غیر مہذ ب اخلاقیات:مستقیم دائرہ


الماس حیدر نقوی

Almas---Picture

طویل تحریری تعطیل کے بعد ایک مرتبہ پھر قلم اندازی کا مرتکب ہوا چاہتا ہوں ۔تعطل کی پہلی وجہ خو د احتسابی بنی کیونکہ ہم نے کالم نگاری سے ہی اپنی صحافت کا آغاز کیا ۔پانچ سال لکھنے کے بعد احساس ہوا کہ حالاتِ حاضرہ پر لکھنے کیلئے وقوع پذیر واقعات اور حادثات کے محرکات و اسباب کا براہ راست مشاہدہ ناگزیر ہے ورنہ تبصروں میں سقم کی گنجائش موجود رہے گی۔ یہ اسی طرح ہے کہ کسی بند کمرے میں ہونیوالے حادثات کا باہر بیٹھ کر قیاس ہی کیاجاسکتاہے ۔حقیقت کا ادراک کمرے کے اندر موجود افراد ہی کر سکتے ہیں ۔ دوسری وجہ کم علمی کا احساس بنی کہ صاحبان علم ہی کسی موضوع پر رائے زنی کا حق رکھتے ہیں ۔ تیسری وجہ وجاہت بھائی کا نجم سیٹھی کی ادارت میں شروع ہونیوالے ’’ آج کل‘‘ اخبارکے ادارتی صفحے کو خیر باد کہنا تھی ۔ پہلے سبب کو دور کرنے کیلئے جہاں خبر نگار کے طور اپنے صحافتی سفر کا آغاز پاکستان اخبار سے کیا۔جس کے کچھ عرصہ بعد نجی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ وابستہ رہا۔ جہاں سے سینئر صحافی مستنصر جاوید کی ادارت میں شروع ہونیوالے جڑواں شہروں تک محدود پہلے مقامی انگریزی اخبار ’’اسلام آباد ڈیٹ لائن‘‘ میں خبر نگاری کی ۔ جس کے بعد روف کلاسرا کے بلانے پر ا گلا پڑاؤ روزنامہ دنیا میں ہوا جہاں پر گذشتہ چار سالوں سے سیاسی اور پارلیمانی وقائع نگا ر کے طور پر اخبار کے اوراق سیاہ کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔

ڈاکٹر منظور احمد کے مطابق علم کے دائرے کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ دائرہ جہالت بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ایم فل مکمل کرنے کے بعد دائرہ جہالت کو مزید وسعت دینے کیلئے تحقیق کے علاوہ پی ایچ ڈی کی بھی تیاریوں میں مشغول ہیں۔ دوبارہ لکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ تحریری تعطل کے پہلے دو اسباب ختم ہوگئے ، براہ راست مشاہدوں کا ماحول تو میسر آیا اور واقعات کے بظاہر محرکات اور اسباب سمجھنے کا موقع ضرور ملا ہے تاہم حاصل فکر یہ نکلی کہ حالات پر تجزئیے کیلئے واقعات کا حسی مشاہدہ کافی نہیں ، کچھ اور عوامل کا ملحوظ رکھا جانا بھی ضروری ہے ۔ کم علمی کا احساس گذشتہ پندرہ سالوں کی نسبت بہت بڑھ گیا ہے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جہالت کے پھیلتے ہوئے دائرے کے ساتھ جستجو اور تجسس میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔تیسرا سبب ضرور ختم ہوگیا کیونکہ وجاہت بھائی کی جانب سے’’ ہم سب ‘‘ کے آغاز سے ایک مرتبہ پھر قلم میں جنبش محسوس ہوتی ہے ۔

اگرچہ بھاری بھرکم لکھاریوں پر مشتمل’’ ہم سب ‘‘ کے قلم قبیلے کا حصہ بنتے ہوئے یہ احساس ضرور ملحوظ ہے کہ تحریر میں اختیار کئے جانے والے استدلال میں کہیں سقم نہ رہ جائے کیونکہ’ ہم سب‘ میں جہاں لفظوں سے کھیلنے کا ہنر رکھنے والوں کی بہتات ہے وہاں صاحبان علم ، دانشور ،معاصر علوم اور رجحانات پر ثقہ رائے والے بھی موجود ہیں ، تاریخی دریچوں میں جھانکنے والے بھی ہیں اور فلسفہ و منطق کی موشگافیوں کا ادراک رکھنے والے بھی ۔شاید یہ پہلا فورم ہے جہاں مختلف نظریاتی فکر کے حامل افراد کے مابین اختلاف کا اسلوب انتہائی معقول ہے۔ جہاں مکالمے میں کہنہ مشق لکھاریوں کو بھی مواقع میسر ہیں اور نئی نسل کی فکر نو بھی طبع آزما ہے۔

یہ تمہید اسی لئے ضروری تھی کیونکہ گذشتہ سے پیوستہ کا کچھ تو ربط نکلے ۔ ۔۔۔سوال یہ ہے کہ ہماری اخلاقیات اتنی غیر مہذب کیوں ہے؟ کیا دنیا میں کوئی تعلیمی ادارہ ، مذہب، سماج یا تہذیب موجود ہے جہاں باضابطہ بد اخلاقی کی تبلیغ اور تعلیم وتربیت دی جاتی رہی ہو؟،اگر جواب نہیں ہے تو حضر ت انسان میں نا انصافی، ظلم ،بد دیانتی اور دھوکہ دہی اور بربریت سمیت جملہ بد اخلاقیاں کہاں سے در آئیں ؟ اعدادو شمار کے مطابق دنیا بھر کی 20فیصد آبادی کرہ ارض کے 80فیصد وسائل پر نہ صرف قابض ہے بلکہ اقلیت نے اکثریت کوکسمپرسی میں زندگی گذارنے پر مجبور رکھا ہوا ہے ۔وسائل پر قابض اقوام ترقی پذیر ممالک کو دی جانے والی امداد کی نسبت 12گناہ زیادہ رقم عسکری اخرجات پر خرچ کرتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں معصوم انسان مذہبی، لسانی ، فرقہ وارانہ ، ریاستی، غیر ریاستی دہشتگردی کا شکار ہوتے ہیں ،دوہزار چھ سے لیکر دو ہزار تیرہ کے درمیان نوے ہزار دہشتگردی کے حملوں میں ایک لاکھ تیرہ ہزار افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔

یقیناً واعظوں کو اعتراض ہوگا کہ بھئی جملہ تمام بداخلاقیو ں کا تعلق مذاہب اورمکاتب سے کسی صورت نہیں بنتا۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مذاہب اور مکاتب کا ان بد اخلاقیوں سے کوئی تعلق نہیں ۔پھر بھی انسانوں میں اعلیٰ اخلاقی قدروں کی تربیت میں ناکامی کے الزام سے انکا دامن چھڑایا نہیں جاسکتا۔ یہ اخلاقیات کیونکر اتنی غیر مہذب ہوئیں؟،اس کی سمجھ اس وقت آئی جب برطانوی فلسفی تھامس ہابز کی کتاب لیواتھن نظروں سے گذری۔ ہابز نے ریاست ، تہذیب و تمدن، قانون کے ارتقااور سماج کی تشکیل پانے سے قبل بنی نوع انسان کی’’ فطر ی حالت‘‘ سے متعلق پہلی منظم خیال آرائی کی۔ ہابز کے مطابق’’ سینٹرل اتھارٹی‘‘ کے بغیر تمام خود مختار انسان باہم متصادم ہیں ہر انسان دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہو تو سلامتی اور بقا اولین ترجیع بن جاتی ہے اور جب ہر فرد سلامتی اور بقا کیلئے فقط اپنے ذاتی مفاد میں دوسروں پر تسلط کی روش اختیار کرے تو طوائف الملوکی راج کر تی ہے اور تمام بد اخلاقیوں کی جڑیں اسی طوائف الملوکی سے پھوٹتی ہیں ۔

انسانی رویوں کے جائزوں سے معلوم پڑتا ہے کہ فطری حالت میں انسان پر نہ اخلاقی قدغنیں مسلط ہیں اور نہ ہی وہ کسی حقوق کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔ جان لاک کے مطابق اس فطر ی حالت میں تمام افراد اپنی اعمال میں مکمل طور پر آزاد ہیں ۔ سماجی معاہدے، تہذیب و تمدن،ریاست اور سماج فرد کو مختلف رشتوں کے بندھوں میں پروتے ہیں بلکہ مختلف اخلاقی ضابطے بھی ترتیب پاتے ہیں۔ بین الاقومی سطح پر کسی مرکزی حکومت کی عدم موجودگی میں طاقتور ریاستیں کمزور ریاستوں کو اپنے تسلط میں رکھتی ہیں تاہم ریاستوں کے اندر بھی طاقتور افراد ، گروہ اور جماعتیں کمزور افراد پر مسلط رہتے ہیں کیونکہ قانون سازی اور نفاذ کے اداروں پر انکا تسلط موجود رہتا ہے۔ دوسروں پر تسلط جمانے ،سلامتی ،بقا اور مفاد ات کی جنگ میں طاقت اپنی اخلاقیات مرتب کرتی ہے جس کا تعلق ضروری نہیں اُن اعلی ٰ انسانی اخلاقی اقدار سے بھی ہو جن کا ہم خیال کرتے ہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments