احسان سبز کیسے ہوا؟


Ahsan sabz

 ’جنت کے دروازے پر‘ میری ’ہم سب‘ کے لئے پہلی تحریر تھی۔ اردو مسودے میں نے اپنا نام نہیں لکھا۔ انگریزی سے اردو رسم الخط میں آتے آتے احسان بدل گیا اور احسن ہو گیا۔ یہ بھی اچھا ہوا ، برا نہ ہوا ۔ تاہم نام کی تصحیح بہرحال ضروری تھی۔ اور لگے ہاتھوں نام کے دوسرے حصے کی بجائے لکھنے والے کا تخلص سبز بھی اگر جڑ دیا جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ مگر اس کے لئے مناسب ٹھہرا کہ اس تخلص کا کچھ پس منظر بیان ہو جائے اور ایک وضاحت بھی کہ لکھنے والے کی تصویر سبز کیوں ہے ؟

میٹرک کی عمر تک میں نے الن سے ٹوٹ کر نفرت کی، مجھ پر جس روز یہ انکشاف ہوا کہ ننھے نے کسی وجہ سے خودکشی کر لی تھی، میرے کچے ذہن نے خود سے یہ طے کر لیا کہ ننھے کی موت کی وجہ اس کی وہ عزت نفس تھی جو الن کی دھوکے باز طبیعت کے باعث بار بار مجروح ہوئی، کبھی تِکوں کی دکان پر ، کبھی بیکری میں ، کبھی حجام بن کر، اور کبھی میرج بیورو ایجنٹ کے طور پر۔ میں نے جتنی مرتبہ الف نون کے خاکے دیکھے، دل سے الّن کے لئے بددعا نکلی، اوروں کے لئے بچگانہ پن ہی سہی لیکن اس وقت یہی میرا فیصلہ تھا، الن میرا ولن تھا اور ولن جس روپ میں بھی ہو، قابل نفرت ہوتا ہے۔ ننھے کے بعد کمال صاحب کسی ٹی وی شو میں نظر آتے تو مجھ سے دیکھا نہ جاتا، ننھے کے بغیر ان کی صورت مجھ سے برداشت نہ ہوتی، یوں لگتا جیسے میں ایک مجرم کو دیکھ رہا ہوں، ایک ایسا مکار اور عیار آدمی جس کی چال بازیوں نے ننھے جیسے حساس آدمی کے لئے دنیا کو قابل نفرت اور ناقابل یقین بنا دیا۔ آگے چل کر رفیع خاور کی ذاتی زندگی کی پریشانیوں کے بارے میں آگہی کے باوجود میں الن کے لئے اپنی نفرت مکمل طور پر دل سے نہیں نکال سکا۔

پھر ایک روز رفیع خاور سے متعلق پاکستان ٹیلے ویژن کی ایک دستاویزی فلم دیکھنے کا موقع ملا جس میں کمال احمد رضوی یوں کہتے دکھائی دئیے کہ “رفیع کے بعد میں ایک ادھورا انسان ہوں جو اب کبھی مکمل نہیں ہوسکتا، رفیع ایک پر اسرار آدمی تھا جو پراسرار موت مرگیا، اسے ایسا کرنے کا حق حاصل نہیں تھا”۔ ان الفاظ کی kamal-rizviادائیگی کے دوران ان کے آنسو رواں تھے اور وہ کیمرے کے سامنے خود کو پھوٹ پھوٹ کر رونے سے بچانے کے لئے گفتگو بار بار روک رہے تھے۔ خاص طور پر اپنے بیٹے سے رفیع خاور کے تعلق کو لے کر وہ بالکل ہی لاغر اور ٹوٹے ہوئے محسوس ہوئے۔ اچانک مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اتنے عرصے زیادتی کئے رکھی۔ مجھے اپنا فیصلہ بدلنا پڑا، یہ والا کمال احمد رضوی کسی بھی طرح سے ننھے کا قاتل نہیں ہوسکتا تھا، کبھی بھی نہیں، بلکہ یہ تو وہ شخص ہے جِسے ادھورا اور روتا چھوڑ کر شاید رفیع خاور نے اچھا نہیں کیا۔

یوں میں کمال صاحب کو یکایک پسند کرنے لگا، سیکڑوں بار دیکھے ہوئے ان کے خاکوں کو درجنوں بار دوبارہ دیکھا، ان کی ڈائیلاگ ڈیلیوری اور ٹائمنگ کا بغور جائزہ لے کر اسے کاپی کرنے کی کوشش کی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب بھی اور جہاں بھی موقع ملا ایک لیونگ لیجنڈ کے طور پر انھیں فالو کیا، فیس بک اور یوٹیوب نے ا±ن کا کام دیکھنا اور پڑھنا آسان کر دیا۔ ان کے بارے میں لڑکپن کی اپنی سوچ پر ہنسی بھی آتی رہی لیکن یہ کمال صاحب ہی کا کمال تھا کہ کردار نگاری کی لازوال صلاحیت کے زریعے انھوں نے الن کو اسقدر نفرت انگیز بنا ڈالا۔

ابھی دو سال قبل ایک روز معلوم ہوا کہ کمال صاحب نے الف نون کے منتخب تمثیلچوں کو کتابی شکل میں ڈھالا ہے اور یہ نسخہ بیچ لگڑری ہوٹل میں جاری لٹریچر فیسٹول میں ان کے دستخط کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ موقع غنیمت جان کر میں پہلے ہی روز پہنچ گیا، وہ دور ہی سے پہچانے گئے، دو ایک لوگوں سے فراغت پار کر میری جانب متوجہ ہوئے

کمال احمد رضوی : جی فرمائیے

میں : سر بہت اچھا لگا آپ کو دیکھ کر، میری بڑی خواہش تھی

کمال احمد رضوی : شکریہ، کتاب کے ساتھ یہ ڈی وی ڈی کا تحفہ بھی ہے

میں : جی بہت اچھا ، یہ لیجئے (ٰپیسوں والا ہاتھ بڑھاتے ہوئے)

کمال احمد رضوی : میاں کھلے پیسے نہیں ہیں ؟

میں : جی نہیں، سیدھا اے ٹی ایم سے آرہا ہوں ، بس یہی دو نوٹ ہیں

کمال احمد رضوی : اچھا میں دیکھتا ہوں

autoیہ کہہ کر وہ کرسی سے اٹھتے ہیں اور ایک دکاندار کی طرح پڑوسی دکانداروں سے کھلے پیسوں کا پوچھتے نظر آتے ہیں۔ یقین جانئیے اگر میں ان کی شخصیت کے سحر اور ان سے پہلی مرتبہ براہ راست بات کرنے کے ناقابل بیان احساس سے نکل پاتا تو یہ بے ادبی کبھی نہ ہوتی۔ وہ کچھ دیر بعد واپس اپنی جگہ پر آئے اور میری جانب بقیہ رقم بڑھائی جو میں نے بغیر کچھ کہے شدید ندامت کے ساتھ وصول کر کے جیب میں رکھ لی۔

کمال احمد رضوی (کتاب ہاتھ میں لیتے ہوئے) : ہاں تو میاں کیا نام ہے ؟

میں : سر ، احسان سبز

کمال احمد رضوی : سبز ؟ یہ سبز کیا چیز ہے بھائی ؟

میں : وہ میں…. وہ…. کبھی کبھار نظم کہہ لیتا ہوں تو…. تخلص رکھ لیا تھا

کمال احمد رضوی : اچھا…. تو بیٹا کوئی ڈھنگ کا تخلص رکھا لیا ہوتا، یہ رنگ برنگے تخلص کا کیا مطلب ؟

میں : سر اصل میں…. اب تک جتنے بھی شاعر گزرے انھوں نے سارے اچھے اچھے تخلص ہتھیا لئے، اب ہم نئے آنے والوں کے لیے رنگوں ، پھلوں ، سبزیوں کے نام اور ہندسے وغیرہ ہی بچے ہیں، انہی سے کام چلانا پڑرہا ہے۔

کمال احمد رضوی : (زور سے ہنستے ہوئے) ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے واقعی

اسی گفتگو کے دوران انھوں نے کتاب پر میرا نام میرے رنگ برنگے تخلص کے ساتھ درج کیا اور ساتھ ہی ایک رنگ برنگی دعا بھی لکھ ڈالی، میں نے کتاب کسی ٹرافی کی طرح ہاتھ میں لی اور پارکنگ کی جانب بڑھا۔ لابی اور گھر کی طرف سارے راستے ان کے ساتھ ہونے والا مکالمہ دہراتا رہا۔ یعنی میرے فقرے پر کمال احمد رضوی ہنس پڑے ! میرے فقرے پر !

مجھے اب اور کیا چائیے…. مجھے اب اور کیا چائیے….

احسان سبز ہو چکا تھا ۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “احسان سبز کیسے ہوا؟

  • 15-03-2016 at 10:48 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے احسان سبز صاحب، اور آپ کا نام بھی ” سبز” کی نسبت سے بہت منفرد محسوس ہو رہا ہے ۔ سلامت رہئیے ۔

  • 16-03-2016 at 3:02 am
    Permalink

    Reminded me of great legend of all times in a legendary manner. Thank you

  • 16-03-2016 at 10:22 am
    Permalink

    مجھے لگا یہ تحریر میں نے تحریر پہلے بھی کہی پڑھی ہے۔ پھر یاد آیا مبشر علی زیدی نے اپنی فیس بک وال پر شیئر کی تھی۔ کمال احمد رضوی سے پہلے آپ کی نفرت اور پھر محبت اچھی لگی۔ “جنت کے دروازے پر” تو لگتا تھا جیسے کمال احمد رضوی ہی کے قلم سے نکلی ہو۔ اللہ کرے زور قلم اور ذیادہ ہو۔

Comments are closed.