حبیب جالب: ایک عہد ایک تحریک


rana

کل ١٣ مارچ کے دن عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ کیا نابغہ روزگار شخصیت تھی کیا سچا سادہ اور خوبصورت انسان تھا۔ جالب کی شاعری میں کوئی مصلحت پسندی نہیں تھی جو بھی محسوس کیا کہہ دیا کبھی وہ شخص کسی بڑے سے بڑے آمر سے بھی خائف نہ ہوا۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی جالب کو زیر نہ کرسکیں۔ وقت کے ہر آمر کے ساتھ اس کی لڑائی رہی لیکن اس عظیم انسان نے بہادری سے ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کیا۔ ہر طریقے سے جالب کو خریدنے کوششیں ہر دور میں کی گئیں لیکن اس درویش نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ جرنل ضیاء الحق کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا جب انہوں نے شہرہ آفاق نظم ”ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا” قلمبند کی تھی۔ یہ نظم ضیاء الحق کے منہ پرطمانچہ تھا۔ کوڑوں اور پھانسیوں کے اس سیاہ دور میں ایسی نظم لکھنا اور پھر اسے عام لوگوں کے مجمعے میں لہک لہک کر ترنّم کیساتھ پڑھ دینا یہ جوانمردی جالب ہی کرسکتا تھا۔ اس نظم نے ہر طرف دھوم مچادی اور جالب کو قید کردیا گیا نظم ملاحظہ ہو۔

ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں ، دم گھٹتا ہے گنبدِ بے دَر میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت سے کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

یہ اہلِ چشم یہ دارا و جَم سب نقش بر آب ہیں اے ہمدم
مٹ جائیں گے سب پروردۂ شب ، اے اہلِ وفا رہ جائیں گے ہم
ہو جاں کا زیاں، پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

لوگوں ہی پہ ہم نے جاں واری ، کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم ، شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نُما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

حق بات پہ کوڑے اور زنداں ، باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں ، خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم ، اس دُکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ہر شام یہاں شامِ ویراں ، آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دُھن میں نکلے تھے ، وہ شہر دلِ برباد کہاں
صحرا کو چمن، بَن کو گلشن ، بادل کو رِدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

اے میرے وطن کے فنکارو! ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراؤں کے باسی ، قاتل ہیں سبھی اپنے یارو
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملِا ، اس غم کو نیا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیاء، صَر صَر کو صبا ، بندے کو خدا کیا لکھنا

اس نظم سے کافی عرصے بعد ایام اسیری کے دوران جالب کو کسی نامہ بر نے جرنل ضیاء الحق کا پیغام دیا کہ تمہیں معافی مل سکتی ہے بشرطیکہ تم میرے خلاف لکھنا بند کردو سرکار تمہارا مناسب وظیفہ مقرر کردے گی جس سے تم بخوبی اپنے خاندان کی کفالت بھی کرسکو گے اور ساتھ یہ بھی پیغام تھا کہ میری سرکار تمہاری نظموں سے نہیں گرے گی۔ تمہارے لئے یہی بہتر ہے ہم سے دوستی کرلو اس پر جالب کہا

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں
ارے لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تیری
اور ہم تیری دوستی سے ڈرتے ہیں

١٩٨٢ سے لیکر ١٩٨٥ تک خاکسار کو بھی جالب کی محفلوں سے فیض یاب ہونے کا متعدد بار موقع ملا۔ ان کی شخصیت کو بہت قریب سے دیکھا۔ ان کی شاعری ان کے انتہائی خوبصورت ترنّم میں ڈھل کر سامعین پر ایک جادو کی کیفیت طاری کردیتی تھی۔ ہر شخص اسکے سحر میں ڈوب جاتا تھا۔ لاہور مال روڈ پر بینک اسکوائر میں پرانی سٹاک ایکسچینج بلڈنگ کے سامنے ہمارے ایک مرحوم دوست مزمّل شاہ صاحب کا دفتر تھا وہاں روزانہ رات کو جالب مرحوم کیساتھ محفل جمتی تھی جسمیں خاکسار کے علاوہ خالد چودھری، خالد ٹکا مرحوم کبھی کبھی چودھری انورعزیز اور بھی شخصیات جو کے آج کل ہمارے صحافتی حلقوں میں بہت ہی بلند مقام پر فایز ہیں اس دور میں وہ اتنی نمایاں نہیں تھی وہ بھی وہاں موجود ہوتی تھیں بقول شاعر

سنگریزے رفتہ رفتہ کوہ قامت ہوگئے
جنہیں فتنہ سمجھتے تھے وہ قیامت ہوگئے

ضیاء الحق کا مارشل لاء پورے جوبن پہ تھا۔ مزمّل شاہ مرحوم کا دفتر ہی ایک جائے پناہ تھی جہاں سب کے لیے مشروبات اور کھانے کا بندو بست بھی ہوتا تھا۔ جالب اکثر دیر سے شامل ہوتے تھے لیکن سماں باندھ دیتے تھے۔ حبیب جالب پاکستان کے غریب مزدور اور پسماندہ طبقے کی آواز تھے۔ ان کو اس بات کا بے حد قلق تھا کے اتنی بیش بہا قربانیاں دے کر یہ ملک کیا اس لیے بنایا گیا تھا کہ انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہم فوجی آمروں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیں اور ملک کے وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ ہوجائے۔ حبیب جالب ملّایت کے سخت خلاف تھے وہ دین پر ملّا کی اجارہ داری کے سخت مخالف تھے۔ ان کے نزدیک اسلام کو سب سے زیادہ خطرہ ان نام نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں سے ہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جالب کا ذکر ہمیشہ سنہری الفاظ میں کیا جائے گا اور جالب کی جدوجہد بلخصوص فوجی آمروں کے خلاف ہماری تاریخ کا تابندہ باب ہے۔ جالب کی شاعری میں ہماری سیاسی اشرافیہ کے لئے بھی ایک واضح پیغام ہے

اصول بیچ کے مسند خریدنے والو
نگاہ اہل وفا میں بہت حقیر ہو تم
وطن کا پاس تمہیں تھا نہ ہوسکے گا کبھی
کہ اپنی حرص کے بندے ہو بے ضمیر ہو تم


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan