گورے رنگ کا زمانہ، کبھی ہو گا نہ پرانا


ramish-fatima گورے رنگ کا زمانہ کبھی ختم ہوا یا نہیں لیکن کبھی جو ابٹن سے رنگ نکھارنے کا رواج شروع ہوا تو آج بات رنگ سنوارنے یا نکھارنے سے آگے بڑھ کے رنگ گورا کرنے تک پہنچ گئی ہے۔ بازاروں میں بےتحاشا کریمیں نت نئے ناموں کے ساتھ دستیاب ہیں، بہترین سے بہترین اور گھٹیا سے گھٹیا کوالٹی میسر ہے، لڑکیاں رنگ گورا کرنے کے پیچھے ان کریموں کا بےجا استعمال کر رہی ہیں۔ کہیں خود احساسِ کمتری کا شکار ہیں، کہیں آس پاس والوں نے کہہ کہہ کر مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ بس اتنا بتانا ہے کہ جو آپ کو یہ کریمیں استعمال کرنے کے مشورے دے رہی ہے ان میں سے ایک ابھی ہمارے سامنے ایک ماہرِ امراضِ جلد سے دوا لکھوا کر گئی ہے۔ خاتون کو ہم نے واضح الفاظ میں ان کریموں کے استعمال سے روکا اور نقصان کا بتایا، محترمہ نے ہنس کے بتایا کہ میری ساری کسٹمر بیوٹی کریم استعمال کرتی ہیں۔ ان کے رویے نے یقین دلا دیا کہ وہ خود یقیناً یہی کریم استعمال کریں گی جو ڈاکٹر صاحب نے لکھیں مگر کاروبار وہ گولڈن بیوٹی کریموں کا ہی جاری رکھیں گی۔

بات یہ ہے کہ گورا رنگ ہو یا گوروں کے ملک کا ویزہ ان دو باتوں نے پریشان کر رکھا ہے۔ کسی شاہراہ پہ سفر کرنے نکل جائیں، کسی اخبار میں اشتہار دیکھ لیں، رکشوں کے پیچھے لکھے ان گنت مسائل پڑھ لیں بنیادی مسائل گورا رنگ اور مردانہ کمزوری ہیں، باقی اولادِ نرینہ، محبوب قدموں میں،شوہر کو راہِ راست پہ لانا، یہ سب مسائل ان دو بنیادی مسائل کے حل کے بعد ہی شروع ہوتے ہیں۔ ویسے تو ناک کاٹنا، کاری کرنا، زیادتی، تیزاب پھینکنا سب روز کی خبریں ہیں جن کو پڑھ کے عورتوں کی کمزوری عیاں ہونی چاہیے ہمیں ان خبروں میں بھی مردانہ کمزوری ہی نظر آتی ہے۔ بیٹے کے لیے  چاند سی بہو لانا، چن دا ٹوٹا ہو, حسن ایسا جو دیکھنے والی کی نظر خیرہ کر دے، کمرے میں ہو تو مصنوعی روشنیوں کی ضرورت ہی نا پڑے۔ کیا کیا خواب ہیں ان کے جو بازار سے خریداری کرنے میرا مطلب ہے جو روز لڑکیوں کی نمائش لگا کر پسند ناپسند کرتے پھرتے ہیں۔ یہ مسائل لڑکوں کے لیے  بھی ہیں لیکن سنجیدگی اور پیچیدگی کی نوعیت اور سنگینی بہرحال کم ہے۔ کیا کریں تعلیمات کا پرچار کرنے والے شادی کا موضوع آتے ہی رنگ، حسب نسب، ذات برادری کو مسئلہ کشمیر بنا لیتے ہیں، یہ ایک ایسا مرحلہ شوق ہے جہاں پہنچتے ہی اکثر لوگ دین کو ایک طرف رکھتے ہیں اور اس جہانِ فانی کے رنگوں میں ڈوب جاتے ہیں۔

رنگ گورا کرنا ایک ایسا نشہ ہے جسے پورا کرنے کا سامان گلی والی کریانے کی دکان سے لے کر شہر کے سب سے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور تک ہر جگہ دستیاب ہے۔ کہیں اپنا احساسِ کمتری ہے، کہیں لوگوں کی باتیں ہیں، کہیں شادی کی مجبوری ہے۔ ان بیوٹی کریموں کے اجزائے خاص میں سے ایک تو اسٹیرائڈ ہیں جن کے استعمال سے پہلے پہل تو بڑا اعلیٰ نتیجہ آتا ہے، شرطیہ سات دن میں رنگ گورا۔ اور جیسے ہی استعمال چھوڑیں رنگت پہلے جیسی، پھر یہ مجبوراً استعمال کرنی ہی پڑتی ہے، جلد کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا اندازہ ابھی کیسے ہو جائے آپ کو۔ دوسری چیز وہ ایک بلیچنگ ایجنٹ ہے جس کا استعمال مہذب ممالک میں ممنوع قرار دیا جا چکا ہے لیکن ایک غریب ملک کے شہری تو سستے میں رنگ گورا کر رہے ہیں جو بعد میں مہنگا پڑتا ہے۔ تیسری چیز مرکری ہے، (یہ وہ پارا نہیں ہے جو اکثر لوگوں کا کچھ تحریریں پڑھ کے چڑھ جاتا ہے۔ ) اس کا استعمال گردوں کے لیے  نقصان دہ ہے۔ لیکن صاحب رنگ گورا ہو جائے گردے اگر کبھی کام کرنا چھوڑ دیں گے تو کیا ہم بیٹھ کر تحقیق کریں گے یہ کیسے ہوا؟ خدا کا خوف کریں تحقیق اور وہ بھی سائنسی موضوعات پہ؟ کیا بےوقوفانہ بات کر دی میں نے کچھ عرصہ پہلے بھارت میں ڈارک از ڈیوائن کا چرچا تھا،آج کل بھارت اور پاکستان میں ان فیئر اینڈ لولی تحریک زوروں پہ ہے۔ لیکن کیا واقعی لاشعور میں گھسے بیٹھے گورے رنگ کو اس تحریک سےفرق پڑ رہا ہے؟ کیا ہم گورے رنگ کے مسائل سے آزاد ہو سکتے ہیں ؟ وقتی فائدے کو دیکھتے ہوئے جو کچھ استعمال ہو رہا ہے وہ آگے چل کر کس قسم کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ بہت لوگوں کو ان گھٹیا بازاری کریموں سے دور رکھنے کی کوشش کی نتیجہ حسبِ توقع صفر ہی نکلا۔ لیکن ڈھٹائی کہتی ہے کہ ایک کوشش اور کی جائے۔ ایک بار پھر کہا جائے کہ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، نیا دور ہے، اس کے اپنے تقاضے ہیں اور ہماری اکثریت اب بھی لاشعوری طور پہ گورے رنگ کی اسیر ہے۔ ہمارے لاشعور میں اب بھی “بنارسی بابو” کی “گوری گوری باہیں” بسی ہیں اور اب تو خیر “چٹیاں کلائیاں” کا زمانہ ہے۔ اگر یہ زمانہ بدلنا ہے توہمیں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہو گی۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “گورے رنگ کا زمانہ، کبھی ہو گا نہ پرانا

  • 14-03-2016 at 7:52 am
    Permalink

    گورے رنگ پہ اتنا گھمان نہ کر..
    گورا رنگ تو اک دن ڈھل جائے گا..
    صحیح فرمایا آپ نے.. مجھے لگتا ہے کہیں سانولے کلر کے لوگ اب والدین کو بلیم blame نہ کریں، آخر جینو ٹائپ genotype کا اثر ہے نا…..
    ویسے شکر ہے اللہ کا کہ شخصیت جلد کے رنگ پہ ڈیپنڈ نہیں کرتی، تب تو انسان کی فطرت و شخصیت میں بھی مروڑ آتا..
    خیر…….
    ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں…

Comments are closed.