جنگیں اور نظمیں ختم نہیں ہوتیں


naseer nasir

صلاح الدین!
تمہیں جنگل کی تلاش تھی
تمہارا جنگل تمہارا شاوک تھا
یہیں کہیں ہو گا
تمہارے ہی شبدوں کے بھیتر
شتابدیوں، آتماؤں اور کالبدوں کی بھیڑ میں
نرتکیوں، ناریوں کی اوٹ میں
چولیوں، ہم جولیوں کی الوتا میں منہ بسورتا
کون و مکان کی بیضوی گولائیوں میں
کہیں پھسلتا ہوا
کسی پارک میں
خدا کا جھولا جھلاتا
ازل اور ابد کے سی سا کے دونوں طرف خود ہی بیٹھا ہوا
تخلیقی تنہائیوں میں
کھویا ہوا
رویا ہوا
یا تمہاری کسی محبوبہ کے دودھیا سینے پر سر رکھ کر
آدھا جاگا، آدھا سویا ہوا
یا تم سے کبھی نہ مل سکنے والی
کسی سانولی  سلونی عورت کی
غیر مرئی کوکھ میں
بویا ہوا
روشنی کا بیج
جو ابھی اگ پڑے گا
salahnewsدیکھتے ہی دیکھتے آسمان ستاروں سے ٹمٹمانے لگے گا
اور زمین لالٹینوں سے بھر جائے گی
چاروں طرف رات کا آرکسٹرا بج اٹھے گا
اندھیرے کی آواز پُراسرار اور رومان پرور ہو جائے گی
اور موسیقی تیز بارش کی طرح
ہر جماد و ذی روح کو جل تھل جل تھل کر دے گی

صلاح الدین!
تمہارا جنگل، تمہارا شاوک تھا
بانسری بجاتا ہوا
گوپیوں سے بھر جائے گا
لیکن صلاح الدین! تم کہاں ہو گے؟
میں تمھیں ڈھونڈنے کہاں جاؤں گا؟
تم اب جنگل نہیں رہے، درخت بھی نہیں رہے
کہ اپنی شاخیں
دریچوں جیسی لڑکیوں کےدلوں اور روحوں کی بالکونیوں تک پھیلا سکو
خلا بھی نہیں رہے کہ آسمان کو فِل کر سکو
آتما بھی نہیں رہے کہ پرماتما کو خط لکھ سکو
سمندر بھی نہیں کہ کسی ساحل سے ٹکرانے، سوری، ملنے آ سکو
بادل بھی نہیں کہ کسی استری کی پیاسی گھاٹیوں میں اتر سکو
سایہ بھی نہیں رہے کہ کسی جسم کا روپ دھار لو
یاد ہے ایک بار میں نے کہا تھا
“نظم کے درخت کا سایہ نہیں ہوتا”
اور تم پہلی بار
بس حیرت اور خاموشی سے مجھے دیکھتے رہ گئے تھے
کیونکہ اس وقت تم
کسی گہری گھنی نظم کی نروات چھاؤں میں تھے
ورنہ تم تو
ہر اچھی بات اور اچھی نظم کا حساب فوراْ ہی برابر کر دیتے تھے

صلاح الدین!
تم انتم یدھ میں
اتنی آسانی سے پسپا کیوں ہو گئے؟
جانتا ہوں تم لڑنا نہیں چاہتے تھے
پھر ہر یدھ میں ہیرو کیوں بن جاتے تھے؟
مجھے دیکھو، میں بھی لڑنا نہیں چاہتا
لیکن مسلسل حالتِ جنگ میں ہوں
اور لگاتار پسپا ہو رہا ہوں
کیونکہ میں اپنے علاوہ کسی پر حاوی نہیں ہو سکتا
لیکن تم۔۔۔۔۔۔ ؟
سمجھ گیا
تمہاری کوئی محبوبہ تم سے ناراض تھی
31592nاور تم اُس کے ہاتھ میں دل رکھے بغیر شہر پناہ سے نکل آئے تھے
تم تو جیسے برقی رتھ پر سوار تھے
کائنات کی حد پار کرتے ہوئے مڑ کر بھی نہ دیکھا
کہ رجزیہ اشعار پڑھنے والیاں کب کی خاموش ہو چکی تھیں
اتنا بھی نہ سوچا
کہ تمہاری محبوبائیں اور تمہاری نظمیں ایک دوسری ہی کی کایا کلپ ہیں
جنھیں جدا جدا کرنے کے لیے
نئی سیمیا، نئے کیموس کی ضرورت ہے
انہیں ایک ساتھ چھوڑ دینا
کہاں کی اذیت ناکی ہے!
اب وہیں رکو، جہاں تک پسپا ہو چکے ہو
اس سے آگے موت تمہارا پیچھا نہیں کرے گی
رکو جب تک کہ جنگ ختم نہ ہو جائے
لیکن یار، جنگیں اور نظمیں ختم کہاں ہوتی ہیں
یہ تو چلتی رہتی ہیں
جب تک کہ وقت ہتھیار نہ ڈال دے
تم بھی اب رکو اور انتظار کرو
جب تک کہ تمہاری ساری محبوبائیں
اپنا اپنا انتظار نہ تج دیں
اور میں، تمہارا جنگل ڈھونڈ کر
تمہارے پاس نہ آ جاؤں
پھر ہم مل کر
وہاں چلیں گے
جہاں کوئی یدھ ہے نہ شترتا
جیت ہے نہ شکست
پسپائی ہے نہ پیش قدمی
صرف ایک ملکوتی حسن ہے،
تمہارے اور میرے پسندیدہ خواب کی ابدیت ہے
آسمانی آبناؤں پر بنے ہوئے نیلگوں راستے ہیں
جن پر ہم باتیں کرتے، نظمیں سنتے سناتے
جوگرز پہنے بنا، ملگجی پاؤں اٹھائے بغیر, دائمی واک پر نکل جائیں گے!

(صلاح الدین پرویز کی یاد میں)

 


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “جنگیں اور نظمیں ختم نہیں ہوتیں

  • 14-03-2016 at 2:25 pm
    Permalink

    چاروں طرف رات کا آرکسٹرا بج اٹھے گا

    دریچوں جیسی لڑکیوں کےدلوں اور روحوں کی بالکونیوں ( کیا استعارے ہیں سیدنا! ایسی دعا کیسے کروں کہ آپ کبھی لمبی واک پر نہ جائیں)

    • 14-03-2016 at 2:50 pm
      Permalink

      مجاہد مرزا صاحب! آپ نے دعا کر تو دی ہے اور ایک بار پھر مجھے رلا دیا ہے۔ عمرِ دراز! اور تا عمر سلامت رہیں!!

  • 15-03-2016 at 10:34 am
    Permalink

    میں حیرت میں پڑ جاتا ہوں جب آپ کی اگلی نظم‘ جو آپ کسی ادیب شاعر کے نام کہتے ہیں، زیر مطالعہ آتی ہے۔ ایسی پرشکوہ نظموں کے آگے میں گفتگو کرنے سے خود کو قاصر محسوس کرنے لگتا ہوں۔ لیکن کبھی تو میں ان پر غالب آؤں گا۔ میں ان پر ایک دن ضرور لب کشا ہوں گا

  • 15-03-2016 at 12:40 pm
    Permalink

    برادرِ محترم رفیع اللہ میاں! آپ ان پر غالب آ جائیے بلکہ “غالب” ہو جائیے اور ان پر لب کشائی کیجیے۔ تخلیق ہمہ وقت کسی آپ جیسے حرف شناس کی منتظر رہتی ہے ۔۔۔۔ 🙂

Comments are closed.