تعلیم شعور دینے میں ناکام کیوں؟


محمد عمار احمد

?

علم جہالت کو مٹاتا ہے اور انسان کو شعور بخشتا ہے۔ اسی علم کے سبب انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا اور ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ انسان کو سجدہ کریں۔ ہمارے یہاں دینی و عصری تعلیمی ادارے ہر جگہ موجود ہیں، تعلیم وتعلم کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریباً ہر محلے میں مسجد ومدرسہ، سکول وکالج اور ہر شہر میں جامعات کی شاخیں بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے موجود ہیں جہاں سے سالانہ لاکھوں لوگ علم سے بہرہ ور ہو کر نکلتے ہیں اور معاشرے میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ مدارس سے بھی طلباء کی بڑی تعداد ہر سال علماء، حفاظ اور قراء بن کرخدمتِ دین میں اپنا حصہ ملاتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہاں سب تعلیمی سلسلوں کے باوجود ہمارے معاشرے میں جاہلانہ رسوم و رواج رائج ہیں اور پڑھا لکھا طبقہ بھی اس کا حصہ ہے۔

اس معاشرے میں ’’پِیرصاحب‘‘ کے حکم پر ماں اپنے جواں سال بیٹے کو قتل کر دیتی ہے۔ معصوم بچی کو’’پِیر صاحب ‘‘ یہ کہ کر جلا دیتے ہیں کہ اس سے جادو کا اثر ختم ہو جائےگا۔ انہی کے چنگل میں آکر خاندان تباہ ہو رہے ہیں، رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے، باہمی نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اب بھی کالی بلیوں کو خوف اور نحوست کا سبب جانا جاتا ہے، صفر کا مہینہ آج بھی منحوس ہے۔ عورتوں کو ونی کیا جا رہا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور درندوں کے سپرد کر دیا جاتاہے۔ غربت و جہالت کے سبب اولاد فروخت کی جاتی ہے یا قتل کر دی جاتی ہے۔ بےروزگاری، گھریلو حالات، تعلیم اور ’’محبت ‘‘ میں ناکامی کے سبب خود کشیاں معمول بن چکی ہیں، اپنے پورے کنبے کو ذبح کر دیا جاتا ہے یا پھر زہر دے دیا جاتا ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر لڑائی شروع ہوتی ہے اور قتل و قتال پر آکر رکتی ہے۔ مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں غیرت کے نام پر قتل ہورہی ہیں۔ بیماریوں کا سبب جن بھوت سمجھے جاتے ہیں اور مصائب کا سبب جادواور تعویذ۔ پھر علاج کی بجائے عاملوں اور نام نہاد پیروں فقیروں کے پاس لےجایا جاتا ہے اور علاج نہ ہونے کے سبب لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ سب ایک مہذب معاشرے کی علامتیں نہ ہیں بلکہ پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم آج بھی جاہلانہ روایات سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

تعلیمی اداروں کے ہوتے ہوئے بھی ہم میں جاہلیت جیسی روایات کیوں ہیں ؟ وجہ یہ ہےکہ ہماری ترجیحات ہی کچھ اورہیں، تعلیم علم کے حصول کے لئے نہیں بلکہ دولت کے حصول کے لئے فراہم اور حاصل کی جاتی ہے۔ یہی سبب ہےکہ ہم چند ٹکوں کے عوض ڈگریاں خرید کر نوکری حاصل کرتے ہیں اور پھر دولت کمانا ہی ہمارا واحد مقصد ہوتا ہے نہ کہ ملک، مذہب اور قوم کی خدمت کرنا۔ اقتدار کی مسندوں پر براجمان عوامی نمائندوں کی ترجیحات مہنگے منصوبے ہیں جن سے انہیں بھی ’’کچھ ‘‘ حاصل ہو کہ بہر حال وہ عوامی نمائندے ہیں۔ عوام کی ترجیح دولت ہے تو ان کے نمائندوں کا مذہب اور ملک سے کیا لینا دینا۔ اہل اقتدار کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جرگے اور پنچائتی نظام پر کڑی نظر رکھیں اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں، جعلی پِیروں اور عاملوں کو سخت سزائیں دیں۔ تعلیمی نصاب میں ان فرسودہ توہمات کے سد باب کے لئے مضامین شامل کئے جائیں۔ اہلِ منبر کی ترجیحات بھی اپنی جماعت، فرقے اور مسلک کا ’’دفاع ‘‘ ہے انہیں اس سے فرصت ملے گی تو ادھرنظرِ التفات کریں گے۔

رونا جعلی پِیروں کا نہیں بلکہ اصلی پِیروں کا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں، انہیں اپنی ذمہ داریوں کوسمجھنے اور نبھانے کی ضروررت ہے۔ اہل منبر کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کوخدا کے نزدیک کریں تا کہ وہ جعلی عاملوں کے پاس جا کر اپنی عزت و آبرواور اولاد قربان نہ کریں۔ در در کی ٹھوکریں کھانے کی بجائے ایک در پراپنے مسائل پیش کریں اور مصائب سے تنگ آکر اپنے بچوں کے گلے کاٹنے کی بجائے ان پر صبر کریں اور ان سے چھٹکارا پانے کے لئے جدو جہد کریں۔ کافروں اور زندیقوں کی پہچان کی بجائے انہیں اللہ کی پہچان کرائیں تا کہ وہ خودکشیاں کرنے کی بجائے اپنی مشکلات کو برداشت کریں اور اپنے لئےآسانیاں پیدا کرنے کی تدبیر کریں۔ تعلیم کا مقصد علم کا حصول ہو نہ کہ دولت کا اور ترجیح اپنی ذات نہ ہو بلکہ ملک مذہب اورقوم ہو۔ عوام کو اپنےان فرسودہ خیالات اور روایات کو ترک کرنا چاہئے۔ علم کے نور سے خود کوبھی منور کریں اور دوسروں کو بھی علم کی اہمیت سے روشناس کرائیں اورمعاشرے کے مفلس و نادار لوگوں کی حصولِ علم میں مدد کریں تاکہ تعلیم کامقصد پورا ہواور اس طرح کی فرسودہ روایات و رسومات سے اپنا پیچھا چھڑائیں جو انسانی،اخلاقی اور مذہبی اقدار کے خلاف ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments