غیرت کے نام پر غیرت کا قتل


ملک محمد سلمان

New Logo Phool Rang

غیرت کے نام پرقتل کامعاملہ سال ہا سال سے چلاآرہا ہے۔ میڈیا میں تبصرے اور تجزیئے بھی ہوتے رہتے ہیں، سماجی تنظیمیں،سوسائٹی اورمعاشرے کے دیگرطبقات بھی غیرت کے نام پرقتل کے خلاف اپنی آوازبلندکرتے رہتے ہیں۔ سیاستدانوں اورحکمرانوں نے ملک میں اس کے خاتمہ کے اعلانات کیے لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ برصغیر اور خاص طور پر پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل ہماری مشرقی تہذیب کی ایک شرمناک روایت، کلچر کا ایک بھیانک روپ اور افراط و تفریط پر مشتمل غیرت کی عجیب شکل بنتا جارہا ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق خاندانی عزت و ناموس اورناجائز تعلقات کے الزام میں سالانہ چھے سو جبکہ مرضی کی شادی کرنے کی پاداش میں لگ بھگ دو سوافرادکو موت کے گھاٹ اتار دیاجاتا ہے جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ غیرت کے نام پرقتل جیسی فرسودہ رسومات اور روایات کا اسلام اورہماری تہذیب سے کوئی تعلق نہیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اس برائی کاخاتمہ ہوناچاہیے۔ اس برائی کوختم کرنے کے لئے ہمیں اس کے اسباب اور وجوہات پر غورکر کے انہیں ختم کرنا ہو گا۔ ایک پہلو پر زور دینااوردوسرے پہلو کو نظر انداز کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ غیرت کے مسئلہ کو مثبت یا منفی رخ تعلیم، تربیت اور ماحول کی وجہ سے ملتا ہے اور غیرت کے نام پر قتل تعلیم و تربیت سے زیادہ ماحول کا نتیجہ ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سلسلہ کو روکنے اور تربیت اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کیا روش اپنائی گئی ہے؟ماحول کی بہتری میں مثبت کردار ادا کرنے اور اپنے احتساب کی بجائے ہر کوئی ماحول کی اس خرابی کا ذمہ دار میڈیا اور فحاشی کو قرار دیتا ہے۔ جبکہ غیرت کے نام پرقتل کی وجوہات اوراسباب میں اہم وجہ پسند کی شادی بھی ہے۔

نوجوان نسل میں مرضی کی شادی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ محبت اور من پسند شادی کے خواہشمند جوڑوں کو اول روز سے ہی شدید مخالفت اور مصائب کا سامنا رہا ہے۔ اس مقصد میں ناکامی پر گھرسے بھاگ کر کورٹ میرج کے واقعات عام ہیں اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عشق میں ناکام عاشق خودکشی (حرام عمل)جیسی بزدلانہ حرکت کر کے زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔ کورٹ میرج اورخودکشی جیسے غلط رجحان کو روکنے کیلئے والدین کو اپنی اولادکی پسند وناپسند کا خیال رکھنا ہوگا ۔ اسلام میں پردے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اس کے باوجود شادی جیسے اہم معاملے میں نرمی کا رویہ رواں رکھا گیا ہے ۔ اس ضمن میں پیارے نبیﷺ کی حدیث کے مطابق جس سے آپ پختہ نکاح کا ارداہ رکھتے ہوں اُسے ایک نظر ضرور دیکھ لینا چاہیے۔ حدیث نبویﷺ میں ناصرف نکاح کا پختہ ارداہ رکھنے کی صورت میں ایک نظر دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے بلکہ تاکید کی گئی ہے کہ جس کے ساتھ آپ ساری زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کررہے ہیں اسے ضرور دیکھ لیں ۔

اپنی اولاد کی خوشی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ضروری چھان بین کے بعد بخوشی شادی کردینے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئیے۔ بالغ افراد کو مرضی کی شادی کاقانونی اور اسلامی حق حاصل ہے اوروالدین کابھی اخلاقی فرض ہے کہ اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے اس بنیادی انسانی حق کا احترام کریں۔

اسلام نے نکاح میں مردوعورت کو پسند اور ناپسند کااختیار دیا ہے اور بالغ عورت سے بغیر اس کی اجازت کے نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ ایک عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر ہوا، اس نے آپﷺ سے عرض کیا تو حضورﷺ نے اس کا نکاح فسخ کردیا۔ اس روایات سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی اس کا نکاح کیا جائے اورکوئی شخص خواہ وہ باپ ہی کیوں نہ ہو زبردستی اسے نکاح پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اگر وہ زبردستی نکاح کر بھی دے تو وہ اس کی اجازت پر موقوف رہے گا اور اگر وہ نامنطور کردے تو باطل ہوجاتا ہے۔ اس کے اموال میں کسی مرد کو بغیر اس کی رضا و اجازت کے کسی تصرف کا کوئی حق نہیں۔

اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ ایک مسلمان کا نکاح بلاتمیز رنگ ونسل، عقل وشکل اور مال وجاہت ہر مسلمان کے ساتھ جائز ہے ۔ اسلام کی واضح تعلیمات کی روشنی میں ہمیں ذات پات اور اونچ نیچ کے امتیاز کے بغیراولاد کی مرضی و خوشی کی مطابق شادی بیاہ کے فیصلے کرنے چاہئیں۔ شریعت نے مردو عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا اور اولیا ء کو جبر و سختی سے کام لینے سے منع کیا اور دوسری طرف مردو عورت کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی قدم اٹھائیں۔ معاشرے میں پسند کی شادی اور اس کے نتیجے میں خون ریز واقعات کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

غیرت کے نام پرقتل کی اہم وجہ اور سنگین صورت ناجائز تعلقات کا شبہ ہوتا ہے، فعل بد کے الزام میں لوگ اشتعال میں آجاتے ہیں اوراس گناہ کے شک پر مرد یا خاتون یا دونوں کو قتل کر دیتے ہیں، بلا شبہ اس فعل کی اجازت نہ تو اسلام میں ہے اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے میں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کو بھی از خود سزا دینے کا حق حاصل نہیں ہے اور شرعی عدالت کے ذریعے بھی اس انتہائی سزا پر عملدرآمد تبھی ممکن ہے جب چار عینی شاہدین موجود ہوں۔

ہر ایک یہی کہتا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کاخاتمہ ہونا چاہیے اوراس سلسلہ میں تمام تر ذمہ داری قاتل پرڈال دی جاتی ہے۔ جبکہ اس کی اصل وجہ اخلاقی و معاشرتی اقدار سے لاعلمی، اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ جس میں ذات پات ، اونچ نیچ جیسی شرائط اور منفی سوچ نے معاشرے کو طبقات میں تقسیم کیاہوا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ باریک بینی سے ان وجوہات کے جائزہ لیا جائے جن کی وجہ سے غیرت جیسے پاکیزہ جذبے کی افراطی شکل ہمارے معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ان اسباب و عوامل کی شناخت کے بعد غیرت کے افراطی پہلووَں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے اوراس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی معنوں میں ہم انا اور شک کی بھٹی میں جل کر غیرت کے نام پرغیرت کا قتل کرہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments