مصطفی کمال: ثبوت غائب، الزام حاضر


 mujahid aliپارٹی سے بغاوت کرنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق ولی عہد مصطفی کمال نے ایم کیوایم کے گرفتار کارکنوں کو عام معافی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر بلوچستان میں عام معافی دی جا سکتی ہے تو کراچی میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ مصطفی کمال کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان لوگوں نے  پارٹی قیادت کے کہنے پرجرائم  کئے تھے اس لئے وہ بے قصور ہیں۔ کراچی کے سابق ناظم کی اس بات پر مزید گفتگو سے پہلے آج ہی ڈاکٹر فاروق ستار کے سامنے آنے والے بیان کا ذکر بھی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کراچی جیل میں قید ایم کیو ایم کے کارکنوں کی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ جیل میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے 40 کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ان سے وفاداریاں تبدیل کرنے کی صورت میں مراعات دینے اور مقدمات سے گلوخلاصی کا وعدہ بھی کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان کارکنوں نے حکام کی بات ماننے سے انکار کیا ہے۔ اس طرح اس معاملہ پر دو مختلف موقف سامنے آ رہے ہیں کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی دس روز پہلے واپسی کا اصل مقصد کیا تھا۔ ایم کیو ایم اسے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دیتی ہے اور مصطفی کمال کہتے ہیں کہ وہ اپنی سابقہ پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کو الطاف حسین کے جبر سے نکلنے کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ اوردعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر ایسا کر رہے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سچائی ان دو متضاد بیانات کے بین بین کہیں موجود ہوگی۔

عام معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے مصطفی کمال دراصل اپنی مجوزہ پارٹی کے لئے مضبوط بنیاد تیار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے اس مطالبہ میں بھی کئی قباحتیں موجود ہیں۔ ایک طرف وہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ ساری عمر ظلم اور غیر قانونی حرکتیں ہوتے دیکھتے رہے۔ اگرچہ ان کا یہ کہنا ہے وہ کبھی اس قسم کے جرائم کا حصہ نہیں بنے لیکن اگر ان کی اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ساری ہدایات لندن سے الطاف حسین دیتے تھے اور پارٹی کا عسکری ونگ ان کے براہ راست کنٹرول میں تھا، تو بھی یہ سوال تو اپنی جگہ موجود ہے کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور مجرمانہ احکامات اور ان پر عملدرآمد کے بارے میں آگہی رکھتے ہوئے بھی، خاموش رہنا کیا بجائے خود ایک جرم نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا وہ شخص جو مبینہ طور پرالطاف حسین کی نگرانی میں کام کرنے والے کراچی کے مسلح جتھوں کی دہشت گردی کا عینی شاہد ہے، کیا خود بھی اپنی اس طویل خاموشی کے لئے قانون اور عدالتوں کو جوابدہ نہیں ہے۔ ہمیں یہ کہنے یا ماننے پر اصرار نہیں ہے کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کو اس ملک کے ادارے ایم کیو ایم کا زور توڑنے، الطاف حسین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے واپس لائے ہیں لیکن جب مصطفی کمال الزام تراشی کو ہتھیار بنا کر میدان میں اترتے ہیں اور جوابدہی سے انکار کرتے ہیں تو ان کی نیت اور لائحہ عمل کے بارے میں شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اس کے علاوہ جرائم میں ملوث کارکنوں کے لئے عام معافی طلب کرکے کیا وہ انہی عناصر کا ساتھ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرہے جو بقول ان کے الطاف حسین کے حکم پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے تھے۔

یوں بھی مصطفی کمال نے گزشتہ ہفتے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بے سروسامانی اور اللہ پر بھروسہ کا ذکر کیا تھا۔ لیکن کراچی میں ایک شاندار گھر میں قیام جسے اب کمال ہاﺅس کا نام دے دیا گیا ہے اور قیمتی گاڑیوں میں نقل و حرکت کے علاوہ سکیورٹی کے اعلیٰ پائے کے انتظامات۔۔۔ ان سب کے لئے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصطفی کمال اور قائم خانی نے ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان ضرور کیا ہے لیکن ابھی تک اس پارٹی کا کوئی ڈھانچہ کھڑا نہیں ہوا۔ نہ ہی رکن سازی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ اس کا کوئی نام بھی تجویز نہیں کیا گیا۔ خود کو محب وطن پاکستانی ثابت کرنے کے لئے انہوں نے پاکستان کا جھنڈا ضرور پارٹی جھنڈے کے طور پر دکھایا تھا۔ اس بارے میں وزارت داخلہ یہ وضاحت کر چکی ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی قومی پرچم کو اپنے جھنڈے کے طور پر استعمال نہیں کر سکتی۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کا یہ اسٹنٹ بھی لوگوں کو متاثر کرنے اور میڈیا کے ذریعے خود کو اس تصویر سے علیحدہ کرنے کی کوشش کا حصہ تھا جو ایم کیو ایم کے بارے میں قائم ہو چکی ہے۔ اگر قومی پرچم کو پارٹی جھنڈا بنانے کی روایت قائم ہو جائے تو فی الوقت تو پارٹی کے ناموں پر انگریزی کے حروف تہجی کا استعمال رواج بن چکا ہے، پھر قومی پرچم کے ساتھ بھی یہی طبع آزمائی ہونے لگے گی۔

جوابدہی معافی کا لازمی جزو ہے۔ دنیا میں جرائم سے معافی دینے کا جو مسلمہ اصول کارفرما رہا ہے اس کے تحت قصور کرنے والے لوگ سب سے پہلے تحریری طور پر اپنے جرائم کا اقبال کرتے ہیں اور معافی کے خواستگار ہوتے ہیں پھر ایک پالیسی کے تحت ان لوگوں کے خلاف مقدمات واپس لے کر انہیں ایک نیا موقع دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال جنوبی افریقہ میں اپارتھائڈ دور میں کئے جانے والے جرائم کی معافی تھی۔ یہ نظام ختم ہونے کے بعد ان افسروں اور اہلکاروں کو ایک نسل پرست نظام کے تحت کئے گئے جرائم کا اعتراف کرنے اور معافی مانگنے کا موقع دیا گیا تھا۔ اس طرح وہاں سماجی طور پر محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لئے ایک موثر اور قابل عمل راستہ اختیار کیا گیا۔ مصطفی کمال اگر اس قسم کی عام معافی کا تقاضہ کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب یا انہونی بات نہیں ہے۔ لیکن ملک کی حکومت نے فی الوقت اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس لئے ابھی تک عام قانونی طریقے سے احتساب اور جوابدہی کی کارروائی ہونی چاہئے۔ اس اصول کے تحت مصطفی کمال کو دبئی سے واپسی پر پریس کانفرنس کرکے ایک عظیم الشان میڈیا شو برپا کرنے کی بجائے خود پولیس کے پاس حاضر ہو کر ان تمام جرائم کی تفصیل بتانی چاہئے تھی جو پارٹی کے ساتھ تین دہائیوں کی وابستگی میں انہوں نے مشاہدہ کئے تھے۔ پھر قانون اور عدالتوں کو یہ فیصلہ کرنے دیتے کہ وہ بے قصور ہیں یا جرائم  کا معاون بننے کی وجہ سے انہیں سزا دی جانی چاہئے۔ موجودہ صورت حال ملک کے ناقص اور کمزور نظام اور سیاسی طبع آزمائی کے لئے الزام تراشی کے فرسودہ چلن کی گھسی پٹی کہانی سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔

کجا کہ مصطفی کمال خود پولیس کے پاس جاتے، ایف آئی آے کے ڈائریکٹر شاہد حیات خود چل کر ”کمال ہاﺅس“ ان کے پاس پہنچے۔ اس گروہ میں شامل ہونے والے بعض لوگوں نے ان کا استقبال کیا اور مصطفی کمال سے یوں ملاقات کروائی گئی جیسے وہ مسلمہ سیاسی لیڈر بن چکے ہوں۔ حالانکہ ان کی حیثیت پہلے کی طرح اب بھی الطاف حسین کی سیاست کے گرد گھومتی ہے۔ پہلے وہ ان کی پارٹی کا جھنڈا اٹھا کر نعرے لگاتے تھے، اب اس جھنڈے سے بغاوت کر کے الطاف حسین کو دنیا کا بدترین انسان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات کسی صورت قرین قیاس نہیں ہو سکتی کہ الطاف حسین اور لندن میں ان کے ساتھی کراچی میں لوٹ مار اور قتل و غارتگری کے لئے جو احکامات دیتے تھے، ان پر عملدرآمد کے سلسلہ میں پاکستان کی رابطہ کمیٹی، نائن زیرو کی انتظامیہ اور قیادت کا کوئی رول نہیں تھا۔ اب ایف آئی اے کے سربراہ سے ملاقات میں مصطفی کمال نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ یا بھارتی ایجنسی ”را“ سے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے تعلقات کے حوالے سے ان کے پاس نہ تو کہنے کے لئے کچھ نیا ہے اور نہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی شواہد ہیں۔ گویا وہ پبلک بیانات میں جو دعوے کر رہے ہیں وہ بھی ان کے مقاصد کی طرح جھوٹے اور بلاجواز ہیں۔

حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ایف آئی اے الطاف حسین کے را سے تعلق کا الزام ثابت کرنے کے لئے مصطفی کمال سے ثبوت مانگ رہی ہے تو دوسری طرف فوج اور انٹیلی جنس کے سابقہ افسر ٹاک شوز میں آ کر یہ دعوے کر رہے ہیں کہ حکمرانوں کو 1992 سے ہی اس بارے میں معلومات حاصل تھیں اور یہ ساری معلومات دستاویزات کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور میں شریک اقتدار رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ یہ بات عجیب ہے کہ معمولی جرائم پر غریب لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے والے سرکاری ادارے مصطفی کمال کا ”تعاون“ حاصل کرنے کے لئے وقت لے کر ملاقات کا ”شرف“ حاصل کر رہے ہیں۔ الزام تراشی اور اس کے نتیجے میں اس قسم کی حرکتیں اور مباحث سیاست اور سیاستدانوں پر عام لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں۔ سیاستدان فرشتے نہیں ہوتے لیکن غلطی کرنے والے افراد کا احتساب ہونا چاہئے۔ شبہ یا الزام کی بنیاد پر سب سیاستدانوں کو ہدف تنقید بنانا، مسلمہ قانونی اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ اندیشے اور بے یقینی کی یہ کیفیت پیدا کرنے کے لئے جوشخص بھی جانے یا انجانے میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے، اسے اس کے دور رَس اثرات سے بھی باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کے رویوں نے سیاست کو ایک مکروہ شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ”قانونی“ طریقے سے جلد امیر اور طاقتور بننے کے کھیل کا نام سیاست ہے۔ اب مصطفی کمال اور ان کے ساتھی بھی اگر اسی عام تصور کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل ہیں تو کیا فرق پڑے گا۔ الطاف حسین کو گرا بھی لیا گیا تو اسی طرح کا ایک نیا خودپسند لیڈر کسی دوسرے نام سے مسلط ہو جائے گا۔

اس سارے ڈرامے میں جو بات قابل فہم ہے، وہ ایم کیو ایم کے لیڈروں کو ایک پراسرار پارٹی ڈسپلن سے علیحدہ ہو کر کام کرنے اور محفوظ محسوس کرنے کا موقع فراہم کرنے کے بارے میں ہے۔ الطاف حسین نے اپنے رویہ اور حاصل ہونے والی قوت اور مقبولیت کے سحر سے دوسرے درجے کے لیڈروں (الطاف حسین کے علاوہ ایم کیوایم میں باقی سب دوسرے درجے کے لیڈر ہیں) کو ذاتی ملازم بلکہ غلام تصور کرتے رہے ہیں۔ انہیں برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا۔ سیاسی سطح پر بحث اور معاملہ کے پہلوﺅں کا جائزہ لینے کا کوئی نظام استوار نہیں ہو سکا۔ اختلاف کرنے والوں کو ذلیل کرنے اور اس کی زندگی کو ختم کرنے کا اہتمام کرنے کی معلومات اور الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ مصطفی کمال اگر ایم کیو ایم کے ایسے لیڈروں کو ایسا متبادل پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہتے ہیں جہاں سب کی عزت نفس محفوظ ہو گی۔ جہاں صرف ایک شخص تمام فیصلے کرنے کا مجاز نہیں ہو گا اور نہ ہی اختلاف کرنے پر غصے میں بھڑک کر برا بھلا کہنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے گا، تو یہ ایک نیک مقصد ہے۔ تاہم اس مقصد کے لئے ایم کیو ایم کو گرانا، اس پر بلاجواز الزام تراشی کرنا اور جرائم پیشہ عناصر کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرنا غلط ہو گا۔ جو لوگ خود مصطفی کمال کے بقول بھتہ وصولی، مار پیٹ اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

مصطفی کمال کو ان مجرمانہ عناصر کو معافی دلوائے بغیر سیاسی پلیٹ فارم استوار کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ بصورت دیگر وہ عام شخص کو کیسے یہ یقین دلائیں گے کہ وہ الطاف حسین کے تخت پر قبضہ کرنے کی نیت سے واپس نہیں آئے۔ کراچی کی سلطنت اور کسی فرد کو اس کا فرماں روا بننے یا بنانے کا تصور ختم کئے بغیر ایم کیو ایم کا نام تبدیل کرنے یا متبادل قوت استوار کرنے سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔ کراچی کی صورت حال تو تبدیل نہیں ہوگی۔ مصطفی کمال نے اب تک جو متضاد بیانی کی ہے اس کی روشنی میں ڈاکٹر فاروق ستار کا یہ دعویٰ ہر آنے والے دن کے ساتھ زیادہ درست لگنے لگے گا کہ ”بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے“۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali