ہاں کفر کے فتوے۔ میڈیا نے اس دوران انتہائی شرمناک کردار ادا کیا۔ جھوٹے الزامات پہ
پروگرام ہوئے، جعلی وڈیوز بنائی گئیں اور ان طلبا کو دریش دروہی قرار دے دیا گیا۔

حتی کہ ایک ملحد سٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد کے مسلم نام اور کشمیری بیک گراونڈ کی وجہ سے اسکے کردار کے ڈانڈے حافظ سعید اور جیش محمدؐ سے ملا کر اسے ایک پاکستانی سازش بھی بنانے کی کوشش ہوئی۔ کنہیا کمار، ارناب، عمر خالد اور ان جیسے کئی طلبا پر غداری کے مقدمات درج ہو گئے۔ دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سید عبد الرحمان گیلانی گرفتار کر کے غائب کر دیے گئے اور کمیونسٹ پارٹی کے علاوہ تقریباً سب جماعتوں کے سیاستدان ان طلبا اور یونیورسٹیوں کے خلاف چلا اٹھے کہ ہمارے طلبا میں حب الوطنی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک صاحب (ہندوستانی جمشید دستی) نے تو رات کو کیمپس سے استعمال شدہ کونڈم جمع کر کے میڈیا کو دکھائے کہ دیکھیں یہ لوگ کتنے بدکردار ہیں۔ اب تک طلبا کی یہ تحریک جواہر لال سے نکل کر حیدرآباد، کلکتہ، مدراس، تامل ناڈو سمیت پینتالیس یونیورٹیوں تک پھیل چکی ہے۔ اگر کل ملا کر دیکھوں تو طلبا کے مختلف موقف یہ ہیں؛

\"image3\"۔1۔ روہت کی موت کی ذمہ دار وزیر تعلیم ہے۔
۔2۔ کنہیا، عمر اور دیگر سے غداری کے مقدمات ختم ہوں۔
۔3۔ کشمیر اور دیگر ریاستوں میں فوج کا استحصال ختم ہو اور ان کو ان کے حقوق دو خواہ یہ آزادی ہی کیوں نہ ہو۔
۔4۔ سیاستدان حب الوطنی کےسرٹیفکیٹ بانٹنا بند کریں؛ اور
۔5۔ ملک میں مذہبی براہمن بالادستی اور مذہب کی بنیاد پہ نفرت ختم کی جائے۔

میں نے سوئبل سے کہا یہ کشمیر پہ اتنا بولڈ موقف کہاں سے آ گیا؟ بولا، ’کب تک فوج کے بل پر عوام کو دبائیں گے۔ انکو ایک بار طے ہی کر لینے دو۔ کیا پتہ سکاٹ لینڈ کی طرح وہ بھی جدا نہ ہوں ہم سے۔ یہ نظریہ کہ کشمیر ہمارا ہے، خواہ انڈیا کا ہو یا پاکستان کا، غلط ہے۔ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور ان کو جینے دو۔ مجھے ہنسی آتی ہے جب غیر کشمیری کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں کہ یہ ’ہمارا ‘ کشمیر چھیننا چاہتے ہیں۔ جیسے کتنے بیوقوف لگتے ہیں
پاکستانی یہ کہتے ہوے کہ ’ہم ‘ نے آٹھ سو سال سپین پر حکومت کی، زرا سوچئے‘۔

سوچتا ہوں کتنی خوش نصیب ہے یہ ہندوستانی نسل جو ملک میں بڑھتی مذہبی عدم رواداری، معاشرتی تفاوت، تشدد ظلم اور ضیائیت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ پیارے سوئبل، ان سب کو میرا سلام پہنچا دو۔ ان سے کہنا کہ ڈٹے رہنا۔ ضیا کے اس بھارت جنم کی آلوچنا اس شدت سے کرنا کہ اس کی بدروح جو میرے وطن پر اسکی موت کے چوتھائی صدی بعد بھی حاوی ہے، پاکستان سے بھی ڈر کر بھاگ جائے۔ اگر تم ہار گئے تو تمھاری آنے والی نسل ہم پاکستانیوں کی موجودہ نسل جیسی ہو گی جو خون کی بو کو عطر، بارود کو پھول اور گالی کو محبت سمجھتی ہے۔ اگر تم تھک گئے تو تمھارے بچے سوچنے سے پہلے بھی دروازہ بند کر لیا کریں گے کہ کہیں دیش دروہی نہ ٹھرائے جائیں۔ اور پاکستان زندہ باد کے نعرے اس زور سے لگاؤ کہ ہم جوابی نعرے لگاتے ہوئے نفرت اور دشمنی کی دیوار کو گرا دیں۔ لو تمہارے اس پاکستان زندہ باد کے نعرے کے جواب میں پہلا نعرہ میں لگاتا ہوں، ہندوستان زندہ باد۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 36 posts and counting.See all posts by inam-rana

6 thoughts on “غدار سوئبل داس اور ضیا کا دوسرا جنم

  • 13-03-2016 at 10:35 pm
    Permalink

    کمال ہے اتنے زبردست مضمون پر کسی نے تبصرہ نہیں کیا. میرا تبصرہ ہے… انسانیت اور آزادی زندہ باد. “ضیائیت”مردہ باد

  • 13-03-2016 at 11:28 pm
    Permalink

    ہم اپنے ملکی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں کہ ہمسائیہ میں اس اہم پیش رفت سے واقف ہیں۔ مجھے جب سے شعور آیا ، انڈیا سے ایک لگاؤ ہی محسوس ہوا، خدا سب کچھ ٹھیک کرے، شعور کی یہ شمع جلتی رہے اور جلنے کے لیے خون نہ مانگے

  • 14-03-2016 at 2:15 am
    Permalink

    ؔ اقبال! کوئی محرم اپنا نہيں جہاں ميں
    معلوم کيا کسی کو درد نہاں ہمارا
    مطلع تو زبان زدِ خلائق ہے ہی تاہم اقبال کے مشہور ترانے کا یہ مقطع اپنے بھیتر ایک گنجینۂ معنی رکھتا ہے، اب معلوم نہیں شاعرِ انقلاب کس درد کا تذکرہ اس شعر میں کر گئے تاہم اِس عاجز کی نظر میں کچھ گہاگ اُس راز کو پا گئے ہیں۔
    بندھو سوئبل داس ہوں یا سر پھرا کنہیا کمار، ملحد عمر خالد ہوں یا مسلمان انعام رانا، لگتا ہے گیتی افروز نے ان لوگوں کا خمیر بسنت کے موسم میں گوندھا تھا، جب ہی تو یہ دیوانے بارود کے موسم میں پھولوں کی بات کرتے ہیں۔
    سرحد کے دونوں اطراف ہیت مقتدرہ کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں مگر اب کیا کیجیئے کہ وہ اس قطعہ اراضی کے باشندگان کے اجتماعی مفادات سے لگا نہیں کھاتے۔ اِس دور میں پیار محبت کی پینگیں بڑھانا وہ بھی صرف امن کی پدڑی کے لیئے ، چلو ہم بھی دیکھتے ہیں کہ اس جنگاہ میں یہ گورِغریباں کے مجاور کیا دھمال ڈالتے ہیں کہ قابل اجمیری کیا خوب کہہ گئے ہیں۔
    ؔہوتے ہیں شہرِ گل میں حوادث تو روز روز
    رکتا ہے کاروانِ بہاراں کبھی کبھی

    علی بابا

  • 14-03-2016 at 5:27 am
    Permalink

    آعلی!

  • 14-03-2016 at 10:32 am
    Permalink

    Hindustan or Pakistan Zindabad! Pagalpan Murdabad!

  • 14-03-2016 at 2:28 pm
    Permalink

    wah bohat achaa likha hai aap nein

    insaniat zindabad

Comments are closed.