حلوائی، بھانڈ، کٹھ پتلیاں اور صحافی


mubashirسیٹھ سوئیٹس کے سیٹھ صاحب نے حلوائی کو بلاکر کہا، ’’میاں جمن! تمھارا بنایا ہوا حلوہ شان دار سوئیٹس والوں کی مٹھائیوں سے زیادہ فروخت نہیں ہورہا۔ ہم ایک دو ہفتے اور دیکھتے ہیں۔ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو اپنا بندوبست کرلینا۔‘‘

جمن نے عرض کیا، ’’جناب! پہلی بات یہ کہ شان دار سوئیٹس کی دکان بڑی ہے اور مرکزی شاہراہ پر ہے۔ آپ کی دکان چھوٹی اور اندر گلی میں ہے۔ دوسرے یہ کہ شان دار سوئیٹس والے مسلسل اشتہار بازی کرتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ان کے ہاں مٹھائیوں کی زیادہ ورائٹی ہے۔ آپ کے ہاں فقط لوکی کا حلوہ ملتا ہے۔ چوتھے یہ کہ۔ ۔ ۔‘‘

سیٹھ صاحب کا منہ بن گیا، ’’میاں کھل کر کہو، کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘

میاں جمن نے کہا، ’’حضور! میں حلوائی ہوں۔ میرا کام حلوہ بنانا ہے۔ کھاکر دیکھیں، پسند نہ آئے تو لات مار کے نکال دیں۔ لیکن فروخت میں کمی بیشی کا میں ذمے دار نہیں۔‘‘

وجاہت بھائی! میں نے یہ مکالمہ گزشتہ روز مٹھائی کی ایک دکان پر سنا۔ اس کے بعد بہت دیر تک اپنی میڈیا انڈسٹری کی صورتحال پر غور کرتا رہا۔ زیادہ نہیں، کچھ کچھ مطابقت ضرور دکھائی دی۔

ہم صحافی ہیں، ہمارا کام خبر کھوجنا، اسے اچھے طریقے سے لکھنا اور معیاری طریقے سے پیش کرنا ہے۔ پرنٹ میڈیا میں شاید اب بھی یوں ہے کہ اچھا کام کریں گے تو اچھے پیسے ملیں گے۔ اچھا کام نہیں کریں گے تو کام نہیں ملے گا۔ لیکن الیکٹرونک میڈیا کا دستور نرالا ہے۔ برا کام کریں لیکن ریٹنگ اچھی آجائے تو پروموشن مل جائے گی۔ اچھا کام کریں لیکن ریٹنگ بری آئے تو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

پہلے اچھا صحافی وہ ہوتا تھا جو کڑوے باداموں کا حلوہ بناتا تھا۔ سچ کڑوا ہی ہوتا ہے۔ لیکن ٹی وی آنے کے بعد معیار بدل گیا۔ حلوے کے بجائے چاٹ بننے اور بکنے لگی۔ بارہ مسالے کی چاٹ۔ ادھورے سچ کی ٹاٹری، قیاس آرائیوں کا کیچپ، پھینٹے ہوئے دہی جیسا مونٹاج، رنگین گرافکس والا فالودہ، ہندی الفاظ کی چٹنی، سب کچھ سوائے آگہی کے۔

ہمارے اساتذہ نے بتایا تھا کہ میڈیا کی چار ذمے داریاں ہیں۔ آگاہ کرنا، تعلیم دینا، رہنمائی کرنا اور محظوظ کرنا۔ آگاہ کرنے کا رتبہ سب سے بلند، انٹرٹین کرنے کی اہمیت سب سے کم۔ لیکن وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ٹیلی وژن انٹرٹیمنٹ کا دوسرا نام ہے، یہ بات ہمارے نیوز منیجرز سے زیادہ کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔

یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ اب ڈائریکٹر نیوز نہیں ہوتے، نیوز منیجر ہوتے ہیں۔

کشتی کے مقابلے کرانے والی ایک تنظیم کا نام پہلے ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن تھا۔ اس کا مخفف ڈبلیو ڈبلیو ایف کیا جاتا تھا۔ پھر ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ والوں نے ان سے درخواست کی کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نام سے دنیا بھر میں ہم جانے جاتے ہیں، آپ کوئی اور نام رکھ لیں۔ ریسلنگ والے ذہین لوگ تھے۔ انھوں نے تنظیم کا نام ڈبلیو ڈبلیو ای رکھ لیا، یعنی ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ۔

وجاہت بھائی! مجھے خدشہ ہے کہ پاکستان کی نیوز انڈسٹری بھی انھیں خطوط پر چل رہی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ہم صحافیوں کو بھانڈوں کی طرح جگتیں لگانی نہیں آتیں۔ پریشانی یہ نہیں کہ ہم میڈیا والوں کو بے سرے گلوکاروں کی طرح بھجن گانے نہیں آتے۔ فکر یہ نہیں کہ ہم ٹی وی والوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح ناچنا نہیں آتا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اشاروں پر ناچنے کے باوجود بیشتر اداروں میں کسی صحافی کی ملازمت کا کوئی تحفظ نہیں۔

رات بھر کوٹھے پر ناچ ناچ کر تھکن سے چور ہوجانے کے باوجود اس الزام کے ساتھ رخصت کا پروانہ مل سکتا ہے کہ اس بار تماش بین کم تھے۔

وجاہت بھائی! آپ جانتے ہیں کہ میں پندرہ سال سے ایک ہی ادارے میں کام کررہا ہوں، پانچ چھ سال سے سب سے زیادہ ریٹنگ والے بلیٹن کا پروڈیوسر ہوں، میرے کولیگ، باسز اور مالکان سب قدر دان ہیں۔ میرے لیے سب اچھا ہے۔ لیکن یہ دل جو آج زیادہ دکھا ہوا ہے، یہ زبان جو آج زیادہ تلخ ہے، یہ قلم جو آج کاغذ کو چیرے جارہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی اچھے صحافی، کئی اچھے دوست ریٹ ریس ہارنے کے الزام میں گھر بیٹھے ہیں۔

کسی استاد کا جملہ یاد آرہا ہے، صحافی اور طوائفیں اپنی شامیں بیچ دیتے ہیں۔ اس پر شاگرد گرہ لگانا چاہتا ہے، طوائفیں اچھی کہ سودا بہتر کرتی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

4 thoughts on “حلوائی، بھانڈ، کٹھ پتلیاں اور صحافی

  • 15-03-2016 at 3:24 pm
    Permalink

    اندر کی بات تو میڈیا منڈی میں بیٹھے لوگ ہی جانیں. لیکن جو ہو رہا ہے کچھ اچھا نہیں ہو رہا. ہمیں آپ سے ہمدردی ہے. آپ لوگ تو لفظوں کے کھلاڑی ہیں۔ بات نوک قلم پر لے آتے ہیں لیکن بہت سے لوگ تو ایسے شعبوں میں ہیں کہ ” مجبور ہیں اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ” کی عملی تصویر بنے پھرتے ہیں . خوار ہیں اور کوئی پوچھتا بھی نہیں۔

  • 15-03-2016 at 7:10 pm
    Permalink

    خدا کا شکر ہے کہ اب قارئین یا ناطرین کے پاس اب اس پھکّڑ کچرا میڈیا کا متبادل سوشل میڈیا کی شکل میں موجود ہے جس پر وہ اپنی مرضی کا مواد لکھ اور پڑھ رہا ہے، اب مجھے قطعی ضرورت نہیں کہ ایگزیکٹ کی کئی گنا تنخواہ پر لپکنے والے کامران خاونوں، نیوسینس ویلیو شہزیب خانزادوں، قابل نفرت لقمانوں، کاشف عباسیوں، الٹرا ملّا اوریاؤں اور انصار عباسیوں، طالبان کے بھونپو بنے صافیوں، گالی ماسٹر حسن نثاروں، چھچھورے بادامیوں، پرپل کوٹ میں سیلفی لینے والے جاوید چوہدریوں، معیدوں (المعروف ابا کا انگوٹھا چھاپ)، مذھب فروش عامر لیاقتوں، قیامت مسعودوں، بوٹ پالش بلکہ مالش کے لئے پھٹنے کو بیتاب سوڈو دانشوں اور دیگر خوبصورت مگر چڑیل سیرت چیختی دھاڑتی ہوئی اینکریاں اور سنسنی پھیلاتے فشار خون بڑھاتے ہوئے لونڈے اینکرز کو دیکھنے اور سننے کی، جو روز شام کو سیاسی مرغے و کتے لڑاتے اور باآواز بلند نسل کشی والے گھوڑوں کی طرح ہنہناتے ہیں، جن کی اکثریت فوجی بینڈ باجے کے پیتل کے منہ والا بھونپو بنی ہوئی ہے،

    سلام مارک ذکربرگ، سلام بل گیٹس، سلام موجدان انفارمیشن ٹکنالوجی جن کی بدولت آج رائے عامہ ان جاھلوں سے آزاد ہوئی جنکو آپ نے کوٹھے کی طوائف سے تشبیہ دی ہے، جو ننگا ناچنے کے بعد بھی جاب سیکیوریٹی اور سکون ضمیر سے محروم ہے، پھکڑ میڈیا کو منہ کی کھانی ہی تھی، معیار یہ ہے کہ ایک اینکر ایک کرکٹ کے کھلاڑی پر لعنت بھیج رہا ہے، پلانٹڈ انٹرویوز، نوے فیصد افواہیں پھیلارھے ہیں، شکر ہے کہ سوشل میڈیا نے بندر کے ہاتھ سے استرا چھین لیا ہے، سوشل میڈیا جیسا بھی ہے اپنا ہے

    • 16-03-2016 at 10:34 am
      Permalink

      SHUKRIYA AP K JAZBAT SACHAY OR ACHHEY HEN.

  • 21-03-2016 at 4:18 pm
    Permalink

    محض تماش بینوں کے جمگھٹے سے صلاحیت کو جانچنا ۔۔۔ ایک المیہ ہے
    تماش بینوں کا جمگھٹا تو اس پاگل کے گرد سب سے زیادہ ہو گا جو برہنہ ناچ رہا ہو
    واقعی ایک دکھی دل سے لکھی گئی پرتاثیر تحریر

Comments are closed.