کچھ قرارداد مقاصد کے دفاع میں ….



aamir hashimقرارداد مقاصد کی مخالفت کے حوالے سے اتنا کچھ شائع ہوتا ہے کہ بسا اوقات یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر اس میں ایسا کیا پوشیدہ ہے کہ یاردوست اس کے درپے رہتے ہیں؟ ہر کچھ عرصے کے بعد اس کی مخالفت میں نئی مہم جنم لیتی اور نئے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز برادرم عدنان خان نے ہم سب میں اس پر لکھا۔  عدنان خان نے قرارداد مقاصد کے حوالے سے دو اہم نکات کا ذکر کیا، پہلا یہ ہے کہ کیا آئین کے کچھ حصے ایسے ہوسکتے ہیں، جن میں ترمیم کا پارلیمنٹ کو بھی حق حاصل نہیں؟ یہ اہم سوال ہے، اس پر بات کرتے ہیں۔  عدنان کا دوسرا سوال بھی اہم اور متعلق ہے ، کیا ایک نسل کی کسی آئینی ترمیم کو اگلی نسلوں پر مسلط کر دینا چاہیے؟ کیا پرانی نسل کا دیا گیا قانون ہمیشہ کے لئے نافذ رہے گا؟ اس سوال پر بھی بات کرتے ہیں، مگر پہلے قرارداد مقاصد کو دیکھا جائے ، یہ کھوج لگاتے ہیں کہ اصل مسئلہ ہے کیا؟ قرارداد مقاصد آخر ہمارے لبرل ، سیکولر دوستوں کو اس قدر کیوں کھٹکتی ہے؟یہ سب لوگ قرارداد مقاصد ہی پر مذہبی شدت پسندی کو ہوا دینے کا الزام کس لئے عائد کرتے ہیں۔

قرارداد مقاصد میں نے متعدد بار پڑھی ۔  مجھے تو کبھی سمجھ نہیں آئی کہ اس سے مذہبی انتہاپسندی کیسے پروان چڑھی؟ یہ کیسی انتہا پسندی تھی ،جو چالیس سال بعد اچانک نمودار ہوگئی۔  سب جانتے ہیں کہ پچاس کی دہائی میں پاکستان کے مختلف شہروں میں ایک خاص قسم کا الٹرا لبرل اور کھلا ماحول تھا۔  پرانے صحافی لاہور کے مال روڈ پر واقع ان ہوٹلوں کا قصہ سناتے ہیں جہاں رقص دیکھنے کے ساتھ ہر قسم کے ”مشروبات“ میسر تھے، ان میں سے بعض کا تصور کر کے آج بھی لبرل ازم کے ”چکوالی امام“ کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔  گوروں کو گئے ابھی چند سال ہوئے تھے، ماحول پر ان کے اثرات ابھی موجود تھے ،جسے تحلیل ہونے میں کچھ عرصہ لگنا ہی تھا۔  ساٹھ کا عشرہ ایوب خان کا تھا ،جو ہماری قومی تاریخ کے لبرل ادوار میں شمار ہوتا ہے۔  اسی دور میں عائلی قوانین کی وہ قانون سازی ہوئی ،جسے ہمارا مذہبی طبقہ کبھی نہیں مان سکا۔ ایوب خان توملک کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان سے صرف جمہوریہ پاکستان کرنا چاہتے تھے۔  قدرت اللہ شہاب نے اس واقعے کی تفصیل اپنی سوانح حیات میں لکھی ہے۔ وہ تو فیلڈ مارشل نے اپنی سوچ پر نظرثانی کر ڈالی ورنہ کون جانے، ترکی جیسا نقشہ ہمارے ہاں بھی کسی حد تک بن جاتا۔ اس سارے عمل میں قرارداد مقاصد بےچاری آئین کے دیباچے میں لیٹی خاموش، مسکین نظروں سے یہ سب دیکھتی رہی۔  50ءکی دہائی کا الٹرا لبرل شہری سماجی ماحول اس کے آنے سے تبدیل ہوا اور نہ ہی یہ ایوب خان کے ماڈرن ازم کا کچھ بگاڑ سکی۔  البتہ ایوب خان کے پسندیدہ سکالر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو اپنی ’دینی اصلاحات‘ چھوڑ کر ملک سے جانا پڑا۔  اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ انہوں نے ایک تدریجی عمل کے بغیر ہی پوری مذہبی فکر کو بدلنے کی کوشش کی ،جس کے منطقی نتائج انہیں بھگتنے پڑے۔  حالانکہ ان کی فکر کے بعض متنازع زاویے دارالثقافت اسلامیہ کے ریسرچ سکالروں کا موضوع بھی بنے ، مگر وہ سب بتدریج ہوا ،اس لئے علمی حلقوں نے جذب کر لیا۔

ستر کی دہائی کا تین چوتھائی حصہ بھٹو صاحب کے نام جاتا ہے ،جن کی لبرل اور سیکولر فکر کے بارے میں کسی کو شبہ نہیں ۔ وہ تو اس قدر محتاط تھے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے انہوں نے پارلیمنٹ میں کئی دن تک بحث کرائی اور پھر متفقہ ترمیم لے کر آئے۔  جنرل ضیاء کے دور حکومت میں البتہ حدود آرڈی ننس اور قانون شہادت کے قوانین لائے گئے، جن کے بعض حصے شروع ہی سے متنازع رہے۔ مذہبی شدت پسندی کا عنصر بھی 80ء کے عشرے میں بڑھا، فرقہ وارانہ تنظیمیں بھی باقاعدہ طور پر وجود میں آئیں۔  ان کی وجوہات سب کے سامنے ہیں۔  ایران کا انقلاب ،اسے ایکسپورٹ کرنے کی مبینہ کوشش اور اس پر ہونے والا ردعمل، سب سے بڑھ کر افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف دس سال تک جاری رہنے والی تحریک مزاحمت ۔  غیرریاستی عسکری تنظیمیں اس ملک میں پہلی بار بنائی گئیں۔  نوے کی دہائی میں ان تمام تنظیموں اور ان کے گوریلوں کا رخ مغرب کے بجائے مشرق کی جانب ہو گیا۔  درجنوں جہادی جرائد شروع ہوئے، جن میں مقبوضہ کشمیر میں جاری معرکوں کی باتصویر تفصیل چھپتی۔  پوسٹ نائن الیون منظرنامہ زیادہ شعلہ بار رہا، سب سے بڑی وجہ امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان میں گھسنا اور پھر تیرہ چودہ سال تک اس پر قابض رہنا تھا، ادھر بدلتے عالمی حالات میں جنرل مشرف نے اپنا مشہور یوٹرن لیا، کشمیری جہادی تنظیموں میں سپلنٹر گروپ پیدا ہوئے، جنہوں نے پاکستانی ریاست اور فوج کو امریکہ کی پراکسی فوج قرار دے کر اس کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔

سوال یہ ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کی ان مختلف مگر جانی پہچانی صورتوں میں قرارداد مقاصد کا کیا قصور؟کیا الیاس کشمیری، بیت اللہ محسود، قاری حسین ، ملا فضل اللہ وغیرہ نے قرارداد مقاصد پڑھ کر ہتھیار اٹھائے اور ہزاروں افراد کے قتل کا باعث بنے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔  ان میں سے تو کسی نے قرارداد مقاصد کی شکل تک نہیں دیکھی ہوگی، رہا آئین تو یہ شدت پسند تو سرے سے جمہوریت اور آئین تک کو کفریہ نظام قرار دیتے ہیں۔  اس شدت پسندی، عسکریت پسندی کی جانی مانی، واضح وجوہات تھیں، جن پر اب بڑی حد تک اتفاق ہوچکا ہے۔  ریاست اور ریاستی اداروں کی بعض پالیسیاں غلط تھیں، کچھ کے نفاذ میں غلطیاں ہوئیں اور ہر غلطی کی طرح ان کے نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔  اگر قرارداد مقاصد کی وجہ سے یہ شدت پسندی اور عسکریت پسندی پیدا ہوئی تو بریلوی علما، بریلوی مدرسوں کے طالب علم اور مذہبی سوچ رکھنے والے اس میں کیوں شامل نہیں ہوئے، شیعہ کمیونٹی اس کا حصہ کیوں نہیں بنی، اہل حدیث تنظیمیں (جیسے جماعت الدعوہ) اس سے الگ کیوں رہیں، خود دیوبندیوں میں بھی تبلیغی جماعت کے لوگ مکمل طور پر الگ اور غیر جانبدار رہے ۔  کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل وجوہات کہیں اور ہیں اور ہم کسی اور وجہ سے قرارداد مقاصد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

حقیقی جواب پانے کے لئے ضروری ہے کہ اس قرارداد کے متن کو ایک بار پڑھ لیا جائے ۔

قرارداد مقاصد کا متن

٭ ”اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیر حاکم مطلق ہے۔  اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

٭جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔

٭جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔

٭جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

٭جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔

٭جس کی رو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاق بنائیں گے جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خودمختاری حاصل ہوگی۔

٭جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت سازی کی آزادی شامل ہوگی۔

٭جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔

٭جس کی رو سے نظام عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی۔

٭جس کی رو سے وفاق کے علاقوں کی صیانت، آزادی اور جملہ حقوق، بشمول خشکی و تری اور فضا پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

٭تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود کی منزل پا سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امن عالم اور بنی نوع انسان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ “

اس قرارداد کو پیش کرتے ہوئے قائد ملت لیاقت علی خان نے جو شاندار تقریر کی، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ آرکائیوز میں اسے ڈھونڈنا مشکل نہیں، کئی جرائد نے چھاپ رکھی ہے۔  کوئی کہے گا توایک الگ پوسٹ میں اسے نقل کر دیا جائے گا۔  رہے اس کی مخالفت کرنے والے غیر مسلم اراکین اسمبلی تو عرض یہ ہے کہ وہ اپوزیشن سے تعلق رکھتے تھے، کانگریس کی باقیات بھی تو اسمبلی کا حصہ ہی تھی۔  قرارداد مقاصد پڑھ کر اندازہ لگا لیا جائے کہ اس میں غیر مسلموں کے خلاف ایسا کیا ہے، جس پر وہ مضطرب ہوتے؟ اس میں اسلام کے جمہوریت، حریت ، رواداری، مساوات اور عدل عمرانی کے اصولوں کے اتباع کی بات کی گئی۔  یہ واضح کیا گیا کہ اقلیتوں کے اپنے مذہب پر عمل،عقیدے کے تحفظ اور ثقافت کی آزادی کی بات کی گئی۔ دیگر جو نکات اس میں شامل ہیں، وہ اوپر پڑھے جا سکتے ہیں۔  اعتراض آخر کس بات پر ہے؟ کیا صرف اس جملے پر اعتراض ہے …. ”اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیر حاکم مطلق ہے۔  اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ “ اگر ایسا تو صرف اسی پر بات کی جائے۔  کھل کر کہا جائے کہ ہم قرارداد مقاصد کے اس لئے مخالف ہیں کہ اس میں خدا کا نام لیا گیا، اسے کائنات کا حاکم مطلق مانا گیا ہے۔

یہ تو پھر وہی بات ہوئی، اکبر الہ بادی نے شعر میں جسے بیان کیا تھا:

رقیبوں نے رپٹ لکھائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

شروع میں ذکر کیا تھا عدنان خان کے سوالات کا، جواب سادہ ہے۔  آئین کی بعض بنیادی نوعیت کی چیزوں کے تقدس کا اس لئے خیال رکھا جاتا ہے کہ ان پر اتفاق رائے ہونے میں برسوں بلکہ کبھی عشروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔  قومی اتفاق رائے کے ساتھ طے شدہ ان اصولوں کو وہی پارلیمنٹ چھیڑے، جو اس کا واضح مینڈیٹ لے کر آئی ہو۔  ایسا نہ ہو کہ ہر بار چہرہ بدلنے کے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں نئی جنگ چھڑ جائے اور آگے بڑھنے کے بجائے دائرے کا سفرشروع ہوجائے۔  بھارتی سپریم کورٹ کے ”بیسک سٹرکچر ڈاکٹرائن“ کو پاکستانی سپریم کورٹ تسلیم کرتی ہے، دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی ایسا ہی رواج ہے۔

رہی یہ بات کہ کیا پرانی نسل کے نافذ کردہ قانون کو نئی نسل بھی تسلیم کرنے کی پابند ہے۔  ظاہر ہے ایسا نہیں ہے، راستے کھلے رہتے ہیں، پاکستان میں بھی کھلے ہیں۔  ہمارے سیکولر دوست بھی طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔  اگر وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو پاکستان سے دیس نکالا دے دیا جائے، ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بجائے پیپلزری پبلک آف پاکستان رکھا جائے یا زیادہ واضح لفظوں میں خدا کو صرف گھر تک محدود رکھا جائے، اجتماعی اور ریاستی معاملات میں خدا، رسولﷺ اور ان کے احکامات کا کوئی عمل دخل نہ ہو تو پھر ان نکات کو سامنے رکھ کر مہم چلائیں، ریفرنڈم کرا لیں۔  نئے الیکشن کا بنیادی سوال اسے قرار دے دیں ، جمہور کی رائے لینے کے جو بھی طریقے رائج ہیں، انہیں استعمال کر لیں۔  نتیجہ پھر بھی منفی آئے تو پھر کم از کم دس برسوں کے لئے خاموش ہو کر بیٹھ جائیں۔ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد بھی ایک خاص عرصہ کے لئے نئی تحریک عدم اعتماد لانے سے روک دی جاتا ہے۔  ظاہر ہے ایسا کر کے اراکین اسمبلی کا حق سلب کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ سوچ ہوتی ہے کہ حکومت کو کچھ عرصہ کام بھی کرنے دیا جائے، اگر ہر ماہ نئی تحریک عدم اعتماد آتی رہے گی تو پھر کوئی بھی کچھ نہیں کر پائے گا۔  نظریاتی اور فکری اعتبار سے بھی ایسی کوئی قدغن ہونی چاہیے۔  ایک بار کھل کر ، پوری قوت کے ساتھ کوشش کر لی جائے ۔  شکست پر قرارداد مقاصد کو ٹھوس زمینی حقیقت مان کر چند برسوں کے لئے بیٹھ جائیں اورپھر نئے، زیادہ بڑے سوالات پر توجہ مرکوز کی جائے۔  وہ کام کچھ کم اہم نہیں ہے۔

(بھائی عامر ہاشم خاکوانی، پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی طرف سے بھارتی سپریم کورٹ کے ”بیسک سٹرکچر ڈاکٹرائن“ کو تسلیم کرنے کا قانونی حوالہ دیا جانا چاہیے۔  مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “کچھ قرارداد مقاصد کے دفاع میں ….

  • 14-03-2016 at 1:04 pm
    Permalink

    باقی باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی لیکن اس بات سے اختلاف ہے کہ چپ ہارکر دس سال کے لئے گھر بیتھ جایا جائے۔اس میں ایسی کون سی بات ہے جو ہمیں بحیثیت قوم آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔ایک علمی بحث ہی ہے ناں جس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔میں نے صرف اس قرارداد کا نام سنا ہوا تھا تفصیلاً اب پڑھا ہے اور بھی بہتیرے لوگ ہوں گے جنہوں نے اب اسے پڑھا ہے،اب اگر اس پر بات نہ ہو ،مکالمہ نہ ہو جواب الجواب بہ ہوں تو پھر تو علم کو زنگ لگ جائے۔ہربات کو متفق علیہ مان کر اس پر صاد کرلیا جائے اور کوئی بات ہی نہ ہو۔سوال اٹھانے چاہیئیں،جواب آنے چاہئیں،یہ مکالمہ یونہی رہنا چاہئے۔سوالات پر پابندی بھیانک نتائج پیدا کرتی ہے۔
    جہاں تک احمدیوں کو اقلیت قراردینے کے حوالے سے بھٹو صاحب کے محتاط ہونے کا ذکر ہے تو عرض ہے کہ اسکا فیصلہ تو اسمبلی سے باہر ہی ہوگیا تھا اور بھٹو کے قریبی ساتھی اس بات کا اقرار کرچکےہیں کہ سعودی عرب اور ملاؤں کے دباؤ میں آکر بھٹو نے یہ فیصلہ کیا تھا،وگرنہ بھٹو کا مذہب سے کیا لینا دینا۔اس نے تو مولویوں کو خوش کرنے کی گیم کھیلی مگر انہی کا شکار بن گیا۔تو یہ تو ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا جو اسمبلی سے باہر ہوا اسمبلی میں تو بس اسے شوگر کوٹڈ بنانے کی سعی کی گئی۔

    • 14-03-2016 at 3:00 pm
      Permalink

      اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس فیصلہ کن لمحے کی روداد رقم کر دوں، جب اسمبلی میں ایک خاص سوال پوچھا گیا اور مرزا ناصرالدین صاحب کے جواب میں بھٹو صاحب بھونچکا رہ گئے تھے، تب انہیں پہلی بار اندازہ ہوا کہ احمدی مسلمانوں سے یکسر الگ مذہب ہے۔ اس سے پہلے تک بھٹو صاحب اور پیپلزپارٹی کے سیکولرلیڈروں کا خیال تھا کہ مرزا صاحب پارلیمنٹ میں مولوی صاحبان کی بولتی بند کر دیں گے، جیسا کہ وہ دعویٰ کیا کرتے تھے، اور یوں یہ مسئلہ آپ ہی مر جائے گا۔ جب مولوی صاحبان لاجواب ہوجائیں گےا ور اپنا کیس ثابت ہی نہیں کر پائیں گے تو احمدیوں کو اقلتیت قرار دینے والا مطالبہ ہی ختم ہوجائے گا۔ اسمبلی میں مگر سب کچھ مختلف ہوا، ایک فیصلہ کن لمحہ ایسا آیا جب بھٹو جیسے لبرل شخص کو حقیقت کا ادراک ہوگیا۔

  • 14-03-2016 at 3:17 pm
    Permalink

    Mr Rashid & Co. will never ask you to do so. Further, there are many (including writer and reader of HumSub also) who never read this Objective Resolution in full ever.

    • 14-03-2016 at 3:50 pm
      Permalink

      جی عابد صاحب، اسی لئے تو اس کا متن شائع کیا، تاکہ معلوم تو ہو کہ آخر اعتراض کس بات پر ہے اور کیوں ہے؟ اب ہر ایک کے لئے اسے سمجھنا آسان ہے۔

  • 14-03-2016 at 8:57 pm
    Permalink

    Wonderful

  • 14-03-2016 at 10:04 pm
    Permalink

    جی خاکوانی صاحب ضرور رقم کریں لیکن پہلے نام کی تصحیح کرلیں۔جماعت احمدیہ کے اس وقت کے خلیفہ صاحبزادہ حافظ مرزا ناصراحمد صاحب تھے نہ کہ ناصرالدین

    • 14-03-2016 at 10:15 pm
      Permalink

      جتنے پروٹوکول سے آپ نے نام لیا، خلیفہ، صاحبزادہ، حافظ، مرزا ناصر احمد صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو لینا مشکل لگ رہا ہے، بہرحال تصیح ہوگئی کہ ناصرالدین نہیں بلکہ مرزا ناصر احمد نام تھا۔ شکریہ جناب۔

  • 14-03-2016 at 11:03 pm
    Permalink

    جناب آپ نہ لیں آپ کو کسی نے مجبور تو نہیں کیا میرے بہرحال مرشد ہیں،امام ہیں خلیفہ ہیں اسلئے میرا تو یہ ایمانی تقاضا ہے کہ میں انہیں حضرت حافظ مرزا ناصراحمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒ لکھوں!!!

  • 15-03-2016 at 6:18 pm
    Permalink

    معذرت کے ساتھ خاکوانی صاحب، لیکن کسی بھی دوسرے مزہب کے پشوا کا نام عزت اور احترام سے لینے میں کیا حرج ہے؟؟؟ بلکہ ھمارے دین اور رسولؐ نے تو دوسرے مزاہب کی دل ازاری اور ان کے پیشواوں کی بے عزتی سے منع فرمایا ھے اور اس کہ جناب رسولؐ کو برا بھلا کہنے کے مترادف ٹھہرایا ھے، برائے مہربانی نبی اخری الزمان حضرت محمدؐ کی ناموس اور عزت کا خیال رکھتے ھوے کسی بھی مزھب کو اور اس کے پشوا ، امام اور لیڈر کو بے عزتی اور بے توقیری سے نا پکاریں ، باقی علمی اور عقیدہ کے اختلاف کا حق تمیز اور ادب کے دائرہ میں رہ کر بھی کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔!!

    • 15-03-2016 at 10:49 pm
      Permalink

      کوئی حرج نہیں، میں نے اس لئے احترام سے ہی نام لیا ہے، میں ویسے بھائی راشد احمد کا ردعمل لینا چاہ رہا تھا۔ ان کے ساتھ ہمارے فیس بک صفحے پر چھیڑچھاڑ چلتی رہتی ہے، برادرم شائستہ آدمی ہیں، اپنے نقطہ نظر کا ڈٹ کر اظہار کرتے ہیں، مگر جواب پر غصہ نہیں کھاتے۔ آپ بے فکر رہیں میں دوسرے مذاہب کے پیشوائوں کی توہین کرنے والوں میں سے قطعی نہیں۔ آپ کی بات سے اتفاق ہے۔

  • 15-03-2016 at 11:13 pm
    Permalink

    محبت ہے آپ کی خاکوانی صاحب!آپ تو ہمارے یک از اساتذہ ہیں جناب۔دانستہ نادانستہ آپ سے بہت کچھ سیکھا خصوصاً کتب پڑھنے،تحریر لکھنے اور موویز دیکھنے کے حوالے سے۔آج لاہور کا چکر لگا تھا آپ سے ملاقات کا من تھا مگر مصروفیت نے موقع ہی نہ دیا۔ان شاء اللہ پھر کبھی۔بشرط عمر،صحت اور آپ کی رضامندی!!!!

    • 16-03-2016 at 10:05 am
      Permalink

      راشد احمد، بہت شکریہ جناب۔ کسی ایک معاملے میں اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آدمی تمام ایشوز پر مخالف ہوجائے یا سماجی تعلقات ہی منقطع کر دے،کچھ نہ کچھ کامن پوائنٹس نکل ہی آتے ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کے تبصرے ہم دلچسپی سے دیکھتےہیں، انشااللہ اگلے چکر میں ضرور وقت نکالئے گا، ملاقات ہوگی۔

  • 16-03-2016 at 4:08 pm
    Permalink

    بہت شکریہ جناب۔
    ان شاء اللہ ضرور ملاقات ہوگی

  • 16-03-2016 at 5:17 pm
    Permalink

    مکالمے کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ مطالعہ پاکستان میں سریش چندر کی تقریر شامل کیوں نہیں کی جاتی تاکہ نئی نسل دونوں اطراف کا موقف سن کر فیصلہ کرے؟

Comments are closed.