امجد علی خان ، سرود اور راگ پیلو….


muhammad Shahzadاسد قزلباش پاکستان کے واحد سرود نواز ہیں۔ اب اعتراض کرنے والے چیخیں گے کہ میاں کیا کہہ رہے ہو۔ ابھی تو استاد نذر حسین حیات ہیں۔ بالکل ہیں۔ مگر کئی دہائیاں پہلے وہ سرو د بجانا چھوڑ چکے تھے۔ اور ویسے بھی علی اکبر باج بجاتے تھے لہذا پرانی طرز کا سرود تھا ان کا جسے انگلیوں کی پوروں سے بجایا جاتا تھا۔ اسد تو پیروی کرتے ہیں استاد امجد علی خان کے باج کی۔ اس انداز کا سرود نرالا ہے۔ ناخنوں کے افقی کناروں سے بجتا ہے اور بجانے والا ایک ہفتے میں دو سے زیادہ بار فن کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ کافی مقدار میں کیلشیم کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں تا کہ ناخن جلد از جلد بڑھ جائیں یا پھر نقلی ناخن مضبوطی سے چپکانے پڑتے ہیں مگر ایسا کرنےمیں چند خدشات بہرحال موجو د رہتے ہیں۔

اس تناظر میں اسد بلاشبہ پاکستان کے واحد سرود نواز ہیں۔ مراثی یا ڈھاڑی طبقے نے تو اسد جیسے عبقری (genius)کو تو کبھی قبول نہیں کرنا۔ کیونکہ اسد کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے جس نے موسیقی سے جنون کی حد تک پیار کیا اور سیکھا اور اپنایا۔ اسد کے والدِ مرحوم قزلباش صاحب PNCA میں ڈائریکٹر تھے اور بہت قابل وائلن نواز تھے۔ میوزک نوٹیشن پر بھی عبور تھا۔ یہ علم اسد نے بچپن میں ہی ان سے لے لیا۔ پھر خود ہی گٹار بجانا سیکھ لیا۔ بچپن سے ہی ریڈیو اور ٹی وی کے اے کلاس فنکار بن گئے۔ شوق مغربی موسیقی ہی رہا۔ اسی کی دہائی میں استاد امجد علی خان پاکستان تشریف لائے۔ راولپنڈی لیاقت ہال میں پرفارم کرنا تھا۔ اسد اور دیگر بچوں کی وین میسر نہیں تھی جو انہیں واپس گھر چھوڑ سکے۔ یہ وین خان صاحب کو لینے گئی تھی۔ اب اسد صاحب کا کیا لینا دینا کلاسیکل میوزک سے۔ چارونا چار پہنچ گئے ہال میں اور مجنوں کی طرح دیوانے ہو گئے سرود کے جیسے ہی خان صاحب نے کھرج لگایا۔ کمار بوس طبلے پر تھے۔ راگ شری تھا۔ اسد عقل کھو بیٹھے۔ اسی جنون نے انہیں اس پائے کا سرود نواز بنا دیا کہ اچھے سے اچھا سن کر یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ آیا اسد بجا رہے ہیں یا خان صاحب۔ ہمارے دوست استاد شاہد پرویز، ہندوستان کے مانے ہوئے ستار نواز جب پاکستان آئے تو ہم نے شرارتاً اسد کی کیسٹ لگا دی۔ چونکہ استاد آدمی تھے ۔ تاڑ گئے۔ بولے شہزاد بھائی کوئی اور ہو تو واقعی دھوکہ کھا جائے مگر میں نے تو امجد علی خان کے ساتھ ایک عمر بتائی ہے۔ یہ امجد علی تو نہیں مگر کوئی ہے جو ان جیسا بجا رہا ہے۔

اسد نے جوئے کی تکنیک لی گٹار سے اور پلیکٹرم کی وائلن سے۔ اس طرح خود ہی سرود بجانا شروع کر دیا۔ جب ہندوستان گئے تو امجد علی خان صاحب ان سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ گنڈا باندھا۔ دعا دی۔ جب بھی یورپ میں اگر خان صاحب بجا رہے ہوں اور سننے والوں میں اگر اسد ہوں اور خان صاحب کو نظر آ جائیں تو خان صاحب اپنے دونوں بیٹوں امان اور ایان کو اشارہ کریں گے کہ دیکھو اسد بھی ہیں انہیں اشارے سے سلام کرو۔

asadاسد ہمارے پیارے دوستوں میں سے ہیں۔ ہم فارغ وقت انہی کے ساتھ گذارتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ہمارا چھوٹا سے بھائی شیری بھی ہوتا تھا۔ ہم سے اٹھارہ سال چھوٹا۔ ہم چوبیس کے تھے۔ جب شیری اٹھارہ کا ہوا تو کہنے لگا کہ گٹار سیکھنا ہے۔ سیکھو بھئی۔ اسد ہیں نہ۔ اسد بھی ہوشیار۔ بچہ برین واش کر دیا۔ جب گٹار سکھا دیا تو ایک دن وہی چیز سرود پر سنا دی شیری کو۔ شیری کا بھی وہی حشر ہوا جو اسد کا تھا جب لیاقت باغ میں راگ شری چھڑا تھا۔ شیری بولا میں نے تو سرود سیکھنا ہے۔ اب سرود کہاں سے لائیں۔ انڈیا ہی سے ملتا ہے۔ خیر شاہد پرویز بھائی کو درخواست کی۔ انہوں نے بنوایا اور ہم پونے گئے لینے۔ اس دوران اسد نے شیری کو اپنا پرانا سرود جس پر انہوں نے سیکھا تھا، دے دیا۔ اتنا پیار اور اتنی فراخدلی، کسی اتائی ہی میں ہو سکتی ہے۔ شاہد پرویز صاحب نے جب شیری کا سرود سنا تو خوش ہوئے۔ طبلے پر سنگت ہم نے کی۔ ہماری بھی حوصلہ افزائی کی۔

سرود بجتا رہا مگر طالبان پر عروج آتا رہا۔ اتنا آ گیا کہ اسد کو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ یا تو موسیقی چھوڑ دو یا پھر جینا۔ اسدبلجیئم چلے گئے۔ سیاسی پناہ بھی مل گئی۔ بہت خوشی ہوئی۔ اشرف شریف پہلے ہی جرمنی سیٹل ہو چکے تھے۔ فرید نظامی امریکہ سدھار چکے تھے۔ سب ہی اچھے کلاکار ملک چھوڑ چکے تھے۔ اسد کا کام باہر زیادہ اچھا چلنے لگا۔ کنسرٹ ہوتے تھے۔ ہندوستان سے آئے فنکاروں سے بھی تبادلہ خیال ہوتا تھا۔ اسد کا سرود مزید نکھر گیا۔

اب اس بات کی طرف آتے ہیں جس نے یہ مضمون لکھنے پر طبیعیت مائل کی۔ ہم نے موسیقی پر لکھنا عرصہ ہوا چھوڑ دیا کیونکہ موسیقی باقاعدگی سے سیکھنا شرو ع کی تو احساس ہوا کہ جو بھی لکھا سب جہالت تھی۔ موسیقی تو سیکھنے اور کرنے کی چیز ہے لکھنے کی نہیں۔ خدا کا شکر ہے ہمیں پروفیسر شہباز جیسے استاد نصیب ہوئے جنہوں نے اتنی ہی دریا دلی سے ہمیں تعلیم دی جتنی اسد نے شیری کو۔ ہوایوں کہ چند روز قبل اسد نے اپنے فیس بک پیج پر راگ پیلو کی انتہائی مختصر ریکارڈنگ ڈالی۔ سب نے تعریف کی۔خوبصورت تھا۔ تکنیکی اعتبار سے با لکل درست۔ نہ جانے اشیش خان کو کیا ہوا کہ اس پوسٹ پر یہ تبصرہ کر دیا کہ میاں پہلے سرود بجانا تو سیکھ لو۔ سب پاکستانیوں کو رگڑتے ہوئے فرمانے لگے کہ تم لوگ سیکھتے ہو نہیں اور خان صاحب بن جاتے ہو۔ کسی مستند گرو سے سیکھو۔ شیر ی تو بہت رنجیدہ ہو۱۔ پوسٹ شئیر کر ڈالی ڈاکٹر حسن آزاد سے جو کہ مانے ہوئے ریاضی دان ہونے کے علاوہ ستار بھی بجاتے ہیں۔ استاد شریف خان پونچھ والے کے شاگرد ہیں۔ geniusایسے کہ کوئی بھی مشکل سے مشکل تان کہ دو فی الفور Mozartکی طرح اس کی نوٹیشن notationکر دیں گے۔ حسن نے کہا پیلو میں تو کوئی خامی نہیں۔ اب اسد، درویش انسان۔ اشیش کے تبصرے پر بولے کہ خان صاحب ہم تو سب استادوں کو مانتے ہیں۔ اور آپ مہان ہیں۔

Asad with Ustad Amjad Ali khanاب ہم تو اسد جیسے درویش نہیں۔ طبیعیت میں کافی بھانڈ پن بھی ہے۔ اور منہ پھٹ صحافی بھی ہیں۔ وجاہت مسعود جنہیں ہم پیار سے وجاہت بھائی اور احترام سے استادِ محترم کہتے ہیں پہلے ہی ہماری تلخی سے نالاں ہیں اور ہمارے مضامین دس دس دن روک لیتے ہیں اور بار بار re-writeکرواتے ہیں۔ ہم بھی ڈھیٹ۔ re-writeکرتے ہیں۔ وہ مزید کومنٹس دیتے ہیں۔ پھر re-writeکرتے ہیں۔ آخر کار چھپتا ہے مگر ایڈیٹر کی وضاحت کے ساتھ۔ سو ہم اشیش خان کو کیسے جانے دیتے۔

اصل میں سارا مسئلہ یہ ہے کہ جلن امجد علی خان صاحب سے ہے۔ اب جو بھی امجد علی خان صاحب کو مانے وہ علی اکبر یا اشیش خان کے آگے کافر۔ اس بات کو سب جانتے ہیں کہ علی اکبر خان صاحب انگلی کی پوروں سے سرود بجاتے تھے جس سے سرود کی آواز میں کرخت پن آ جاتا تھا۔ ناخن سے بجانا ایجاد ہے امجد علی خان صاحب کی۔ امجد علی خاں صاحب نے تو سرود کو نئی آواز دی۔ سرود کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی۔ اور دنیا مانتی ہے انہیں۔ اشیش خان صاحب کو یہ بتانا چاہیے تھا کہ پیلو میں کہاں غلطی تھی۔ ےا کہ پیلو کیسے بہتر ہو سکتا ہے۔ اشیش خان صاحب شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر زنی کر رہے تھے۔ اب اشیش خان صاحب اگر میں یہ کمنٹ کر دوں آپ کی یا آپ کے والد محترم کسی ریکارڈنگ پر کہ اتنا بھونڈا سرود ؟ تو کیسا لگے گا؟

اشیش خان صاحب کے کمنٹس بدنیتی پر مبنی تھے۔ یہ وہی مثال ہے کہ ایک مایہ ناز پینٹر نے ایک پینٹنگ بنائی اور چوک پر رکھ دی لوگوں کے لئے کہ جہاں جہاں غلطی ہو، نشان لگائیں۔ شام تک نشان ہی نشان تھے۔ پینٹر کے باپ نے کہا کہ ایسی ہی پینٹنگ دوبارہ بناﺅ اور اب کے لکھو کہ جہاں جہاں غلطی ہو، درست کر دیں۔ پینٹنگ پر کوئی نشان نہ تھا! تو اشیش خان صاحب ایسے کمنٹس کر نے مین شاید کسی کچھ بگڑے یا نہیں، کلا کی شوبھا کم ہوتی ہے ، کلاکار کا احترام گھٹتا ہے۔ اور اسد نے آپ کی عزت کر کے اپنے آپ کو بڑا کیا۔ سرود کسے عزت دیتا ہے، یہ تو کلا کی دین ہے اور کلا ہم جیسوں سے بے نیاز ہے۔ یہی کر سکتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے ، کم ظرفی سے بچنا چاہیے۔

(۔بھائی محمد شہزاد، کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، سگ رہ بری بلا ہے ۔ اور پھر فرمایا غالب نے کہ۔۔۔ جہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے)


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “امجد علی خان ، سرود اور راگ پیلو….

  • 15-03-2016 at 12:43 am
    Permalink

    محمد شہزاد صاحب ، بہت عمدہ ، سوفیصد متفق ، میں بھی اسد قزلباش صاحب کے سرود کا سنکار ہوں ، کیا کہنے ۔ سلامت رہیں

Comments are closed.