جنت کے دروازے پر


Ahsan sabz….پردہ اٹھتا ہے….

الن : (جنت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے) کیوں بے؟ کیا ہورہا ہے؟

ننھا : الن آگیا تو ، آجا آجا۔ آگئی یاد تجھے۔۔۔

(دونوں گلے ملتے ہیں) الن : ابے تو، تو ویسا کا ویسا ہے

ننھا : ہاں تو کون سا بابرا شریف بن کے آیا ہے، دیکھ اتنے سالوں میں بھی نہیں بدلا ، ایمان سے وہی کمزور، مری ہوئی چوہی لگ رہا ہے (زور سے ہنستے ہوئے)

الن : اچھا۔۔۔ چوہی !!۔۔ میں ایک دوں گا بکواس کی تو (مارنے کے انداز میں)

ننھا : آئی آئی۔۔ اوئی (خود کو بچاتے ہوئے)

الن : (مسکراتے ہوئے)

ننھا : یار الن…. تو ویسے ہے کوئی بہت ہی کمینہ آدمی

الن : کیا بکواس کر رہا ہے؟

ننھا : تو اور کیا…. اتنے سالوں بعد اپنی یہ منحوس صورت دِ کھا رہا ہے، مجھے بہت ڈر لگا تیرے بغیر ایمان سے (معصومیت سے)

الن : ہائیں…. ابے اس جسم اور ڈیل ڈول کے ساتھ تجھے ڈر لگا؟ بھائی یہ تو جنت ہے ، یہاں تو حوریں ہوتی ہیں، دوستی کر لیتا اپنی جیسی کسی موٹی سی حور سے

ننھا : ہاں تو میں گیا تھا نا دوستی کرنے۔ لیکن وہ سب کہتی ہیں کہ تم فراڈ ہو

allanالن : فراڈ ہو؟ تم کیوں فراڈ ہو؟ ساری کارستانیوں کے پیچھے ذہن تو میرا چلتا تھا، کھوپڑی استعمال ہوتی تھی میری تم تو محض چلتے پھرتے پرزے تھے ، یہ بتایا ہوتا تم نے ان کو

ننھا : (پیٹ پر ہاتھ پھیرے ہوئے) ہاں بتایا تھا میں نے کہ ساری کمینگی اس الن کی ہوتی تھی، لیکن وہ کہتی ہیں النّ نے جو مال بنایا ، کھایا تو تم نے بھی ہے، بلکہ اس سے زیادہ کھایا ہے، اس لئے تم بھی فراڈ ہو

الن : اچھا خیر چل اب میں آگیا ہوں ، بات کروں گا ان سے تیرے لئے، اب یہ بتا دودھ کی نہر کہاں ہے؟ بڑی لمبی بات ہوئی منکرنکیر سے ، گلا خشک ہورہا ہے

ننھا : ہاں دودھ سے یاد آیا۔۔ دودھ کے ساتھ دو ٹوسٹ بھی منگوا لے ، قسم خدا کی صبح سے کھڑا ہوں یہاں تیرے انتظار میں بھوکا

الن : (دانت بِھیجنتے ہوئے) اچھا منگوا لوں گا دو ٹوسٹ بھی ،بد بخت…. یہاں بھی بے وقت المّ غلمّ ٹھوسنے کی عادت نہیں گئی تمہاری

ننھا : ٹوسٹ الم ّ غلم ہوتا ہے؟

الن : اچھا فضول باتیں چھوڑ ، یہ بتا تو نے یہاں جنت میں کچھ مال بھی بنایا یا یونہی بس فارغ بیٹھ کر میرا انتظار کیا

ننھا : تجھے پتہ نہیں ہے شاید الن۔۔۔ یہاں پر سب کچھ فری ہے ، بالکل فری۔ جو مانگو۔۔ شوپیک…. کر کے سامنے آجاتا ہے

الن : شوپیک کے بچے ّ، کام کی بات پوچھ رہا ہوں، اول فول بک رہا ہے

ننھا : ہاں الن تو کر کے دیکھ لے یقین نا آئے تو۔۔ جتنا بھی کھا لے، پی لے، صبح شام دوپہر ،رات ، آدھی رات ، کوئی پوچھنے نہیں آئے گا ، مہینے کے آخر میں بھی نہیں ، ایمان سے

الن : پھر بھی یار ننھے، دیکھ کوئی مصروفیت تو ہونی چائیے نا انسان کے پاس۔۔۔ جس سے دل لگا رہے ، وقت گزرنے کا احساس ہو، ورنہ تو زندگی بے رنگین سی ہوجائے گی، سن۔۔۔۔ میرے پاس ایک اسکیم ہے (رازداری سے نزدیک آتے ہوئے )

ننھا : اچھا…. ہاؤسنگ اسکیم؟ (تجسس کے ساتھ)

الن : نہیں نہیں

ننھا : بچت اسکیم؟

الن : ابے نہیں

ننھا : سستی روٹی اسکیم

الن : پھر بکواس کئے جارہا ہے، ابے جنت میں سستی روٹی اسکیم کا کیا کام؟ میں کیش اسکیم کی بات کر رہا ہوں (آنکھ مارتے ہوئے)

ننھا: اچھا۔۔ اس میں کیا ہوتا ہے

الن : مال ملتا ہے، بینک بیلنس بنتا ہے، آدمی معزز ہوجاتا ہے

ننھا : ہاں۔۔۔ اور اندر بھی ہوجاتا ہے تیری طرح ہر اسکیم کے بعد

الن : ابے سن تو سہی۔۔ اس بار فول پروف منصوبہ ہے، کرنا یہ ہے کہ یہاں جنت کے دروازے پر کھڑے ہوکر ہر آنے جانے والے سے اِنٹری فیس وصول کرنی ہے بس

ننھا : وہ کِس لئے؟

الن : لو۔۔ پوچھ رہا ہے کس لئے۔۔ ابے لوگ آئیں گے یہاں کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے تو فیس نہیں دیں گے کیا؟

ننھا : ہاں تو وہ مجھے تجھے فیس کیوں دیں؟ وہ تو نیک لوگ ہیں جو اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے یہاں بھیجے گئے

 ہیں

الن : ابے نیک لوگ ہی تو دریا دل ہوتے ہیں، تقاضہ کرنے والے ہر شخص کو سچاّ سمجھتے ہیں، بغیر سوال جواب کئے

 دیتے ہیں، اور ویسے بھی اب نیچے دنیا میں بے وجہ وصولیوں کا کلچر اتنا عام ہوچکا ہے کہ لوگ پوچھنے تاچھنے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے۔ کسی کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہوتا، بس تجھے کرنا یہ ہے کہ ایک ٹوپی لگا کر سیٹی منہ میں دبائے کھڑا ہوجا یہاں دروازے پر، میں تجھے جعلی رسیدوں کے بنڈل ارینج کردیتا ہوں، ہر آنے والے سے 20 روپے جنت ٹیکس وصول کر۔۔ بس

ننھا : جنت ٹیکس۔۔۔ ہنہ۔۔ (سوچتے ہوئے) یار الن ، دیکھ تو مجھ سے پھر یہ ہیرا پھیری والے کام کروا رہا ہے، ایمان سے اب یہاں آنے کے بعد مجھے مار کھانے کی عادت بھی نہیں رہی

الن : ابے کون مار رہا ہے تجھے۔۔۔ اور میں کون سے ڈنڈا لے کر غنڈا ٹیکس وصول کرنے کا کہہ رہا ہوں، دیکھ یہاں آنے والا ہرشخص کتنا خوش اور مطمئن ہے۔۔ بس تجھے اِن خوشیوں کو کیش کرانا ہے۔

Ali-noonننھا : اچھا تو یہ بات ہے تو تو خود کیوں نہیں کرالیتا کیش؟ ٹیل می دِس؟ وائی؟ کیوں آخر؟ واٹ از ریزن بی ہائیڈ دس؟ (منہ بناتے ہوئے)

الن : بتاوں میں ریزن ابھی؟ ( غصے سے گھورتے ہوئے) بیٹے میں خود یہ کام کر لیتا اگر میرے پاس تیرے جیسی معصوم بھولی بھالی صورت ہوتی۔ تیری یہ یتیموں جیسی شکل ہی تو ہے کہ لوگ باآسانی دھوکا کھا جاتے ہیں

ننھا : ہاں تو تو بھی پلاسٹک سرجری کروا کے ایسی صورت بنوا لے

الن : بکواس نہیں چائیے مجھے، سرجری کا بچہ ، اب جاو کھڑے ہو وہاں خاموشی سے، میں رسیدوں کا انتظام کر کے آتا ہوں، اور ہاں ، کوئی گڑ بڑ مت کرنا

ننھا : نہیں الن تو فکر ہی نا کر۔۔ آج سے سب جنت ٹیکس دیں گے، تو جو آگیا ہے یہاں (سر جھٹکتے ہوئے)

۔۔۔۔۔ کچھ وقفے کے بعد ۔۔۔۔

ننھا : (الن کو دروازے کی جانب واپس آتا دیکھ کر) کیا ہوا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟؟ جیب کٹ گئی تیری؟

الن : (ناگواری سے دیکھتا ہے)

ننھا : رسیدیں کہاں ہیں؟ وہ دیکھ میں نے معین اختر، اور لہری کو باہر بنچ پر روک کے رکھا ہے تیرے چکر میں، اور رنگیلا بھائی جان کو جلدی تھی تو ان سے میں نے یہ چار مولیاں لے لیں (مولی چباتے ہوئے)

الن : یہ سب یہاں نہیں چلے گا ننھے (مایوسی سے سر نیچے کر کے)

ننھا : کیا نہیں چلے گا؟

الن : یہی دھوکے بازی ، جعل سازی، ہیرا پھیری

ننھا : تو پھر تو کیسے چلے گا؟ تیری تو رگ رگ میں یہ سب بھرا ہوا ہے، تیرا وقت کیسے گزرے گا اب؟

الن : ہاں جیسے تجھے معلوم نہیں کہ یہاں وقت کیسے گزارا جاتا ہے ( سر اٹھا کر گھورتےہوئے)

ننھا : دیکھا !۔۔۔۔ اب آیا نا تو لائن پہ۔۔۔ سن کر کسی کو یقین نہیں آتا الن لیکن دیکھ کر ہوش اڑ جاتے ہیں؟ میں پہلے بتا دیتا تو سارا مزا خراب ہوجاتا، ہے نا سرپرائز؟

الن : ( مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو گھورتا اور سر ہلاتا ہے)

ننھا : یار الن ویسے ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی

الن : (اٹھ کر چلتے ہوئے) ہاں۔۔۔ جیسے اِس ایک کو چھوڑ کر باقی تو تیرے سب سمجھ آتی ہیں

ننھا : نہیں ایمان سے بتانا

الن : کیا

ننھا : یہی کہ تجھ جیسے کمینے اور دھوکے باز شخص کا جنت میں کیا کام؟ تجھے تو جہنم کے کسی اندھے کنوئیں میں ہونا چائیے تھا

الن : تو یہ بات تو مجھ سے کیوں پوچھ رہا ہے؟ یہ فیصلہ جس نے کیا ہے اس سے پوچھ

ننھا : ہاں وہ تو میں پوچھ لوں گا لیکن تجھے خود کیا لگتا ہے، تو نے دنیا میں اپنی اس ذلیل زندگی کے دوران عیاریوں اور مکاریوں میں سے وقت نکال کے کوئی اچھا کام کیا تھا کبھی؟

الن : ہاں۔۔ ایک کام کیا تھا، اسی کی وجہ سے آج یہاں ہوں

ننھا : اوئی۔ ہوئی۔۔ وہ کیا؟ (حیرت سے)

الن : تجھ جیسے بد بخت کو وہاں اتنے سال اپنے ساتھ برداشت کرنا کیا کوئی معمولی نیکی تھی؟ اور مرنے کے بعد تو جو شہر بھر کے ہوٹلوں میں ادھار کے کھاتے چھوڑ آیا تھا اسے میں خاکے لکھ لکھ کر۔ ترجمے کر کر کے بھرتا رہا، وہ کوئی کم نیکی تھی؟

ننھا : ہاں الن ویسے یہ تو ہے۔۔ تو اوروں کے لئے جیسا بھی تھا لیکن میرے لئے یاروں کا یار رہا ہمیشہ

الن : لیکن ننھے۔۔ یار تیرے جانے کے بعد میں ادھورا رہ گیا تھا، میں چاہ کر بھی پھر سے وہ باتیں لکھ نہیں سکا جو تجھے سوچ کر ذہن میں آ جاتی تھیں

ننھا : ویسے تجھے پتہ ہے مجھے یہاں کئی لوگ ملے جو تیری لکھی ہوئی تحریروں کے اثر سے سیدھے راستے پر آئے

الن : اچھا۔ انھوں نے ایسا کہا تجھے؟

ننھا : اور نہیں تو کیا۔۔ ایک بیکری والا ملا اس نے تیرا لکھا ہوا خاکہ دیکھ کر باسی نان ختائیاں اور بسکٹ گاہکوں کو کھلانے کے بجائے سمندر میں مچھلیوں کے لئے ڈالنے شروع کر دئیے، اس کا کام بن گیا

الن : (خاموشی سے سنتے ہوئے)

ننھا : ایک دکاندار نے بتایا کہ اس نے ہمارے پروگرام سے متاثر ہوکر ذخیرہ اندوزی ترک کر دی، وہ بھی نوازا گیا، اور وہ یاد ہے تجھے بھیک مانگنے والی مائی جس کے گھر والے کو ڈی ڈی ٹی ہوگئی تھی؟

الن : ابے ڈی ڈی ٹی نہیں۔۔ ٹی بی

ننھا : ہاں وہی۔۔ اس مائی نے گدا گری والی ایپی سوڈ کے آخر میں محمد قوی اور راہگیروں کے ہاتھوں ہماری پٹائی دیکھ کر محنت سے روزی کمانا شروع کردی، آج وہ یہاں عیش کر رہی ہے

الن : ہاں ٹھیک کہہ رہا ہے تو۔۔ ابھی راستے میں وہ باربی کیو پوائنٹ والے پہلوان جی ملے تھے، وہ بھی یہی کہہ رہے تھے

ننھا : کون پہلوان جی

الن : ابے وہی جو اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے حلال کی ہوئی اور گاہکوں کے لئے مری ہوئی سستی مرغیوں کے کباب بنواتے تھے ہم سے

ننھا : اچھا اچھا۔۔ ہاں یاد آگیا

الن : مجھے دیکھتے ہی لپٹ گئے، بولے ننھے کا بھی ہاتھ جوڑ کر احسان مانوں گا، تم لوگوں کی وجہ سے بچت ہوگئی

ننھا : چل الن۔۔ اچھا ہوا ویسے، ہیں۔۔ یہ لوگ برائیوں میں پڑے رہتے تو آج ملاقات نہیں ہو پاتی یہاں

الن : ہاں (دونوں مسکراتے ہوئے ہاتھ ملاتے ہیں)

ننھا : اوئے ہوئے

الن : کیا ہوا؟

ننھا : وہ دیکھ سامنے سے کون آرہا ہے؟

الن : کون ہے؟

ننھا : وہی کیریکٹر جِسے تو نے اینٹیک شاپ میں چائے والے کی چینک بیچی تھی۔۔

الن : کون سی چینک؟

ننھا : جِسے تو نے ساڑھے تین ہزار سال پرانا نمونہ بتا کر پانچ سو میں دی تھی

الن : ابے ہاں۔۔ یہ تو وہی جسے گھر پہنچنے پر اس کی بیوی نے بھی مارا تھا

ننھا : ہاں وہی وہی۔۔ ہی ہی ہی (دونوں ہنستے ہیں)

الن : یہ تو یہیں آرہا ہے۔۔ چل کھسکتے ہیں یہاں سے (دونوں آگے بڑھتے ہیں)

۔۔۔ پردہ گرتا ہے۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “جنت کے دروازے پر

  • 15-03-2016 at 3:47 pm
    Permalink

    بہت کمال لکها ہے، ایک لمحے کو یہ احساس نہیں ہوتا، کہ کمال احمد رضوی کی تحریر نہ ہو.
    لگتا ہے، آپ نے الف نون گهول کر پیا ہے. ڈهیروں داد.

  • 15-03-2016 at 7:24 pm
    Permalink

    زبردست ایسا لگا الف نوں دیکھ رہی ہوں

  • 17-03-2016 at 5:19 pm
    Permalink

    ننھے، کمال کردیا۔ keep it up

Comments are closed.