لیاقت علی خان نے قرار داد مقاصد کے بارے میں کیا کہا ؟


liaquat-ali-khan-6000(12 مارچ1949 ءکو دستور ساز اسمبلی میں قرار داد مقاصد کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے جو تقریر کی تھی اس کا متن ’ہم سب‘ کے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔)

جناب صدر ! میں اِسے اس ملک کی زندگی کا اہم ترین موقع تصور کرتا ہوں، جو اپنی اہمیت کے اعتبار سے آزادی کے حصول کے بعد نمایاں ترین واقعہ ہے۔ کیونکہ آزادی حاصل کرنے کی صورت میںہم نے اِس ملک اور اِس کے نظام سیاست کو اپنے تخیلات کے مطابق تعمیر کرنے کا صرف موقع حاصل کیا تھا۔ میں اِس معزز ایوان کو یاد دلانا چاہوں گا کہ بابائے قوم قائد اعظم نے اِس معاملے پر اپنے جذبات و احساسات کا اظہار متعدد مواقع پر کیا تھا اور قوم نے واضح اور غیر مشروط انداز میں اُن کے تصورات کی توثیق کی تھی۔ پاکستان اِس لیے قائم کیا گیا تھا کہ برصغیر کے مسلمان اپنی زندگیاں اسلام کی تعلیمات و روایات کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے، کیونکہ وہ دُنیا کو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ اسلام اُن لاتعداد بیماریوں کے لیے شفا ثابت ہو سکتا ہے جو آج پوری اِنسانیت کی زندگی میں دَر آئی ہیں۔ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ اِن برائیوں کی اصل وجہ اِنسانیت کا اپنی مادی ترقی سے ہم رکاب ہو کر چلنے میں ناکام رہنا ہے، یہ کہ اِنسان کی غیر معمولی ذہانت نے جس عفریت کو سائنسی ایجادات کی صورت میں تخلیق کیا تھا، اب وہ نہ صرف اِنسانی معاشرے کے تار و پود بکھیرنے کے درپے ہے بلکہ اِس کا وہ مادی ماحول بھی خطرات سے دوچار ہے جس کی شاخ نازک پر اِس نے اپنا آشیانہ تعمیر کر رکھا ہے۔ یہ بھی ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ اگر اِنسان نے زندگی کی روحانی اقدار کو نظر انداز نہ کیا ہوتا اور اگر خدا پر اُس کا اعتقاد کمزور نہ پڑ گیا ہوتا تو یہ سائنسی ترقی خود اُس کے وجود کو بھی خطرات سے دوچار نہ کرتی۔ صرف خدا پر اعتقاد ہی اِنسانیت کو بچا سکتا ہے، اِس سے مراد یہ ہے کہ اِنسانیت کو جو قوت اور اختیارات حاصل ہیں اُنھیں اُن ذی وقار ہستیوں کے پیش کردہ اخلاقی معیارات کے تحت استعمال میں لایا جانا چاہیے جنھیں مختلف مذاہب کے جلیل القدر انبیا کہا جاتا ہے۔ ہم بطور پاکستانی، اِس حقیقت پر شرمسار نہیں ہیں کہ ہماری بڑی اکثریت مسلمان ہے اور ہم اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم اپنے اعتقاد اور تخیلات کے ساتھ گہری وابستگی ہی کے ذریعے صحیح معنوں میں دُنیا کی بہتری میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ جناب صدر ! اِسی لیے آپ ملاحظہ کریں گے کہ قرارداد کا دیباچہ اِس حقیقت کے غیر مبہم اور متفق علیہ ادراک پر مشتمل ہے کہ تمام اختیارات کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ ادراک نظام سیاست کے اُس میکیا و لین تصور سے براہ راست متناقض ہے جس کے مطابق نظام حکومت چلانے میں روحانی اور اخلاقی اقدار کاکوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور غالباً اِسی لیے ہمیں خو دکو یہ یاددہانی کرانا قدرے بے موقع ہو گا کہ ریاست کو برائی نہیں بلکہ اچھائی کے فروغ کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ مگر ہم یعنی پاکستان کے عوام اِس بات پر پختہ اعتقاد کا حوصلہ رکھتے ہیں کہ تمام اختیارات اسلام کے طے کردہ معیارات کی مطابقت میں بروئے کار لائے جانا چاہئیں تاکہ اِن کا غلط استعمال نہ کیا جا سکے۔ تمام اختیارات ایک مقدس ذمہ داری ہیں جو ہمیں خدا کی ذات کی طرف سے اِنسانیت کی خدمت کی غرض سے سونپے گئے ہیں تاکہ یہ استبداد یا خود غرضی کا ذریعہ نہ بن جائیں۔ تاہم میں اِس بات کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہوں گا کہ یہ نقطہ نظر بادشاہوں یا حکمرانوں کے اُلوہی حق کے مردہ نظریے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہیں ہے کیونکہ قرارداد کا یہ دیباچہ اسلام کی روح کے عین مطابق اِس حقیقت کو کامل طور پر تسلیم کرتا ہے کہ یہ اختیارات عوام کے سوا کسی اور کو تفویض نہیں کیے گئے اور یہ کہ یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ اِن اختیارات کو کون استعمال میں لائے۔

imageاِسی وجہ سے قرارداد میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ریاست اپنی تمام قوت اور اختیارات کا استعمال عوام کے منتخب نمائندوں کی وساطت سے عمل میں لائے گی۔ یہی جمہوریت کی اصل روح ہے، کیونکہ عوام کو تمام اختیارات کے وصول کنندگان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور استعمال میں لائے جانے والے اختیارات بھی اُنھیں ہی سونپے گئے ہیں۔

جنا ب والا ! میں نے ابھی کہا ہے کہ عوام ہی تمام اختیارات کے نگران ہیں۔ یہ اَمر کسی قسم کی تھیاکریسی کے قیام کے خطرات کو خود بخود ختم کر دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اپنے لغوی معنوں میں تھیاکریسی سے مراد اللہ تعالیٰ کی حکومت ہے؛لہٰذا یہ طے شدہ امر ہے کہ پوری کائنات تھیاکریسی ہے کیونکہ اِس پوری تخلیق کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں اُس کی بادشاہی موجود نہ ہو مگر تیکنیکی حوالے سے تھیاکریسی سے مذہبی پیشواﺅں کی ایسی حکومت مرادلیا جاتا ہے جو خاص طور پر ایسے افراد کے مقرر کردہ ہونے کی وجہ سے غیر معمولی اختیارات کے حامل ہیں جنھیںاپنی پیشوائیت کی حیثیت کے باعث ان حقوق کے استعمال کا دعویٰ حاصل ہے۔ مجھے اِس بات پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں کہ اِسلام میں اِس قسم کا تصور کامل طور پر اجنبی ہے۔ اسلام پیشوائیت یا کسی قسم کی پاپائیت کو تسلیم نہیں کرتا ؛اور اِسی لیے اسلام میں مروجہ معنوں کی تھیاکریسی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کہیں ایسے لوگ موجود ہیں جو اب بھی تھیاکریسی کی اصطلاح کو پاکستان کے سیاسی نظام کے ہم معنی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، وہ یا تو بہت سنگین قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں یا پھر شرانگیز پراپیگنڈے میں مشغول ہیں۔

جناب والا ! آپ اِس بات کو نوٹ کریں گے کہ قراردادِ مقاصد جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اُصولوں پر زور دیتی ہے اور یہ کہتے ہوئے اُن کی مزید وضاحت کرتی ہے کہ آئین میں اِن اُصولوں کی اُسی طرح پیروی کی جائے گی جیسا کہ انھیں اسلام میں بیان کیا گیا ہے۔ اِن اصطلاحات کی مزید وضاحت کرنا ضروری ہے کیونکہ عمومی طور پر انھیں ڈھیلے ڈھالے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر مغربی طاقتیں اور سوویت روس دونوں ہی یکساں طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے نظام حکومت جمہوریت پر مبنی ہیں حالانکہ یہ عمومی مشاہدے کی بات ہے کہ دونوں کا نظام سیاسیات بنیادی طور پر بالکل مختلف ہے۔ اِسی لیے یہ ضروری تصور کیا گیا ہے کہ اِن اصطلاحوں کو واضح مفہوم دینے کی غرض سے اِن کی مزید تشریح کی جائے۔ جب ہم اسلامی معنوں میں جمہوریت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو یہ ہماری زندگی کے تمام پہلوﺅں کو احاطے میں لے لیتا ہے ؛یہ ہمارے نظام حکومت اور ہمارے معاشرے کے ساتھ یکساں طور پر تعلق رکھتا ہے کیونکہ تمام اِنسانوں کی برابری کا تصور اسلام کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک ہے۔ اسلام، نسل، رنگت یا پیدائش کی بنیاد پر کسی امتیاز کو تسلیم نہیں کرتا۔ اپنے Liaquat-Ali-Khan-left-600x468زوال کے دنوں میں بھی اسلامی معاشرہ نمایاں طور پر اُن تعصبات سے پاک رہا ہے جو اُس دور میں دُنیا کے کئی دیگر حصوں میں اِنسانی تعلقات میں خرابیاں پیدا کررہے تھے۔ اِسی طرح سے ہم رواداری کے معاملے میں شان دار ریکارڈ رکھتے ہیں کیونکہ قرون وسطیٰ میں بھی کسی بھی دیگر نظام حکومت میں اقلیتوں کو وہ اہمیت اور آزادی حاصل نہیں رہی جو اُنھیں مسلم ممالک میں میسر رہی ہے۔ جب اختلافی نقطہ نظر رکھنے والے مسیحیوں اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں سے بے دخل کیا جا رہا تھا، جب اُنھیں جانوروں کی طرح شکار کیا جا رہا تھا اور بدترین مجرموں کی طرح زندہ جلا دیا جا رہا تھا— جبکہ مسلم معاشرے میں بدترین مجرموں کو بھی کبھی جلایا نہیں گیا— اسلام نے اُن تمام افراد کو جائے پناہ فراہم کی جو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور جو جبر و استبداد کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور تھے۔ یہ تاریخ کی مسلمہ حقیقت ہے کہ جب سامی مخالف کارروائیوں نے یہودیوں کو کئی یورپی ممالک سے جلاوطن ہونے پر مجبور کیا تو یہ عثمانیہ سلطنت تھی جس نے اُنھیں پناہ فراہم کی۔ مسلمانوں کی رواداری کا سب سے بڑا ثبوت اِس بات سے ملتا ہے کہ کوئی بھی مسلم ملک ایسا نہیں جہاں اقلیتوں کی قابل ذکر تعداد موجود نہ ہو اور جہاں انھیں اپنے مذہب اور ثقافت کے تحفظ کے مواقع حاصل نہ ہوں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اِس برصغیر پاک و ہند میں جہاں مسلمانوں کو بے پایاں اختیارات حاصل رہے ہیں ، غیر مسلموں کے حقوق کا احترام اور تحفظ کیا گیا تھا۔ جناب والا ! میں اِس بات کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا کہ یہ مسلمانوں ہی کی سرپرستی تھی جس میں کئی مقامی زبانوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ بنگال سے تعلق رکھنے والے میرے دوستوں کو یاد ہو گا کہ مسلمان حکمرانوں ہی کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ہندومت کی کئی مقدس کتب کے پہلی مرتبہ سنسکرت سے بنگالی میں ترجمے کیے گئے۔ یہ وہی رواداری ہے جس کا اسلام میں درس دیا گیا ہے، جہاں کوئی اقلیت تکلیف و اذیت کی زندگی بسر نہیں کرتی بلکہ اُس کا احترام کیا جاتا ہے اور اُسے اپنے نظریات اور ثقافت کے فروغ کا ہر ممکن موقع دیا جاتا ہے تاکہ یہ پوری قوم کے وقار و مرتبے میں اضافہ کر سکے۔ جناب والا ! سماجی انصاف کے معاملے میں بھی اِس بات کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا کہ اسلام نے اس میں نمایاں حصہ ڈالا ہے۔ اسلام ایسے معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے جہاں سماجی انصاف سے مراد نہ تو خیرات و صدقات ہیں اور نہ ہی کڑے معاشی ضابطے۔ اسلام کے سماجی انصاف کی بنیاد اُن اہم قوانین اور تصورات پر رکھی گئی ہے جو اِنسان کو احتیاج سے پاک اور آزادی سے بھرپور زندگی کی ضمانت دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ا یسے معنی د یتے ہوئے جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اُصولوں کی مزید وضاحت کی گئی ہے جو ہمارے نقطہ¿ نظر کے مطابق اِن الفاظ کے عمومی معنوں کے مقابلے پر زیادہ گہرے اور وسیع تر مفہوم کی حامل ہے۔

قرارداد کی اگلی شق میں بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں انفرادی اور اجتماعی حوالوں سے اپنی زندگیاں قرآن مجید اور سُنت نبوی میں بیان کردہ تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی اہلیت پیدا کی جائے گی۔ یہ بات عیاں ہے کہ اگر مسلمانوں میں اپنی زندگیاں اپنے مذہب کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی اہلیت پیدا کی جائے گی تو کسی بھی غیر مسلم کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ جناب صدر ! آپ یہ بات بھی نوٹ کریں گے کہ ریاست کو ایسے غیر جانب دار مبصر کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے جہاں مسلمانوں کو اپنے مذہب کا اقرار کرنے اور اس پر کار بند رہنے کی محض آزادی حاصل ہو گی، کیونکہ ریاست کی طرف سے ایسا طرز عمل بجائے خود اُن تصورات کی نفی ہو گا جن کی بنیاد پر پاکستان کا مطالبہ پیش کیا گیا بلکہ یہی تصورات اُس ریاست کی نیو کا پتھر ہوں گے جسے ہم تعمیر کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ ریاست ایسے حالات پیدا کرے گی جو صحیح معنوں میں ایک اسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے سازگار ہوں ، جس سے مراد یہ ہے کہ ریاست کو اس کوشش میں مثبت اور سرگرم کردار ادا کرنا ہو گا۔ جناب والا! آپ کو یاد ہو گا کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے دیگر راہنما ہمیشہ غیر مبہم انداز میں یہ اعلان کرتے آئے ہیں کہ مسلمانوں کے پاکستان کے مطالبے کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی گئی ہے کہ مسلمان ایک جداگانہ طرز زندگی اور ضابطہ¿ اخلاق کے حامل ہے۔ اُنھوں نے اِس حقیقت پر بھی زور دیا کہ اسلام محض فرد اور خدا کے اُس باہمی تعلق کا نام نہیں ، جسے بہر کیف ریاست کے معاملات پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ یہ فی الحقیقت معاشرتی طرزِ liaqat ali khan with jinnahعمل کے لیے مخصوص ہدایات کا تعین کرتا ہے اور معاشرے کے اُن مسائل کے بارے میں راہنمائی کرتا ہے جو اُسے روزمرہ زندگی میں پیش آتے ہیں۔ اسلام محض ذاتی اعتقادات اور طرز عمل کا معاملہ نہیں۔ یہ اپنے پیروکاروں سے اچھی زندگی کی غرض سے ایک ایسے مثالی معاشرے کی تعمیر کی توقع رکھتا ہے جیسا کہ یونانی اِسے بیان کرتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اسلام میں ”اچھی زندگی“ کی بنیاد لازمی طور پر روحانی اقدار پر رکھی گئی ہے۔ اِن اقدار پر زور دینے اور انھیں قانونی حیثیت دینے کی غرض ریاست کے لیے مسلمانوں کی سرگرمیوں کی اس انداز میں راہنمائی کرنا لازم ہو گا جس کے ذریعے جمہوریت، آزادی، رواداری اور سماجی انصاف کے اُصولوں سمیت اسلام کی بنیادی تعلیمات پر مبنی ایک نیا سماجی نظام قائم کیا جا سکے۔ میں یہ باتیں محض وضاحت کی غرض سے بیان کر رہا ہوں؛ کیونکہ یہ قرآن و سنت میں بیان کردہ اسلامی تعلیمات کی قائم مقام نہیں ہیں۔ کوئی بھی ایسا مسلمان موجودنہیں جو اس بات پر یقین نہ رکھتا ہو کہ اللہ کا کلام اور پیغمبر اسلام کی زندگی اُس کے ایمان کے بنیادی اجزا ہیں۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف رائے نہیں اور اسلام میں کوئی بھی فرقہ ایسا موجود نہیں جو اِن اُصولوں کی قطعیت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ لہٰذا پاکستان میں کسی بھی ایسے فرقے کے ذہن میں ریاست کے بنیادی مقاصد کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے جو پاکستان کے اندر اقلیت میں ہے۔ ریاست ایک ایسا اسلامی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کرے گی جو اختلاف رائے سے پاک ہو گا لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ مسلمانوں کے کسی بھی فرقے کی اپنے اعتقادات کے معاملے میں آزادی پر قدغن لگائے گی۔ کسی بھی فرقے کو خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں، دوسروں پر حکم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ اپنے اندرونی معاملات اور گروہی اعتقادات میں تمام فرقوں کو ہر ممکن حد تک چھوٹ اور آزادی دی جائے گی۔ دراصل ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ مختلف فرقے پیغمبر اسلام کی اُس حدیث کے مطابق عمل کریں گے جس میں یہ فرمایا گیا کہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات باعث رحمت ہیں۔ اپنے اختلافات کو اسلام اور روشن پاکستان کے لیے تقویت کا ذریعہ بنانا اور انھیں پاکستان اور اسلام کے لیے کمزوری کا باعث نہ بننے دینا اب ہماری ذمہ داری ہے۔ اکثر اختلاف رائے کا نتیجہ باشعور سوچ اور ترقی کی صورت میں نکلتا ہے مگر ایسا اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ اختلاف ہمارے حقیقی مقاصد کو نگاہوں سے اوجھل نہ کریں جو کہ اسلام کی خدمت اور اس کے مقاصد کو بڑھاوا دینا ہے۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ اس شق کے ذریعے مسلمانوں کو وہ موقع دینے کی کوشش کی گئی ہے جووہ اپنے زوال اور غلامی کے طویل عرصے کے دوران حاصل کرنے کی جدوجہد میں تھے یعنی ایسا نظام سیاست قائم کرنے کی آزادی جو دُنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کی غرض سے ایک تجربہ گاہ کا کام دے سکے کہ اسلام نہ صرف دُنیا کی ایک ترقی پسند قوت ہے بلکہ یہ اُن بہت سی بیماریوں کے لیے شفا بھی ہے جس میں اِنسانیت اِس وقت مبتلا ہے۔

اسلامی معاشرہ قائم کرنے کی اپنی خواہش میں ہم نے غیر مسلموں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ اگر ہم نے اقلیتوں کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کی تو درحقیقت ایسا کرنا قطعاً غیر اسلامی ہو گا اور اِس صورت میں ہم اپنے مذہب کے احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ اُنھیں اپنے مذہب پر عمل درآمد یا اس کے تحفظ یا اپنی ثقافت کو فروغ دینے سے کسی بھی صورت میں نہیں روکا جائے گا۔ خود اسلامی ثقافت کے فروغ کی پوری تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اقلیتوں کی ثقافتوں نے جنھیں مسلم ریاستوں یا سلطنتوں کے زیر تحفظ پھلنے پھولنے کا موقع ملا، اس عظیم ورثے کی بڑھوتری میں اہم کردار ادا کیا جو مسلمانوں نے اپنے لیے تعمیر کیا تھا۔ میں اقلیتوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اِس اَمر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر اقلیتیں ہمارے اجتماعی علم اور شعور کے سرمایے میں حصہ ڈالیںگی تو یہ پاکستان کے لیے فائدے کی بات ہوگی اور اس سے قوم کی اجتماعی زندگی کی افزودگی میں بھی اضافہ ہو گا۔ لہٰذا ہماری اقلیتیں نہ صرف کامل ترین آزادی کے دور کی بلکہ اکثریت کی طرف سے اُس افہام و تفہیم اور حوصلہ افزائی کی توقع بھی رکھ سکتی ہیں جو پوری تاریخ کے دوران مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔

6107904825_2aa02b9c94جناب والا! اس قرار داد میں وفاقی طرز حکومت کی تجویز رکھی گئی ہے کیونکہ جغرافیائی تقاضے یہی ہیں۔ جب ہمارے ملک کے دو حصے ایک ہزار سے زائد میل کے فیصلے پر واقع ہوں تو وحدانی طرز حکومت کے بارے میں سوچنا بے مقصد ہو گا۔ تاہم میں اُمید رکھتا ہوں کہ دستور ساز اسمبلی اِن اکائیوں کو قریب تر لانے اور ایسے رابطے استوار کرنے میں ہر ممکن کوشش کرے گی جن کی مدد سے ہم ایک ہم آہنگ اور یکجہتی پر مبنی قوم بن سکیں۔ میں نے ہمیشہ صوبائیت کے احساسات کو دبانے کی حمایت کی ہے لیکن اِس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں بے معنی یکسانیت کا حامی نہیں ہوں۔ میں اِس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان کے تمام علاقوں اور اکائیوں کو ہماری قومی زندگی کی رنگارنگی میں اضافہ کرنے کے لیے حصہ ڈالنا چاہیے۔ تاہم میں اِس بات کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کسی بھی ایسی چیز کی اجازت نہیں دی جائے گی جو کسی بھی حوالے سے قومی یکجہتی کو کمزور کرے اور ہمارے عوام کے مختلف طبقات کے درمیان ایسے قریبی رابطوں کے اقدامات کیے جائیں گے جو آج کے مقابلے پر کہیں بہتر ہوں گے۔ اِس مقصد کے لیے دستور ساز اسمبلی کو نئے سرے سے اِس بات پر غور کرنا ہو گا کہ مرکز اور مختلف اکائیوں کے درمیان اختیارات و معاملات کی تقسیم کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے اور ہمارے نئے ڈھانچے میں اکائیوں کی تعبیر کس انداز میں کی جائے گی۔

جناب صدر ! بعض بنیادی حقوق کی ضمانت دینے کا رواج سا ہو گیا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ انھیں ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے سے واپس لے لیا جائے۔ میں اِس اَمر کے اظہار کے لیے بہت کچھ کہہ چکا ہوں کہ ہم صحیح معنوں میں ایک لبرل نظام حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں اِس کے تمام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ آزادی دی جائے گی۔ قانون کی نظر میں ہر ایک یکساں ہو گا مگر اِس سے یہ مراد نہیں کہ ہر فرقے کے ذاتی مذہبی قوانین کا تحفظ نہیں کیا جائے گا۔ ہم حیثیت اور انصاف کی مساوات میں یقین رکھتے ہیں۔ یہ ہمارا پختہ اعتقاد ہے اور ہم بہت سے مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان مخصوص مفادات یا امیر طبقے کے تحفظ کے لیے قائم نہیں کیا گیا۔ ہمارا رادہ اسلام کے بنیادی اُصولوں کے مطابق ایسی معیشت قائم کرنے کا ہے جس میں دولت کی بہتر تقسیم اور احتیاج سے آزادی کی کوشش کی جائے گی۔ غربت اور پس ماندگی، اور وہ سبھی مشکلات جو اِنسان کے لیے اپنے تمام امکانات کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہےں، پاکستان سے اُن سب اسباب کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اِس وقت ہمارے عوام کی اکثریت غریب اور ناخواندہ ہے۔ ہمیں اُن کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہو گا اور اُنھیں غربت اور جہالت کی زنجیروں سے آزادی دلوانا ہو گی۔ جہاں تک سیاسی حقوق کا تعلق ہے، ہر ایک کو حکومت کی اختیار کردہ پالیسیوں کے تعین میں رائے دینے اور ریاست کے معاملات چلانے والوں کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہو گا تاکہ یہ لوگ مذکورہ کام عوام کے مفاد میں سرانجام دے سکیں۔ ہم اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سوچ پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے اور اِسی لیے ہم کسی بھی فرد کو اپنے خیالات اور رائے کے اظہار سے روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، نہ ہی ہم کسی فرد کو تمام قانون اور جائز مقاصد کے لیے تنظیم سازی کے حق سے محروم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہم اپنے نظام سیاست کی بنیاد آزادی، ترقی اور سماجی انصاف پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سماجی امتیازات کو دور کرنا چاہتے ہیں مگر ہم یہ مقصد تکالیف پیدا کرنے یا اِنسانی ضمیر و سوچ اور جائز و قانونی ارادوں پر پابندیاں لگانے کی صورت میں حاصل نہیں کرنا چاہتے۔

جناب عالی ! بہت سے ایسے مفادات اور حقوق موجود ہیں ، اقلیتیںجن کے تحفظ کی جائز طور پر خواہاں ہیں۔ یہ قرارداد یہی تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے۔ بالخصوص اُن کے پس ماندہ اور پسے ہوئے طبقے ہماری انتہائی توجہ کے طالب ہیں۔ ہم اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ خود اپنی کسی غلطی کی وجہ سے اپنے آپ کو موجودہ تکلیف دہ صورت حال میں نہیں پاتے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اُن کے موجودہ حالات کے لیے ہم کسی طور پر بھی ذمہ دار نہیں۔ مگر اب چونکہ وہ ہمارے شہری ہیں تو ہمیں اِن کو دیگر شہریوں کی برابری میں لانے کے لیے خصوصی جدوجہد کرنا ہو گی، تاکہ وہ ایک آزاد اور ترقی پسند ریاست کے شہری ہونے کے ناتے خود پر عائد ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے قابل ہو سکیں، اور اِس کام میں اُن تمام لوگوں کے ساتھ شراکت کر سکیں جو اُن سے زیادہ خوش قسمت واقع ہوئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جب تک ہمارے عوام میں سے چند طبقات پس ماندہ رہیں گے، وہ ہمارے معاشرے پر بوجھ بنے رہیں گے اور اسی لیے اپنی ریاست کی ترقی کے لیے ہمیں لازمی طور پر اِن طبقات کے مفادات کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔

جناب صدر ! سب سے آخر میں یہی کہوں گا کہ ہم اِس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ اپنے آئین کی بنیاد اِس قرارداد میں بیان کردہ اُصولوں پر رکھنے کی صورت میں ہم پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے قابل ہو سکیں گے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایسا ملک بن جائے گا جس پر اُس کے تمام شہری، اپنے طبقے یا عقیدے کے امتیاز کے بغیر فخر کر سکیں گے۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہمارے عوام بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ایک عظیم آفت اور بحران کے موقع پر اُن کی بے نظیر قربانیوں اور نظم و ضبط کے قابل تحسین احساسات نے دُنیا بھر سے داد حاصل کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے عوام کو نہ صرف عزت سے زندہ رہنے کا حق حاصل ہے بلکہ یہ اِنسانیت کی فلاح اور ترقی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ یہ ضروری ہے کہ یہ قوم اپنے قربانی کے جذبے کو زندہ رکھے اور پنے اعلیٰ تخیلات سے وابستہ رہے، اور مقدر خود بخود اِسے دُنیا کے معاملات میں باوقار مقام پر لے کر جائے گا اور اِسے تاریخ کے اوراق میں لازوال بنا کر رہے گا۔ جناب والا ! یہ قوم عظیم کامیابیوں کی روایت کی امین ہے ؛اِس کی تاریخ شان دار کارناموں سے بھری ہوئی ہے ؛زندگی کے ہر شعبے میں اِس نے کامیاب طریقے سے شراکت کی ہے ؛اِس کی بہادری کی داستانیں عسکری تاریخوں میں شامل کی جاتی ہیں ؛اِس کی انتظامیہ نے ایسی روایات قائم کیں جنھوں نے وقت کی آندھیوں کا کامیابی سے سامنا کیا ؛تخلیقی فنون میں اِس کی شاعری ، فن تعمیر اور احساس جمال نے بے پناہ داد و تحسین حاصل کی؛روحانی عظمت کے حوالے سے اِس کے بہت ہی کم ہمسر موجود ہیں۔ یہ وہی قوم ہے جو ایک مرتبہ پھر جادہ پیما ہے اور اِس بار اِسے مناسب مواقع حاصل ہوتے ہیں تو یہ شان دار کامیابیوں کے اپنے پچھلے ریکارڈ کو بھی مات کر دے گی۔ یہ قراردادِ مقاصد ایسا ماحول پیدا کرنے کی سمت میں پہلا قدم ہے جو قوم کی روح کو بیدار کر دے گا۔ ہم، جنھیں قدرت نے ایک ایساکردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے جو بجائے خود بہت معمولی اور غیر نمایاں ہی کیوں نہ ہو، قوم کی احیائے نو کے اِس عظیم مرحلے پر اپنے سامنے نظر آنے والے مواقع کو دیکھ کر وفور جذبات سے گُنگ ہو کر رہ گئے ہیں۔ آئیے اِن مواقع کو عقل اور بصیرت کے ساتھ استعمال میں لائیں اور مجھے اِس امر میں ذرہ بھر شبہ نہیں کہ یہ عاجزانہ کوششیں اُس عظیم کار ساز کے کرم سے جو کہ پاکستان کو وجود میں لے کر آیا، اِس حد تک ثمر آور ہوں گی جو ہماری سوچ اور توقعات سے بڑھ کر ہو گا۔ ایسا روز روز نہیں ہوتا کہ عظیم قوموں کو اپنے طور پر کچھ کرنے کا موقع ملے ؛یہ بھی ہر روز نہیں ہوتا کہ عوام خود کو نشاة ثانیہ کی دہلیز پر کھڑ ا پائیں؛اور ایسا موقع بھی ہر روز نہیں آتا کہ قدرت پچھڑے ہوﺅں اور غلاموں کو کھڑا ہونے میں مدد دے اور ایک عظیم مستقبل کو خوش آمدید کہنے کے لیے اُن کی پیٹھ ٹھونکے۔ یہ روشنی کی ایک ننھی سی کرن ایک روز روشن کی نوید ہے جسے ہم اِس قرارداد کی صورت میں سلام کہتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “لیاقت علی خان نے قرار داد مقاصد کے بارے میں کیا کہا ؟

  • 14-03-2016 at 2:06 pm
    Permalink

    مجھے یقین ھے کہ قائد اعظم ایسی تقریر کبھی نہ کرتے ۔

  • 14-03-2016 at 6:28 pm
    Permalink

    بہت شاندار۔ قائد ملت نے وہی کیا کیا جو ایک دیانت دار ، بااصول لیڈر کو کرنا چاہیے تھا۔ جس نعرے، نظریے پر عوام سے مینڈیٹ لیا، اس پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی۔ اللہ انہیں اس کا اجر دے گا۔

    • 23-03-2016 at 11:01 pm
      Permalink

      واقعی اس پہلو سے تو بلکل دیانت داری بنتی ھے،،، البتہ اس کے بعد دیانت داری کا تقاضا یہ بھی بنتا تھا کہ باگ دوڑ اور لگام مولانا شبیر احمد عثمانی کے ھاتھ میں تھما دیتے کیونکہ ان سے بہتر کون اسلام اس کے مدعا اور تقاضوں اور اس کے نفاذ کی ’ لیاقتانہ ‘ خواھش کو عملی جامی پہنا سکتا تھا،،،، لیکن اسا نہیں کیا گیا،،،کیوں،،، غالباّ اس لیئے کہ جناب کے نزدیک اقتدار اعلی کی مالک تو صرف خدا تعالی کی ذات ھے البتہ زمین اور جاکیر کی مالک انگریز کے کتے نہلانے والے جاگیردار ،،، یہ ھے اصل چہرہ عثمانی لیاقت یا لیاقتانہ عثمانیت کے ملغوبہ قرارداد کا

  • 14-03-2016 at 9:36 pm
    Permalink

    تھوڑی سی کو شش کر کے سر ظفراللّٰہ کی تقریر کا متن بھی شائع کر دیا جائے تو مزید واضح ہو کہ اس نقطۂ نظر کے اہم اور مؤثر مویّد کیسے کیسے رہنمایانِ ملت تھے۔

  • 23-03-2016 at 10:42 pm
    Permalink

    واہ کیا شاعری فرما گئے قائد ملت، نواب ابن نواب ابن نواب ابن نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب،،،، تاریخ نے ثابت کیا کہ ان کی کہی ھوئی ھر بات اور ھر دعوہ محض سراب تھا کیونکہ ان کی شاعری کا بنیاد دی زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ تھا

    • 03-04-2016 at 12:57 am
      Permalink

      i got that why Quaid e Azam siad .”i have void coins in my pocket….verily there was no one leader after the demise of Quaid e Azam. they all are just void coins….this s. this speech was not more than making promises showing back ground and history..P.M sb hd no vision to lead the the nation nd country…no good logic nd argumentation presented by P.M…

    • 03-04-2016 at 1:00 am
      Permalink

      my endorsement sir

  • 10-05-2016 at 9:30 am
    Permalink

    تقریراچھی لفاظی اورکمزوردعووں پر مشتمل تھی۔ یہ جناح صاحب کی ۱۱ اگست ۱۹۴۷ والی تقریر سے بالکل لگا نہیں کھاتی بلکہ ہرلحاظ سے اس کی نفی کرتی ہے۔ لیاقت صاحب قرارداد مقاصد کے ذریعے پاکستان کو ایک ایسی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے جویہ ثابت کردے کہ ’’اسلام نہ صرف دُنیا کی ایک ترقی پسند قوت ہے بلکہ یہ اُن بہت سی بیماریوں کے لیے شفا بھی ہے جس میں اِنسانیت اِس وقت مبتلا ہے۔‘‘ کیا یہ مقاصد حاصل ہوئے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟

    مولانا مولانا جمال میاں فرنگی محلی نے دسمبر ۱۹۴۷ میں لیاقت علی خان کو مخاطت کرتے ہوئے کہاتھا کہ’’پاکستان کو اگر آپ مذہبی ریاست بنائیں گے تو یہ بات بڑے فتنوں کا باعث بنے گی۔ اس سے مسلمانوں کا بڑا نقصان ہوگا۔ اسلام کا لفظ استعمال کرکے آپ لوگوں کی توقعات کو بہت اونچا کرتے ہیں مگرآپ میں ان توقعات کو پورا کرنے صلاحیت نہیں۔ لہٰذا آپ اس بات کو چھوڑ دیں۔‘‘ (بحوالہ قائداعظم کے رفقاء سے ملاقاتیں)

Comments are closed.