پاکستان افغان جنگ سے نکل رہا ہے


wisi 2 babaبابے سرتاج عزیز نے کمال بے نیازی سے طالبان قیادت کے پاکستان میں ہی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ یہ کوئی اعلان تھوڑی تھا بس ایک کالا ناگ ہی چھوڑ دیا تھا جو اب ہر طرف کھلا پھر رہا ہے۔ یہ کالا شاہ ناگ بھی چھوڑا، اور ساتھ ہی بابے نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ طالبان ہمارے وطن میں ہی لگے پھرتے ہیں، لیکن ہماری سنتے ونتے کوئی نہیں ہیں۔

یہ سنتے ونتے کوئی نہیں ہیں ایک ایسا سوال تھا جو پشتو والا پیغور (طعنہ) بنا کر امریکیوں نے پھر ہم سے پوچھا۔ کہ او پاکستانیو! واقعی تمھاری سنتے نہیں ہیں یا مذاق کر رہے ہو۔ اگر نہیں سنتے تو پھر رکھا ہوا کیوں ہے۔ جب پیغور ملتا ہے تو پھر فساد ہو کر رہتا ہے،ہھر گولی بھی چلتی ہے بلڈ پریشر چڑھتا ہے خان حضرات کو نا چاہتے ہوئے بھی گتھم گتھا ہونا پڑتا ہے۔ بابا سرتاج عزیز تو اعلان حق کر کے فارغ ہو گیا کہ سانوں کیہ؟ دوڑیں لگیں تو طالبان کے میزبانوں کی، انہیں بھاگ بھاگ کر طالبان کمانڈروں کو لیڈروں کو پھڑ پھڑ کے بٹھانا پڑا کہ رب دا واسطہ، سنو تو، اجی سنتے کیوں نہیں ہو۔

سپرنگ اوفینس کا اردو ترجمہ بہاری جہاد ہی ہو سکتا ہے، موسم کھلنے پر طالبان کے ملنگ حضرات جوش میں آ کر جو کارروائیاں کرتے ہیں، جس طرح کابل حکومت اور امریکیوں کو سینگوں پر اٹھا کر سارے افغانستان میں دوڑے پھرتے ہیں یہ نظارہ قابل دید تو ہوتا ہی ہے طالبان کی کمائی کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ امریکیوں کی بھی اور کابل حکومت کی بھی اس  سے جان جاتی ہے۔

بہار آئی ہے تو دنیا کو مذاکرات سوجھ گئے ہیں، طالبان پاکستان سے اپنے پیار میں پکے ہیں لیکن اب وہ اس پیار کے لئے اپنی حق حلال کی کمائی کا سیزن ہی تیاگ دیں۔ یہ کس کتاب میں لکھا ہے، کمائی کے سیزن میں افغان کو پیسے کمانے سے روکنے کے لئیے خدا خود ہی کچھ سبب کرے تو کرے، کسی اور کے بس کی بات نہیں، بھلے وہ افغانوں کا امیر المومنین ہی کیوں نہ ہو۔

مذاکرات سے جو واحد  اور فوری فائدہ لینا مقصود ہے وہ کسی بھی طرح اس سال بہاری جہاد کو رکوانا ہے تاکہ امریکی رخصت ہوتے وقت افغانستان پر امن ہے کا نعرہ لگا سکیں۔ یہ اب کس کتاب میں لکھا ہے کہ طالبان امریکیوں کو دس پندرہ سال اگے لگائے رکھنے کے بعد پٹخنیاں دینے کے بعد ان کا اعلان فتح تسلیم کر لیں۔ شاید کر بھی لیں لیکن بہار میں کمائی کا سیزن چھوڑ دیں؟ کیوں؟ کیسے؟ ہوا کیا ہے؟

طالبان کے میزبانوں نے انہیں بلا کر پیار سے مذاکرات کرنے کو کہا تو طالبان نے شوری کے اجلاس میں بات کرتے ہیں کہہ کر وقت مانگ لیا۔ شوری کا اجلاس ہوا جس میں شوری نے طالبان کے میدان میں موجود ملنگوں کی نبض بتائی۔ ان کا موڈ دیکھا انہیں روکنے کے لئے دستیاب خدائی طاقت کا جائزہ لیا ، اپنی اوقات پہچانی اور باجماعت کہہ دیا ورورہ دا نہ نہ کی گی ( بھائیو یہ ہم سے نہیں ہو گا) ۔ شوری کے معززین آرام سے یہ نعرہ لگا کر افغانستان پھسل گئے۔

چٹا انکار سن کر اصلی اور وڈی سرکار کے ماتھے پر بھی بل پڑ گئے۔ ۔مذاکرات سے اتنا صاف انکار سن کر پھر وڈی سرکار نے پہلی بار درجن ڈیڑھ طالبان پکڑ کر تاڑ دئیے ہیں۔ طالبان کو پکڑ کر ٹوکرے کے نیچے تاڑنے سے مذاکرات ہونے کی جو امید تھوڑی بہت ابھی باقی تھی، وہ بھی جاتی رہی ہے۔ مذاکرات کے جو حمایتی تھی وہ اب بھی حمایت کر رہے ہیں۔ ان سے چاہیں تو ساری عمر مذاکرات کر لیں لیکن بہاری جہاد رکنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

صورت حال سے تنگ آ کر پاکستان نے طالبان کو پاکستان سے کوچ کا حکم دے دیا ہے۔ اس حکم کے بعد جس خوشی جس رفتار جس جذبے سے طالبانی ملنگوں نے ٹوٹ پڑنا ہے امریکی صرف یہی گائیں گے کہ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔

بابے سرتاج عزیز کے ایک بیان نے سب کو یہ دن دکھائے ہیں۔ بندوں سے پنگوں سے ڈیل کرنے کی جو صلاحیت سیاستدانوں کی ہوتی ہے وہ اس سب سے ظاہر ہے۔

کابل حکومت اور اس کی سرپرست امریکی فوج کو اب اس موسم بہار میں اب جینا ہو گا، مرنا ہو گا، بس لڑنا ہو گا۔ بیچارے اس قابل ہوتے تو دس پندرہ سال میں ہی لڑ کر فیصلہ کر لیتے۔ جنگ اب پاکستان سے افغانستان منتقل ہونے لگی ہے پہلی بار۔ پاکستان اس جنگ سے فارغ ہونے لگا ہے، باہر آ رہا ہے۔ ایک موقع ہے جو حاصل ہوا ہے۔ بہت مشکل ہے کہ ہماری ریاست اب اس پنگے میں مزید رہنا پسند کرے۔

چانکیا مہاراج کا شکریہ جس نے مہربانی کی، پاکستان میں پیدا ہوا۔ ان سیاستدانوں کو بھی ڈھیروں داد جو سیاسی پنگوں کے لئے  چانکیہ مہاراج سے حل کشید کرتے ہیں، کتنے طریقے سے اس لڑائی سے پھسل کر غائب ہونے کا راستہ نکالا ہے دیکھیں ایک ہی بار نکلتے ہیں یا رفتہ رفتہ لیکن اب طے ہے کہ ہم نے نکل جانا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پاکستان افغان جنگ سے نکل رہا ہے

  • 15-03-2016 at 2:15 pm
    Permalink

    موسم کھلنے پر طالبان کے ملنگ حضرات جوش میں آ کر جو کارروائیاں کرتے ہیں، جس طرح کابل حکومت اور امریکیوں کو سینگوں پر اٹھا کر سارے افغانستان میں دوڑے پھرتے ہیں یہ نظارہ قابل دید تو ہوتا ہی ہے طالبان کی کمائی کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔

    کابل حکومت اور اس کی سرپرست امریکی فوج کو اب اس موسم بہار میں اب جینا ہو گا، مرنا ہو گا، بس لڑنا ہو گا۔ بیچارے اس قابل ہوتے تو دس پندرہ سال میں ہی لڑ کر فیصلہ کر لیتے۔ جنگ اب پاکستان سے افغانستان منتقل ہونے لگی ہے پہلی بار۔ پاکستان اس جنگ سے فارغ ہونے لگا ہے، باہر آ رہا ہے۔ ایک موقع ہے جو حاصل ہوا ہے۔ بہت مشکل ہے کہ ہماری ریاست اب اس پنگے میں مزید رہنا پسند کرے۔

    صورت حال سے تنگ آ کر پاکستان نے طالبان کو پاکستان سے کوچ کا حکم دے دیا ہے۔ اس حکم کے بعد جس خوشی جس رفتار جس جذبے سے طالبانی ملنگوں نے ٹوٹ پڑنا ہے امریکی صرف یہی گائیں گے کہ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔

    بڑے باکمال بابے ہو تسّی، افغانستان کی زمین پر افغانوں کے قتل، درندگی کا ننگا ناچ آپ کو قابل دید لگتا ہے، کیا بات ہے، اتنا خوش تو ہم نے کسی کو ٹی ٹوینٹی میچ میں چھکوں چوکوں کا تصور کرتے بھی نہیں دیکھا،

    پاکستان دہشت گردوں کو دو دہائی اپنے تھنوں سے دودھ پلاتے اور نتیجتا ستر ہزار اپنے مروانے کے بعد اس جنگ سے نکل رہا ہے واہ واہ واہ ایسے الفاظ کوئی ایسا شخص ہی کہ سکتا ہے جسے کاٹو تو خون بھی سبز و سفید نکلے

    کمال ڈھٹائی کی داد تو بنتی ہے

Comments are closed.