شام سے روسی فوجوں کی واپسی


russia روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شام میں موجود اپنی افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ ملک سے انخلا کا سلسلہ شروع کریں۔ آج ماسکو میں روسی صدر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج نے صورت حال کو مستحکم کرنے کے لئے شام میں اپنا مشن پورا کرلیا ہے ، اس لئے انہیں ملک سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ البتہ روس شام کے ساحل پر دو بحری اڈوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ روس کو شام کے صدر بشار الاسدکا حامی سمجھا جاتا ہے۔ صدر پیوٹن امریکہ کے برعکس شام کو سیاسی عمل کا اہم حصہ سمجھتے رہے ہیں۔ صدر پیٹن کے اس اچانک فیصلہ سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ شام میں حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں او ر فریقین کے درمیان جینوا مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

روس نے گزشتہ برس ستمبر میں شام کی براہ راست امداد کا اعلان کرتے ہوئے ، پانچ برس سے جاری خانہ جنگی میں جنگ بندی کروانے کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ روس کی فضائی امداد اور جدید اسلحہ کی فراہمی کے سبب شام کی شکست خوردہ فوج کو حیات نو نصیب ہوئی تھی اور اس نے داعش کے علاوہ باغی گروہوں کے خلاف قابل ذکر کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی لئے ترکی اور سعودی عرب نے روس کی مداخلت پر سخت احتجاج کرتے ہوئے داعش کے خلاف اتحاد بنانے اور زمینی کارروائی کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم امریکہ نے اس تجویز پر عمل کرنے کی بجائے ، شام کی خانہ جنگی میں جنگ بندی کے لئے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔ اقوم متحدہ کے زیر اہتمام یہ جنگ بندی مؤثر ثابت ہورہی ہے ۔ اس کے علاوہ جینیوا میں بشارالاسد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ اب روسی صدر کی طرف سے فوجیں واپس بلانے کے اعلان سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ شام میں تصادم کی کیفیت قابل ذکر حد تک کم ہوئی ہے۔

ولادیمیر پیوٹن کو مضبوط اعصاب کا لیڈر تصور کیا جاتا ہے لیکن مغربی ممالک عام طور سے ان پر توسیع پسندی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ شام میں روس کی مؤثر فوجی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے بھی کہا گیا تھا کہ روس اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے ایک جنگ زدہ خطے میں جنگ کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور ایک جابر حکمران کی حمایت کر کے اس کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔ تاہم پیوٹن نے شام میں اپنا مشن مکمل ہونے کے بعد غیر متوقع طور سے فوجی انخلا کا اعلان کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ وہ سیاسی مدبر اور معاملہ فہم لیڈر ہیں۔ وہ شام میں داعش کی بڑھتی ہوئی قوت کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے خاتمہ لئے صدر بشار کی امداد ضروری سمجھتے تھے۔ چھ ماہ میں یہ مشن پورا کرنے کے بعد فوجیں واپس بلانے کا اعلان کرکے انہوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ علاقے میں طاقت کا توازن خراب کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ یہ جراتمندانہ اعلان ہے ۔ امید کی جانی چاہئے کہ اس تنازعہ میں ملوث دوسرے فریق اس فیصلہ کو روس کی کمزوری نہیں سمجھیں گے اور شام میں مستقل جنگ بندی اور معاملات کے قابل قبول سیاسی حل کے لئے کوششیں جاری رہیں گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali