…شادی اور آبادی


 اظہر خان

azhar Khanشادی اور آبادی کا ایک دوسرے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے، کیونکہ کسی بھی خاندان میں جب تک شادی نہ ہو تب تک آبادی بھی نہیں ہوتی، اس لیے دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ہمارے ایک ” دُور” کے دوست اور ایک مشہور ” سیاسی رہنما” نے اسی لیے شاید آج تک شادی نہیں کی ، تاکہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی ”آبادی” کو کنٹرول کرنے میں کم از کم اپنا کردار پوری جانفشانی کے ساتھ ادا کر سکیں۔
پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، اور اکنامک سروے آف پاکستان2014-15 کے مطابق اس وقت ملک کی آبادی تقریباً انیس کروڑ کے لگ بھگ ہے، جس میں شہری آبادی تقریباً ساڑھے سات کروڑ اور دیہی آبادی ساڑھے گیارہ کروڑ کے قریب ہے۔ا س میں اضافہ بتدریج جاری ہے اور 2050 تک یہ تعداد تیس کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، پاکستان میں موجودہ شرح پیدائش 1.92 فیصد ہے اور اس حوالے سے اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ ہم تمام ایشیائی ممالک میں سر فہرست ہیں۔
آبادی میں بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ہماری گورنمنٹ، فلاحی ادارے اور غیر سرکاری ادارے فیملی پلاننگ یا خاندانی منصوبہ بندی جیسے منصوبوں کے ذریعے “رکاوٹیں” ڈالنے کی کوششوں میں پوری کوشش کر رہے ہیں،لیکن آبادی کو نہ روکنے کے لیے بہت سے دلچسپ حقائق بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے ابھی تک یہ اضافہ برقرار ہے۔
گزشتہ سال ہمیںایک گاﺅں کے گھر میں جانے کا اتفاق ہوا ،تو وہاں پر دو درجن کے قریب بچے ایک کھیل کھیلنے میں مصروف تھے جس کو “کوکلہ چھپاکی” کہتے ہیں، اس کھیل میں سب بچے آنکھیں بند کر کے ایک دائرے میں بیٹھتے ہیں اور ایک بچہ اپنی آواز میں گاتا ہوا اس دائرے کے گرد چکر لگاتا ہے، بول کچھ یوں ہوتے ہیں
کوکلہ چھپاکی جمعرات آئی ہے
جیہڑا پیچھے ویکھے اودی شامت آئی ہے
اور واقعی جو پیچھے دیکھے اس کی شامت آجاتی ہے اور اگلی باری اس کی ہوتی ہے، تو پہلے تو ہمیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ شہروں میں ویڈیو گیمز، کینڈی کرش، اور موبائل گیمزوغیرہ سے گاﺅں کی یہ گیم جسمانی صحت اور کھیل کود کے لحاط سے انتہائی دلچسپ سرگرمی ہے، اور یہ بھی خوشی ہوئی کہ پورے گاﺅں سے بچے یہاں اکٹھے ہیں، لیکن اگلے ہی لمحے ہم پر انتہائی حیران انکشاف ہوا کہ اس گھر میں دو کزن رہ رہے تھے ، دونوں نے دو ، دو شادیاں کی ہوئی تھیں اور اللہ کے فضل و کرم سے دونوں کے درجن، درجن بچے تھے اور” مقابلے کی فضا” ابھی تک جوں کی توں برقرار تھی۔ ہمیں پوچھنے کی جرات تو نہ ہوئی کہ اس ” خاص مقابلے ” کی وجہ کیا ہے، لیکن ہماری آنکھوں میں استعجاب کی کیفیت دیکھ کر صاحب خانہ خود ہی فرمانے لگے کہ ” یہ تو اللہ کی دَین ہے، اللہ جسے چا ہے نواز دیتا ہے” ۔ ہم نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ آپ کے وسائل کو دیکھتے ہوئے تو یہ ” تعداد ” بہت زیادہ ہے، آپ ان سب کے اخراجات کیسے برداشت کریں گے، ملک میں پہلے ہی بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، تو وہ فرمانے لگے ” جی جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان کے رزق کا بندوبست بھی کر دے گا،آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔۔ ان کے بقول مسجد کے مولوی صاحب نے فرمایا ہے کہ “خبردار جو اللہ کے کاموں میں “مداخلت” کرنے یا کسی ایرے غیرے کی باتوں میں آنے کی کوشش کی” بقول ان کے مولوی صاحب کے اپنے بھی دس سال کی شادی میں نو بچے ہوئے تھے جن میں صرف پانچ حیات تھے اور باقی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ لیکن مولوی صاحب نے ان صاحب کو دیکھتے ہوئے یہ تہیہ کیا تھا کہ وہ بھی ” درجن” کی تعداد مکمل کرنے کے بعد ہی فیصلہ کریں گے کہ مستقبل میں مزید “اضافہ” کرنا ہے یا نہیں۔ آبادی میں اضافہ کے کچھ اور بھی دلچسپ حقائق ہیں جیسا کہ کچھ لوگوں نے تو آبادی بڑھنے کی وجہ ہفتے میں دو چھٹیاں قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق چھٹیوں کے دوران لوگ تفریحی مقامات پر جانے کی بجائے “آبادی میں اضافہ” کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک ا ور دلچسپ وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جتنے زیادہ بچے پیدا کریں گے وہ بڑے ہو کر خاندان کی آمدنی بڑھانے کرنے کے لیے مزدوری یا پھر کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کریں گے اس طرح خاندان کی آمدنی میںاضافہ ہو گا اور خاندان خوشحال بھی رہے گا۔اسی طرح بچپن میں شادی کر دینا، شادی کے بعد فیملی پلاننگ کا نہ ہونا ، دوسروں کی دیکھا دیکھی یا پھر اپنی “پگ ” اونچی کرنے کے لیے بچے پیدا کرنا، مسلسل بیٹیاں پیدا ہونے اور بیٹا پیدا نہ ہونے کی صورت میں مزید ” کوششیں” جاری رکھنا، یا پھر کوئی بھی اورکام نہ ہونے کی صورت میں بس آبادی بڑھانے پر ہی توجہ دینا آبادی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
آبادی میں اضافہ کی وجہ سے لوگوں کو تعلیم، آمدورفت، پانی، بجلی، علاج معالجے، روزگار، رہائشی سہولتوں اور دوسری بہت سی بنیادی ضروریات زندگی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں چوری، ڈکیتی، لوٹ مار، دھوکہ دہی اور قتل و غارت جیسے جرائم کے رجحان میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ آئے روز اخبارات ایسی خطرناک خبروں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں جس میں بے روزگاری یا انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے کی وجہ سے پورے کے پورے خاندان خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
دنیا کے بہت سے ممالک نے آبادی میں اضافہ کو روکنے کے لیے نہایت اچھے اقدامات کیے ہیں، مثال کے طور پر چائنہ میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے بیس سال تک ” ایک بچہ” کی پالیسی رہی اور 2015 میں کمیونسٹ پارٹی نے ” دو بچوں” کی اجازت دے دی۔ اگرچہ پھر بھی چائنہ کی آبادی پاکستان سے چار گنا زیادہ ہے لیکن چائنہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور وہاں لوگوں کو اس طرح کے مسائل کا سامنانہیں کرنا پڑتا جس طرح سے ہم لوگ مسائل کا شکار ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حالات کے مد نظر بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لیے نہ صرف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو اپنے کردار کو نہایت اہم طریقے سے ادا کرنا چاہیے بلکہ فرد واحد کا بھی اس سلسلے میں کردار نہایت اہم ہے، لوگوں کو فیملی پلاننگ کے حوالے سے شعور دیا جائے، دیہی سطح پر امام مسجد اپنے وعظ میں اگر صحیح طریقے سے لوگوں کو بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے در پیش مسائل کے بارے میں آگاہ کر ے تو اس سے بھی صورتحال کافی بہتر ہو سکتی ہے ، میڈیا چینلز کو چاہیے کہ اس حوالے سے مسلسل پروگرامز دکھائیں جن میں ماہرین حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی آراءدیں۔ ۔”دو بچے۔۔خوشحال گھرانہ” جیسے سلوگن کو اگر موثر انداز سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے تو وہ نہ صرف ایک بہتر خاندان کی تشکیل کر پائیں گے بلکہ کم وسائل میں بھی وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر پائیں گے، اس طرح سے ایک خاندان بھی خوشحال رہے گا اور آبادی بڑھنے کی وجہ سے درپیش مسائل سے بھی بہتر طور پر نمٹا جا سکے گا۔


Comments

FB Login Required - comments