شہر کی کماؤ پوت سڑکیں


ghaffer

صنعتی انقلاب کی بنیاد پہیّے پر ہے اور پہیہ مشین کے ساتھ ساتھ ذرائع آمدورفت میں اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی اکائی کہ جس کو اگر کُل سے منہا کر دیا جائے تو باقی غیر متحرک ڈھانچہ بچتا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے جسم سے رُوح نکل جائے تو جسم محض مٹی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ جب انسان گھوڑوں، اونٹوں اور اپنے پاؤں پر سفر کرتا تھا تب راستے راہگذر ہوتے تھے اور سمت نمائی کیلئے مسافر ستاروں سے مدد لیتے تھے۔ اسی لئے عہدِ قدیم کے آغاز میں فلکیات کا علم متعارف ہو گیا تھا اور ماہرین فلکیات نے خدا اور کائنات کے اسرار ورموز کے عقدے کو حل کرنے کیلئے اپنی تمام تر توجہ ستاروں پر مرکوز کر دی تھی۔ سفر اس لئے بھی راتوں کو ہوتا تھا کہ دن کی حدت کے مقابلے میں رات زیادہ پرآسائش تھی۔ وقت بدلا، راستے اور رہگذر سڑکیں بن گئیں۔ اس لئے کہ ترقی یافتہ انسان کو آمدورفت کیلئے دو یا چار پہیوں والی گاڑی اور گاڑی کو چلنے کیلئے پختہ سڑکوں کی ضرورت تھی۔ یہ سڑکیں اور گاڑیاں معیشت اور معاشرے پر اتنی غالب آگئیں کہ شہری آبادکاری یا منصوبہ بندی کیلئے سب سے پہلے سڑکیں ہی تعمیر کی جانے لگیں۔ شہر کے حجم میں اضافہ ہوا، فاصلے بڑھے، تو شہر کے اندر ٹریفک کے ہجوم کے سبب شاہراہوں پرسے گزرنا مشکل ہوا۔ شہر کے ایک حصّے سے دوسرے حصّے میں جانے کیلئے بائی پاس اور رنگ روڈ کا تصور معرضِ وجود میں آیا۔ ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیلئے سرکاری و پرائیویٹ سطح پر بڑے بڑے ادارے وجود میں آئے۔
ان سڑکوں کی تعمیر کے لیے حکومت ہر سال اپنے بجٹ میں کثیر رقم مختص کرتی ہے اور پھر ان سڑکوں پر رواں دواں ٹریفک سے ٹول ٹیکس اورسالانہ ٹوکن وغیرہ کی شکل میں رقم وصول کرتی رہتی ہے۔ دریا کے ہرپُل پر سے گذرتے ہوئے آپ کو ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ پلوں پر یہ وصولی اس لئے کی جاتی ہے کہ دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جانے کا واحد راستہ پُل ہی ہوتا ہے لہذا راہِ فرار یا بچ نکلنے کا کوئی چور دروازہ نہیں رہتا۔ شہروں کو باہم ملانے والی سڑکوں کی حد تک ٹیکسوں کی ادائیگی کو ذہن اور دل قبول کرتا رہا ہے اور اب بھی قبول کرنے کیلئے تیار ہے مگر گذشتہ چند برسوں سے یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ شہر میں چلتی ان سڑکوں کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور ہر سال اچھی خاصی رقم اس مد میں مختلف ادارے سمیٹ لیتے ہیں۔
پہلے پہلے تومیونسپل کارپوریشن اور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہر کی سڑکوں کے کنارے پارکنگ کی جملہ سہولت فراہم کیے بغیر پارکنگ کی سالانہ نیلامی کے ذریعے ٹھیکہ جات دئیے۔ تمام بڑی سڑکوں، مارکیٹوں اور کمرشل سنٹرز کے باہر پارکنگ کی نیلامی کا سالانہ ٹھیکہ اخبار میں اشتہار دے کر کیا جاتا تھا۔ ٹھیکیدار حکومتی اداروں کو یک مشت ادائیگی کر دیتا مگر خود اس کے ہرکارے سارا سال یہ رقم لوگوں سے وصول کرتے رہتے اور خود بھی اچھی خاصی آمدن حاصل کر لیتے۔ مقابلے کا رحجان ہوا تو ٹھیکہ کی رقم بڑھ گئی اور عوام الناس سے گاڑی اور موٹر سائیکل کیلئے پارکنگ فیس ڈبل کر دی گئی۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ حاصل ہونے والی رقم پارکنگ کی بہتر سہولیات، پارکنگ پلازوں کی تعمیر، سڑکوں پر پارکنگ کے نشانات، ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور سائن بورڈ کی تیاری و تنصیب وغیرہ پر خرچ کی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں اس رقم کو کارپوریشن کی معقول سالانہ آمدن کا حصّہ سمجھ کر دیگر اخراجات کی ذیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ صاحبانِ اختیار کی یک رخی سوچ نے کبھی اس جانب دھیان ہی نہیں دیا۔
جب سے پنجاب میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA)کا محکمہ وجود میں آیا ہے ،باغات میں داخلہ ٹکٹ اور پارکنگ فیس اب یہ محکمہ وصول کرتا ہے اور چونکہ سڑکوں پر اور سڑکوں کے دو اطراف سبزہ، درخت و پھول لگانے کی ذمہ داری بھی پی ایچ اے کی ہے لہذا اب ان سڑکوں سے حاصل ہونے والی کمائی کی بھی انہوں نے نئی نئی صورتیں نکال لی ہیں۔ سڑک پر کوئی بینر یا اشتہار، بل بورڈ، سائن بورڈ، فلیکس وغیرہ ایک، دو یا زیادہ دن کیلئے لگانا ہو، اس کی اجازت پی ایچ اے سے لینا پڑتی ہے اور اس کیلئے فیس جمع کروانا پڑتی ہے۔عدم ادائیگی کی صورت میں محکمہ کا ٹرک لئے گھومتا عملہ یہ بینر یا بورڈ فوراً اتار دیتا ہے۔ اس کام کیلئے شہر کی اہم اور بڑی شاہراہیں ہی اصل کماؤ پوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مال روڈ ہو، جیل روڈ، فیروزپورروڈ، مین بلیووارڈ، غرض ہر سڑک پر بینر یا فلیکس لٹکانے کی اپنی فیس ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے تو سالانہ بنیاد پر ان سڑکوں پر ایڈورٹائیزنگ کیلئے مختلف پارٹیوں نے ٹھیکے لینے شروع کر دئیے ہیں۔ ہر سال جیل روڈ، مال روڈ، فیروزپور روڈ وغیرہ سال بھر کیلئے بکتی ہیں اور خاصی معقول رقم پی ایچ اے کے اکاؤنٹ میں بغیر ہینگ یا پھٹکڑی لگائے منتقل ہو جاتی ہے۔ پی ایچ اے کے سالانہ بجٹ کاخاصا اہم حصّہ یہیں سے پورا کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے شہر کی یہ معروف سڑکیں کماؤ پوت کا درجہ رکھتی ہیں۔ کینال روڈ پر بہاریہ میلہ ہو یا ایم ایم عالم روڈ کی تزئین و آرائش، اس کے تمام اخراجات عوام الناس ہی کسی نہ کسی صورت میں برداشت کرتے ہیں۔ یہ روز مرہ زندگی کے لازمی ٹیکس ہیں جو علاوہ دیگر ٹیکسز کے لوگوں سے زبردستی وصول کیے جاتے ہیں۔ اب تو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اورلاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، جیسے ادارے بھی پی ایچ اے کے متوازی قائم ہو گئے ہیں جو شہر کو صاف ستھرا بنانے اور خوبصورت کرنے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں مگر ان کی قیمت عوام الناس کی جیبوں سے ہی کسی نہ کسی صورت میں نکل رہی ہے۔
یہی جدید طرزِ زندگی اور سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں ہیں جن کیلئے عوام الناس سے جبری وصولی کی جاتی ہے اور لوگ طوعاً و کرہاً ادائیگی کرتے رہتے ہیں۔ مغرب میں بھی معیارِ زندگی کو قائم رکھنے کیلئے لوگ آمدن کا 40 سے50 فیصد تک ٹیکس کی مد میں حکومت کو خوشی نا خوشی دیتے ہیں ۔البتہ انہیں اس بات پر اعتماد ہوتا ہے کہ یہ شہری سہولتیں کہ جن سے وہ مستفید ہو رہے ہیں، ان کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ایک طرح سے ان کی شراکت داری ہے مگر ہمارے ہاں ایسا تاثر اور باہم اعتماد ابھی تک قائم نہیں ہو پایا۔ سڑکوں کے کنارے لگی پھل و سبزی کی ریڑھیوں سے کارپوریشن کا عملہ اپنی جیبیں بھرتا ہے۔ اسی طرح سڑک کے کنارے ایستادہ بجلی و ٹیلی فون کے کھمبے اور زیرِ زمین گیس و پانی کے پائپ بچھانے کے لیے، وفاقی محکمے سڑکوں کے دونوں اطراف کی سرکاری جگہ کو فی سبیل اللہ استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں مگر یہاں فٹ پاتھوں کی تعمیر، پینے کے لیے پانی ،اسٹریٹ لائٹ یا پبلک ٹیلی فون کی سہولت کی فراہمی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ حکومت کو پیدل چلنے والوں کے حصّے کی اس جگہ کو استعمال کرنے والے وفاقی و صوبائی محکموں کے کاندھوں پر ایسی عوامی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری بھی ڈالنا چا ہیے۔


Comments

FB Login Required - comments