بے سروپا ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی بریکنگ نیوز


 hashirجناب حمزہ علی عباسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیسی لبرل فاشسٹوں نے ان پر تنقید کرنا بند نہ کی تو وہ گڈ طالبان کے پاس افغانستان منتقل ہو جائیں گے ۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ افغان طالبان نے انہیں اپنے فیس بکی دار الافتاء کی سربراہی کی پیشکش بھی کی ہے اور وہ سنجیدگی سے اس پر غور فرما رہے ہیں

خادم اعلیٰ نے کہا ہے کہ جتنا پیار انہیں شنگھائی ، بیجنگ اور شینزن میں ملا ہے اتنا کبھی رائے ونڈ، سرگودھا اور چیچوکی ملیاں میں نہیں ملا ۔ اس بات پر تمام ملک میں بغلیں بجائی جا رہی ہیں ۔

مفتی نعیم اور مولانا شیرانی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جب تک تحفظ خواتین بل منسوخ نہیں کیا جاتا وہ اگلی شادی نہیں کریں گے۔

تین نجی یونیورسٹیوں نے بیک وقت مولانا طارق جمیل کو ان کے معرکتہ الآرا تھیسس ” حور کی کیمیاوی ساخت اور طبیعیاتی ہئیت کی غیر تغیر پذیری کا عملی مشاہدہ” پر PhD   کی ڈگری دینے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر سلطان بشیر الدین محمود، آغا وقار اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مقالے کی تحسین میں ساتوں زمینوں اور ساتوں آسمانوں کے قلابے ملائے ہیں۔

علامہ ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی نے  ایک نمائش کا اہتمام کیا ہے جس میں افلاطون ، ہومر، دانتے، روسو ، جیمز فرینکلن  ، جان لاک ، سکندر اعظم، رونالڈ ریگن  اور نیانڈرتھل آدمی کے اہل خانہ کو لکھے گئے خطوط رکھے جائیں گے۔ نمائش یو ٹیوب پر براہ راست دکھائ جائے گی۔

اوریا مقبول جان نے بتایا ہے کہ  امریکہ   میں    523 عورتوں پر تیزاب پھینکے جانے کی خبر انہیں اہل کشف نے دی تھی ۔ یوں بھی وہ گوگل کو کفار کے سازشی ایجنڈے کا حصہ سمجھتے ہیں اور اس پر سرچ کرنا حرام جانتے ہیں ۔

ڈاکٹر دانش، ڈاکٹر شاہد مسعود اور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سچ مچ کے ڈاکٹر ہیں اور ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں ۔لوگوں کو ان کی ڈگری دیکھنی چاہیے ، ان کی باتوں سے نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے ۔

مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ لندن کی جائیداد کے بارے میں اپنے موقف پر قائم ہیں ۔ حسین نواز کا جو اعتراف میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے وہ کیمرہ ٹرک ہے ۔ انہیں شک ہے کہ یہ حرکت انہی لوگوں کی ہے جنہوں نے میرا کی جعلی ویڈیو بنائی تھی ۔

الطاف حسین 18 مارچ کو اپنے خطاب میں انسانی ایمبریالوجی پر اپنی تازہ تحقیق سے سامعین کو آگاہ کریں گے۔ کارکنوں میں اس حوالے سے کافی جوش وخروش دیکھا جا رہا ہے۔ ایک  غیر متعلقہ خبر میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے میڈیکل اسٹوروں پر موجود ایئر پلگز کا تمام اسٹاک ختم ہو گیا ہے

پچھلے دنوں قرارداد مقاصد کی سالگرہ  مذہبی ولولے اور قومی عقیدت کے ساتھ منائی گئی ۔ احمدی کمیونٹی ، اندرون سندھ کے ہندو ، قبائلی علاقوں کے سکھ، جوزف کالونی  اورشانتی نگر کے عیسائی تقریب میں اپنی خوشی سے خصوصی طور پر شریک ہوئے ۔ مقررین نے قرارداد مقاصد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرتی ہم آہنگی ، رواداری اور قانونی اصلاحات کے ثمرات پر روشنی ڈالی اور اس بات پر اجتماعی شکرانہ ادا کیا گیا کہ آج قرارداد مقاصد کی بدولت ہم دنیا کے پر امن ترین، خوشحال ترین اور انصاف پروری میں اپنی مثال آپ ملک میں رہ رہے ہیں ۔

آج کا بلیٹن یہیں ختم ہوا۔  اس بلیٹن کے تمام کردار فرضی ہیں اور کسی حقیقی انسان یا واقعے سے ان کی مشابہت محض اتفاق ہو گی۔  یوں بھی ایسی باتیں بھلا کون کرتا ہے ۔۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad