انسانی حقوق


ہمہ وقت بدلتے ہوئے سماجی معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی وجہ سے کئی قسم کے ازم آئے اور چلے گئے۔ اس کے علاوہ بے شمار مذاہب آئے اور حیات انسانی کو خاصا متاثر کرتے رہے۔ لیکن فاشزم اور نازی ازم کے غلبے اور اس کے زوال کے بعد اس کی ضرورت محسوس کی گئی کہ کچھ بنیادی اصول اور نظریہ وضع کیے جائیں تاکہ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے والے اپنے رہنما ازم کی روشنی میں من پسند اختیارات نہ حاصل کر لیں اور عوام کے تمام جمہوری اور خصوصی اختیارات پامال نہ کر دیں۔ ادارہ اقوام متحدہ نے 1948 کو “بین الاقوامی اعلانیہ انسانی حقوق” Universal Declaration of Human Rights پیش کیا جس پر تمام ممبر ممالک نے دستخط کیے۔

انسانی حقوق کے نظریہ کے پیچھے فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو انسانی زندگی گزارنے کے لیے کچھ آزادی کچھ وقار اور کچھ حقوق چاہیی ہیں۔ جن کی عدم موجودگی کوئی بھی انسان انسان کی طرح نہیں جی سکتا۔ یہ حقوق ہر انسان کو صرف انسان ہونے کی حیثیت سے ملتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ مسلسل ان کو Update کرتا رہتا ہے۔ 1948 کے بعد 1966 میں انٹر نیشنل کنونشن آف سول پولیٹکل سائنس کا اعلانیہ جاری کیا اس کے علاوہ اسی سال معاشی معاشرتی اور تمدنی حقوق کے سلسے میں اعلانیہ پیش کیا گیا۔
اقوام متحدہ نے عوامی عالمی اطلاعاتی کمیشن برائے حقوق انسان قائم کیا۔ ہندوستان نے شروع سے ہی حقوق انسان میں بے حد دلچسپی لی۔ یہ دلچسپی ملکی اور عالمی دونوں سطحوں پر تھی۔ بھارت اکثر و بیشتر ہونے والے کنونشنوں میں حصہ لیتا رہا اور مختلف فیصلوں پر دستخط کرتا رہا۔ نوے کی دہائی میں ہندوستان نے اپنا انسانی حقوق کمیشن شروع کر دیا جو شروع سے ہی بہت فعال رہا۔ ہندوستان میں انسانی حقوق سیکشن 2 تحفظ حقوق انسان ایکٹ 1993 میں پیش کیا گیا جس پر صدر ہندوستان نے 8 جنوری 1994 کو دستخط کر دیئے۔ ان حقوق کو زندگی آزادی مساوات انسانی وقار اور سماجی انصاف سے متعلق شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ حقوق انسانی پر کافی تحقیق ہوتی رہی ہے اور اس کے کئی پہلو زیر بحث رہے ہیں۔ اس کے باوجود بنیادی حقوق کو تقریباً 30 آرٹیکل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ 30 آرٹیکل مندرجہ ذیل ہیں :

تمام عالم انسان کو بنیادی طور پر یکساں حقوق حاصل ہونا چاہیے اور ان میں مساوات اور بھائی چارہ ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے اعلانیہ میں درج ہر قسم کی آزادی، نسل، رنگ، جنس، مادری زبان، مذہب، سیاسی نظریات، جائے پیدائش، مالی حیژیت اور خاندان کو مد نظر رکھے بغیر یکساں طور پر ہر فرد کو حاصل ہونی چاہیے۔ کم حیثیت اور طاقت ور افراد اور ممالک کے درمیان کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جانا چاہیے۔
ہر فرد کو زندگی آزادی اور ان دونوں کے تحفظ کا پورا حق ہونا چاہیے۔
غلامی اور غلاموں کی تجاری کسی قیمت پر منظور نہیں کی جانی چاہیے۔
کسی بھی انسان کو ایذا، ظلم اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
ہر فرد کو ایک انسانی پہچان دی جائے گی جس کا مطلب ہے کہ اس کا نام اور انفرادی پہچان ہو گی۔
قانون کے سامنے ہر فرد برابر ہو گا۔ کسی قسم کا ترجیحی سلوک حقوق انسان کی سخت خلاف ورزی ہو گا۔
ہر فرد حقوق، انسان اور بنیادی حقوق دونوں کے استحصال کے خلا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں جا سکتا ہے۔
بغیر کسی وجہ کے کسی کو نہ قید کیا جائے گا نہ نظر بند اور نہ جلا وطن ہی کیا جائے گا۔
ہر قسم کی حراست میں بند ہر انسان کو صاف ستھری مساوات پر مبنی اور غیر جانبدار عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
الف) ہر ملزم معصوم تصور کیا جائے گا جب تک کہ جرم ثابت نہ ہو۔ ب) جرمہونے کے بعد لاگو ہونے والے قانون کے تحت کوئی بھی فرد سزا نہیں پائے گا۔
کسی کی ذاتی زندگی، خاندانی تعلقات، خط و کتابت اور دیگر پرائیویٹ معاملات میں کوئی قانون مداخلت نہیں کرے گا۔
اپنی ریاستی حدوں کہیں بھی رہنے یا سفر کرنے کا حق ہر کسی کو حاصل ہو گا۔
الف) دوسرے ممالک میں پناہ اور تحفظ حاصل کرنے کا بھی ہر شخص کو حق ہو گا۔ کچھ ممالک پناہ گیروں کو خاص طور پر آسرا دیتے ہیں انھوں نے ایک خاص کنونشن پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ ب) اس حق کا اطلاق غیر سیاسی جرائم اور اقوام متحدہ کے اصول کے برعکس حرکت کرنے والا افراد پر نہیں ہو گا۔
ہر فرد کو شہریت کا حق حاصل ہو گا۔ نہ کسی کی شہریت زبردستی غضب کی جائے گی اور نہ نیشنلٹی Nationality تبدیل کرنے سے روکا جائے گا۔
ہر عاقل اور بالغ مرد اور عورت کو شادی کا حق حاصل ہو گا۔ ہر شخص شادی کر کے خاندان کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ شادی کے بندھن میں بندھنے اور ٹوٹنے دونوں صورتوں میں عورتوں کے تحفظ کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ ہر خاندان کو سماج کی اکائی سمجھا جائے گا اور اسے قانون کی طرف سے پورا تحفظ حاصل ہو گا۔
ہر فرد شرکت میں یا ذاتی طور پر جائیداد خرید سکتا ہے۔ کسی کو اس کی جائیداد سے جس کا وہ قانونی طور پر مالک ہے بلا وجہ محروم نہیں کیا جائے گا۔
ہر فرد کو اپنے اصول اور نظریہ اپنے ضمیر اور مذہب کی روشنی میں رکھنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔ اس کا اظہار کرنے کا بھی پورا موقع اسے میسر ہونا چاہیے۔
ہر فرد کو آزادی رائے اور اظہارِ خیال کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔
ہر فرد کو پرامن طور پر ملنے انجمن بنانے اور مظاہرہ کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ لیکن کسی کو کسی انجمن کا ممبر بننے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
الف) اپنے ملک میں ہونے والے سیاسی واقعات اور سرکار کے انتخاب میں حصہ لینے کا ہر ایک کو اختیار ہے۔ ب) اپنی حکومت کے تحت چلنے والی سیواؤں پر ہر ایک کا برابر حق ہے۔ ج) جمہوری طرز کے صحیح اور صاف ستھرے انتخابات ہونا بھی ہر فرد کا حق ہے اور ان میں حصہ لینا بھی بنیادی انسانی حق ہے۔ چنندہ نمائندوں والی سرکار ہی اصلی سرکار سمجھی جانی چاہیے۔
ہر فرد کو سماجی تحفظ Social Security کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
ہر فرد کو کام کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ بے روزگاری سے تحفظ بھی اس میں شامل ہے۔ ہر فرد کو اپنے کام کرنے کے سلسلے میں ٹریڈ یونین کا ممبر ہونے ٹریڈ یونین قائم کرنے اور اس میں حصہ لینے کا پورا حق ہونا چاہیے۔
ہر فرد کو کام کے ساتھ آرام اور تفریح کا بھی پورا حق حاصل ہونا چاہیے اس میں کام کے گھنٹوں اور چھٹیوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔
ہر فرد کو ایک خوشحال معیار زندگی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس میں روٹی کپڑا مکان دوا اور سماجی تحفظ شامل ہے۔ اس کے علاوہ زچگی اور حمل کے دوران خصوصی دیکھ بھال اور بچے کی صحیح پرورش کا پورا حق ہر عورت اور بچے کو حاصل ہونا چاہیے۔ چاہے بچہ شادی شدہ تعلقات سے پیدا ہوا ہو یا شادی کے بغیر۔
ہر فرد کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ بنیادی تعلیم فراہم کرنا جمہوری حکومت کا فرض ہے۔ تعلیم اقوام متحدہ کے نظریہ کے برعکس نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود والدین کو حق حاصل ہے کہ اپنی پسند کی تعلیم اولاد کو دیں۔
ہر فرد کو اپنی تمدنی زندگی گزارنے کا اور سائنسی ایجادات سے ہونے والے فوائد حاصل کرنے کا پورا حق ہونا چاہیے۔ اپنی ایجادات اور دریافتوں سے ہونے والے معاشی اور اخلاقی فوائد کے تحفظ کا اختیار بھی اس میں شامل ہے۔
مقامی اور عالمی سطح پر دی جانے والی آزادی پر بھی حق ہونا چاہیے تکہ ان تمام حقوق پر عمل ممکن بنایا جا سکے۔
تمام عالم انسانی کے لیے ہر فرد کے مختلف سطح پر فرائض بھی ہیں جو دوسروں کی حقوق انسانی کے تحفظ کی گارنٹی دیتےہیں۔ اس طرح انسانی حقوق پر مبنی معاشرہ عالم وجود میں آتا ہے۔ جو کہ دراصل ہر فرد کو اس کی شخصیت کی ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس طرح ہر فرد فرائض اور حقوق کے ذریعہ فلا انسانی کے ایک خاص معیار کو حاصل کر سکتا ہے۔
ان حقوق انسان کی اس طرح تاویل نہ کی جائے کہ امن، آتشی، آزادی اور دوسروں کے حقوق کا استحصال ہونے لگے۔ دوسرے الفاظ میں اپنی کلچرل آزادی دوسروں کے لیے دہشت گردی نہ بن جائے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یو۔ این۔ او نے مختلف کمیشن اور سب کمیشن قائم کیے۔ حقوق نسواں، حقوق اطفال کے ساتھ اقلیتوں کے حقوق، ہن جنسوں کے حقوق، پناہ گیروں اور مہاجروں کے حقوق وغیرہ کے اصول مرتب کیے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں مذہب اور معاشرے کے حقوق وغیرہ کے اصول مرتب کیے۔ تیسری دنیا میں مذہب اور معاشرے کی سرحدیں اکثر حقوق انسانی کے آڑے آتی ہیں۔ ہندوستان میں حقوق انسانی پر بہت کام ہوا ہے لیکن اس کے باوجود سماجی طور پر ابھی بہت کام باقی ہے۔ تیسری دنیا کے حوالے سے ترقی کرنے کا حق، اور ماحولیاتی آلودگی روکنے کا حق بہت معنی خیز ہیں۔
یو۔ این۔ ڈی۔ پی۔ کی طرف سے شائع ہونے والی سالانہ رپورٹ یعنی انسانی ترقی کی رپورٹ 2000 میں کہا گیا ہے کہ ایچ۔ ڈی۔ آئی۔ یعنی پیمانہ ترقی انسان میں درحقیقت تین چیزیں شامل ہیں۔

وقت پیدائش طویل زندگی کے امکانات : مثلاً محفوظ حمل، زچگی، معالجاتی سہولیات، دوا اور إذا کا حصول وغیرہ۔
تعلیمی ترقی : یعنی بچوں کا رجسٹریشن پرائمری اور ثانوی اسکولوں میں، تعلیم بالغان وغیرہ کے علاوہ اسکولوں اور ٹیچروں کی موجودگی پڑھانے کے لیے دلچسپی اور ذمہ داری۔
اس کے علاوہ کل گھریلو پیداوار GDP اور قوت خرید PPP کا ایک خاص معیار۔
اس طرح یہ سہ رخی پیمانہ ترقی انسان، حقوق انسان کی صورت حال کو بھی کسی معاشرہ میں عیاں کر سکتا ہے۔ کیونکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے بغیر انسانی ترقی ممکن نہیں ہے۔

بشکریہ : دائرہ معارف العلوم


Comments

FB Login Required - comments