انقرہ میں بم دھماکہ


_88753030_031962988اتوار کو رات گئے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں 27 افراد جاں بحق اور 75 زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکہ شہر کے وسط میں واقع ایک پارک کے نزدیک کھڑی ایک مسافر بس کے قریب کیا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک کار بس کے قریب آکر رکی اور پھر اس میں بیٹھے ہوئے خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں تئیس افراد موقع پر ہی چل بسے جبکہ چار افراد اسپتال جاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کسی گروپ نے اس دھماکہ کہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی حکام نے ابھی کوئی نشاندہی کی ہے۔ لیکن چند روز سے انقرہ میں دہشت گردی کے خطرہ کے بارے میں افواہیں گردش کررہی تھیں۔ جمعہ کو امریکی سفارتخانے نے اپنے ویب پیج پر دہشت گردی کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔

اکتوبر سے اب تک انقرہ میں ہونے والی دہشت گردی کی یہ تیسری واردات ہے۔ گزشتہ ماہ بھی انقرہ شہر میں ایک خود کش حملہ میں 29 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اکتوبر کے حملہ میں جو ایک جلوس پر کیا گیا تھا، ایک سو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ آج ہونے والا دھماکہ ایسے وقت ہورہا ہے جب شام میں جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ عراق اور شام میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف عالمی کوششوں کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار ہوسکے۔ اس دوران جنیوا میں شامی حکومت اور اپوزیشن گروہوں کے درمیان مذاکرات کے لئے بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے آج صبح ہی شام کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ مصالحت کی طرف قدم بڑھائے اور مذاکرات کے لئے نت نئی شرائط عائد نہ کرے۔ ان مذاکرات میں البتہ داعش یا النصرہ فرنٹ کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہ شام میں ہونے والی جنگ بندی کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس اتحادی ملکوں کے علاوہ روس کے تعاون سے شامی افواج نے بھی داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا ہؤا ہے۔ داعش اس علاقے میں زندگی اور موت کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہے۔ اس لئے ترکی میں ہونے والا دھماکہ شام میں داعش کے لئے تنگ ہوتی زمین کا ردعمل یا ’احتجاج‘ کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔

البتہ ترکی کی حکومت نے داعش کے خلاف جنگ میں شرکت کے ساتھ ہی شمال میں کرد تنظیم پی کے کے PKK کے خلاف بھی محاذ کھولا ہؤا ہے۔ اس جنگ جوئی کے لئے صدر اردگان نے کردوں کے ساتھ دو سال قبل ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ بھی ختم کردیا تھا۔ اس لئے اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس قسم کے حملوں میں کرد دہشت گرد ملوث ہوں۔ گزشتہ ایک برس کے دوران ترکی میں ہونے والے بیشتر دھماکوں کی ذمہ داری اگرچہ داعش نے قبول کی ہے لیکن ترک حکومت واضح طور سے کسی گروہ کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کرتی رہی ہے۔ انقرہ کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ اس قسم کے حملوں کو جواز بنا کر کردوں کے خلاف رائے عامہ تیار کی جائے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر زور دیا جائے کہ وہ شام کے علاوہ عراق میں بھی کرد گروہوں کو ہمدرد سمجھنے کی بجائے ، دہشت گرد سمجھتے ہوئے کارروائی کریں۔

اس دھماکہ میں کسی کا بھی ہاتھ ہو، تاہم اس سے یہ اندازہ کرنے میں کسی غلطی کا امکان نہیں ہو سکتا کہ ترکی کو آنے والے وقت میں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ صورت حال جزوی طور انقرہ کی حکومت کی غیر واضح پالیسی اور مقاصد کی وجہ سے بھی پیدا ہو رہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali