نوائے وقت (258) اور ہم سب (255): روایت آگے بڑھتی ہے


15 اکتوبر 1998 کا دن تھا۔ پشاور میں آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ میچ کا دوسرا روز تھا ۔ آسٹریلیا نے چار وکٹوں کے نقصان پر 598 رنز بنا رکھے تھے۔ کپتان مارک ٹیلر 333 رنز پر کھیل رہے تھے۔ تب کسی ایک ٹیسٹ اننگز میں زیادہ سے زیادہ رنز کا ریکارڈ 375 رنز تھا جو برائن لارا نے 1994 میں انگلینڈ کے خلاف بنائے تھے۔ یہ ریکارڈ مارک ٹیلر کے سامنے تھا۔ ٹیلر نے ایک رنز لیا۔ ان کا اسکور 334 رنز ہوا اور انہوں نے 599 چار کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ وجہ۔۔۔؟ دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین کرکٹر سر ڈان بریڈ میں نے 70 برس قبل انگلینڈ کے خلاف 334 رنز بنائے تھا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی آسٹریلوی کھلاڑی کا زیادہ سے زیادہ اسکور تھا۔ مارک ٹیلر نے از رہ احترام بریڈ میں سے زیادہ اسکور بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ ریکارڈ بنتے ہیں اور انہیں مزید بہتر بنایا جاتا ہے۔ تاریخ اسی طرح آگے بڑھتی ہے۔ چار برس بعد 2003 میں آسٹریلیا کے کھلاڑی میتھیو ہیڈن نے ایک اننگز میں 380 رنز بنا ڈالے اور نیا ریکارڈ قائم کیا۔ 1998ء میں مارک ٹیلر کی اننگز رنز کی تعداد سے نہیں، بلکہ ایک لیجنڈ روایت کے شاندار احترام کی بنیاد پر یاد رکھی جائے گی۔

پاکستان کی صحافتی تاریخ میں “نوائے وقت” تاریخی روایت کا حامل اخبار ہے۔ 23 مارچ 1940 کو اسلامیہ کالج لاہور کے طالب علم حمید نظامی نے اپنے دوستوں شبر حسن، سی آر اسلم اور عبدالستار خان نیازی سے مل کر ایک پندرہ روزہ اخبار نوائے وقت کے نام سے جاری کیا تھا۔ اخبار کا نام علامہ اقبال کے کلام سے اخذ کیا گیا تھا۔ یہ جریدہ آل انڈیا مسلم لیگ کا حامی تھا۔ عالمی سیاست میں امریکی بلاک کی حمایت اور کمیونسٹ بلاک کی مخالفت اس کی پالیسی تھی۔ پڑھنے والوں کی پذیرائی سے حوصلہ پا کر 15 دسمبر 1942 کو نوائے وقت کی اشاعت ہفت روزہ کر دی گئی۔ بالآخر 19 جولائی 1944ء کو نوائے وقت ایک روز نامی اخبار کی صورت اختیار کر گیا۔ نوائے وقت نے سات دہائیوں پر محیط پاکستانی صحافت کی پیشہ ورانہ ترقی میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور معاشرتی ارتقا میں نوائے وقت کا کردار بے حد نمایاں رہا ہے۔ نوائے وقت بحیثیت مجموعی دائیں بازو کا اخبار رہا ہے۔ اسے نظریہ پاکستان کی علم برداری کا بھی دعویٰ رہا ہے۔ نوائے وقت کے ذمہ دار حلقے اسے سنٹر رائٹ اور قوم پرست اخبار قرار دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوائے وقت پاکستان میں نظریاتی سوچ کا حامل ایک مستند صحافتی ادارہ ہے۔ یہ صحافتی گروپ اردو اور انگریزی صحافت نیز الیکٹرانک میڈیا میں شاندار خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کے قارئین اور ناظرین کی تعداد سنجیدہ صحافت کے اتار چڑھاؤ کے مطابق کسی قدر کم ضرور ہوئی ہے لیکن نوائے وقت کی پیشہ ورانہ اور فکری ساکھ مضبوط ہے۔

صحافت بنیادی طور پر خبر کے ابلاغ اور رائے عامہ تشکیل دینے کی تمدنی خدمت ہے۔ صحافت تیکنیکی ذرائع سے استفادہ کرتی ہے لیکن اپنے بنیادی منصب میں کسی خاص ذریعے کے تابع نہیں ہے۔ سولہویں صدی میں چھاپہ خانے کے ایجاد کے بعد ابلاغ عامہ کے دروازے کھلے۔ طویل مدت تک ادب کے روایت پسند حلقے ادب عالیہ کے مقابلے میں صحافت کو کمتر درجہ دیا کرتے تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ ادب اور اور صحافت میں کچھ مشترک زاویوں کے باوجود ان دونوں شعبوں کا تمدنی منصب واضح طور پر مختلف ہے۔ پھر اخبار میں سنجیدہ بیان اور سنسنی خیز اظہار کی تقسیم ہوئی۔ ریڈیو آیا تو آن ائیر (On Air) کی اصطلاح کا ترجمہ برباد (بر+باد) کیا گیا۔ پھر کھلا کہ ریڈیو کا اپنا ایک طرز بیان ہے۔ خود ہمارے ملک میں ادب، تہذیب، ثقافت اور سماجی آگہی کے فروغ میں ریڈیائی صحافت کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ٹیلی ویژن آیا تو اسے خود ترقی یافتہ ممالک میں ایڈیٹ باکس کا نام دیا گیا۔ رفتہ رفتہ معلوم ہوا کہ ٹیلی ویژن تو صحافت کا بے حد موثر ذریعہ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پیروں کی بے قدری کا بدنصیب زمانہ

یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں

پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں

پچھلی نسل میں صحافت سائبر رابطے کی دنیا میں داخل ہوئی۔ سوشل میڈیا اور شہری صحافت کی اصطلاحات ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئیں۔ کل تک پرنٹ میڈیا کے صحافی الیکٹرونک میڈیا کو چھاتہ بردار صحافت کا نام دیتے تھے۔ آج پرنٹ اور الیکٹرونک صحافت کے دھارے مل کر ایک بڑے دریا کی صورت میں بہہ رہے ہیں۔ آن لائن صحافت کے پیشہ ورانہ خطوط ابھی متعین ہو رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی صحافت میں آن لائن جرنلزم کی صورت میں چوتھی جہت نمودار ہو چکی ہے۔ آن لائن صحافت نے بہت کم مدت میں اپنا کردار منوا لیا ہے۔ اردو آن لائن صحافت کی تاریخ مختصر ہے لیکن اس میں چند قابل احترام سنگ میل سامنے آ چکے ہیں۔ پیشہ ورانہ معیارات واضح ہو رہے ہیں۔  اس دعوے کی تردید آسان نہیں کہ آن لائن صحافت اپنی تیکنیکی سہولتوں کی بنا پر اردو صحافت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

‘ہم سب‘ کی ویب سائٹ کا آغاز جنوری 2016 میں ہوا تھا۔ ابتدا ہی میں معلوم ہو گیا تھا کہ اپنی منفرد پالیسی اور باصلاحیت لکھنے والوں کی مدد سے ‘ہم سب‘ ایک اچھا مقام پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ عالمی سطح پر آن لائن صحافت کی درجہ بندی Alexa International پر کی جاتی ہے۔ مختصر عرصے میں واضح ہو گیا تھا کہ ‘ہم سب‘ کی ویب سائٹ انفرادی بلاگز اور مخصوص مذہبی یا سیاسی ترجمانی کی بجائے ہمہ جہت صحافت کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔ چنانچہ رائے کا تنوع اور اختلاف رائے کا احترام  ‘ہم سب‘ کی پالیسی کا نمایاں نشان قرار پایا۔ ‘ہم سب‘ آن لائن صحافت میں سیاسی طور پر جمہوریت پسند ہے۔ سیکولرازم کے وسیع تر تناظر میں تمام طبقات اور گروہوں کے حقوق کی حمایت کرتا ہے۔ خاص طور پر صنفی، مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کے حقوق پر زور دیا جاتا ہے۔ قومی ریاست کے دستوری ڈھانچے کو تسلیم کرتے ہوئے فرد کی آزادیوں کے لئے آواز بلند کی جاتی ہے۔ ہر طرح کے استحصال اور ناانصافی کی مذمت کی جاتی ہے۔ زبان و بیان کے کسی خاص سانچے کی پیروی کئے بغیر تحریری صحافت کے معیارات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ‘ہم سب‘ انسانی مساوات، رواداری اور امن کا علم بردار ہے۔ اسے سکہ بند اصطلاح میں سنٹر آف دی لیفٹ کہا جا سکتا ہے۔ ‘ہم سب‘ کے بیشتر لکھنے والے پیشہ ورانہ طور پر زیادہ تجربہ نہیں رکھتے لیکن جدید علوم اور عصری تقاضوں سے اچھی طرح آشنا ہیں۔  ‘ہم سب‘ کے تمام لکھنے والے بغیر کسی معاوضے کے رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دہتے ہیں۔ تاہم یہ امر واضح ہے کہ ‘ہم سب‘ پیشہ ورانہ طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس کی رضاکارانہ شناخت ایک ارتقائی مرحلہ ہے جس میں وقت کے ساتھ تبدیلی آنے کے امکانات واضح ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو کے پہرے دار

الیکسا انٹر نیشنل کی رینکنگ کے مطابق  ‘ہم سب‘ اردو کی بلاگز ویب سائٹس میں پہلے نمبر پر ہے اور متعدد مین اسٹریم اخبارات کی آن لائن ویب سائٹس کی پذیرائی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ آج 10 نومبر 2017 کو ‘ہم سب‘ کی اشاعت کے ٹھیک 22 مہینے مکمل ہوئے ہیں۔ الیکسا رینکنگ کے مطابق آج سہ پہر پاکستان کی تمام ویب سائٹس میں ‘ہم سب‘ کا رینک 255 اور روز نامہ نوائے وقت کا رینک 258 تھا۔ ہم اس مقام پر نہایت احترام سے نوائے وقت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ تاریخ کے ارتقا کا حصہ بننے کے لئے روایت کا احترام بنیادی اقدار کا حصہ ہے۔ نوائے وقت کا فکری تناظر مختلف ہے۔ ہم سب کی پذیرائی سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایک ہی سوچ نہیں پائی جاتی بلکہ فکر و نظر کے مختلف دھارے موجود ہیں۔ حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ نسلوں کی سوچ بدلتی ہے۔ یہ رجحان بتا رہا ہے کہ قوم سنہ ستر کی دہائی کی فکر سے دور ہٹ رہی ہے۔

ہم اس اعزاز پر ‘ہم سب‘ کے تمام پڑھنے والوں کا دلی شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنی رائے اور تبصروں سے ہماری رہنمائی کرتے رہیں۔ ادارہ ‘ہم سب‘ اپنے سب لکھنے والوں کو اس اعزاز پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہے۔  اور ان سے درخواست کرتا ہے کہ اسی لگن سے اپنا سفر جاری رکھیں۔ ‘ہم سب‘ کی ویب سائٹ ‘ہم سب‘ کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ اس پر کسی فرد، گروہ ، جماعت یا طبقے کا اجارہ نہیں۔ ہمیں اس پلیٹ فارم سے انسان دوستی، رواداری، جمہوریت، اور انسانی حقوق کے آفاقی نصب العین کو آگے بڑھانا چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔