مکالمے کا جاری رہنا زندگی ہے


khizer hayat

دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے خاص کر کمیونیکشن کے میدان میں اس قدر ترقی کی ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا نے ایک صدی کا سفر ایک دہائی میں طے کیا ہے تو زیادہ غلط نہ ہو گا۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہماری دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ولیج یعنی گاؤں میں بدل گئی ہے خاص کر کہ سوشل میڈیا اور فیس بک کی وجہ سے۔ اس سے دنیا بھر کی انفارمیشن کا ایک سیلاب گوگل اور دوسرے کئی ذرائع سے امڈ پڑا ہے۔ وہ معلومات جو ہمیں کئی لائبریریاں چھان کر بھی نہ ملتی تھی اب ہماری ایک انگلی کی جنبش کی محتاج ہو کے رہ گئی۔

یہ معلومات کا سیلاب ہمارے ملک اور مذہب کی تفہیم میں بھی تغیر لایا ہے اور ان کے بارے میں کئی انکشافات ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اسد جن کا نام وہی لوگ جانتے ہیں جنہوں نے انکی کتاب ‘روڈ ٹو مکہ ‘ پڑھ رکھی تھی اب سب کو پتہ چل چکا ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے شہری تھے۔ وہ مولانا عبید اللہ سندھی جن کو انقلاب روس کے خالق لینن تک جانتے تھے اور ان سے اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہتے تھے مگر ان کو ہمارے مذہبی اجارہ داروں نے گمنام بنا دیا تھا اب انکے قول سن سن کر لوگ جھومنے لگے کہ کس قدر روشن خیال ، قرآن کے سکالر اور دوربین عالم تھے۔ وہ غلام احمد پرویز صاحب جو قائد اعظم کے قریبی ساتھی تھے اور جنھیں انہوں نے پاکستان میں اسلام کی ترویج کے کام پر لگایا تھا وہ خاموشی سے اپنے گھر کے درس تک محدود ہو کر رہ گۓ تھے۔ اب لوگوں نے سوشل میڈیا پر ان کے درس سننے شروع کر دئیے۔ جاوید احمد غامدی صاحب ایک متوازن مذہبی سکالر کے طور پر سامنے آئے جن کے دلائل پرویز صاحب سے متاثر لگتے ہیں جو قرآن کی منتقی اور عملی تفسیر ہے۔

وہ مسائل جو دبے ہوئے تھے جیسے چھوٹی بچیوں کی شادی ، توہین اور مرتد کی سزا وغیرہ اور ان کے بارے میں یا تو کوئی سوال کرنے کی ہمت ہی نہیں کر سکتا تھا اور اگر کوئی ایسی گستاخی کر دیتا تھا تو اسے ڈانٹ کر چپ کرا دیا جاتا تھا۔ اب ان مسائل پر کھل کر بات ہونے لگی ہے مگر اکثریت اب بھی اسے مذہب کے خلاف گردان رہی ہے۔ مذہبی انتہاپسندی کے طفیل ایسے مسائل سامنے آنے لگے ہیں جن پر بات کرنا اس لیے بیکار سمجھا جاتا تھا کہ اب ایسا تو ہوتا ہی نہیں۔ مگر عراق کی نام نہاد اسلامی ریاست کے جنگجوؤں نے جنگ کی صورت میں مال غنیمت کے طور پر پکڑی جانی والی دشمن کی خواتین سے سلوک کے مسئلہ کو زندہ کر دیا ہے۔ مولانا مودودی صاحب کی تفسیر کے مطابق دشمن کی خواتین کو لونڈیاں بنا کر ان سے جو چاہیں سلوک کریں اور اب اوریا مقبول صاحب نے بھی فرما دیا کہ دشمن کی خواتین کو لونڈیاں بنایا جا سکتا ہے۔ داعش کے جنگجو یزیدی لڑکیوں کو نہ صرف ریپ کر رہے ہیں بلکہ انکی منڈیاں بھی لگا رہے ہیں۔

ہم مسلمان نہ جانے کیوں بس جذبات کی رو میں بہنا جانتے ہیں اور صدیوں پرانی روایات کا دامن نہیں چھوڑتے۔ جب ہمارا ایمان ہے کہ ہمارا دین سچا اور سب زمانوں کے لئے ہے تو ہمیں یہ بھی یقین ہونا چاہئیے کہ ہمارے ہر سوال کا جواب قرآن میں موجود ہے۔ ضروری نہیں کہ جو مودودی صاحب لکھ گۓ ہیں وہ سب صحیح ہو یا اوریا صاحب کا فرمایا سچ ہی ہو۔ سورہ محمدؐ میں صاف لکھا ہے کہ اگر دشمن کی خواتین جنگ میں تمہارے ہاتھ لگ جائیں تو دشمن سے جزیہ لے کر چھوڑ دو۔ اور دشمن اگر جزیہ نہ دے تو صلح رحمی کرتے ہوے انہیں پھر بھی واپس ان کے حوالے کر دو۔

‘ہم سب ‘ پر مفتی عبدالقوی صاحب کے شادی اور نکاح والے موقف کے حوالے سے بھی ایک بحث چل پڑی ہے۔ بقول محترم سید مجاہد علی حیرت ہے کہ ’ہم سب‘ آزادی اظہار کا مان رکھنے کے لئے ایسے مضامین بھی شائع کرنا ضروری سمجھتا ہے جو مذہبی معاملات کو سلجھانے اور واضح نقطہ نظر سامنے لانے کی بجائے نئے متنازع امور کو زیر بحث لاکر عام مسلمانوں کو مزید کنفیوژ کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ جن مباحث کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ گمراہ کن اور فرسودہ ہیں۔ داعش کے جنگجوؤں نے لونڈیوں کے مسئلہ کو زندہ کر کے ثابت کردیا ہے کہ یہ کچھ اتنا فرسودہ بھی نہیں ہے بلکہ کچھ لوگوں کے مطابق تو عرب ممالک میں لونڈیوں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں اب بھی موجود ہے۔ سوال و جواب اور مکالمے سے انکار وہی کرتے ہیں جن کے پلے سچ نہیں ہوتا کہ سچ کو تو آنچ ہر گز نہیں ہوتی۔ مسلمان کی حیثیت سے اگر یہ ہمارا پکا ایمان ہے کہ ہمارا دین سچا اور سب زمانوں کے لئے ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس کو موجودہ دور کے تناظر میں موضوع بحث لانے سے گھبرائیں۔ کیونکہ وہ زمانہ لد گیا جب طالع  آزماؤں نے صدیوں تک پرنٹنگ پریس کو نہ چلا کر اور پھر ایک زمانے تک سنسر کی قینچی چلا کر سچ کو دبائے رکھا۔ مگر اب ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا اور ہماری نوجوان نسل کے سوالوں کا جواب ہم نے نہ دیا تو کوئی اور دے گا اور پھر یا تو وہ داعش والوں سے ملیں گے اور یا ملحد بن جائیں گے۔

وجاہت مسعود صاحب نے ‘ہم سب ‘ کی صورت میں ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لکھاریوں کو موقع دے کر اسے صرف ہم خیال دوستوں کا گروہ نہیں بنایا۔ اگر باہمی احترام کے ساتھ اور منطقی انداز میں دلائل سے ساتھ بات کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم کسی نتیجے پر نہ پہنچ پائیں۔ اب ہمارے کچھ دوستوں کا استدلال یہ ہے کہ ہمارے لوگ اپنی مخصوص فکر سے باہر نکل کر سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے مگر یہ زیادہ تر ان حضرات تک محدود ہے جن کی روزی روٹی ایک مخصوص سوچ کے پرچار سے ہی وابستہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ مانتے ہیں اور باقی سب کو ہدایت حاصل کرنے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت زیادہ تر کنفیوز ہوتی ہے اور زیادہ شور کرنے والوں کی آواز ان پر حاوی رہتی ہے۔ اگر انہیں متوازن بات دلیل کے ساتھ سمجھائی جائے تو وہ ضرور سنتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments