’غدار‘ احمد فراز کی سرکاری موٹر کار


adnan Kakar

اس بات سے تو ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ بائیں بازو کے لوگ نہایت ناسمجھ، کم علم، اور ڈالر لینے والے حرام خور غداران وطن ہوتے ہیں، اور محب وطن، ذکی، باعلم اور حلال پیشہ لوگ صرف دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اصحاب ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں پچھلے سال نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اشتہار دیا کہ جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر ’اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سابق ایم ڈی جناب احمد فراز (مرحوم) کے چاہنے والوں کے لیے ان کے زیر استعمال رہنے والی سرکاری گاڑی حاصل کرنے کا تاریخی موقع ‘ میسر ہے۔

اس پر قوم نے جو ردعمل دیا، وہ دلچسپ تھا۔ چھیانوے ماڈل کی اچھی کنڈیشن والی کرولا اس وقت چھے ساڑھے چھے لاکھ میں مارکیٹ میں مل رہی تھی، لیکن کیونکہ یہ گاڑی احمد فراز سے منسوب تھی اس لیے اس کی بولی تین لاکھ سے شروع ہوئی اور چھے لاکھ پچیس ہزار میں ’غدار‘ فراز کی یہ سرکاری موٹر کار فروخت ہو گئی۔

احمد فراز بھی کیا خوب آدمی تھے۔ یوں تو ان کی زندگی میں موٹر کاریں اور خواتین بہت رہی ہیں کہ شاعری اور زندگی میں رومان کو وہ بہت اہم گردانتے تھے، لیکن شاید ان کی اہم ترین موٹرکار ایک کھٹارا فوکسی تھی۔

volkswagen

فراز پر ایک وقت ایسا بھی گزرا جب وہ بالکل بے روزگار تھے۔ نہ ان کے پاس رات بسر کرنے کا ٹھکانہ تھا اور نہ دن میں وقت گزارنے کا کوئی مشغلہ۔ کبھی کبھی ان کو اسی کھٹارا فوکسی میں سو کر بھی راتیں گزارنی پڑی تھیں۔ وہ فوکسی ایسی ہی تھی جیسی ایک بے روزگار شاعر کی ہونی چاہیے اور وہ چلتے ہوئے عجیب و غریب خوفناک قسم کی آوازیں نکالتی تھی۔ فراز کہتے تھے کہ ’یہ کار صرف میں ہی چلا سکتا ہوں‘۔

فوجی حکومت کا یہ مخالف اور ’غدار‘ لیفٹ کے خیالات رکھنے والا یہ شخص مرد مومن مرد حق جنرل ضیا کی مارشل لائی حکومت کا ایک ناپسندیدہ شخص تھا۔ اسی دور میں ان کو قید کی صعوبت بھی برداشت کرنی پڑی اور بالآخر ملک سے جلاوطن ہونا پڑا۔

ایک مرتبہ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے اشعار سے فوجی مخالفت جھلکتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، ہر فوجی حکومت میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا قصہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ میں نے اپنے قلم اور اشعار کے ذریعے ان کے خلاف آواز بلند کی جس کا مجھے کافی نقصان ہوا۔ میں نے بہت مشکل میں وقت Ahmad-Farazگزارا مگر کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آیا ‘۔

کیا یہ دلچسپ بات نہیں ہے کہ جس شخص پر فوج سے نفرت کا الزام لگایا جاتا تھا، اس کا ایک بیٹا آرمی اور دوسرا ائیر فورس کا حصہ بنا تھا۔ اور یہ بات کتنوں کو معلوم ہے کہ جب ہمارے ایک اہم متقی مذہبی سیاسی رہنما نے 49ء میں جہاد کشمیر کو حرام قرار دے دیا تھا تو عین اس وقت احمد فراز بنفس نفیس کشمیر کی لڑائی میں شریک تھے۔ بعد ازاں احمد فراز آزاد کشمیر ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔  ممکن ہے کہ اس لیفٹسٹ ’غدار‘ کی نظر میں فوج سے محبت اور فوجی حکومت سے نفرت میں کوئی فرق نہیں تھا۔

سنہ اکہتر کی جنگ میں ہفتے میں دو سے تین دن تک احمد فراز پشاور سے پنڈی آتے اور پی ٹی وی کے لیے دوران جنگ بھارت کے خلاف اور پاکستان کی حمایت میں نشر کیے جانے والے پروگراموں کی تشکیل میں مدد دیتے رہے۔

مشرقی پاکستان مین شکست کے بعد ایک بار کسی محفل میں فراز کو پان پیش کیا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا کہ وہ پان نہیں کھاتے۔ ایک خاتون نے کہا کہ ’یہ غلط ہے، میری چند برس پہلے جب آپ سے ملاقات ہوئی تو میں نے خود آپ کو پان کھاتے ہوئے دیکھا تھا ‘۔ فراز نے جواب میں کہا ’ہاں، تب میں پان کھاتا تھا۔ لیکن faraz-car2جب سے ڈھاکہ سے پان آنے بند ہوئے ہیں، میں نے پان کھانا چھوڑ دیا ہے ‘۔

احمد فراز ایک فلمی وفد کے ساتھ تاشقند گئے تو انہیں یہ بات بری لگی کہ پاکستانی فلم والے خود کو ہندوستانیوں سے کمتر سمجھتے تھے۔ ہندوستانیوں نے پاکستانی فلموں کے بارے میں کہا کہ یہاں خراب فلمیں بنتی ہیں تو فراز نے جواب دیا کہ ایک سال کے دوران ہماری سو میں سے تین فلمیں اچھی ہوتی ہیں، آپ کی آٹھ سو میں سے تیس اچھی ہوتی ہیں، تو اچھی فلموں کی شرح دونوں جگہ ایک ہی ہے۔ وہیں بھارتی فلم نگری کے دیوتا راج کپور نے ان سے شدید اصرار کیا کہ احمد فراز ان کی فلموں کے لیے گیت لکھیں، لیکن شرط یہ لگائی کہ انہیں بمبئی جانا ہو گا۔ راج کپور نے جب بہت ضد کی تو فراز نے کہا کہ وہ پاکستان جا کر اپنے دوستوں سے مشورہ کر کے جواب دیں گے۔

یہ جواب انہوں نے کبھی نہیں دیا۔ آغا ناصر نے اس بارے میں ان سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ’ناصر مجھے اس ملک میں جانا پسند نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے آج تک پاکستان کی مشرقی (ہندوستانی) سرحد عبور نہیں کی ہے ‘۔ فراز کو ہندوستان جا کر کام کرنا اور پیسے کمانا پسند نہیں تھا۔

faraz-car

اپنی زندگی کے آخری دس بارہ برسوں میں فراز کو بے شمار ملکوں کی سیاحت کی پیشکش ہوئی تو ان میں انڈیا بھی شامل تھا۔ پاکستان میں یکے بعد دیگرے مختلف فوجی حکومتوں کے قیام اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے واقعات نے فراز کو اپنا طرز عمل بدلنے پر مجبور کر دیا۔ انہیں اپنی زمین سے اور اپنے لوگوں سے ویسا ہی پیار تھا مگر اقتدار پر قبضہ کرنے والے اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے سرکار چلانے والے حکمران انہیں قبول نہیں تھے۔ وہ اپنے ملک میں رہ کر بھی اور باہر جا کر بھی ان آمروں کے خلاف جنگ لڑنا چاہتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ زندگی کے اس حصے میں انہیں جہاں بھی بلایا جاتا وہ چلے جاتے۔ ان میں ملکوں میں انڈیا بھی شامل تھا مگر فراز نے وہاں جا کر بھی کوئی ایک حرف، کوئی ایک سطر پاکستان کے خلاف نہیں لکھی مگر دائیں بازو کے محب وطن حضرات کے نزدیک بائیں بازو کا فراز ’غدار‘ وطن ہی ٹھہرا۔

لیفٹ کے اس ’غدار‘ کو 2004 میں پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا تمغہ ہلال امتیاز دیا گیا تھا۔ آمریت کے خلاف بولنے پر نیشنل بک فاؤنڈیشن سے سبکدوش کیے جانے پر 2006 میں فراز نے یہ تمغہ یہ کہتے ہوئے لوٹا دیا کہ ’اگر میں ایک خاموش تماشائی بن کر یہ سب کچھ دیکھتا رہا تو میرا ضمیر مجھے معاف نہیں کرے۔ کم سے کم جو میں کر سکتا ہوں، وہ یہی ہے کہ آمریت کو یہ بتا دوں کہ وہ ان فکرمند شہریوں کی نگاہ میں کہاں کھڑی ہے جن کے بنیادی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ میں ہلال امتیاز کو واپس کر کے یہ کام کر رہا ہوں اور اس حکومت سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے سے انکار کرتا ہوں ‘۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اپنے اس معزول شدہ سربراہ کی کار کو بہت خاص جانا۔ جب یہ اتنی پرانی ہو گئی کہ اسے کوئی بھی چھوٹا بڑا بابو استعمال کرنے پر راضی نہ ہوا، اور اس کھٹارے کی مرمت کرانا فاؤنڈیشن کو مہنگا لگنے لگا، تو بزرجمہروں کو اچانک یہ علم ہوا کہ یہ سرکاری کار تو ایک قومی خزانہ ہے کہ اس کا تعلق احمد فراز سے ہے، تو اس قومی خزانے کو نیلام کر دیا جائے۔

لیفٹ کے اس ’غدار‘ پاکستانی احمد فراز کی یہ یادگار تاریخی کار اسی ریٹ پر بکی جس پر کباڑ بکتا ہے۔ اور ہاں، وہ اصل کار، وہ فوکسی، جو کہ آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے والے شاعر عشق و جنوں فراز کے برے دنوں کی ساتھی تھی وہ نہ جانے کہاں ہے کہ اصل خزانہ تو وہی تھی۔ سرکاری گاڑیاں بھلا انقلابیوں اور عشاق کا خزانہ کہاں ہوتی ہیں۔


اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جب شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ ہم کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar